فوج کی غیر جانبداری؟

ڈاکٹر رسول بخش رئیسRasool bakhsh

ایک ہفتے میں دومرتبہ پاک فوج کے ترجمان، آئی ایس پی آر کواس تاثر کی تردید کرنا پڑی کہ حالیہ انقلاب اور آزادی مارچ اور اسلام آباد کی شاہراہِ دستور پر دیے جانے والے دھرنے کے پیچھے عسکری اداروں کا ہاتھ ہے۔ چونکہ ہمارے ہاںیہ روایت رہی ہے کہ فوج کی اعلیٰ قیادت نے متعدد مرتبہ سول حکومتوں کا تختہ الٹا دیا جبکہ اکثرکئی ایک مرتبہ اس نے پسِ پردہ رہتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کو تقویت دے کر حکومت کے لیے چیلنج کھڑا کردیا۔ اس پسِ منظر میں ان سوالات کا سراٹھانا لازمی امر تھا کہ موجودہ سیاسی بحران کے پیچھے کس کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اہم رہنماؤں کی طرف سے ’امپائر کی انگلی کھڑے ہونے‘ کی بات بھی کی جارہی تھی جبکہ تواتر سے اور نہایت وثوق کے ساتھ حکومت کی رخصتی کی تاریخیں دی جارہی تھیں۔ اس سے یہ شبہ تقویت پکڑرہا تھا کہ کہیں حکومت مخالف قوتوں کو کسی طاقتور حلقے کی طرف سے کوئی یقین دہانی نہ کرائی گئی ہو۔
ہماری افسوس ناک جمہوری تاریخ، جس کا دامن شب خونوں سے آلودہ ہے، کے علاوہ تین دیگر عوامل نے بھی اس تاثر کو تقویت دی کہ ہو سکتا ہے کہ اس تمام صورتِ حال کے پیچھے فوج کا ہاتھ ہو۔ پہلا یہ کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے کچھ سیاست دان ، جن میں سے ایک کا تعلق راولپنڈی اور دوسروں کا گجرات سے تھا، عمران خان اور طاہرالقادری کومتواتر مشورے دیتے رہے ۔ اس نے آزادی او ر انقلاب کے بارے میں بہت سے شکوک و شہبات پیدا کردیے تھے کیونکہ ان دنوں سیاست دانوں کا ماضی گواہ ہے کہ وہ شب خون کی راہ ہموار کرنے کی فطری صلاحیتوں سے مالا مال ہیں۔ دوسرا یہ کہ قدرے تاخیر سے، لیکن یقینی طور پر بہت موثر ، جاوید ہاشمی نے اس راز کو عوام اور میڈیا کے سامنے رکھ کر سازش کی اُس تھیوری میں جان ڈال دی جس کا اظہار بہت سے سیاسی حلقے کررہے تھے۔ باغی کے اس انکشاف نے آزادی مارچ کی کمر توڑ دی۔ عمران خان یقیناًآنے والے بہت دنوں تک اس گھاؤ کوبھلا نہ پائیں گے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ اُنہیں سیاسی طور پر اس سے بہت نقصان پہنچا ہے۔ اگرچہ ’’سکرپٹ‘‘ کے بارے میں آج بھی بہت سے سنجیدہ سوالات اٹھائے جارہے ہیں لیکن اس کے انکشاف نے عمران کو سیاسی طور پر زخمی کیا ہے، گھائل نہیں۔ ہاشمی صاحب کے انکشاف کے بعد میڈیا میں بھی اس حوالے سے زور و شور سے بحث چھڑ گئی کہ اس تمام بحران میں دفاعی ادارے کہاں کھڑے ہیں۔ اس نے فوج کو ایک دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کیا۔
تیسرا عامل یہ ہے کہ آئی ایس پی آر کی طرف سے ایک بیان آیا کہ مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال نہ کی جائے۔ اس سے اسلام آباد کی سیاسی فضا تاریک ہوگئی اور کسی بحران کے سائے گہرے ہونے لگے۔ بظاہر تو یہ ایک عام سا بیان تھا لیکن جب یہ اس سنگین سیاسی بحران کے پسِ منظر میں دیا گیا تھا تواس سے یہ تاثر گہرا ہوا کہ حکومت کے ہاتھ باندھ کر مظاہرین کو تقویت پہنچائی جارہی ہے۔ چنانچہ پی ایم ایل (ن) کے حامیوں نے دبے اور بعض اوقات کھلے لفظوں میں کسی سکرپٹ کا ذکرکرنا شروع کردیا اور اشاروں کنایوں میں یہ بھی کہا گیا کہ اس بحران کے پیچھے دراصل کس کاہاتھ ہے۔
گزشتے ہفتے آئی ایس پی آر کی طرف سے وہ بیان آیا جس کا بہت دیر سے انتظار کیا جارہا تھا۔ اس بیان میں فوج کے ترجمان نے دفاعی اداروں کی غیر جانبداری کا اعلان کیا۔ تاہم فوج کے سیاسی طور پر غیر جانبدار رہنے کو لفظی طور پر جو مرضی تعبیر کیا جائے، اس کے سیاسی وزن سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ فوج ایک غیر سیاسی ادارہ ہے۔ اس کا مطلب موجودہ بحران کے پسِ منظر میں فی الحال اس کا یہ مطلب ذہن میں آتا ہے کہ فوج نہ تو حکومت کے ساتھ ہے اور نہ ہی احتجاجی مظاہرین کے ساتھ۔ اگر ہم اس پر مزید سوچ بچار کریں تو ایک سیاسی نظام میں فوج ایک نسبتاً آزاد اور خود مختار ادارہ دکھائی دیتی ہے۔ اس حوالے سے ایک اہم سوال،بلکہ چیلنج ، بھی سراٹھاتا ہے کہ پھر سول ملٹری تعلقات کی کیا جہت باقی رہتی ہے؟ اصولی طور پر ایک جمہوری نظام میں سول حکومت کو باقی تمام اداروں پر بالا دستی حاصل ہوتی ہے۔ اگر ایک ادارہ کہے کہ وہ غیر جانبدار ہے تو پھر سول حکومت کو اس پر بالا دستی کیسے حاصل ہوگی؟اس طرح اس مذکورہ بیان میں لفظ ’’غیر جانبدار‘‘ کے اپنے سیاسی مضمرات ہیں کیونکہ اس سے ریاست کے اندر سول ملٹری تعلقات پر روشنی پڑتی ہے۔ اس سے تاثر ملتا ہے کہ فوج ایک تیسری قوت ہے اور جب اس سے کچھ کردار ادا کرنے کو کہا جائے گا تو یہ آگے بڑھے گی۔
حالیہ سیاسی بحران میں دونوں طرف کھڑے سیاسی رہنماؤں نے کسی نہ کسی حوالے سے آرمی چیف سے رابطہ کیا کہ وہ کوئی کردار ادا کریں۔ا س کے لیے ضامن اور پھر سہولت کار کے الفاظ استعما ل کیے گئے۔ اس بحران کا جو بھی انجام ہو، اس نے فوج کو مرکزی پوزیشن میں لاکھڑا کیا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ اس وقت ہوا ہے جب فوج کو سیاست سے دور کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جارہی تھی۔ فوج کی بطور ادارہ بھی یہی کوشش تھی کہ وہ سیاسی طور پر فریق نہ بنے ۔ بہرحال ایک پارلیمانی نظامِ حکومت میں کسی ادارے کا خود کو ’’غیر جانبدار‘‘ قرار دینا بہت ہی معنی خیز ہے۔ پارلیمانی نظام میں فوج اور خفیہ ادارے حکومت کا حصہ ہوتے ہیں لیکن غیر جانبدار رہنا تو بہت کچھ کہتا ہے۔ اس کے اور کچھ اثرات مرتب ہوں یا نہ ہوں، حکومت کی کمزوری کا تاثر ضرورگہرا ہوتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *