تومیں انتہا پسند ہوں

muhammad-farooq-malik

محمد فاروق ملک پیشے کے اعتبار سے کاروباری فرد ہیں۔لکھنے لکھانے کا شوق پہلی کلاس سے ہی ہے ۔جو کچھ لکھتے ہیں، دوسروں کو پڑھوانے پر بضد رہتے ہیں۔شائد یہی وجہ ہے کہ انکی تحریریں کم اشاعت کے باوجود زیادہ تعداد میں پڑھی جاتی ہیں۔جشن آزادی کی ساٹھ سالہ تقریبات پر انکی لکھی ہوئی ایک تحریر منسٹری آف انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ کو اتنی پسند آئی کہ انہیں بطور خاص اسلام آباد بلوا کروزیر اعظم وقت کے ہاتھوں کیش پرائز دیا گیا-


ہیلو۔۔۔میرا نام بینجمن کارنیلئیس ہے۔میں پیشے کے لحاظ سے ایک کاروباری فرد ہوں۔میں ہر اتوار چرچ جاتا ہوں اورگاڈکی عبادت کرتا ہوں۔میری بیوی اور دو بچے بھی میرے ساتھ جاتے ہیں۔میرے بچے فادر سے بہت متاثر ہیں اور ان جیسا بننا چاہتے ہیں۔میرا مزاج اور عادات بھی مذہبی ہیں۔میں فادر جیسا لباس پہنتا ہوں اور دوران سفر اپنے ساتھ بائبل کا نسخہ لازمی رکھتا اور اسکا مطالعہ کرتا رہتا ہوں۔اس کے علاوہ ہر وقت تسبیح بھی کرتا ہوں۔میری زبان پر ہر وقت جیسئس کرائسٹ رہتا ہے۔جہاز میں سوار ہوتے اور اترتے وقت میں سینے پر صلیب کا نشان بھی بناتا ہوں۔اور ہاں، میں نے گلے میں صلیب کے نشان والا لاکٹ بھی پہن رکھا ہے۔میری بیوی اور بچوں کے پاس بھی اس قسم کے لاکٹ ہیں۔ہم نے گھر کے ایک حصے میں چھوٹا سا چرچ بنا رکھا ہے۔دروازے پر بھی صلیب کا نشان ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ میں آج جوکچھ بھی ہوں اپنے گاڈ، صلیب اور فادر کی وجہ سے ہوں۔لیکن میں انتہا پسند نہیں ہوں۔
نمستے۔۔۔میرا نام رام گوپال ورما ہے۔میں ایک کمپنی میں ملازمت کرتاہوں۔میں ایک ہندو مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔میری بیوی رجنی کور اور تین بچے بھی میری طرح ہندو دھرم سے بہت پیار کرتے ہیں۔ہم نے گھر میں بھگوان کی مورتی رکھی ہوئی ہے اور روز صبح اسکے سامنے ماتھا ٹیکتے ہیں۔اس کے علاوہ کسی بھی کام سے پہلے اور بعد میں بھگوان کا شکر بجا لاتے ہیں۔میرے پاس گھر میں ہندو دھرم کی بہت سی کتابیں ہیں اور ہم میاں بیوی انکا مطالعہ کرتے رہتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ صرف ہندو دھرم ہی دنیا میں امن و شانتی کاضامن ہے اور بھگوان نے دنیا بنائی ہی محض ہندوؤں کیلئے ہے۔کمپنی کی طرف سے مجھے کئی دفعہ مختلف ممالک کا سفر کرنے کا موقع ملا۔مجھے ائیر لائن سٹاف اور ائیرپورٹ انتظامیہ کی طرف سے ہمیشہ بھرپور تعاون ملا ہے۔میں جب کسی سے ملتے وقت ہاتھ جوڑ کر جب نمستے کرتا ہوں تو غیرملکی بہت متاثر ہوتے ہیں ۔میں ہندو دھرم کی تمام عبادات ذوق و شوق سے ادا کرتا ہوں اور وقتاً فوقتاً ہندو دھرم کی ترقی و ترویج کے لئے اچھی خاصی مالی امداد بھی کرتا ہوں۔میں نے سوچ رکھا ہے کہ اپنے بچوں میں سے ایک کو بھگوان کے سپرد کردونگا تاکہ وہ مجھ سے راضی ہوجائے۔میری اور میرے خاندان کی ساری زندگی مندراوربھگوان کے گرد ہی گھومتی ہے۔میرا لباس،چال ڈھال کھانا پینا اوڑھنا بچھونا سب ہندو دھرم کے مطابق ہے۔شائد یہی وجہ ہے کہ ہندو دھرم نے آج مجھے اپنی کمپنی کی آنکھوں کا تارہ بنا دیا ہے۔لیکن میں انتہا پسند نہیں ہوں۔
السلام علیکم۔۔۔میرا نام محمد فاروق ملک ہے۔میں ایک چھوٹا سا کاروباری شخص ہوں۔میں ا یک مناسب سے مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔بہت زیادہ عبادات بھی نہیں کرتا۔ہاں جمعہ اور عیدین کی نمازیں باقاعدگی سے ادا کرتا ہوں۔روزے بھی رکھتا ہوں۔میرے گھر میں بہت زیادہ مذہبی کتابوں کا وجود نہیں ہے،ہاں انگریزی ادب، غیرملکی ناول اور انگریزی اخبارات و رسائل گھر آتے ہیں اور فارغ وقت میں انہی کا مطالعہ کرتا ہوں۔میں دوران سفر اپنی مذہبی کتاب قرآن مجید بھی ساتھ نہیں رکھتا۔اٹھتے بیٹھتے میری زبان پر اللہ اللہ بھی نہیں ہوتا۔میں شلوار قمیض کی بجائے جینز اور ٹی شرٹ پہنتا ہوں۔ہاتھ میں تسبیح بھی نہیں رکھتا اور نہ ہی سر پر عمامہ یا چہرے پر داڑھی رکھی ہوئی ہے۔میں انتہا پسند نہیں ہوں لیکن پھر بھی پتہ نہیں کیوں دنیا مجھے انتہا پسند سمجھتی ہے۔بیرون ممالک ائیر پورٹس پر میری جامہ تلاشی ہوتی ہے بلکہ کئی دفعہ تو جامہ اتروا کر بھی تلاشی ہوتی ہے۔پھر بھی تسلی نہ ہو تو اسی وقت واپس بھیج دیا جاتا ہوں۔ایک دفعہ دوران پروان چھینک آنے پر میں نے ایکسکیوز می اور سوری کی بجائے الحمداللہ کہہ دیا تو فلائٹ لینڈ ہونے تک میں فلائٹ اٹینڈنٹ کی حراست میں رہا اور اترتے ہی مجھے سیکورٹی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔چونکہ میرے نام میں محمد آتا ہے اور میں مسلمان ہوں تو میں انتہا پسند ہوں۔میرے وجود(جس سے خود مجھے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا)سے دنیا کو فرق پڑ سکتا ہے کیونکہ میں پوری دنیا کے امن کے لئے خطرہ ہوں۔میں ملتے ہوئے السلام علیکم کہہ دوں تو مجھے فوراً سب سے الگ کھڑا کر دیا جاتا ہے۔اور تو اور اندرون ممالک بھی میری جامہ تلاشی ہوتی ہے۔میرے اپنے گھر والے مجھے اپنے لئے خطرہ محسوس کرتے ہیں اس لئے ہر چوک ہر چوراہے ہر دفتر ہر عمارت میں داخلے کے وقت مجھے اچھی طرح کھنگال کے بھیجا جاتا ہے اور واپسی پر مشکوک نگاہیں میرا تعاقب کرتی ہیں۔دنیا سمجھتی ہے میں چودہ سو سال پرانی ذہنیت کا مالک ہوں۔میں نہیں تو میرے آباء و اجداد انتہا پسند رہے ہونگے۔انکا تعلق قدامت پرست معاشرے سے رہا ہوگا اور اسکے اثرات مجھ تک بھی آئے ہیں تو میں انتہا پسند ہوں۔اب ساری عمر مجھے اسی لیبل کے ساتھ گزارا کرنا پڑے گا کہ چونکہ میرے نام میں محمد ہے اور میرے آباء و اجداد مسلمان تھے تو میں انتہا پسند ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *