خدا کے خزانے میں کس شے کی کمی ہے

سجاد میرsajjad mir

 

لوگوں کو جمع کیا جاتا ہے کہ امیر المومنین ان سے خطاب کرنے والے ہیں، لوگ اکٹھے ہو جاتے ہیں، وہ لوگ جیسے تاریخ انسانی نے کبھی دیکھے نہ ہوں، خلیفہ وقت منبر پر جلوہ افروز ہوتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اے عمر تو وہی تو ہے جو اپنی خالہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا اور اس کے بدلے وہ تمہیں مٹھی بھر کھجوریں دے دیا کرتی تھیں اور آج میرا زمانہ ہے، اللہ نے مجھے یہ عزت دی ہے۔ یہ کہا اور منبر سے اتر آئے۔ مجمع کو منتشر ہونے کا حکم دیا، یوں سمجھئے جلسہ ختم ہو گیا۔
غالباً عبدالرحمن بن عوف نے پوچھا، اے عمرؓ یہ تو نے کیا کیا، اپنی یہ تنقیص کر دی، فرمایا میرے دل میں خیال آیا تھا کہ دیکھو میں کتنی بڑی سلطنت کا سربراہ ہوں، یہ خیال آنا تھا کہ میں نے چاہا کہ اپنی اصلاح کروں اور اپنے نفس کا محاسبہ کروں۔ تاریخ کی کتابوں میں اس سے یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ سیدنا حضرت عمرؓ صرف اس لئے عظیم نہ تھے کہ وہ اپنے عہد میں رعایاکا کڑا احتساب کرتے تھے، بلکہ اس لئے بھی عظیم تر تھے کہ وہ اپنے نفس کا بھی محاسبہ کرتے تھے۔ ماہرین اخلاقیات اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ جو حکمران اپنے نفس کا یا اپنا محاسبہ خود کرتا رہتا ہے، اس کے عہد میں بدعنوانی جنم لیتی ہے نہ نظام سلطنت میں خرابی پیدا ہوتی ہے۔
اوپر والا واقعہ کل ہی ایک کتاب پڑھ کر میری نظر سے گزرا، یہ حکمت روحانیاں ہے جو حضرت مولانا ڈاکٹر غلام محمد صاحب کی چند تقاریر کا مجموعہ ہے۔ اس واقعہ سے میرے دل میں بہت سی باتوں کا خیال آیا جن کا اجمالاً تذکرہ میں نے اوپر کر دیا ہے۔ اس واقعہ سے حضرت والا نے تو اور طرح کے نتائج نکالے ہیں مگر ملک کی موجودہ صورتحال میں میرا ذہن اس طرف جا نکلا ہے۔ ڈاکٹر غلام محمد صاحب سید سلمان ندوی کے خلفاءمیں سے ہیں اور یوں ان کی نسبت ہمارے عہد میں انسانی نفس اور ذہن کے بہت بڑے پارکھ اور تذکیہ کرنے والے ماہر حضرت اشرف علی تھانوی سے جا ملتی ہے۔ مجھے بھی ڈاکٹر صاحب سے شرف نیاز رہا ہے۔ یہ کتاب مجھے ڈاک سے ملی تو یوں لگا آج کل مجھے اسی کی تلاش تھی۔
میری نظروں میں وہ لوگ ہیں جو کنٹینروں پر کھڑے پوری قوم سے مخاطب ہیں۔ دل چاہتا ہے کہ ان کے اندر بھی کوئی چنگاری چٹکے۔ میرے سامنے میرے وہ نمائندے ہیں جو پارلیمنٹ میں کھڑے اپنی بالادستی کا اعلان کر رہے ہیں جیسے وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ پارلیمنٹ بالادست ہے بلکہ یہ کہہ رہے ہوں کہ ہم سب سے برتر ہیں۔ میرے سامنے وہ حکمران بھی ہیں جنہیں اپنے مینڈیٹ پر ناز ہے۔ مگر شاید یہ سب نہیں جانتے کہ بندے میں رعب و جلال کیسے پیدا ہوتا ہے۔ کیسے روئے زمین اس کے دبدبے سے کانپتی ہے۔ اہل سیاست اور اہل دنیا کے لئے یہ ایک سمجھنے کی بات ہے۔ جب حضرت عمرؓ منبر پر کھڑے ہوتے اور کہتے کہ پاک ہے وہ ذات جس نے مجھے سب سے برتر بنایا تو سر ان کے احترام میں خم ہو جاتے حالانکہ مجمع میں کیسے کیسے لوگ تھے، اور خشیت الٰہی کا یہ حال تھا کہ جب دل میں ذرا غرور کا شائبہ پیدا ہوا تو یہ اعلان کر کے کہ عمر تو بکریاں چرایا کرتا تھا، اسٹیج سے اتر آئے۔ جن کے رعب و جلال سے کائنات لرزتی تھی اور جن کے دبدبے کے بارے میں حضرت خالد بن ولیدؓ نے فرمایا کہ عمرؓ کے ہوتے کوئی شخص بغاوت کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ یہ فقرے اس وقت کہے جب سپہ سالار کے عہدے سے معزول ہو کر وہ واپس لوٹ رہے تھے اور کسی نے کچھ یوں پوچھا کہ خالد کیا تم اپنا راستہ الگ تلاش کرو گے۔ سبحان اللہ کیا دبدبہ تھا کہ اللہ کی تلوار خالد بن ولید جیسا سپہ سالار یہ کہتا ہے کہ عمرؓ جیسے حکمران کے ہوتے کوئی بغاوت کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ یہ اسلامی تاریخ کے سب سے بڑے سپہ سالار کا قول ہے۔
دوسری طرف خشیت الٰہی کا یہ عالم ہے کہ وہ اس خوف سے کانپ جاتے تھے کہ اگر فرات کے کنارے بکری کا کوئی بچہ بھی مر جائے تو ڈرتا ہوں اس کا محاسبہ قیامت کے روز خدا مجھ سے کر بیٹھے۔ یہ واقعہ بھی تاریخ میں درج ہے کہ حضرت عمرؓنے زمین سے مٹھی بھر مٹی اٹھائی اور بولنے لگے ”کاش میں پیدا نہ ہوا ہوتا، کاش میری ماں مجھے نہ جنتی، کاش میں کچھ نہ ہوتا، کاش میں نیست و نابود ہو گیا ہوتا…. اندازہ لگایئے کہ وہ کس کیفیت میں یہ سب کچھ کہہ رہے تھے۔ یہ اسی کا اثر تھا کہ خدا نے انہیں وہ دبدبہ عطا کیا تھا جو عام آمروں اور سلاطین کوکبھی نصیب نہیں ہو پاتا۔
یہی وجہ ہے کہ انہیں رات کی نیند نصیب تھی نہ دن کا چین۔ رعایا کے حقوق کا خوف انہیں نچلّا نہ بیٹھے دیتا تھا۔ وہ دن رات اپنے نفس کا محاسبہ کرتے تھے، ہمارے حکمرانوں اور قائدین کی طرح نہ تھے۔ ذرا غور کیجئے، ہمارے حکمران طبقے میں کیسے کیسے لوگ ہیں، کن کن محلات میں کیسی کیسی آرام کی زندگیاں گزار رہے ہیں۔ حکمران طبقے سے مراد وہ سب ہیں جو حکومت میں ہیں یا اپوزیشن میں ہیں۔ تینوں بڑی جماعتوں کے قائدین کے محلات دیکھ لیجئے، بنی گالہ، جاتی عمرہ سے بلاول ہاﺅس کی پھیلی ہوئی ایک چین تک سب عوام سے کتنی دور اور کتنی پرآسائش ہیں۔ ان باغیوں کے تو کنٹینر بھی شاہانہ ہیں اور یہ اپنے مقام بلند سے اس فروتری سے بات کرتے ہیں جیسے وقت کی طنابیں ان کے ہاتھ میں ہیں۔ ادھر ذرا حضرت عمرؓ کا ایک قول اور ملاحظہ فرما لیجئے: ”اگر میں رات کو سو جاﺅں تو میں نے اپنے نفس کو برباد کیا اور اگر میں دن کو سو جاﺅں تو میں نے اپنی رعایا کا نقصان کیا۔ پھر فرمایا: بربادی ہے میری اور میری ماں کی اگر اللہ نے مجھ کو نہ بخشا۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت عمرؓ کے چہرے پر آنسوﺅں کے بہنے سے دو سیاہ لکیریں پڑ گئی تھیں۔
یہ میں سیرت عمرؓ کا کوئی باب رقم نہیں کر رہا، بلکہ اسی حکمت روحانیاں سے چند موتی رول رہا ہوں۔ یہ کتاب تو بنیادی طور پر اہل تصوف کے لئے ایک تحفہ ہے مگر اس سے چند واقعات اخذ کر کے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہمارے ہاں سچا انقلاب کب اورکیسے آئے گا۔ اس وقت آئے گا جب ہمارا حکمران طبقہ یعنی وہ لوگ جن کے ہاتھ میں زمام اقتدار آج ہے یا کل تھی یا کل ہو گی، خوف خدا سے اپنا کڑا محاسبہ خود کرے گا۔ اس سے ان قائدین ہی میں نہیں، ان کے اثر سے پورے معاشرے میں احتساب کی ایسی کیفیت پیدا ہو جائے گی جو نہ صرف انہیں حکمرانی کے لئے رول ماڈل بنا دے گی بلکہ ان کے اس خود احتسابی سے ان کا رعب و دبدبہ کائنات کے روئے روئے تک نفوذ کر جائے گا اور معاشرہ اپنی اصلاح ایک خودکار طریقے سے کرنے لگے گا۔
یہ باتیں میں کسی خاص گروہ کے بارے میں نہیں کر رہا، سبھی کے لئے عمومی انداز میں کر رہا ہوں۔ اس کیفیت کا تقاضا بھی یہ ہے کہ میں انفرادی الزامات لگانے سے گریز کروں اور دعا کروں کہ اللہ ہمیں ایسی قیادت نصیب کرے…. کیا عجب کہ خدا ہمارے ان قائدین کے دل بدل دے، آخر اس کے خزانوں میں کس چیز کی کمی ہے، وہ کسی سے بھی اصلاح کا کام لے سکتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *