سی پیک اور شمال مغرب کی طرف ایک نظر

محمد عامر رانا

amir-rana

آجکل پاکستان ڈپلومیسی میں مشکلات کا شکار ہے۔ یہ مسئلہ پالیسی اور مہارت کی عدم موجودگی کی وجہ سے درپیش نہیں ہے۔ یہ مسئلہ ملک میں نان سٹیٹ ایکٹرز کی موجودگی ہے۔ یہ لوگ پاکستان کے لیے ایک بوجھ بن چکے ہیں اور ہماری ڈپلومیسی اور سیاسی طاقت کو ایشیا اور دنیا بھر میں متاثر کر رہے ہیں۔ اگر اوڑی پر حملہ نہ ہوتا تو جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم کی تقریر زیادہ موثر کن ہوتی۔ اگرچہ ابھی تک کنفرم نہیں ہوا کہ حملے میں کون ملوث ہے لیکن ہر بار کی طرح اس بار بھی انڈیا نے الزام پاکستان پر لگا دیا ہے۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے خلاف آواز اور چین کا پاکستان کے ساتھ جڑے رہنے کا اعلان بھی متوقع تھا۔ لیکن چین بھی نان سٹیٹ ایکٹرز سے خوف زدہ ہے اور اکنامک کوریڈور کے لیے ان غیر ریاستی عناصر کو ایک خطرہ سمجھتا ہے۔ شدت پسندی پھیلانے میں ان غیر ریاستی عناصر کا کردار چین کے لیے بھی پریشان کن ہے۔

یہ بات کہ کچھ کالعدم تنظیمیں بھی سی پیک پر اتنی ہی خوش ہیں جتنی پاکستان کی عام آبادی چین کی انٹیلی جینس کے لیے پریشان کن ہے۔ جب ایک کالعدم تنظیم نے سی پیک کی سکیورٹی کی پیش کش کی تو اس پر بھی چین کو تشویش ہوئی۔ ایسے حالات جو انڈیا نے ہمارے سامنے کھڑے کر دیے ہیں ہمارے لیے کیا چیز خوش خبری کا کام کر سکتی ہے۔ اس کا جواب ہے سی پیک۔ سکیورٹی اور اسٹیبلشمنٹ دونوں سی پیک کے معاملے میں بہت سنجیدہ ہیں جس کی کئی وجوہات ہیں۔ اسٹیبشمنٹ اس پراجیکٹ کو سٹریٹی جک ایڈوانٹیج سمجھتی ہے جب کہ حکومت اس کے ذریعے اگلے الیکشن کے لیے ووٹ بینک مضبوط کرنا چاہتی ہے ۔

دونوں گروپوں کو سی پیک ملک کے تمام مسائل کا حل نظر آتا ہے۔ لیکن اسے مکمل طور پر گیم چینجر قرار دینا سادگی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ یہ ایک گیم چینجر تبھی ہو گا جب اس کی تکمیل میں کچھ اہم باتوں کا خیال رکھا جائے۔ دہشت گردوں پر گھیرا تنگ کرنے کے علاوہ سیاسی قیادت میں بھی ہم آہنگی ضروری ہے۔ تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ سیاسی مذاکرات ، ایک کامن انٹریسٹ کونسل کا قیام، اور دونوں ممالک کے بیچ رواطب اس سی پیک معاہدے کے لیے اشد ضروری ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ  علاقائی پالیسی کا ریویو بھی بہت اہم ہے۔ انڈیا کی ایکٹ ایسٹ ڈپلومیسی پاکستان کے متعلق ہے۔ انڈیا ایران اور افغانستان کو پاکستان کے خلاف اپنا ساتھی بنانے کا حامی ہے۔ اگرچہ ایران کا افغانستان کے ساتھ پچھلی دو دہائیوں سے کوئی خاص رابطہ نہ تھا لیکن بھارت کے ساتھ تعلقات کی مضبوطی اس کے لیے خوش آئیند ہے۔

اس وقت اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ضروری ہے کہ پاکستان ایک شمال مغربی پالیسی بنائے  تا کہ سی پیک کی تکمیل میں آسانی ہو اور  ایران اور افغانستان کی طرف سے اکنامک سٹریس کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ اس پالیسی میں نہ صرف افغانستان اور ایران کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے جائیں بلکہ دوسرے ممالک کے ساتھ بھی روابط قائم کیے جائیں۔ ایران اور افغانستان کے ساتھ علاقائی استحکام ان فوائد کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ یہ ممالک پاکستان کے ہمسائے ہی نہیں بلکہ سی پیک میں پارٹنرز بھی بن سکتے ہیں۔ بیجنگ کے بہت سے سیاستدان اسے علاقائی استحکام کا ضامن قرار دیتے ہیں۔ پاکستان ایران تعلقات اب یادداشتوں سے آگے بڑھنے چاہییں۔ 1980 سے دونوں ممالک نے بہت سے معاہدوں پر دستخط کیے لیکن بہت کم معاہدے پورے کیے جا سکے۔ کاغذی کاروائی میں دونوں ممالک بھائیوں جیسے اچھے تعلقات میں بندھے ہیں لیکن اصلا دونوں ممالک کے تعلقات بہت  سرد ہیں۔

ایران کے اندر قابلیت ہے کہ یہ سی پیک کافنکشنل پارٹنر  بنے کیونکہ یہ پہلے ہی ریشم اکنامک بیلٹ کا حصہ ہے۔ سلک روڈ ٹرین جو دونوں ممالک کے بیچ رابطے کا ذریعہ ہے ان دونوں ممالک کی آپسی قریبی کا ثبوت ہے۔ اندازے کے مطابق ایران کا سی پیک میں شامل ہونا پاکستان کی اکنامک پوٹینشل کو مضبوط کرے گا اور ایران پاکستان کے بیچ گیس پائپ لائن معاہدہ بھی شاید چین کی فنڈنگ سے پایہ تکمیل تک پہنچ جائے۔ ایران کی پارٹنرشپ کے لیے انہیں زیادہ ڈپلومیٹک کوشش کرنے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی کیونکہ ایران نے خود ہی اس پراجیکٹ کا حصہ بننے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

حال ہی میں ایرانی سفارت کار نے بیان دیا ہے کہ چاہ بہار ایگریمنٹ بھارت ، افغانستان اور ایران تک محدود کرنا لازمی نہیں ہے اور ابھی مکمل بھی نہیں ہو پائی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ چاہ بہار پورٹ کے لیے پاکستان اور چین کو مدعو کیا گیا تھا لیکن دونوں ممالک نے دلچسپی نہیں دکھائی۔ ایران کی سی پیک میں شمولیت بلوچستان کے علاقے میں سی پیک کی سکیورٹی کے لیے بھی بہت مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن ایسا کرنے کے لیے پاکستان کو اپنی مڈل ایسٹ پالیسی بدلنی ہو گی۔ کیونکہ اس سے پاکستان کے سعودی عرب سے تعلقات خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

یہ بھی دھیان میں رہے کہ افغانستان سے تعلقات بہتر کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی، اور انٹیلی جینس پاکستان اور افغانستان کے گہرے تعلقات کے حامی ہیں۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ یہ مطالبہ کیسے حقیقت میں بدلا جا سکے گا لیکن اسلام آباد کو اس کے لیے سنجیدہ کوشش کرنی ہو گی۔ افغانیوں کا دل جیتنا ایک آسان کام نہیں ہے جس کی وجہ تاریخی بوجھ اور کچھ دوسرے فیکٹرز ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ افغانی عوام میں اشتعال دیکھنے کو ملے لیکن افغانستان کے ساتھ تعلقات پاکستان کی اندرونی سکیورٹی ، سیک پیک کی مضبوطی  اور کچھ دوسری وجوہات کی بنا پر بہت ضروری ہیں۔ افغانستان کے ساتھ مضبوط تعلقات ہی باہری دنیا میں پاکستان کے تشخص کو بہتر کر سکتے ہیں۔ مغرب سے بہتر تعلقات کے لیے افغانستان ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے پاکستان کو افغانستان کے ساتھ ایک طویل المدتی امن معاہدہ کرنا ہو گا۔ ان دو شمال مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات پاکستان کے لیے بہت اہمیت کے حامل ہیں اگرچہ یہ آسان ٹاسک نہیں ہے۔ ان دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات پاکستان کی اندرونی امن و امان کی صورتحال کی بہتری کے ضامن ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *