اتنی نہ بڑھا پاکی ٔ داماں کی حکایت

رؤف طاہرRauf tahir

جناب سراج الحق کی زیرقیادت اپوزیشن جرگے نے بالآخر اپنے ’’تمت بالخیر‘‘ کا اعلان کردیا۔ اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل یہ جرگہ اسلام آباد میں دھرنے والوں کے پیدا کردہ بحران کے پرامن سیاسی حل کے لیے قائم ہوا تھا۔ کہا جاسکتا ہے کہ اس کی سعی و کاوش کے نتیجے میں حکومت اور دھرنے والوں کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔ دھرنے والوں سے جرگے کے مذاکرات کے 15ادوار ہوئے اور نوبت بہ ایں جارسید کہ سیاسی مبصرین اور عوام الناس کے لیے اس میں کوئی دلچسپی نہ رہی۔ اب اِن مذاکرات کی حیثیت اکتا دینے والے فوٹو سیشن سے زیادہ نہ تھی ۔ سراج الحق کا کہنا ہے کہ بحران کے حل کے لیے جرگے نے اپنی طرف سے تحریری تجاویز دے دی ہیں۔ آئینی حدود کے اندر ان تجاویز میں تینوں فریقوں کے لیے فیس سیونگ کا سامان موجود ہے۔
مذاکرات کے دوران کس فریق کا رویہ مصالحانہ و مفاہمانہ تھا اور کو ن ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہا؟ سراج الحق کا کہنا ہے کہ اس سوال کا جواب، آئندہ دو تین روز میں قوم کو مل جائے گا۔اس دوران شاہ محمود قریشی کی زیرقیادت تحریکِ انصاف کی کمیٹی سے حکومتی ٹیم کے مذاکرات بھی ہوتے رہے لیکن عمران خاں کا کہنا تھا، مذاکرات کا جو بھی نتیجہ نکلے، وہ نوازشریف کا استعفیٰ لیے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔ چند روز قبل فرمایا تھا، انہیں ’’نئے پاکستان‘‘ کی اس لیے جلدی ہے کہ اس کے بعد شادی کر لیں اور تازہ ترین ارشاد کے مطابق، وہ سوچتے ہیں، دھرنا ختم ہوگیا تو ان کی شامیں کیسے گزریں گی؟ لیکن اِن کی یہ شامیں قوم کو کتنی مہنگی پڑ رہی ہیں؟ اس کا کچھ اندازہ اس سنگین نقصان سے ہوسکتا ہے جو اس دوران قومی معیشت کو پہنچ چکا۔ 112 روپے سے 98روپے پر آنے والا ڈالر پھر اوپر کو جانے لگا۔ بلندی کے نئے ریکارڈ قائم کرنے والی اسٹاک ایکسچینج نیچے کو آنے لگی۔ ماہرین اقتصادیات کے محتاط اندازے کے مطابق اب تک قومی معیشت کو 700ارب روپے سے زیادہ کا خسارہ ہوچکا۔ نواز شریف کو آخری ہچکیاں لیتی ہوئی معیشت ورثے میں ملی تھی، اس ایک سال کے دوران اس کی نبضیں بحال ہوئیں ۔ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کی طرف راغب ہوئے۔ ایسے میں سچی بات فرزند لال حویلی کے منہ سے نکل گئی، ’’نواز شریف 6ماہ میں گھر چلا جائے گایا چھا جائے گا‘‘۔مطلب واضح تھا، نوازشریف کو اقتصادی منصوبوں کی تکمیل کا موقع مل گیا تو آئندہ الیکشن بھی اِسی کا ہوگا۔ عمران کا کہنا ہے ، اِن دھرنوں کی صورت میں اِسے بھی جوانی کا ٹیکہ لگ گیا ہے، جی ہاں! لیکن آپ کے لیے جوانی کا یہ ٹیکہ قوم کو بہت مہنگا پڑا ہے۔ ’’ہم اپنی جاں سے گئے ، آپ کی ادا ٹھہری‘‘۔
مالدیپ اور سری لنکا کے صدور کے دوروں کا التواء بھی سفارتی لحاظ سے پاکستان کے لیے نقصان دہ تھا، لیکن چینی صدر کے دورے کا التوا؟ معیشت اور سیاست کا ذرا سا فہم رکھنے والے ہر محب وطن پاکستانی کے لیے اس کا تصور ہی اذیت ناک تھا (جس میں 30ارب ڈالر سے زائد کے منصوبوں کو حتمی شکل دی جانی تھی، بعض کا افتتاح بھی ہونا تھا)۔ اس موقع پر آپ کا ایک اور جھوٹ بھی پکڑا گیا۔ آپ کنٹینر پر چیخ رہے تھے، ’’جھوٹو! اور جھوٹ بولنے والو!! چینی صدرکے دورۂ پاکستان کا توپروگرام ہی نہیں تھا‘‘۔
چینی سفارت خانے کے بیان نے آپ کے اس دعوے کی قلعی کھول دی، تو آپ نے فرمایا، وہ سرمایہ کاری کرنے نہیں، قرضہ دینے آرہے تھے۔ کیا خراجِ تحسین تھا، جو آپ پاکستان کے دوستوں کو پیش کر رہے تھے۔ ادھر فرزند لال حویلی کا کہنا تھا، چینی مال تو ہوتا ہی دو نمبر ہے۔ (FJتھنڈر17 کے متعلق کیا خیال ہے؟)
شمالی وزیرستان کے 10لاکھ سے زائد آئی ڈی پیز کا مسئلہ ہی کیا کم تھا کہ اب قوم کو سیلاب کی بدترین تباہ کاریوں کا سامنا ہے۔ لاکھوں لوگ بے گھر ، ان کی فصلیں تباہ اور مال مویشی لاپتہ ہوگئے۔ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سیلاب زدگان کی خبر گیری کے لیے سرگرم ہوگئے۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ملتوی کردیا گیا کہ ارکانِ پارلیمنٹ اپنے اپنے علاقوں میں متاثرین ِ سیلاب کی دیکھ بھال کرسکیں۔ لیکن دھرنے والوں کی دلچسپیاں وہی ہیں۔ عمران خاں چند گھنٹوں کے لیے سیالکوٹ آئے، یہاں بھی حکومت مخالف تقاریر کیں اور بنی گالہ لوٹ گئے۔ حکومت کو ہدف ِ تنقید بناتے ہوئے فرمایا، میٹروبس پر پیسہ ضائع کرنے کی بجائے ڈیم بنائے ہوتے تو اس تباہی کا سامنا نہ ہوتا لیکن کسی نے انہیں شاید یہ نہیں بتایا کہ یہ تباہی چناب نے پھیلائی، وہ نشاندہی فرمائیں کہ ہیڈ مرالہ سے تریموں تک (اور اس سے آگے بھی) وہ کونسی جگہ ہے، جہاںچناب پر ڈیم بنائے جاسکتے ہیں۔ ڈیم سے کالا باغ ڈیم یادآیا۔ دریائے سندھ پر اس مجوزہ ڈیم کے لیے بہت سا کام ہوچکا تھا۔ قومی معیشت کے لیے اس ڈیم کی ضرورت اور افادیت مسلمہ ہے، لیکن بدقسمتی سے یہ منصوبہ سیاست کی نذر ہوگیا، سب سے زیادہ مخالفت صوبہ سرحد (موجودہ کے پی کے ) کی سیاسی قیادت کی طرف سے ہوئی۔ اب کہ وہاں عمران خاں کی پی ٹی آئی برسرِ اقتدار ہے، کیا وہ کے پی کے حکومت کی طرف سے اس کی حمایت میں، ایک بیان بھی دلواسکتے ہیں؟
اپنے منہ میاں مٹھو بنتے ہوئے، آج کل وہ اپنے جمہوری credentials ثابت کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ ایک دن کہا، وہ آکسفورڈ میں بے نظیر بھٹو کے کلاس فیلو تھے، اُنہوں نے جمہوریت اور سیاست کی تعلیم اور تربیت وہیں سے حاصل کی۔ لیکن ان تمام برسوں میں آپ کی شہرت اور شناخت ایک کرکٹر کی تھی( اس دور کا کوئی ایک دن جو آپ نے پولیٹیکل ایکٹیوسٹ کے طور پر گزارا ہو؟) کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعدوطن واپس آئے تو سیاست کا لفظ سنتے ہی آپ کانوں کو ہاتھ لگاتے تھے۔ خود راقم سے اپنے ایک طویل انٹرویو میں آپ نے سیاست اور اہلِ سیاست سے اپنی بیزاری کا واشگاف اعلان فرمایا۔ اسی انٹرویو میں آپ نے غیر جماعتی اور غیر سیاسی انتخابات کی بات کی۔ گزشتہ روز فرمایا، آپ پاکستان کے واحد سیاستدان ہیں، جو فوجی نرسری، فوجی گملے میں پروان نہیں چڑھا۔ اسفند یار ولی، محمود خاں اچکزئی، مولانا فضل الرحمٰن، سراج الحق ، حاصل بزنجواور ڈاکٹر مالک سمیت مرکزی سطح کے کتنے ہی قائدین ہیں، جو اپنی اپنی جماعتوں کی عشروں کی جمہوری جدوجہد کے وارث اور امین بنے۔ جہاں تک آپ کا تعلق ہے، آپ نے 96 کے وسط میں تحریکِ انصاف کی بنیاد رکھی، 1997کے انتخابات میں، پورے ملک میں آنجناب سمیت، تحریک انصاف کے تمام اُمیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوگئیں۔ ان سب کے ووٹ ملا کر بھی اتنے نہیں بنتے تھے کہ متناسب نمائندگی کی صورت میں قومی اسمبلی کی ایک سیٹ بھی نکل آتی۔ڈھائی سال بعد مشرف آگیا، تو آپ اس کے پرجوش اور پرزور حامی ہوگئے۔ آج کس معصومیت سے اپنی ’’بے گناہی‘‘ بیان کرتے ہیں کہ آپ نے تو کرپشن کے خلاف ڈکٹیٹر کے اعلان کی وجہ سے اس کی حمایت کی تھی۔ وہ اس سے منحرف ہوا تو آپ اس کے مخالف ہوگئے۔
یہ سوال اپنی جگہ کے آکسفورڈ کے فارغ التحصیل ’’جمہوریت پسند‘‘ کے لیے ایک ڈکٹیٹر کے غیر آئینی اقتدار سے خیر کی توقع وابستہ کرلینا کس حد تک مناسب تھا، آپ تو ڈھائی سال تک اس کی حمایت کرتے رہے احتساب کے ڈرامے کی حقیقت بے نقاب ہوگئی تھی۔ جب پیر صاحب پگارا (مرحوم) نے کہا، پیسٹری کھانے والے پکڑے گئے، بیکریاں ہضم کرنے والے معزز و محترم قرار پائے اور اقتدار میں حصے دار بن گئے۔ ڈکٹیٹر کے ساتھ آپ کا ربط و ضبط اور وعدے و عید، اس کے اقتدار کے پونے تین سال تک جاری رہے۔
اس دوران نائن الیون بھی ہوچکا تھا۔ اس کے سات ماہ بعد 30اپریل کو ڈکٹیٹر کا ریفرنڈم ہوا جس میں آپ (اور آپ کے منہ بولے بھائی اور دھرنا اتحادی ) بھی ڈکٹیٹر کی حمایت میں پرجوش تھے۔ 19فروری 2002کو ڈکٹیٹر نے شوکت خانم کے دورے میں سیاست میں آپ کے عروج کی دُعا کے علاوہ 3کروڑ روپے کا عطیہ بھی دیا۔ ریفرنڈم سے پہلے 23 مارچ کو آپ کی زیرقیادت تحریکِ انصاف کے 20رکنی وفد نے ڈکٹیٹر سے 3گھنٹے طویل ملاقات کی تھی۔ الزام لگایا جاتا ہے کہ اس دوران آئی ایس آئی کے جنرل احسان سے آپ کی کتنی ہی ملاقاتیں ہوئیں۔ ڈکٹیٹر سے آخری ملاقات 23-24 جولائی 2002 کو ہوئی آپ قومی اسمبلی کی 100نشستوں سے کم پر رضامند نہیں تھے جس پر جنرل احسان کا کہنا تھا، پاکستان کے عوام خواب میں بھی یقین نہیں کریں گے کہ ایک نوزائیدہ اور ناتجربہ کارپارٹی اپنے بل بوتے پر 100نشستیں حاصل کرسکتی ہے۔ جرنیلوں کے ساتھ تو آپ کے رابطے اس کے بعد بھی جاری رہے۔ اس کے باوجود ’’فوجی نرسری‘‘ سے اظہارِ لاتعلقی ؟ اتنی نہ بڑھا پاکئی داماں کی حکایت۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *