ہندوستان میں مذہبی تبدیلیوں کی ان کہی کہانی

 ڈاکٹر جاوید جمیلjamil

اگر ہندوتوا برگیڈ سے آنے والی میڈیا رپورٹیں اور بیانات درست مان لئے جائیں تو یہ ظاہر ہو گا کہ ہندوستان میں تبدیلی مذہب ایک یکطرفہ راستہ ہے، یعنی ہندو اسلام قبول کر ت جا رہے ہیں۔
ہندوؤں کی تبدیلی مذہب کی وجوہات خواہ جو بھی ہوں، اس کی جو منظر کشی عوام کے سامنے کی جاتی ہے وہ ایک بہت بڑی سازش ہے۔زیادہ امکان یہ ہے کہ یہ تبدیلیاں ہندوؤں کو اسلام پر لانے کی عالمی کوششوں کا ایک حصہ ہیں تاکہ ہندوستان کی آبادی کے اعدادوشمار کو مسلمانوں کے حق میں پھیرا جا سکے ۔
ہندویہ دلیل دیتے ہیں کہ ’’لوجہاد‘‘اس مقصد کیلئے استعمال ہونے والے حربوں کے سلسلے کی ایک تازہ ترین کڑی ہے۔ یہ خیال کہ اگر ہندوستان میں کوئی فرد اسلام قبول کر رہا ہے تو اگرچہ یہ کوئی قابل استردادیا غیر اہم بات نہیں ہے تاہم متعدد کیسوں میں لوگ از خود، رضاکارانہ طور پر بھی اسلام قبول کرتے ہیں جنہیں نہایت آسانی سے فراموش کر دیا جاتا ہے۔
حتیٰ کہ پیار کی شادیوں کے نتیجے میں ہونے والی مذہبی تبدیلیوں میں سے زیادہ تر بھی رضاکارانہ ہوتی ہیں۔اگر یہ تبدیلیاں صدق دل سے نہیں بھی ہوتیں تو وجہ یہ ہوتی ہے کہ مسلمان لڑکوں میں سے زیادہ ترنہ تو اپنا مذہب بدلنا پسند کرتے ہیں اور نہ ہی ان کا مذہب انہیں بت پرستوں سے شادی کی اجازت دیتاہے۔ جب کہ ان کے پیار میں مبتلا لڑکیاں ان سے شادی کو ترجیح دیتی ہیں خواہ اس کیلئے انہیں اپنا مذہب ہی کیوں نہ چھوڑنا پڑے۔ایسی صورت حال ان انگنت سمجھوتوں میں پیدا ہوتی ہے کہ جولڑکا لڑکی ایک دوسرے سے شادی کرنے کیلئے کرتے ہیں۔
تاہم جس موضوع پر قومی میڈیا میں بحث نہیں کی جا رہی، وہ یہ ہے کہ اگر ہندوستان میں کوئی جبری تبدیلی مذہب جاری ہے تو یہ بنیادی طور پر مسلمانوں کی ہندومت میں تبدیلی ہے، نہ کہ ہندوؤں کا اسلام کی جانب مڑنا۔زیادہ تر معاملات میں، ایسی تبدیلیاں یا تو تشدد کے زیر اثر واقع ہوتی ہیں اور یاپھر یہ مالی مفاد کی پیشکشوں کے نتیجے میں ہوتی ہیں۔ان تبدیلیوں کو اصولاً درست ثابت کرنے کیلئے ، ’’واپسی‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے اور اس حقیقت کا اظہار کیا جاتا ہے کہ ہندومت تبدیلی مذہب کی اجازت نہیں دیتا۔
فی زمانہ جس طرح معاملات آگے بڑھ رہے ہیں، یوں لگتا ہے کہ یہ ’’واپسی‘‘ بتدریج ایک قومی مہم بن سکتی ہے۔ ایسی ہی ایک رپورٹ کو مقامی پریس نے یہ عنوان دیا کہ، ’’اترپردیش میں 5500عیسائی اورمسلمان ہندومت کی طرف واپس لوٹ گئے۔‘‘رپورٹ میں کہا گیا:
’’اُتر پردیش کی دہکتی ہوئی سرزمین سے ایک عظیم خبر۔مذہب تبدیل کرنے والے ہزاروں ہندو ؤں نے دوبارہ اپنے باپ دادا کا عقیدہ اختیار کر لیا ہے اور ہندومت کی جانب پھر سے پلٹ آئے ہیں۔ ‘‘
’’کرسمس کی آمد سے ایک روز قبل، شام کے وقت، بہت زیادہ شور مچاکیونکہ آر ایس ایس کا سیفرون برگیڈ، وی ایچ پی، بہراگ دال، آریا سماج اور ہندو یووا واہینی، اپنے ان بھائیوں اور بہنوں کوقبول کرنے اور خوش آمدید کہنے کیلئے مارچ کر رہے تھے جو کئی عشرے قبل حماقتوں کے حصار میں اور کچھ فراڈئیے عیسائی گروہوں کے جال میں پھنس کر یا غیر انسانی مظالم کا ارتکاب کرنے والے ظالم اسلامی عناصر کے زیر اثر اپنا مذہب چھوڑ گئے تھے۔‘‘
’’ 25دسمبر2013ء کی شام، اتر پردیش کے ایک وسیع علاقے ، آگرہ، علی گڑھ،کس گنج، بریلی، بدون، بجنور،شاہجہان پور، مین پوری اور فروج آبادکے علاقوں میں مقیم 5000سے زائد لوگ ہندومت کی جانب لوٹ گئے اور انہوں نے عیسائیت کو الوداع کہہ دیا۔‘‘
’’سب سے بڑی تبدیلی مذہب(سودھی) علی گڑھ میں ہوئی جہاں2000عیسائی ہندو ہو گئے۔ اس کا اہتمام دھرما جگران سمِٹی نے کیا۔ یہ وی ایچ پی کا ایک خاص یونٹ ہے جو کسی غیر محفوظ حالت میں پھنسے ہوئے ان مظلوم ہندوؤں میں دھرما یا عقیدے کا احساس اجاگر کرنے کیلئے خصوصی کوششیں کرتا ہے جوعیسائی عناصر یا ذاکر نائیک جیسے دیگر شیطانی عناصر کی جانب سے دبوچ لئے جاتے ہیں۔
یوگِندر سِکندجو ایک سماجی ماہر ہیں اور کئی برس قبل ایک مسلمان خاتون سے شادی کر چکے ہیں اور اسلام قبول کر چکے ہیں، وہ بھی اس مضمون پر بہت لکھ چکے ہیں اور وضاحت سے بیان کر چکے ہیں کہ کس طرح بالخصوص راجستان اور ہریانہ میں راجپوت اور جاٹ جیسے خاص طبقات ہندوتوا تنظیموں کی کوششوں کے سبب غیرمحفوظ ہو چکے ہیں۔
غالب اور متشدد ہندو اکثریت کے درمیان مقیم یہ طبقات ، ہندوتوا قوتوں کی جانب سے ڈالے جانے والے دباؤ کے سامنے ٹھہرنا بہت مشکل سمجھتے ہیں۔ انہیں ہندومت میں واپس جانے کے عوض منفعت بخش عہدے اور دیگر معاونتیں پیش کی جاتی ہیں۔ یوگندر سکند کے مطابق ایسی مذہبی تبدیلیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *