شکست کے خوف سے بوکھلا کر مودی نے ایک اور حرکت کر دی

19

نئی دہلی ۔ نریندر مودی کے غبارے سے ہوا نکل گئی‘ لائن آف کنٹرول کھوئی رٹہ سیکٹر میں مقبوضہ کشمیر کی بھارتی فوج کی پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دئیےگئے۔ تفصیلات کے مطابق پاک بھارت کشیدگی کو بڑھانے والے نریندر مودی کو اپنی شکست صاف نظر آنے لگی پاکستان اور آزادکشمیر پر حملہ کی گیڈر بھبکیوں کے بعد مسلح افواج پاکستان اور پوری قوم کے عزم نے بھارت کی عقل ٹھکانے لگا دی۔ لائن آف کنٹرول کے سیکٹر کھوئی رٹہ میں قابض انڈین فوج نے اپنی پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دےئے ہیں جو دور سے دکھائی دے رہے ہیں۔ ادھر پوری پاکستانی اور کشمیری قوم پْرعزم ہے کہ بھارت نے حملہ کیا تو مسلح افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر آزادکشمیر کو بھارتی فوج کا قبرستان بنا دیں گے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ اڑی حملے کے ذمہ دار سزا سے بچ نہیں سکیں گے ،ہماری فوج بات نہیں کرے گی بلکہ بہادری سے جواب دے گی۔ اڑی حملے میں اپنی جانیں گنوانے والے فوجیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، کشمیری عوام نے ملک کے خلاف سرگرم عناصر کو پہنچانا شروع کر دیا ہے، کشمیری معمولات زندگی کی دوبارہ بحالی چاہتے ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے ریڈیو پروگرام گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں اڑی حملے میں اپنی جانیں گنوانے والے فوجیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ مودی کا کہنا تھاکہ ہمارے شہریوں اور سیاسی رہنماؤں کے پاس بات چیت کے بہت سے مواقع موجود ہیں اور ہم بات کرتے ہیں لیکن فوج بات چیت نہیں کرے گی وہ صرف اپنی بہادری کے ذریعے ہی جواب دے گی۔ آج میں کشمیر ی عوام سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے ملک کی مخالفت کرنے والے عناصر کو پہنچانا شروع کردیا ہے۔ کشمیری عوام چاہتے ہیں انکے معمولات زندگی دوبارہ بحال ہوں ،تعلیمی اور تجارتی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوں ،کشمیر ی عوام کی سیکورٹی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ انتظامیہ اسے برقرار رکھنے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاک بھارت انڈس واٹر معاہدے پر آج اجلاس طلب کر لیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ معاہدے پر مودی کا بریفنگ دے گی۔ میڈیا کا دعویٰ ہے کہ بھارتی وزیر اعظم پاک بھارت انڈس واٹر معاہدہ ختم کر سکتے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت 6 بھارتی دریاؤں کا پانی پاکستان کو مل رہا ہے:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *