اسلامی مدارس دہشت گردی کے اڈے ہیں، بی جے پی رہنماکا الزام

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف حکمراں جماعت بی جے پی کی طرف سے جاری ’’لَوجہاد‘‘ کے نام سے نفرت کی تحریک میں اس وقت مزید شدت آ گئی ہے جب بی جے پی کے رکن پارلیمان ساکشی مہاراج نے ملک میں اسلامی مدارس کو ملک کا دشمن قرار دیا ہے۔انھوں نے الزام لگایا ہے کہ ان تعلیمی اداروں میں دہشت گردی کی تعلیم دی جا رہی ہے۔
اتر پردیش کے انتخابی حلقے اناؤ کی نمائندگی کرنے والے بی جے پی کے رکن پارلیمان ساکشی مہاراج نے چند دن قبل بھی مدرسوں کو ’اسلامی دہشت گردی کا محور‘ قرار دیا تھا جہاں بقول ان کے ’’لَوجہاد‘‘ کو فروغ دیا جاتا ہے۔’لَو جہاد‘ کی اصطلاح ایک عرصے سے بی جے پی اور اس کی ساتھی ہندو تنظیمیں مسلمانوں کے خلاف استعمال کر رہی ہیں جس کا مقصد بقول ان کے شادی کے ذریعے بڑی تعداد میں ہندو لڑکیوں کو مسلمان بنانا ہے۔’’لَوجہاد‘‘  کی تحریک گورکھپور سے بی جے پی کے رکن پارلیمان یوگی آدتیہ ناتھ نے چلا رکھی ہے۔
یوگی کا کہنا ہے کہ مسلمان لڑکے ہندو لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر انھیں مسلمان بنانے کی سازش کر رہے ہیں۔
ساکشی مہاراج نے اتوار کو قنّوج میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مدرسے پورے ملک میں دہشت گردی کی تعلیم دے رہے ہیں۔میں چیلنج کرتا ہوں کہ آپ مجھے ایک بھی مدرسہ بتا دیں جو یوم آزادی یا یوم جمہوریہ کے دن اپنے یہاں قومی پرچم لہراتا ہو۔ یہ مدرسے ملک کےدشمن ہیں۔
ساکشی مہاراج کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب بی جے پی، آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد جیسی ہندو تنظمیں ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش اور کئی دیگر شمالی ریاستوں میں مسلمانوں کے خلاف مہم کے تحت گھر گر جا کر رابطہ قائم کر رہی ہیں۔
سماج وادی پارٹی اور کانگریس نے ساکشی مہاراج کے بیان کی مذمت کی ہے اور اسے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی کوشش قرار دیا ہے، جبکہ بی جے پی نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
ادھر اتوار کو ہی مرکزی وزیر مینکا گاندھی نے کہا ہے کہ ملک کے مذبح خانوں میں جانوروں کے گوشت کی تجارت سے جو منافع ہو رہا ہے اسے دہشت گردی کی فنڈنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔انھوں نے پورے ملک میں جانوروں کے ذبیحے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔انھوں نے کہاکہ  جانوروں کی تجارت کا پیسہ دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہا ہے، یعنی اسے ہمیں قتل کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *