افغانستان ’’ ایک ٹیڑھی کھیر‘‘

hussain-javed

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ہر دور میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ ۔افغانستان وہ واحد ملک ہے جس نے پاکستان کی اقوام متحدہ میں شمولیت کی شدید مخالفت کی ’’پختونستان سٹنٹ ‘‘ بھی بھارت کی شہہ پر کھڑا کیا گیا۔ جبکہ یہ پاکستان ہی ہے جس نے سویت جنگ کے دوران بیس لاکھ سے زائد افغانوں کو پناہ دی لیکن اس پالیسی کے نتائج نہایت مہیب ثابت ہوئے اور پاکستانی معاشرہ کلاشنکوف کلچر اور منشیات کی آماجگاہ بن گیا۔خشکی میں گھرے اس ملک کا یہ منفردجغرافیہ ہی ہے جو اسے تزویراتی حوالے سے عالمی تعلقات میں ایک اہم مقام دیتا ہے مشرق وسطیٰ ہو یا چین ،پاکستان ہو یا وسط ایشیائی ریاستیں سب پر افغانستان کے پہاڑوں سے نگاہ رکھی جاسکتی ہے ۔اس سنگلاخ لینڈ سکیپ کے حامل ملک کو ’’عالمی طاقتوں کا قبرستان‘‘ بھی کہا جاتا ہے جہاں تاج برطانیہ بھی تین جنگوں کے بعد قابض نہیں ہوسکا ،جہاں 1979 میں’’ سرخ رییچھ ‘‘گرم پانیوں کے تعاقب میں پہنچتا ہے اور اس بدقسمت ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتا ہے مگر دس سال کی طویل صبر آزما جنگ کے بعد فروری 1989 میں اسے افغانستان سے زخموں سے چور چور ہو کردریائے آمو عبور کر کے کر کوچ کرنا پڑتا ہے ۔اس جنگ میں 15 ہزار روسی فوجی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جبکہ 35 ہزار زخمی ہوتے ہیں لیکن اسکے ساتھ ساتھ تقریباٰ ایک ملین افغان باشندے بھی جنگ کی ہولناکیوں کی نذرہوجاتے ہیں ۔سویت یونین انہی سنگلاخ پہاڑوں میں پاش پاش ہوگیا لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ افغان معاشرے کی بنیادیں بھی تحلیل ہوگئیں اور سرکاری ،معاشی معاشرتی ڈھانچہ بھی تباہ ہوگیامجاہدین کے مختلف گروپس میں اقتدار کے لئے رسہ کشی شروع ہوگئی ۔نجیب اللہ کے بعد افغانستان میں طوالئف الملوکی مزید پھیل گئی ایسے میں ’’طالبان‘‘ نامی گروہ کوملا عمر کی زیر قیادت میں 1996 تک سارے ملک میں فیصلہ کن پوزیشن حاصل ہوئی۔طالبان دور کا خاتمہ اکتوبر 2001 میں اس وقت ہوا جب گیارہ ستمبر کے بعد امریکہ نے طالبان سے اسامہ بن لادن کی حوالگی کا مطالبہ کیا مگر طالبان نے امریکی مطالبہ رد کردیا جس کے نتیجے میں امریکہ نے نیٹو کی چھتری تلے شمالی اتحاد کے شانہ بشانہ افغانستان پر حملہ کیا یوں 13 نومبر2001 کو کابل پر شمالی اتحاد کا قبضہ ہوگیا واضح رہے کہ شمالی اتحاد کو امریکہ 1998 سے ہی ازبکستان کے راستے ہتھیاروں سے لیس کرتا رہا تھا ۔طالبان قیادت روپوش ہوگئی اور امریکہ نے B52 بمبار طیاروں سے آتش و آہن برسا کر افغان پہاڑوں کا تورا بورا بنا دیا ۔ یکم مئی 2003 کو امریکی صدر بش نے فاتحانہ انداز میں اعلان کیاکہ ’’ہم نے افغانستان کے حوالے سے اپنا مشن مکمل کر لیا ہے‘‘ ۔جبکہ حقیقت تو یہ تھی کہ وقتی طور پر طالبان قیادت زیر زمین چلی گئی مگر 2003 کے اواخر سے انہوں نے اتحادی افواج و شمالی اتحاد پر حملے کرنے شروع کردئیے جن میں وقت کے ساتھ تیزی آتی گئی اور معاملات آہستہ آہستہ کابل حکومت کے ہاتھ سے نکلنے لگے ۔اب ایک دہائی بیت چکی مگر افغانستان تاحال امریکہ اور افغان افواج کیلئے سوہان روح بنا ہوا ہے ۔ اس جنگ میں 2001 سے2014 تک 20ہزار سے زیادہ طالبان ،22 ہزار افغان نیشنل آرمی کے جوان جبکہ 3500 اتحادی فوجی جن میں 2400 امریکی فوجی بھی شامل تھے ہلاک ہوئے ۔صدر بش کے بعد صدر اوباما بھی افغانستان میں جنگ کے شعلے بجھانے میں ناکام رہے ہیں کبھی انہوں نے 30ہزار مزید افواج امریکہ سے منگوائیں اور بعد ازاں 2014 میں افغانستان سے امریکی انخلاء کا اعلان بھی کیا مگر موجودہ حالات یہ ہیں کہ اوباما کو مجبوراٰ یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ محدود تعداد میں امریکی فوج افغانستان میں رکھنے میں ہی سمجھداری ہے ورنہ یہ ملک پھر طالبان کی گرفت میں چلا جائیگا اور اب امریکہ 1989 کی صورتحال کو ہرگز دوہرانا نہیں چاہے گا ۔سوال یہ ہے کہ اس جنگ سے متاثرہ افغان معاشرے میں اتنی تباہی کے بعد کابل کے حکمرانوں نے کیا سیکھا ؟کیا افغان معاشرہ پہلے سے محفوظ معاشرہ بن چکا ہے ؟کیا افغانستان اپنے ہمسایوں کے ساتھ تعمیر ترقی کے راستے پر گامزن ہے ؟پاکستان کے ساتھ افغان پالیسی کا جائزہ لیا جائے تو علم ہوتا ہے کہ بداعتمادی کی فضا بدستور موجود ہے اور اس خلیج کے سبب ڈیورنڈ لائن روز بروز کشیدگی کا شکار ہوتی جارہی ہے ۔حامد کرزئی دور میں کابل نے پاکستان پر الزام تراشیاں جاری رکھیں جس سے مزید دوریاں پیدا ہوئیں۔ اشرف غنی کے دور صدارت میں ابتداء میں تو پاکستان کے ساتھ گرم جوشی دکھائی گئی مگر طالبان کے ساتھ افغان گروپس کے مذاکراتی عمل کی ناکامی اورملا عمر اور ملا اختر منصور کی موت کے بعد اشرف غنی بھی کرزئی کی زبان بولنے لگے ہیں اور ان کے حالیہ دورہ بھارت میں پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی نے پاک افغان تعلقات میں فوری بہتری کے امکانات کو خاصا معدوم کردیا ہے ۔
پاکستانی حکمران اور مقتدرہ نے افغان پالیسی کی بابت اب سمجھ لیا ہے کہ افغانستان کو پانچواں صوبہ سمجھنے اور اسے’’ تزویراتی گہرائی ‘‘کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے’’ عدم مداخلت، موثربارڈر منجمنٹ اور باہمی احترام‘‘ کے سہارے ہی خطے میں دیرپا امن قائم کیا جاسکتا ہے یہاں افغانستان کو بھی سمجھنا ہوگا کہ پاکستان سے بہتر تعلقات ہی ایک مستحکم افغانستان کیلئے بہت ضروری ہیں۔دونوں ممالک TAPI گیس منصوبے سے منسلک ہیں جس پر عمل درآمد کیلئے باہمی تعلقات میں کشیدگی کے بجائے ہم آہنگی کو اولیت دینا چاہیے۔پاک افغان تعلقات میں ایک بڑی رکاوٹ بھارت کی افغانستان میں سرگرمیاں بھی ہیں بھارت نے افغانستان میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے ’’حاجی گاگ ‘‘میں لوہے کے ذخائر پر بھارتی کارپوریٹ سیکٹر کی گہری نظر ہے ۔دسمبر 2015 میں مودی کے دورہ کابل کے دوران دونوں ممالک میں خاصی گرمجوشی دکھائی گئی جیسے 42mw بجلی پیدا کرنے والے سلمیٰ ڈیم کا افتتاح کیا گیا افغان پارلیمنٹ کا افتتاح نریندر مودی سے کرایا گیا حال ہی میں دل آرام سے زرنج تک شاہراہ بھارتی ادارے BRO نے تعمیر کی جو کہ ایرانی بندرگاہ چاہ بہار تک جاتی ہے اس سے قبل اکتوبر 2011 میں افغانستان بھارت دفاعی معاہدہ بھی کیا گیا جس کے تحت بھارت نے افغانستان کو M35 ہیلی کاپٹر بھی دئیے۔ان سب کے بدلے بھارت قندھار ،جلال آباد اور ہرات میں اپنے قونصل خانوں کی آڑ میں بلوچ علیحدگی پسندوں کو مدد دینے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں دہشتگردی کو بھی فروغ دے رہا ہے کیا بھارت من موہن سنگھ کی خواہش کی نفی نہیں کررہا کہ ’’خطے میں تعلقات ایسے ہو ں کہ صبح کا ناشتا دلی میں ،دوپہر کا کھانا لاہور میں رات کھانا کابل میں کھایا جائے ‘۔‘ ۔اس کے علاوہ افغانستان نے جس طرح فضل اللہ سمیت دیگر دہشتگردوں کو افغانستان میں safe heavens فراہم کی ہیں وہ بھی پاک افغان تعلقات میں رخنہ ڈالنے کیلئے کافی ہے ۔ایک اور اہم مسئلہ ہ جو افغان معاشرے کو گھن کی طرح چاٹ رہا ہے وہ افغانستان میں پوست کی کاشت میں اضافہ ہے اب حالت یہ ہے کہ 11 فیصد آبادی نشے کی عادی ہوچکی ہے ۔طالبان دور میں پوست کی پیداوار صفر لیول تک پہنچ چکی تھی جو اب ا یک لاکھ 54ہزار ہیکٹر کے رقبے پر کاشت کی جارہی ہے اوراس وقت دنیا میں 90 فیصد ہیروئن افغانستان سے بھیجی جاتی ہے ۔2001 میں افغانستان میں بیروزگاری کی شرح 25 فیصد تھی جو 2015 میں 40 فیصد ہوچکی ہے ۔’’افغان نیشنل آرمی ‘‘جو امریکہ نے بہت طمطراق کے ساتھ کھڑی کی تاکہ افغانستان کی اندرونی سیکورٹی کو اس کے ذریعے کنٹرول کیا جائے محض ریت کا گھروندہ ثابت ہو ئی ۔اب تک 22 ہزار افغان فوجی، طالبان کی یلغار کا شکار ہو چکے ہیں فوج کا مورال ختم ہوچکا ہے افغان فوجی قیادت تزویراتی حکمت عملی سے عاری ہے اس میں جارحانہ طور حملے کرنے کی صلاحیت کا بھی فقدان ہے ۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ اس فورس کی نا اہلیوں کے سبب ابھی افغانستان میں رہنا چاہتا ہے ۔ جبکہ طالبان جنوبی افغانستان میں پورے دبدبے کے ساتھ موجود ہیں روز بروز انکی قوت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔حال ہی میں ہلمند ،پکتیا اور قندوز میں وہ اتحادی اور افغان فوج کیلئے لوہے کا چنا ثابت ہوئے ہیں افغانستان کے 407 میں سے107 اضلاع میں حکومتی رٹ کمزور ہے اور 36 اضلاع طالبان کے زیر اثر ہیں۔۔امریکی قیادت کو سمجھنا ہوگا کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان سب سے اہم مہرہ ہے اس کے بغیر بازی نہیں جیتی جاسکتی چاہے’’ کابل ،دلی اور واشنگٹن کی تکون‘‘ جتنے جتن کر لے ۔اشرف غنی کو بھی سمجھنا ہوگا کہ ا ن کیلئے اسلام آباد کی سیاسی و عسکری قیادت کے ساتھ باہمی اعتماد کی راہ پر چلنا ہی مفید ہے نیز بھارت سے تعلقات ضرور بہتر ہوں مگر اس کیلئے پاکستان کو ہدف نہ بنایا جائے ۔پاکستانی قیادت کو بھی سمجھنا ہوگا کہ افغانیوں کا دل جیتنے کیلئے وہاں سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا ہوگا نیز میڈیا کو بھی اپنا رول کرنا ہوگا جس طرح بھارت نے ماضی میں ’’دھرماتما ،خدا گواہ ،کابل ایکسپریس اور Escape from Taliban ‘‘جیسی فلمیں بنا کر افغان عوام کو اپنا گرویدہ بنایا ایسے ہی ہمیں بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *