فیچرز

موراں مائی: رنجیت سنگھ کی وہ محبوبہ جس نے مہارانی نہ ہو کر بھی سلطنتِ پنجاب پر حکومت کی

Share

وہ مہارانی تو نہ تھیں لیکن 19ویں صدی میں پنجاب کے مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اُن کے نام کے سکے جاری کیے اور اُن کے نام سے ناپ تول کے پیمانے منسوب ہوئے۔ وہ کبھی لاہور کے شاہی قلعے میں قیام پذیر نہیں ہوئیں کیونکہ مہاراجہ خود اُن کی حویلی پر آیا کرتے تھے۔

مؤرخ بتاتے ہیں کہ اس دور میں لاہور کے شاہ عالم گیٹ کے اس علاقے میں واقع ان کی اسی رہائش گاہ سے مہاراجہ رنجیت سنگھ نے کئی سرکاری احکامات جاری کیے جن کے نیچے یہ عبارت درج ہوتی تھی، ’جاری کردہ کوٹھا مائی موراں، محبوبہ مہاراجہ رنجیت سنگھ۔‘

آج بھی لاہور کی سکھ گیلری میں اِن احکامات اور سکوں کی نقول موجود ہیں۔ مائی موراں نے 19ویں صدی کے اوائل کے دور میں پنجاب پر راج کیا۔ ان کی اس ’حکمرانی‘ کی کئی نشانیاں آج بھی لاہور شہر میں عمارتوں کی شکل میں موجود ہیں جبکہ کئی داستانیں تاریخ کے اوراق میں گم ہو چکی ہیں۔

اقبال قیصر مؤرخ اور مصنف ہیں اور خصوصاً پنجاب کی تاریخ پر عبور رکھتے ہیں۔ موراں مائی کی چند داستانیں انھوں نے بھی پڑھ اور سُن رکھی ہیں۔ کالے رنگ کا چھوٹا سا بستہ کندھے پر لٹکائے آج بھی وہ لاہور کی گلیوں میں گھومتے پھرتے ملتے ہیں۔ تاریخ کے مستند حوالے انھیں زبانی یاد ہیں۔

وہ ہمیں شاہ عالم مارکیٹ کے پاپڑ منڈی بازار میں واقع اس عمارت تک لے کر گئے جہاں تقریباً 200 سال قبل موراں مائی کی رہائش گاہ ہوا کرتی تھی۔ آج وہاں بلند عمارتیں کھڑی ہیں لیکن ان کے عین سامنے وہ مسجد آج بھی موجود ہے جو موراں نے بنوائی تھی اور ’موراں والی مسجد‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔

اقبال قیصر کہتے ہیں ’موراں مائی کبھی ملکہ نہیں رہیں کیونکہ رنجیت سنگھ نے ان سے شادی نہیں کی تھی لیکن اپنی خوبصورتی کی وجہ سے انھوں نے نہ صرف پنجاب کو بلکہ شیرِ پنجاب کو فتح کیا۔‘

پنجاب میں سکھ سلطنت کے بانی مہاراجہ رنجیت سنگھ کو شیرِ پنجاب کے لقب سے بھی جانا جاتا ہے۔ سنہ 1780 میں آج کے پاکستانی شہر گوجرانوالہ میں پیدا ہونے والے رنجیت سنگھ نے سنہ 1801 میں پنجاب میں سکھ سلطنت قائم کی تھی۔

اپنے عروج میں ان کی سلطنت ایک طرف خیبر پاس تو دوسری جانب کشمیر تک پھیلی تھی۔ ان کے ساتھ موراں مائی نے بھی اس سلطنت پر راج کیا۔

موراں شاہی سکے
،تصویر کا کیپشنموراں شاہی سکے

موراں سے رنجیت سنگھ کی ملاقات کیسے ہوئی؟

اقبال قیصر کے مطابق وہ علاقہ جہاں موراں کی رہائش گاہ تھی اس زمانے میں لاہور کا بازارِ حسن ہوا کرتا تھا۔ موراں یہیں پر پیشہ ور رقاصہ تھیں اور اپنے پیشے سے روزی روٹی کماتی تھیں۔ ان کے حسن کے چرچے عام تھے۔

جب رنجیت سنگھ نے لاہور پر قبضہ کیا تو موراں کے حسن کے چرچے ان تک بھی پہنچے۔ اقبال قیصر کے مطابق مہاراجہ رنجیت سنگھ نے موراں سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ ’وہ ان سے ملنے ان کے کوٹھے پر چلے آئے اور پھر موراں ہی کے ہو کر رہ گئے۔‘

اسی مقام پر موراں کی ایک شاندار حویلی تھی جو کچھ روایات کے مطابق مہاراجہ ہی نے تعمیر کروائی تھی۔

یہ دیکھیں کہ مہاراجہ کا دربار کہاں پر لگتا تھا

اقبال قیصر کے مطابق موراں کے کوٹھے سے سرکاری احکامات کے جاری ہونے سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اُن کا اثر و رسوخ کتنا زیادہ تھا۔‘

وہ ایک واقعہ سناتے ہیں جس سے رنجیت سنگھ پر موراں کے سحر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جن 10 سے 12 افراد نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کو لاہور پر حملہ کرنے کی دعوت دی تھی اور اس پر قبضہ کرنے میں ان کی مدد کی تھی ان میں قصور کے ایک گاؤں کا رہائشی مہر مقم الدین نامی شخص تھا۔

وہ لاہور کے دربار میں مرکزی دربان تھے۔ جب رنجیت سنگھ نے لاہور پر حملہ کیا تو انھوں نے ہی اُن کے لے دروازہ کھول دیا تھا جس کے بعد فوجیں شہر میں داخل ہو گئیں اور رنجیت سنگھ نے لاہور پر قبضہ کر لیا۔

اقبال قیصر کے مطابق رنجیت سنگھ کے دربار میں مہر مقم الدین کا بہت بلند رتبہ تھا۔ وہ انھیں ’باپو‘ کہا کرتے تھے اور انھیں اپنے ساتھ خصوصی نشست پر بٹھایا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ انھیں انعام و اکرام سے بھی نوازا گیا تھا۔

موراں والی مسجد
،تصویر کا کیپشنجامع مسجد موراں والی

مہاراجہ کے دیرینہ دوست پر موراں کی فتح

مہر مقم الدین کو تاہم یہ پسند نہیں تھا کہ شاہی دربار ایک طوائف کے کوٹھے پر لگتا تھا۔ ابتدا میں انھوں نے مہاراجہ کو سمجھانے کی کوشش کی۔ جب وہاں کامیابی نہیں ہوئی تو انھوں نے موراں پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔

موراں اور مقم الدین میں ٹھن گئی۔ موراں نے مقم الدین سے کہا کہ وہ (مقم) سبزی منڈی میں پیاز بیچا کرتے تھے اور وہ اُن سے دوبارہ وہی کام کروائیں گی۔ جواب میں مہر مقم الدین نے موراں کو کوٹھے اور پیشے تک محدود کر دینے کا چیلنج کیا۔

’ان کی لڑائی بہت شدت اختیار کر گئی لیکن آخر میں ہوا یوں کہ نواں کوٹ کے علاقے اور اس کے علاوہ بھی مہر مقم الدین کی جو جائیداد تھی وہ بحکمِ سرکار ضبط کر لی گئی اور وہ سبزی منڈی ہی میں پیاز بیچنے پر مجبور ہو گئے۔‘

موراں کی یہی فتح ان کے اثر و رسوخ کا ثبوت نہیں تھی۔ سلطنت کے شاہی ٹکسال سے کئی برس تک ان کے نام کے سکے جاری کیے جاتے رہے جنھیں ’موراں شاہی‘ سکے کہا جاتا تھا۔

موراں والی مسجد
،تصویر کا کیپشنموراں والی مسجد

مہاراجہ نے موراں سے شادی کیوں نہیں کی؟

ایسی کئی روایات پائی جاتی ہیں کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے موراں مائی سے شادی کر لی تھی اور وہ ان کی پہلی مسلمان مہارانی تھیں۔ اقبال قیصر کے مطابق تاریخ میں زبانی طور پر ایسی کئی روایات موجود ہیں تاہم ان کی تصدیق ممکن نہیں۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ نے امرتسر کی ایک مسلمان رقاصہ گل بیگم سے باقاعدہ شادی کی تھی اور انھیں لاہور کے شاہی قلعے میں لایا گیا تھا۔ تو رنجیت سنگھ نے موراں مائی سے شادی کیوں نہیں کی؟

اقبال قیصر کے مطابق اس کی وجہ یہ تھی کہ گل بیگم صرف رقاصہ تھیں، وہ پیشہ نہیں کرتی تھیں۔ اس لیے جب مہاراجہ نے ان کے ساتھ وقت گزارنے کی خواہش کا اظہار کیا تو انھوں نے کہا کہ ان کا مذہب انھیں اس کی اجازت نہیں دیتا۔

‘انھوں نے مہاراجہ سے کہا کہ اس کے لیے انھیں اُن سے شادی کرنی پڑے گی، جو شرط مہاراجہ نے قبول کر لی تھی۔ تاہم موراں کے ساتھ انھیں اس قسم کی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔‘

موراں نے مسجد کیوں تعمیر کروائی؟

اس حوالے سے بھی غیر مستند روایات ملتی ہے کہ موراں نے اپنی حویلی یا کوٹھے کے سامنے جو مسجد تعمیر کروائی اس کے پس پردہ کیا واقعہ تھا۔ اقبال قیصر کے مطابق ایک روایت نور احمد چشتی کی کتاب ’تحقیقاتِ چشتی‘ میں بھی ملتی ہے تاہم اس کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔

ان کے مطابق مسجد کی تعمیر کے حوالے سے جو مستند روایت گردانی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ مہاراجہ نے لاہور کی ایک مشہور مسجد وزیر خان کے مینار پر کچھ وقت موراں کے ساتھ گزارا تھا۔

’اس کے بعد موراں کے دل میں یہ بات آئی کہ انھیں مسجد کے مینار پر نہیں جانا چاہیے تھا، تو اس سوچ کے تحت انھوں نے مسجد تعمیر کروائی۔‘

موراں والی مسجد کے تین گنبد اور دو مینار آج بھی موجود ہیں تاہم اس کی زیادہ تر عمارت کو رنگ و روغن کر دیا گیا ہے اور اس میں نمازیوں کی گنجائش بڑھانے کے لیے نئی تعمیرات بھی کر دی گئی ہیں۔ اسے جامع مسجد کی حیثیت حاصل ہے اور یہ مسجد آج بھی آباد ہے۔

موراں کی والدہ پر آسیب کا سایہ اور مندر کی تعمیر

اقبال قیصر بتاتے ہیں کہ موراں نے نہ صرف مسجد بنوائی بلکہ اس کے سامنے ہی ایک مندر بھی تعمیر کروایا تھا جس کی جگہ پر اب تعمیرات ہو چکی ہیں۔ تاہم موراں نے ایک بڑا مندر لاہور کے علاقے اچھرہ کے قریب بھی تعمیر کروایا تھا جس کا کچھ حصہ آج بھی قائم ہے۔

اقبال قیصر کے مطابق یہ کہا جاتا ہے کہ ’ایک مرتبہ موراں کی والدہ پر آسیب کا سایہ ہو گیا جس کی وجہ سے وہ پریشان ہو گئیں۔ تو اس مندر کے پجاری نے ان سے کہا کہ وہ کچھ عمل کر کے آسیب ختم کروا دیں گے لیکن اس کے بدلے میں موراں اس مندر کی تعمیر کروائیں گی۔‘

جب ان کی والدہ پر آسیب کا سایہ ختم ہو گیا تو اس کے بعد موراں نے اپنے خرچ پر اس مندر کی تعمیر کروائی۔ اس کا مرکزی حصہ، دروازہ اور دیواروں کا کچھ حصہ آج بھی موجود ہے تاہم زیادہ تر حصے پر لوگوں نے گھر بنا لیے ہیں۔

اقبال قیصر کے مطابق اس مندر کی تعمیر کو لاہور کے ہندو اور مسلمان رہائشیوں کے درمیان اچھے تعلقات کی نشانی کے طور پر بھی دیکھا گیا۔ ’یہ ایک ہندو مندر تھا جو ایک مسلمان خاتون نے بنوایا تھا۔‘

مندر
،تصویر کا کیپشنموراں مائی کی جانب سے تیار کروایا جانے والا مندر

طبعی موت اور گمنامی

کئی تاریخی روایات بتاتی ہیں کہ مقامی لوگ موراں کے مہارجہ پر اثر و رسوخ کو دیکھتے ہوئے ان کے پاس اپنے مسائل لے کر آیا کرتے تھے جن کی طرف وہ مہاراجہ کی توجہ مبذول کرواتی تھیں۔

موراں مائی نے زندگی جتنی شان و شوکت سے گزاری، اپنی موت کے بعد وہ اتنی ہی گمنام ہو گئیں۔ اقبال قیصر کے مطابق ان کی موت کی تاریخ کا کوئی حوالہ موجود نہیں، صرف یہ معلوم ہے کہ ان کی موت طبعی تھی۔

جہاں رانیوں اور مہارانیوں کے مقبرے اور آخری آرام گاہیں ملتی ہیں، موراں کے حوالے سے ایسا کچھ نہیں ملتا۔

ایک تاریخی حوالے کے مطابق ان کی قبر لاہور کے میانی صاحب میں حضرت طاہر بندگی کے مزار کے پہلو میں موجود ہے۔

اقبال قیصر کے مطابق ان کی قبر لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں ہے تاہم یقین کے ساتھ اس کی تصدیق نہیں کی جا سکتی کہ موراں کی قبر کون سی ہے اور کہاں موجود ہے۔