وسطی ایشیاکا ایک جائزہ

Ahmed Rashid (b. 1948 in Rawalpindi) dur

(احمد رشید)

یہ دسمبر 1991 کی سرد رات تھی جب میں وسطی ایشیا کے مرکز میں واقع اشک آباد، جو کہ ترکمانستان کا دارلحکومت ہے، سے کچھ فاصلے پر بنے ہوئے ائیرپورٹ پر کھڑا دیکھ رہا تھا ۔ کمیونسٹ پارٹی کے سابقہ رہنما ، جو آزاد شدہ وسط ایشیائی ریاستوں کے حکمران بننے والے والے تھے ، کی آمد متوقع تھی۔ جب ان اہم شخصیات کا جہاز اترا تو گارڈ آف انر اور ملٹری بینڈ نے اُن کا استقبال کیا جبکہ نوجوان لڑکیاں ، جنھوں نے برف سے ٹھٹھرے ہوئے پھولوں کے گلدستے تھامے ہوئے تھے ،سردی سے کانپتے ہوئے رقص کرنے کی کوشش کررہی تھیں۔
یہ دنیا کی تاریخ کا ایک اہم لمحہ تھا۔ اس سے چار دن پہلے روس کے صدر بورس یلسٹن (Boris Yeltsin) اور یوکرائن اور بیلارس کے رہنما سوویت یونین کی تحلیل کے معاہدے پر دستخط کر چکے تھے۔ اس عقربی ملک کی تحلیل سے اچانک پانچ آزاد اور خودمختار ریاستیں دنیا کے نقشے پر ابھر رہی تھیں لیکن ابھی تک کسی نے وسطی ایشیا کے ان رہنماؤں سے مشورہ نہیں کیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ یہ رہنما اشک آباد آرہے تھے۔ ان کے چہرے پر پریشانی اور غم وغصے کے ملے جلے تاثرات ہویدا تھے کیونکہ اُن کو احساس ہو رہا تھا کہ ان کو سوویت یونین نے چھوڑ دیا ہے ، چناچہ وہ اس سے جدا ہونے کے نتائج سے خوفزدہ تھے۔ تمام رات وہ رہنما بیٹھ کر اپنے مستقبل کے بارے میں بات چیت کرتے رہے۔ یہ لوگ صدیوں کی تاریخ رکھتے تھے اورطاقتور جنگجووں، جیسا کہ عظیم چنگیز خان، امیر تیمور اور بابر کی نسل سے تھے ، اس لیے ان کو یوں خوفزدہ دیکھ کر عجیب احساس ہوتا تھا۔
بات یہ تھی کہ یہ ریاستیں ہزاروں حوالوں ، جیسا کہ بجلی، سڑکوں اور ریل کے نظام اور ٹیلی فون نیٹ ورک وغیرہ، سے سوویت یونین سے وابستہ تھیں۔ وسطی ایشیا ہی سوویت کی صنعتوں کو خام مال، جیسا کہ کپاس، گندم، دھاتیں، تیل اور گیس، فراہم کرتاتھا۔ یہ صنعتیں زیادہ تر سوویت یونین کے مغربی علاقوں میں واقع تھیں۔ اب جبکہ یلسٹن نے اُنہیں بیک جنبشِ قلم خود سے علیحدہ کر دیا تھا، ان کو معاشی گراوٹ کا شدید خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ اُ س رات ترکمانستان کے نائب وزیرِ خارجہ نے مجھے بتایا...’’ہم اپنی آزادی کا جشن نہیں منارہے ہیں، ہم اس پر ماتم کر رہے ہیں۔ ‘‘اگلی صبح ان رہنماؤں نے ایک متفق اعلامیے میں کہا کہ وہ نئی قائم ہونے والی ’’آزاد ریاستوں کی دولتِ مشترکہ ‘‘ میں شریک ہورہے ہیں۔ ان ریاستوں کو خدشہ تھا کہ وہ خود اپنے وسائل پر تکیہ کرتے ہوئے اپنے وسائل سے نبردآزما نہیں ہوسکیں گی۔ ان میں رہنے والے اکاون ملین افراد مختلف نسلوں سے تعلق رکھتے تھے ۔ ان میں بہت سوں نے روس کی طرف ہجرت شروع کر دی تھی ۔ اس سے پہلے کبھی آزاد ہونے والی ریاستوں کے عوام کو اتنا خوفزدہ اورغیر یقینی پن کا شکار نہیں دیکھا گیا تھا۔
اس واقعے کے بائیس سال بعد آج جب ہم وسطی ایشیا کا جائزہ لے رہے ہیں تو ہمیں یہ پسِ منظر جاننے کی ضرورت ہے۔ آج یہ خطہ ایک اور اہم تبدیلی سے گزرہا ہے کیونکہ ایک عشرے تک جاری رہنے والی خونریز جنگ کے بعد امریکی اور نیٹو افواج افغانستان سے انخلا کرنے والی ہیں۔ان بائیس سالوں میں ان وسطی ایشیائی ریاستوں کو بھی بہت سے مصائب سے گزرنا پڑ اہے ... تاجکستان میں خانہ جنگی ہوئی جبکہ دیگر ریاستوں میں معاشی بدحالی کی وجہ سے پر تشدد احتجاجی مظاہروں، جرائم اور قتل و غارت میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس کے باجود، یہ ریاستیں اپنا وجود قائم رکھنے میں کامیاب ہو گئیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کچھ ریاستیں توانائی کے وسائل سے مالا مال ہیں اور وہ خوشحالی کی طرف قدم بڑھا رہی ہیں۔
گیارہ ستمبر میں ہونے والی دھشت گردی اور اس کے نتیجے میں افغان سرزمین کے ایک مرتبہ پھر عالمی طاقتوں کا محاذِ جنگ بننے کی وجہ سے اس علاقے کے معروضات تبدیل ہورہے ہیں۔ چونکہ ان ایشیائی ریاستوں کی سرحدیں افغانستان ، چین اور روس کے ساتھ لگتیں ہیں اس لیے ان طاقتوں کو ان ریاستوں میں ایک نئی دلچسپی پیداہوتی دکھائی دیتی ہے۔ اب تک ان ریاستوں کے رہنماؤں نے ایک طاقت کا دوسری کے خلاف ساتھ دیتے ہوئے بڑی چالاکی سے قرضہ جات میں رعایت، سرمایہ کاری کے فروغ اور ہتھیاراور اپنے اڈے دے کر مالی فوائد حاصل کیے ہیں۔ تاہم اب اس خطے میں حالات تبدیل ہورہے ہیں ۔ جیسے 1991 میں یہ ریاستیں ایک عظیم تبدیلی کے عمل سے گزری تھیں، اب بھی ایک اور عقربی تبدیلی متوقع ہے۔ کیاامریکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان افغانستان کو فتح کر لیں گے اور وہ وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے اسلامی گروہوں، جن کی القاعدہ سے وابستگی ہے، کا راستہ کھول دیں گے؟ اس کا مطلب ہے کہ ان کا پاکستان کے قبائلی پر دباؤ بڑھ جائے گا۔ اسی طرح کیا عرب دنیا میں بپا ہونے والی بیداری اور احتجاج کی لہر اس خطے کی طرف بھی بڑھنا شروع ہو جائے گی؟ اس سے پہلے قیرغزتان میں مارچ 2005 اور اپریل 2010 میں حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاج کے نتیجے میں دو صدور کو اپنے منصب سے دستبردار ہونا پڑا تھا۔ کیا یہاں کی کمزور ریاستیں روس اور چین سے روابط بڑھالیں گی؟کیا اس خطے کی سب سے اہم تنظیم ’’ایس سی او‘‘(شنگھائی کارپوریشن آرگنائزیشن ) ان کو عدم استحکام سے نمٹنے میں مدد فراہم کرے گی یا یہ ریاستیں پہلے کی طرح سنجیدہ مالی اصلاحات نافذ کرنے میں ناکام رہیں گی؟
ان سوالات کا تاحال جواب سامنے نہیں آیا ہے ، تاہم عالمی دانشور اور خطے پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ چین وسطی ایشیائی ریاستوں پر غیر معمولی حد تک اپنا اثر بڑھا رہا ہے۔ اس وقت بھی چین ہی ان ریاستوں میں سب سے اہم معاشی قوت کے طور پر کام کررہا ہے۔ تاہم ایسا کرتے ہوئے چین نے ایک احتیاط برتی ہے کہ کہیں اس کے مغربی صوبے چنکیانگ (Xinjiang) میں مقیم مسلمان انتہا پسند گروہ Uighurs کے ان ریاستوں میں موجود ایسے گروہوں سے روابط نہ ہونے پائیں کیونکہ یہ گروہ چین سے علیحدگی کے لیے جدوجہدکررہا ہے۔ اگر وسطی ایشیائی جنگجو ان کی مدد کرتے ہیں تو چین کے لیے ایک نیا مسلۂ کھڑا ہوجائے گا۔ پچاس کی دھائی میں بہت بڑی تعداد میں Uighurs کے ارکان نے ماؤ حکومت کی سختی سے بچنے کے لیے فرار ہوکر وسطی ایشیا میں پناہ لی تھی اور وہاں ان کے ساتھ نسبتاً اچھا سلوک کیا گیا تھا۔ 1991 کے بعد چین نے اپنی ہمسایہ ریاستوں قاز کستان ، تاجکستان اور قیرغز تان پر دباؤ ڈالا تاکہ وہ Uighurs باشندوں کو اپنی حدود سے باہر نہ نکلنے دیں۔ ان ریاستوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے چین نے ان کے ساتھ اپنے سرحدی تنازعات بھی طے کیے جو کئی عشروں تک اس کے سوویت یونین کے ساتھ رہے تھے۔ ان اقدامات کے باوجود چنکیانگ میں مسلمانوں گروہ کی سرگرمیاں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ، یہاں تک کہ چین کو مسلمانوں پر سختی کرنا پڑی۔ اس کے نتیجے میں چین میں تو سکون ہو گیا ہے لیکن شنید ہے کہ Uighurs کے بہت سے اراکین افغانستان اور پاکستان میں طالبان کے ساتھ مل کر فوجی تربیت حاصل کررہے ہیں اور وہ پر تشدد کاروائیوں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔
گزشتہ ایک دھائی کے دوران چین نے وسطی ایشیا میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ اس وقت چین ان ریاستوں کے ساتھ تجارتی روابط بڑھا رہا ہے۔ اس نے بحیرہِ کیسپین میں آئل پائپ لائن بچھاتے ہوئے قازکستان کے ایک چوتھائی تیل پر اجارہ داری حاصل کرلی ہے ، جبکہ ترکمانستان کی گیس کا اہم خریدار بھی چین ہی ہے۔ 2002 میں چین کا ان ریاستوں کے ساتھ تجارتی حجم ایک بلین ڈالر سے زیادہ نہیں تھا، تاہم 2006 میں یہ بڑھ کر دس بلین ڈالر تک پہنچ گیا۔2010 میں چین کا ان کے ساتھ تجارتی حجم اٹھائیس بلین ڈالر تک تھا جبکہ اسی مدت کے دوران ان ریاستوں کا روس کے ساتھ تجارتی حجم صرف پندرہ بلین ڈالر تھا۔ دراصل چین ان معاشی روابط کو توڑنے میں کامیاب ہو گیا ہے جو وسطی ایشیائی ریاستوں کو روس کے ساتھ جوڑے ہوئے تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے یہاں کے تیل اور گیس کے ذخائر پر روس کی اجارہ داری کو ختم کر دیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *