اپنے بچوں کو جنسی تعلیم ضرور دیجئے

مہوش بدر

mehwish

کہا جاتا ہے کہ ضرب المثل  hormonal teenagers ایک کلیشے  (Cliché)(بہت زیاد استعمال ہوتے ہوتے  ناقابل استعمال بن جانا)بن چکی ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ زیادہ تر کلیشے سچائی پر مبنی ہوتے ہیں  اور hormonal teenagers آج تک کا سب سے بڑی سچائی والا  کلیشے ہے۔ آج کل ہمیں سائیکالوجی اور میڈٰیکل سائنس سے بہت زیادہ معلومات ملتی ہیں۔ تمام والدین کو یہ مان لینا چاہیے کہ 13 سے 18 سال کی عمر تک بچوں کے جسم میں ہارمون کی بہت سی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو جنسی خواہشات پر ابھارتی ہیں اور انسان کی نفسیاتی ڈویلپمنٹ کا باعث بنتی ہیں۔ عقلی طو ر پر تمام والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو یہ سمجھائیں کہ وہ ان تبدیلیوں کو قبول کریں  اور حالات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ چاہے یہ غصہ ہو، جنسی میچورٹی ہو، ڈپریشن ہو، بے چینی ہو یا کوئی بھی اور جسمانی تبدیلی کی وجہ ہو والدین کو بچوں سے اس معاملے میں گفتگو کرنی چاہیے۔

مذکورہ عمر انسان کی شخصیت کی بہتری کے لیے سب سے اہم ہوتی ہے ۔ اس عمر میں حالات کا بچے کیسے سامنا کرتے ہیں یہی ان کی زندگی کا سب سے اہم موڑ ہوتا ہے اور زندگی بھر ان کی سوچ پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اگرچہ پاکستانی والدین اپنے بچوں کی تربیت اور مدد کے لیے جو ممکن ہو کرتے ہیں لیکن  حال ہی میں ایک بین الاقوامی این جی او جس کا نام Rutgers World Population Fundہے اور بچوں اور نوجوانوں کی صحت کے معاملات میں مدد کے لیے پیش پیش ہے  نے ایک ریسرچ پیپر شائع کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں اس عمر کے بچے جو کل آبادی کا 33فیصد ہیں جسمانی، اور نفسیاتی تبدیلیوں کے عوامل سے ناواقف ہیں۔ انہیں ان چیزوں کے معلومات حاصل کرنے کے حق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے کیو نکہ پاکستان اور دوسرے اسلامی ممالک میں جنسی تبدیلیوں اور حرکات کے بارے میں تعلیم دینا ایک غیر معمولی اور ناپسندیدہ بات سمجھا جاتا ہے۔

پاکستانی والدین بچوں کی تربیت کے لیے جو بھی طریقہ اختیار کریں وہ ٹین ایجرز کو اپنی مرضی کرنے سے روک نہیں سکتے۔ آج کل سمارٹ فون کی موجودگی  اور بچوں کے ذہنوں میں پایا جانے والا تجسس جو زیادہ تر جسم اور جنسی تبدیلیوں سے متعلق ہوتا ہے  کے بارے میں سارے سوالوں کے جوابات گوگل کے ذریعے حاصل کر لیے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی والدین اس بات پر خوش ہیں کہ ان کے بچے اس قدر اہم باتوں کے بارے میں علم انٹر نیٹ سے حاصل کریں یا یہ ان کے لیے زیادہ بہتر ہے کہ خاندان کا ہی کوئی بڑا اور تعلیم یافتہ شخص بچوں کو ان پیچیدگیوں کے بارے میں بتائے۔ نہایت خطرناک بات ہے کہ آج کل زیادہ تر بچے اور بچیاں حمل سے بچنے اور مردانہ طاقت بڑھانے جیسے مسائل کے بارے میں خود ہی انٹرنیٹ سے معلومات حاصل کر لیتے ہیں۔ میں نے حال ہی میں ایک کریم کی ایڈ دیکھی ہے جو لگانے کے بعد لڑکیاں جنسی تعلقات کے باوجود شادی کے وقت شوہر کے سامنے اپنے آپ کو کنوارہ ثابت کر سکتی ہیں۔

 اس سے قبل کہ آپ مجھے یہودیوں کا ایجنٹ یا این جی او آنٹی قرار دے ڈالیں آپ کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے بچوں کی حفاظت اور بہتر زندگی کے لیے جنسی تعلیم بہت ضروری ہے۔ بہت سی ویب سائٹ ایسی غیر معیاری اور خطرناک چیزیں فروخت کر رہی ہیں جو بچوں کی دماغی اور جسمانی صلاحیت کو کمزور کر سکتی ہیں۔ بچوں کے ساتھ اس طرح کے حساس معاملات پر گفتگو کرنے کے بہت سے طریقے ہیں۔ آپ اس مقصد کے لیے دماغی صحت کے ماہرین کی خدمات لے سکتے ہیں۔ آپ بچے کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے کے علاوہ بچے سے خود ہی علیحدگی میں ان معاملات پر گفتگو کر سکتے ہیں۔ آپ ان کی بات توجہ سے سنیں اور ان کو یہ احساس نہ دلائیں کہ اگر وہ کوئی اہم بات آپ سے شئیر کریں تو آپ ان سے ناراض ہو جائیں گے یا ان سے متنفر ہو جائیں گے۔ یہی معلومات وہ اپنے ساتھیوں اور دنیا کے بہت سے دوسرے ذرائع سے بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ والدین کی حیثیت سے آپ کا فرض ہے کہ آپ ان کو محفوظ ہونے کا احساس دیں اور انہیں آرام دہ رہتے ہوئے اپنے والدین سے  اہم معلومات حاصل کرنے کا جذبہ پیدا کریں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *