سی پیک پرایرانی خواہش۔۔۔ کیا ممکن ہے؟

ausaf sheikh

اقوام متحدہ کی جنر ال سمبلی کے اجلاس مں میں وزیراعظم پا کستان میاں نواز شریف کی شر کت اور خطا ب میں کشمیر اور بھارت کے حوالے سے دہشت گرد ی کے خلاف طویل جنگ میں پاکستان کے ہونے والے نقصانات اور قربا نیوں کی تفصیل پیش کر نے کے ساتھ ساتھ دو ٹوک الفاظ میں پاکستانی موقف پیش کرنے کے بعد بھارت سمیت دنیا کی بہت سی طاقتوں کے کان کھل گئے ہوں گے اور اُ ن کی خوش فہمیاں دور ہو گئی ہوں گی پاکستان کو کمزور سمجھنے والے اورخطے میں طاقت کا توازن اپنے حق میں کرنے اور سُپر پاور بنے کے خواہش مند پا کستانی طاقت سے بخوبی آ گاہ ہونے کے با وجود پاکستان سے فطری حسد کی وجہ سے کوئی نہ کوئی نقصان پہنچانے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں فطری حسد یہ کہ یہودیوں کی مسلمانوں کے خلاف ازلی دشمنی ، ہندو کی پاکستان بنے کے تکلیف اور کچھ اور قوتیں بلا شبہ مذہبی، علا قائی تعصب کے علاوہ دیگر تعصبات رکھتی ہیں ۔
جنر ل اسمبلی سے وزیراعظم کے خطاب کے بعد وہاں قیام کے دوران بہت سے مما لک کے سربراہوں سے وزیراعظم پاکستان کی ملاقات ہوئی ۔ ایرانی صدر نے بھی وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات کی اور دنیاکے سب کے بڑے اور اہم معاشی منصوبہ پا ک چین اقتصادی راہ داری میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا اور اس کے صلے میں سر حد پار یعنی ایرانی علاقہ میں پاکستان کی بجلی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے پاور پلانٹ لگانے کی پیش کش بھی کی، اقتصادی راہ داری بلاشبہ اتنا بڑا اور اہم منصوبہ ہے جس نہ صرف چین بلکہ دینا کی 3ارب سے زائد آبادی کو اس فائدہ پہنچے گا اقتصادی را ہ داری اور گوادر پورٹ ایشیائی اور افریقی ممالک کے لیے ایک اہم فائدہ مند منصوبہ ہے۔
پاک چین اقتصادی راہ داری کا ابتدائی مقصد یہ ہے کہ چین روزانہ 60لاکھ بیرل تیل باہر سے لیتا ہے جس کے لیے اُسے بارہ ہزار کلو میٹر کا سفر کرنا پڑتاہے گوادر پورٹ اور اقتصادی راہ داری کے ذریعے اس کا یہ سفر کم ہو کر تقریباً 3ہزار کلومیٹر رہ جائے گا جس سے چین کو اربوں ڈالر سالانہ بچت ہوگی جو ایک محتاط اندازے کے مطابق 20 بلین ڈالر ہوگی ، پاکستان کو راہ داری کی مد میں اربوں ڈالر سالا نہ ملیں گے اس کے علاوہ اس راہ داری پر ہر ہفتہ 80ہزار سے زائد ٹریک ٹریلر اور کنٹینر گزریں گے جو ٹول ٹیکس کی مد میں اربوں روپے پاکستان کو دیں گے اس کے علاوہ اس راہ داری پر ہوٹل ، پٹرول پمپ ،سی این جی پمپ ، ٹائر ، پنکچر کی دکانیں ، اسٹور، ڈسپنسریاں ، چائے خانے اور دیگر سٹور سینکٹروں کی تعداد میں بنیں گے جس سے پاکستانیوں کو روزگار ملے گا اس منصوبہ کے لیے افرادی قوت بھی پاکستانی ہوگی اور اس شاہراہ کا سلسلہ بہت سے ایشیائی اور افریقی مما لک سے ملے گا جس سے مزید فائدہ اور بہت سے ملکوں کے درمیان تجارت کو فروغ ملے گا ، گوادر بندر گاہ اور سی پیک منصوبہ سے دنیا کی نصف سے زائد آبادی مستفید ہوگی ، روس بھی اس منصوبہ میں دلچسپی رکھتا ہے اور اس کی افادیت اور روس کے لیے بھی اس کی اہمیت سے خوب آگاہ ہے ۔
امریکہ اور بھارت اپنے مذموم عزائم کے ساتھ بر سر پیکار ہیں امریکہ روس اورچین جبکہ بھارت کا ہدف پاکستان اور چین ہیں جن کے حسد میں وہ جل رہا ہے اور انہیں کمزور کرنے کی نا پاک سازشوں میں مصروف ہیں ۔ بھارت روس کا پرانا دوست رہا ہے متعدد مرتبہ روس نے بھارت کا ساتھ دیا ایک مرتبہ اقوام متحدہ میں کشمیر کے حوالے سے پاکستانی قرار داد کو بھی بھارت کے حق میں ویٹو کر چکا ہے ۔ ہند و بنیاں ازل سے ہی بیوفااور مفاد پرست ہے ۔ بھارت نے دنیا میں امریکہ توازن دیکھتے ہوئے امریکہ سے پینگیں بڑھائیں پاکستان بھی روس کے قریب رہا ہے ذوالفقار علی بھٹو کے دورمیں روس میں پاکستان کو کراچی میں بہت بڑی اسٹیل مل دی گزشتہ ایک عشرے سے امریکہ پا کستان مخالف ہے جس کے متعد د مرتبہ ثبوت سامنے آچکے ہیں ۔۔۔۔۔ اب اس اقتصادی راہ داری کا امریکہ اور بھارت کے پیٹ میں مروڑ اُٹھ رہے ہیں ۔
ایرانی صدر کی پا کستان کے وزیراعظم سے ملا قا ت میں اقتصادی راہ داری میں شریک ہونے کی خواہش کا اظہار اور اس میں شریک کرنے پر پاکستان کو بجلی بنا کر دینے کی پیش کش کی گئی ، کسی بھی ملک کا اس معاشی ، اقتصادی منصوبہ میں شامل ہونے پر اعتراض نہیں ، بات نیت کی ہے ، کیا ایران نیتی سے یہ سب کچھ کررہاہے ؟گزشتہ کچھ عرصہ سے ایران کی حرکا ت بھی پاکستا ن کے حوالے سے حوصلہ مند نہیں رہیں ۔ چاہ بہار بندرہ گاہ کا منصوبہ بھارت کی آشیر باد پر شروع کیا گیا نیک نیتی سے ہوتو ضرو ر بننا چاہیے لیکن اس کے تانے بانے گوادر بندر گاہ کی بھارتی مخالفت سے ملتے ہیں حالا نکہ ایرانی چاہ بہار بندر گاہ کی اوسط گہرائی 11میٹرجبکہ گوادر دنیا کی تیسری گہری بندرگاہ ہے ۔ گوادر سے چاہ بہار کا فاصلہ تقریباً 250کلومیٹر ہے جہاں سار زور بھارت لگار ہا ہے اور ایک اہم بھارتی جا سوس جو ایران سے پاکستان داخل ہونے پر پکڑا گیا کل بھوشن یادیو وہ بھی عرصہ سے ایرانی شہر چاہ بہار میں ایک صرا ف کے حیثیت سے مقیم تھا جہاں بیٹھ کر وہ گوادر بندر گاہ کے خلاف سازشیں اور بلوچستان میں بد امنی پھیلانے کا مرتکب رہاہے ۔۔۔۔۔۔
ان حا لات ایران خود پرآنے والے شبہات دو ر کیے بغیر پا ک چائنا اقتصادی راہ داری میں شمولیت کی خواہش کا اظہارکررہاہے تو ٹھیک نہیں ہے ۔ ایران کو ثابت کرنا پڑے گا کہ چا ہ بہار بندر گاہ جو بھارت کی معاونت سے بنائی جارہی ہے اس کا مقصد پاکستان کے گوادر پورٹ کے خلاف نہیں اور کل بھوشن یادیو کی ایران میں بیٹھ کر پاکستان مخالف سرگرمیوں کا جواب بھی دینا ہوگا ۔۔۔ بھارت کا ہم نشین ہوتے ہوئے ممکن نہیں ہے کہ وہ ان اہم منصوبوں میں شامل ہو سکے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *