تڑیاں اور"MAD"

Arif Nizami

حا ل ہی میں اڑ ی سیکٹر میں ہو نے والے حملے کے بعد، جس میں 19بھا رتی فو جی خیمو ں میں جل کر را کھ ہو گئے تھے ، بھا رت کی جنو نی حکومت اور میڈ یا نے یکطر فہ طور پر جنگی جنو ن پید ا کر رکھا ہے اورحسب توقع پاکستان کو ہی اس حملے کا موردالزام ٹھہر ایا جا رہا ہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بھا رتی فو ج اپنی حکومت کو باور کر ارہی ہے کہ ابھی وہ پاکستان کے ساتھ جنگ لڑ نے کے لیے تیا ر نہیں، لہٰذامیانہ روی اختیا ر کی جا ئے ۔لیکن حکمران بھا رتیہ جنتاپا رٹی کے لیڈروں نے تو حد کر دی ہے اور ان کی طر ف سے پاکستان کو سبق سکھانے کے مطالبے زور پکڑ چکے ہیں ۔ بی جے پی کے جنر ل سیکر ٹر ی رام مادیو نے اپنے ٹو یٹ میں کہا ہے کہ نام نہا د سٹر ٹیجک ضبط کے دن لد چکے، اب اگر ہما راایک دانت ٹوٹتا ہے تو ہمیں دشمن کا پورا جبڑا تو ڑ نا چا ہیے۔ بھارتی پرا ئم منسٹر آفس کے وزیر جتندرا سنگھ کا کہنا ہے کہ اگر اس وقت ہم نے پاکستان کو مزہ نہ چکھا یا تو اسے ہماری بز دلی سمجھا جا ئے گا ۔ کا نگر س بھی بی جے پی کو چڑا رہی ہے اور اسے یا د دلا رہی ہے کہ انتخابی مہم کے دوران اس کے لیڈر امیت شاہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر مو دی اقتدار میں آ گیا تو ایک چو ہے کو بھی لائن آ ف کنٹرول پار نہیں کر نے دی جا ئے گی ۔بھا رت میں جنگی جنون شاید اسی لیے پید اکیا جا رہا ہے کہ وہاں کی بی جے پی کی حکومت کے نزدیک. enough is enough ہو چکا ہے، تاہم نر یندر مو دی نے اپنے حا لیہ دھمکیوں سے بھر پور بیان میں پاکستان کو غر بت اور جہا لت کے خلا ف جنگ لڑ نے کی دعوت دی ہے ۔لگتا ہے کہ بھا رتی وزیر اعظم کو یہ احسا س ہو گیا ہے جنگ لڑ نا ان کے لیے مہنگا سودا ثا بت ہو گا ۔ ما ضی میں بھا رتی پارلیمنٹ پر حملہ ، ممبئی کا واقعہ اور کا رگل جیسے سنگین واقعات ہو ئے لیکن اس وقت جنگی جنون اس سطح پر نہیں پہنچا تھا جہاں اب پہنچا دیا گیا ہے ۔اس ضمن میں بھا رتی میڈ یا بھی جلتی پرتیل کا کام کر رہا ہے ۔ٹا ئمز آ ف انڈیا گروپ کے، جو پاکستان کے ایک بڑ ے میڈ یا گروپ کے ساتھ مل کر امن کی فاختائیں اڑاتا رہتا ہے ، انگر یز ی چینل' ٹا ئم نا ؤ‘کا معروف اینکر ارناب گو سوامی تو گا لی گلو چ پر اتر آ یاہے ۔اس کے نز دیک پاکستان دہشت گردوں کا گڑ ھ ہے اور اس کی فو ج ان کی پشت پنا ہی کرتی ہے اور جہاں تک سویلین حکومت کا تعلق ہے ، اس کی تو کو ئی حیثیت ہی نہیں ہے ۔اس پس منظر میں میاں نواز شر یف کی اقوام متحدہ کی جنر ل اسمبلی میں تقر یر انتہا ئی مد برا نہ تھی ،اسے وطن عزیز میں اپوزیشن جما عتوں نے بھی بالعموم سر اہا ہے ، لیکن بھا رت کو یہ تقر یر بہت چبھی ہے ۔پاکستان میں بھی میڈ یا اور جسد سیا ست کے بعض انتہا پسندوں کا خیا ل ہے کہ میاں صاحب کی تقر یر خاصی نر م تھی ۔بھا رتی میڈ یا کے مطابق پاکستان اور بھا رت کے تعلقات کی تا ریخ میں کسی پاکستانی لیڈ ر نے اتنی اشتعال انگیز ی کا مظا ہر ہ نہیں کیا، جتنا نواز شر یف نے اپنی تقر یر میں کیا ہے۔انڈ ین ایکسپریس نے تو اپنے ایڈ یٹوریل میں یہ تک لکھ دیا کہ یہ تقر یر جنر ل را حیل شریف نے ڈرافٹ کی ہے ۔ غا لباً بھارت کو میاں نواز شر یف کی تقر یر میںمقبوضہ کشمیر میں ہو نے والے مظالم کا ذکر ایک آ نکھ نہیں بھا یا۔اس پرمستزادیہ کہ اس میں بڑ ے بھر پو ر انداز سے اقوام متحد ہ کی سلامتی کونسل کی کشمیر کے بارے میں قراردادوں پر عمل درآمد پر زور دیا گیا ۔یقینا یہ تقر یر میاں نو از شر یف کی بھارت کے بارے میں ما ضی کی اپر وچ سے یکسر مختلف تھی ۔میاں صاحب بھارت سے اقتصادی اور تجا رتی تعلقا ت بڑ ھانے کے حامی رہے ہیں اور جب وہ اپوزیشن میں تھے تو انھوں نے یہا ں تک کہہ دیا تھاکہ اگر وہ برسر اقتدار آ ئے تو پاکستان اور بھا رت کے درمیان ویزے کی پابند یاں ختم کر دیں گے ۔ میاں صاحب کا خیال تھا کہ جس طر ح انھوں نے کا رگل سے پہلے اعلان لا ہو ر کے موقع پر اس وقت کے بی جے پی کے وزیر اعظم اٹل بہار واجپا ئی سے جپھی ڈا لی اسی طر ح ان کی خام خیالی تھی کہ ہا رڈ لا ئینر نر یندر مو دی سے بھی یا ری ہو سکتی ہے ۔مئی 2014ء میں میاں نواز شریف بھا رتی وزیر اعظم نر یندر مو دی کی حلف برداری کی تقر یب میں شر کت کے لیے دہلی گئے تھے اس مو قع پر انھوں نے حر یت کے رہنما ؤ ں سے ملاقات کی زحمت بھی نہیں کی تھی اور مودی گز شتہ دسمبر میں میاں نواز شر یف کی نواسی کی شا دی کی تقر یب میں آ دھمکے تھے ۔غا لباً اب میاں صاحب کو یہ احسا س ہو گیا ہے کہ ان تلو ں میں تیل نہیں ہے اور شاید انھیں یہ بھی محسوس ہو تا ہو کہ فوج کے سر برا ہ جنر ل راحیل شر یف‘ جو اب ریٹا ئر منٹ کے قر یب ہیں‘ کی اندرون ملک مقبو لیت کی وجہ ان کا دوٹو ک انداز ہے ۔یہ وہی وزیر اعظم ہیں جنہو ں نے صدر غلام اسحق خان سے چڑ کھا کرقوم سے خطاب کر تے ہوئے کہا تھاکہ میں ڈکیٹشن نہیں لو ں گا جس کے بعد آ رٹیکل 58ٹو بی سے لیس صدر نے ان کو گھر بھیج دیا تھا ۔یقینا اب میاں صاحب زیا دہ حقیقت پسند اور میانہ رو ہو گئے ہیں اور اب تو وہ بھا ری مینڈ یٹ کا بھی نام نہیں لیتے اوریہ کہنا کہ ان کی تقر یر جنر ل را حیل شر یف نے ڈ کٹیٹ کرا ئی تھی، زیا دتی ہوگی کیو نکہ میاں صاحب نے بھی بھا رت کی مسلسل پاکستان دشمن پالیسیوں اورکہہ مکرنیوںسے تنگ آ کر نظر یا ت بد ل لیے ہیں۔
جنگی جنون پیداکر نے میں ہما رے میڈ یا کے بعض حصے بھی کسی سے کم نہیں ہیں ؛تا ہم ایک اخبار نے تو اپنے تما م ایڈ یشنوں میں صفحہ اول پر اداریہ میں بڑے پتے کی بات کہی ہے کہ آ ئیں ہم سب یک زبان ہو کر بو لیں کہ جا رح بھا رت جنگی جنون میں مبتلا ہے اور پاکستان اس خطر ے کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ اخبار کے مطابق وزیر اعظم نواز شر یف نے جنر ل اسمبلی سے خطاب میں ٹھیک باتیں کی ہیں مگر انھیں ایک قدم آ گے بڑھتے ہو ئے بھا رتی فوجی مہم جو ئی کے پہلو کو بھی سامنے لانا ہو گا اور انھیں واضح الفاظ میں کہنا ہو گا کہ کنٹر ول لا ئن ریڈ لا ئن ہے اور اگر کسی وقت اور کسی طر ح اسے عبو ر کیا گیا تو بھر پو ر جواب دیا جا ئے گا۔ ادھربھا رتی لیڈر شپ کئی آپشنز پر غو ر کر رہی ہے ۔جن میں بعض جہا دی تنظیموں کے ہیڈ کو ارٹرز پر فضا ئی یا میزائل حملے ، لا ئن آ ف کنٹر ول کے پار پاکستانی فو جیوں کو نشا نہ بنانا ،پاکستانی سر حدوں پر بھا رتی فوجیوں کو اکٹھا کر دینا جیسے آپشنز شامل ہیں ۔لیکن جیسا کہ یہ اخبارخو د ہی تسلیم کر تا ہے کہ ایک ایٹمی طاقت ہو نے کے ناتے اور پاک فو ج کی بھر پو ر تیا ری کے با عث پاکستان بھا رت کے لیے تر نو الہ نہیں ہے ۔ہماراسامنا ایک کمینے اور مکاردشمن سے ہے جس کی انتہا پسند انہ اورکو تا ہ اند یشا نہ سوچ سے کچھ بھی تو قع کی جا سکتی ہے ۔ اس کے با وجو د ہمیں دھمکی آمیز زبان استعمال کر نے سے اجتناب کر نا چاہیے کیو نکہ جنگ پاکستان اور بھارت دونوں کے مفاد میں نہیں ہو گی ۔ لیکن ہمیں غر ض پاکستان سے ہے، ہما رے ہاں بعض لو گ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں کہ ہما رے میز ائل محدود پیمانے پر ایٹمی ہتھیا ر پھینکنے کی صلا حیت رکھتے ہیں لیکن ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال ما ضی کی باتیں ہیں ۔پچھلی دہائی میں سر د جنگ کے دوران امر یکہ اور سوویت یونین اس قسم کی تڑیاں لگا تے تھے، آ ج اسے سفارتی زبا ن میں MADٰٰٰؑیعنی ایک دوسر ے کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا نسخہ Mutually assured destructionکہا جا تا ہے ۔ویسے بھی MAD کا معنی پا گل پن ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *