آزادی مارچ اپ ڈیٹس

imran khan

کے پی میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا ذمہ دارالیکشن کمیشن ہے، عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایک مرتبہ پھر الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ’’خیبر پختونخوا میں جان بوجھ کر بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نہ کروانے پر‘‘ تنقید کا نشانہ بنایا۔
پی ٹی آئی میڈیا سیل کی جانب سے اتوار کو جاری ہونے والے ایک بیان میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’’کے پی کی حکومت پندرہ نومبر کو بلدیاتی انتخابات کے لیے تیار ہے۔‘‘
عمران خان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت اس سال مارچ میں بھی بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے تیار تھی، لیکن الیکشن کمیشن نے اس کام میں تاخیر کی۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا ’’خیبر پختونخوا میں دھاندلی کے کوئی خدشات نہیں ہیں، لہٰذا انتخابی حلقوں کی نئی حدبندیوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور خیبر پختونخوا کی حکومت لازماً اگلے مہینے بلدیاتی انتخابات کی اجازت دے تاکہ صوبے کے عوام سے کیے گئے اس کے وعدے کی تکمیل ہوسکے۔‘‘
اس بیان میں عمران خان نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کمیشن صوبے میں الیکٹرانک ووٹنگ کی اجازت دینے کے لیے کیوں تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ’’الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ کہ وہ الیکٹرانک ووٹنگ کا انعقاد صرف ایک تحصیل میں کروائے گا، ناقابلِ توجیہہ تھا، اس لیے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے اس طریقہ کار کا استعمال پورے صوبے میں کرنے کی درخواست کی تھی۔‘‘

طاہرالقادری نے دھرنا ختم کیا اس کا افسوس ہے : عمران خان

تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے کہا ہے میں جب تک زندہ ہوں یہاں دھرنے میں بیٹھوں گا میں نے اوپر اللہ تعالی کی طرف انگلی اٹھائی تھی، پیسے ختم ہونے پر کارکن چلے جائیں میں اکیلا یہیں بیٹھوں گا نواز شریف کے استعفیٰ تک کہیں نہیں جاونگا، نواز شریف اور آصف زارداری کا آپس میں مک مکا ہے ، طاہر القادری نے دھرنا ختم کیا اس کا افسوس ہے لیکن ہمارے ساتھ ملکر قوم کو جگانے پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں 70 دن تک اکھٹے رہے آپس میں لگاﺅ ہو گیا تھا ۔

انہوں نے دھرنے کے شرکا سے خطاب کر تے ہوئے کہا ہم کسی سے ڈرنے والے نہیں تحریک انصاف کا دھرنے کا فیصلہ 14 ماہ پرانا تھا حکومت چاہتی تو ایک ماہ میں انصاف دے دیتی لیکن حکومت نے انصاف نہیں دینا تھا، پاکستان کا ہر بچہ 90 ہزار روپے کا مقروض ہے پاکستان کا حسنی مبارک آمریت کی پیداوار ہے سندھ میں لوگوں کو جانوروں کی طرح رکھا جاتا ہے حکمران لوٹ مار کر رہے ہیں ٹی وی کی مد میں لئے جانے والے 10 ارب روپے کہا ں جاتے ہیں؟ہم یہاں پر مظلوم طبقے کیلئے کھڑے ہیں،نوازشریف ہم نے تمھیں نہیں چھوڑنا جب تک اثاثے ڈکلیر نہ کرو گے،اسحق ڈار مزدوروں کے 124ارب روپے کہیں اور لے گئے،گو نوازگو کرکے ہی دھرنے سے واپس جائیں گے ،نئے پاکستان کیلئے قربانی دینا پڑیگی،ظالم کسی کو اآزاد نہیں ہونے دیتا۔

پنجاب اور سندھ کی حکومیتں اقلیتوں کے تحفظ میں ناکام ہوچکی ہیں، عمران خان

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ پنجاب اور سندھ کی حکومتیں اقلیتوں کے تحفظ میں ناکام ہوچکی ہیں۔
اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع ڈی چوک پر دھرنے کے 67 روز مکمل ہونے پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی اقتدار میں آئی تو وہ ملک میں اقلیتوں کا مکمل تحفظ کرے گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ میں آج شرمندگی محسوس کررہا ہوں کہ حکومت اقلیتوں کو آئین میں دیے گئے حقوق کی فراہمی میں ناکام رہی ہے۔اپنے بیٹوں قاسم اور سلیمان خان کے ہمراہ کنٹینرز پر موجود عمران خان نے دھرنے کے شرکاء کو یقین دہانی کروائی کہ وہ اپنے وعدوں کوپورا کرکے دکھائیں گے۔
واضح رہے کہ 14 اگست کو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے آغاز سے قبل عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان بیرونِ ملک چلے گئے تھے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ میرے بعد میرے بیٹے پارٹی کے سربراہ نہیں بنیں گے، کیونکہ میں ان کو سیاست میں نہیں لانا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور خاندانی سیاست ساتھ ساتھ نہیں چل سکتی۔

سانحہ ملتان ۔۔ٹہریئے، ٹہریئے۔۔۔نہیں نہیں جواب دیجئے۔۔۔

پریس کانفرنس میں عمران خان سوالات کے نرغے میں

عمران خان نے اس راہ کا انتخاب خود کیا ہے۔ مخالفین پر تابڑ توڑ حملوں اور بدتمیزی کو جمہوری آزادی کے خانے میں ڈال کو وہ جس سیاسی ثقافت کو پیدا کر رہے ہیں۔ اس کا ذائقہ اب اُنہیں وقتاً فوقتاً چکھنا پڑے گا کیونکہ اُن کے مخالفین بھی اُن کے لئے ایک ایسی ہی فضا بنانے کی منصوبہ بندی مکمل کر چکے ہیں۔ مگر سانحۂ ملتان پر عمران خان کی پریس کانفرنس میں یہ سب کچھ خود بخود ہو گیا ۔ملتان کے بپھرے ہوئے صحافی چونکہ حالات کے عینی شاہد تھے۔ لہذا اُن پر کسی بھی پروپیگنڈے کا اثرنہیں تھا۔ وہ شاہ محمود قریشی کی طرف سے سانحۂ ملتان پر الزام تراشی کے سلسلے کو دراصل اپنی کوتاہی چھپانے کا مذموم عمل سمجھ رہے تھے۔ چنانچہ اُنہوں نے تمام سوالات اِسی تناظر میں پوچھے اور عمران، سوالات کی اس بوچھاڑ پر ہکا بکا رہ گئے۔
ملتان میں صحافی ہی نہیں خود تحریکِ انصاف کے کارکنان بھی اس پر ناراض تھے کہ عمران خان جلسے کے دوران اور بعد، بھگڈر سے ہونے والی ہلاکتوں کی پروا کئے بغیر ملتان سے آخر کیوں چلے گئے؟ عمران خان جمعہ کی رات جلسے کے فوراً ہی بعد نہ صرف ملتان سے واپس چلے گئے تھے بلکہ وہ اگلے روز سنیچر کو بھگڈر سے ہلاک ہونے والوں کی نماز جنازہ میں بھی شریک نہیں ہوئے۔جس کی وجہ صرف یہ تھی کہ اُنہیں اسلام آباد سے ملتان لے جانے کے لئے نجی طیارہ دستیاب نہیں تھا۔اگرچہ تحریکِ انصاف نے یہ اعلان کردیا تھا کہ عمران خان کارکنان کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لئے ملتان تشریف لائیں گے۔مگر نجی طیارے کی عدم دستیابی کے باعث ایسا نہیں ہوسکاتھا۔ چناچہ نہ صرف ہلاک ہونے والے کارکنان کے لواحقین بلکہ پارٹی کارکنان اور ملتان کے عام لوگ بھی اس طرزِعمل سے خاصے ناراض دکھائی دیتے ہیں۔پریس کانفرنس سے ذرا پہلے ملتان کے ضلعی صدر اعجاز جنجوعہ اور دیگر بیس ضلعی عہدیداران ناراض ہو کر بائیکاٹ کر گئے۔ اس دوران تحریکِ انصاف کی ویمن ونگ کی ضلعی صدر کے بھی بائیکاٹ کی خبر آئی۔ صحافیوں نے ضمنی انتخاب سے پہلے اور جلسے کے فوراً بعد اِن خبروں کو بہت زیادہ اہمیت دی مگر اِس حوالے سے پیدا ہونیو الے سوالات کا جواب دینے کے لئے کوئی تیار نہیں تھا۔ عمران خان سے شاہ محمود قریشی کی موجودگی میں دوٹوک طور پر یہ سوال پوچھا گیا کہ آخر وہ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین ایسے اسٹیبلشمنٹ کے نمائندوں کی موجودگی میں کون سی عوامی طاقت کے ذریعے تبدیلی کی بات کر رہے ہیں؟ اس پر شاہ محمود قریشی نے تو کھسیانی مسکراہٹ ظاہر کی مگر عمران خان اس کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔ بعد ازاں وہ صحافیوں کے دیگر سوالات سے باقاعدہ کترانے لگے۔یہاں تک کہ شاہ محمود قریشی کو یہ کہنا پڑا کہ صحافی سوالات کریں ، انکوائری نہ کریں۔یہ کوئی تفتیشی ٹریبونل نہیں ہے۔موقع پر موجود صحافیوں کا خیال تھا کہ عمران خان کا سوالات لینے سے انکار اور جوابات دینے سے گریز، شاہ محمود قریشی کی برہمی اور تحریکِ انصاف کے ضلعی عہدیداروں کی ناراضی کے پیچھے درحقیقت ایسے کچھ اندرونی مسائل ہے جو تحریک انصاف کے لئے ہزیمت کا باعث بن سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ عمران خان کی طرف سے سانحہ ملتان کے متاثرین کو تین لاکھ کے چیک پیش کئے گئے جب کہ تحریکِ انصاف کی طرف سے اُنہیں پانچ پانچ لاکھ کے چیک دیئے جانے کا اعلان کیا گیا تھا۔

تحریک انصاف آج  ملتان میں میدان سجا رہی ہے

 جلسہ گاہ کے لئے قلعہ قاسم باغ اسٹیڈیم کا انتخاب کیا گیا ہے جو کپتان کے لیے کوئی نئی جگہ نہیں۔

اس اسٹیڈیم سے عمران خان کی بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔ ویسے تو یہ اسٹیڈیم فٹ بال کے لیے مشہور ہے لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ یہاں کرکٹ کا بین الاقوامی میچ بھی ہوچکا ہے۔

1980ء میں ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے درمیان کھیلے گئے اس میچ میں عمران خان بھی موجود تھے۔ عمران نے 62 رنز دے کر اپنی دھواں دھار بالنگ سے 5 کھلاڑیوں کو آوٹ کیا تھا۔
چونتیس برس بعد عمران ایک بار پھر اس میدان میں ہوں گے۔ لیکن پچ پر نہیں اسٹیج پر، ساتھ ہی ہاتھ میں بال نہیں بلکہ مائیک ہوگا ۔ تحریک انصاف کے دیگر جلسوں کے مقابلے میں اس بار اسٹیج بھی خاصا اونچا بنایا جا رہا ہے جو تقریباً چالیس فٹ بلند ہے۔ اسٹیڈیم میں ستر ہزار لوگ سما سکتے ہیں۔ اگر لوگ سیڑھیوں پر بھی بیٹھ جائیں تو تعداد ایک لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ اسٹیڈیم بھرنے کے لیے پی ٹی آئی بھر پور زور لگا رہی ہے۔

اپنے خلاف ن لیگ کے نعرے سن کر خوشی ہوئی؟ یہ بتا دیں کدھر جاؤں؟ تنقید کرنے پر زرداری کا شکریہ؟ عمران خان

اسلام آباد : عمران خان کہتے ہیں کہ اپنے خلاف نعرے لگنے پر خوشی ہوئی، میں وزیراعظم نہیں، کس چیز سے استعفیٰ دوں، آصف زرداری کا شکریہ کہ میرے لئے اچھے الفاظ استعمال نہیں کئے، کسی کے اشارے پر کوئی مگرمچھوں سے نہیں لڑ سکتا، مجھے یقین تھا قوم ایک دن میرے ساتھ ہوگی، کل ملتان میں تمام ریکارڈ ٹوٹیں گے۔

اسلام آباد میں تقریباً 2 ماہ سے جاری دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ زرداری، نواز شریف اکٹھے ہوجائیں تو بھی نہیں ہراسکتے، میں اکیلا نیا پاکستان نہیں بناسکتا تھا، 15 سال سیاست کی، کوئی بڑا نام پارٹی میں نہیں آیا، مجھے یقین تھا قوم ایک دن میرے ساتھ ہوگی۔

وہ کہتے ہیں کہ جب مخالف خوف پر فیصلہ کرے تو ہار جاتا ہے، ن لیگ والے گو عمران گو کہہ رہے تھے تو میں خوش ہوا، میں کدھر جاؤں؟ کیا میں وزیراعظم ہوں، نواز شریف تھوڑا سوچ لیتے تو ایسا نعرہ نہ ہوتا، میں کس چیز سے استعفی دوں؟، وزیراعظم میرانشاہ میں تھے لیکن آئی ڈی پیز نہیں، وزیراعظم آئی ڈی پیز سے خطاب کرتے تو وہاں بھی نعرہ لگ جاتا۔
پی ٹی آئی کپتان نے کہا کہ زرداری کی جانب سے الفاظ استعمال کرنے کا شکریہ، شکر ہے انہوں نے اچھے الفاظ استعمال نہیں کئے، کسی کے اشارے پر کوئی مگر مچھوں سے نہیں لڑسکتا، میں اسے سیاست نہیں کہتا قوم بیدار ہورہی ہے، کل ملتان میں تمام ریکارڈ ٹوٹیں گے۔  انہوں نے کہا کہ نئے پاکستان کیلئے قوم نے اشارہ دے دیا، پاکستان میں جمہوریت کا کوئی وجود نہیں۔ حکمران قبضہ گروپ ہیں، زرداری نواز شریف کے مفاد ایک ہیں، دونوں کیخلاف کیسز کروں گا۔

پی ٹی وی پر حملہ حکومتی سازش تھی: قادری

اسلام آباد : ڈاکٹر طاہر القادری نے پی ٹی وی پر حملے کو حکومتی سازش قرار دیدیا، کہتے ہيں منصوبہ 25 اگست سے پہلے بنايا گيا، عملدرآمد کيلئے 11 افراد کو باقاعدہ بھرتی کيا گيا۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے انکشاف کیا ہے کہ پی ٹی وی حملہ حکومتی پلاننگ اور دھرنے کیخلاف سازش تھا، منصوبے پر عملدرآمد کیلئے 11 افراد کو سرکاری ٹی وی میں باقاعدہ بھرتی کرنے کا راز افشا کردیا، نام بھی بتائے۔

پی اے ٹی قائد نے دھرنے کو نیا نعرہ بھی دیدیا، ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، انتقام اور انصاف کا تاریخ ساز باب لکھا جائے گا۔

پوری پارلیمان ایک طرف ہےمٹھی بھر لوگ دوسری جانب، نواز شریف

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں جاری دھرنوں نے ملکی معیشت کو متاثر کیا ہے۔
لندن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دھرنے والے دھرنا دے رہے ہیں جبکہ حکومت اپنا کام کر رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کا رویہ جمہوری بالغ نظری پر مبنی ہے اور پوری پارلیمنٹ ایک طرف اور مٹھی بھر لوگ دوسری جانب ہیں۔وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ انتخابی عمل کی کمزوریاں دور کرنا منشور کا حصہ ہے۔
کراچی اور لاہور میں تحریکِ انصاف کے بڑے جلسوں کے تناظر میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے ’ابھی جلسے نہیں کیے جب کریں گے تو سب کو پتا چل جائے گا۔

دھاندلی کی تعریف کے لیے نیاقانون نہیں بن سکتا، عرفان صدیقی

وزیراعظم کے معاون خصوصی عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ دھاندلی کی تعریف کے حوالے سے نئے سرے سے قانون نہیں بن سکتا۔ قانون میں دھاندلی کی تعریف پہلے سے موجود ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب میں عرفان صدیقی نے بتایا کہ عوامی نمائندگان کے 1976 کے ایکٹ میں دھاندلی کی تعریف موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دھرنوں سے ملک کو 600 ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مذاکرات کی مدد سے دھرنوں کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔وزیراعظم کے خصوصی معاون نے کہا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی پر بینظیر اور نواز شریف نے پوری دنیا کے سامنے دستخط کیے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی لندن میں یا امریکہ میں کس کے ساتھ ملاقات ہوئی یا وہ وہاں کیا کرتے ہیں اس پر حکومت کو کوئی اعتراض نہیں۔ تاہم انھوں نے پی ٹی آئی کے سربراہ سے سوال کیا کہ ’آپ بھی ملاقات کریں مگر یوں چھپ چھپا کر کیوں کرتے ہیں۔‘

گو نواز گو کا مطلب گو نظام گو ہے، عمران خان

پاکستان تحریک انصاف  کے سربراہ عمران خان نے اسلام آباد دھرنے کو 44 روز مکمل ہونے پر شرکاء کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوم اب جاگ چکی ہے اور ہم کسی قسم کا ظلم برداشت نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اسمبلیوں میں بدعنوان لوگ بیٹھے ہیں اور جو کچھ ایوانوں میں ہورہا ہے وہ جمہوریت نہیں ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم اقتدار میں آکر ظلم کا مکمل خاتمہ کریں گے۔
انہوں کہا کہ وزیراعظم جب اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت کریں گے تو وہاں بھی گو نواز گو کے نعرے لگیں گے، کیونکہ گو نواز گو کا مطلب ہے گو نظام گو۔پی ٹی آئی کے چیئرمین نے کہا کہ آج شام ہم کامیابی کا جشن منائیں گے اور شاہراہ دستور پر عوام کا سمندر ہوگا۔

حکمرانوں کو سیاسی رویہ تبدیل کرنا ہو گا، سراج الحق

اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل سیاسی جرگے کا کہنا ہے کہ پوری قوم مسئلے کا حل چاہتی ہے اور ہم مسئلے کے سیاسی حل کے لئے بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا کہ قوم کا بچہ بچہ دھرنوں کی وجہ سے پریشان ہے، ہر آدمی ہم سے پوچھتا ہے کہ بحران کب ختم ہو گا، پوری قوم مسئلے کا سیاسی اور پر امن حل چاہتی ہے اور اس سلسلے میں ہم بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جرگے کا کام کسی جماعت کی حمایت یا مخالفت کرنا نہیں ہے بلکہ ہم 18 کروڑ عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں اور ہمارا کام فریقین کے درمیان پیدا ہونے والے ڈیڈ لاک کو ختم کرانا ہے، سیاسی جرگے نے فریقین کو 16 بار مذاکرات کی میز پر بٹیایا۔
سراج الحق نے کہا کہ پاکستان کا مسئلہ صرف اسلام آباد ہی نہیں ہے بلکہ سیلاب متاثرین اور آئی ڈی پیز بھی اس قوم کا بڑا مسئلہ ہیں، عوام اب پیدار ہو چکے ہیں، سیاسی رویہ تبدیل کرنا ہو گا۔ سینیٹر رحمان ملک کا کہنا تھا کہ سیاسی جرگہ مسئلے کے حل کے لئے دن رات کوششیں کر رہا ہے، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے تحریک انصاف کے ممبران قومی اسمبلی کے استعفوں پر بھی بات کریں گے۔ دوسری جانب سینیٹر حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ دھرنوں کی وجہ سے ملکی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے، کسی بھی مسئلے کا حل مذاکرات کے بغیر نہیں نکل سکتا، جرگہ اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور امید کرتے ہیں کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے۔

سعودی عرب اور امریکہ نواز شریف کو نہیں بچا سکتے، عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف کو جانے سے اب امریکا اور سعودی عرب نہیں بچا سکتے۔
اسلام آباد میں آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ میری جنگ فرسودہ نظام کے خلاف ہے لیکن نواز شریف فرسودہ نظام بچا رہے ہیں، میاں صاحب کو ایک ماہ چھٹی کی آفر دی تھی بہتر ہے وہ استعفیٰ دے کر اپنی جان چھڑا لیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں 3 دن کے نوٹس پر کامیاب جلسہ کیا۔ کراچی والوں کا جنون دیکھنے والا تھا جبکہ لاہور میاں نواز شریف کے ہاتھ سے نکل چکا ہے اور آج ہونے والی پارٹی میٹنگ میں لاہور جلسے کی تاریخ کا فیصلہ کیا جائے گا۔
چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ 39 دن کی تحریک پورے ملک میں پھیل گئی، اب نیا پاکستان بننے سے کوئی نہیں روک سکتا، نیویارک میں نواز شریف کا استقبال احتجاج سے ہوگا اگر نواز شریف کی جگہ ہوتا تو برے استقبال کے ڈر سے امریکا نہیں جاتا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں دھاندلی کا سب اعتراف کرتے ہیں لیکن پھر بھی نواز شریف اپنے عہدے سے استعفی نہیں دیتے، موجودہ اسمبلی کے بجائے اب نئی اسمبلی میں جائیں گے اور کسی کے کاندھے پر بیٹھ کر اقتدار میں آنا نہیں چاہتے۔

18کروڑ نے وزیراعظم بنایا، پانچ ہزار کے کہنے پر استعفیٰ کیوں دوں؟

وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ راستے صاف کرنا اور سڑکیں صاف کرنا کوئی مشکل کام نہیں لیکن حکومت نے بڑی شرافت، تحمل اور بردباری سے سب چیزوں کو برداشت کیا ہے۔

اٹک میں تقریب سے خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ لانگ مارچ میں استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

’کیوں استعفی دیں؟ پاکستان کے 18 کروڑ عوام نے نواز شریف کو وزیراعظم بنایا ہے تو میں پانچ ہزار افراد کے کہنے پر استعفیٰ کیوں دے دوں۔‘

آرمی چیف نے 5 مطالبات کی منظوری کی ضمانت دی تھی، عمران خان

چیرمین تحریک انصاف عمران خان نے انکشاف کیا ہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ہمارے 6 میں سے 5 مطالبات کی منظوری کی ضمانت دی تھی البتہ یہ بھی کہا تھا کہ نواز شریف استعفی نہیں دیں گے تاہم انہیں بتا دیا تھا کہ نواز شریف پر اعتماد نہیں کرسکتے۔نجی ٹی وی کو دئیے گئے ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ آرمی چیف سے ملاقات کے دوران ان پر واضح کردیا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف پر اعتماد نہیں تاہم انہوں نے 5 مطالبات کی منظوری کی ضمانت دی تھی، انہوں نے اس تاثر کو زائل کیا کہ فوج ان کے پیچھے ہے اور کہا کہ ہم پر الزام لگایا گیا کہ کسی کے اشارے پر چل رہے ہیں اگر فوج پیچھے ہوتی تو کب کے جاچکے ہوتے تاہم واضح ہوگیا کہ موجودہ حالات میں فوج مداخلت نہیں کر رہی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *