سمت

محمد طاہرM tahir

سمتوں کا فسوں اگر ٹوٹ جائے تو رستے خود بھی آوارہ ہوجاتے ہیں۔ اس لئے جہدِ طلب کا ایک سچا راہی بھٹک بھی جائے تو یہ کچھ عجب نہیں، عین فطری ہوتا ہے۔ مگر ہماری بدقسمتی کچھ اور ہے۔ یہاں جہدِطلب کا کوئی سچا راہی پایا ہی نہیں جاتا۔ ہر رہنما اپنی ذات کے گنبد میں بند ہے۔ ذات ہی اُس کی جماعت ہے۔ چنانچہ قومی زندگی کے تمام اجتماعی شعبے بنیادی طور پر انفرادی فیصلوں کی لپیٹ میں رہتے ہیں۔ فیصلوں کا اجتماعی اور ادارتی شعور کہیں پر بھی نہیں جھلکتا۔ اسلام آباد میں جاری دھرنے ملک وقوم کے لئے خواہ کتنے ہی نقصان دہ ہو، دو رہنماؤں کی بالک ہٹ کا نتیجہ بن کرآئین وقانون کا منہ چراتے رہیں گے۔ اُن کی جماعتیں اپنے اپنے ضدی رہنماؤں کے ذاتی فیصلوں کے دفاع میں قومی مقاصد کے آئینہ دار دلائل کا انبار لگاتی رہیں گی۔ اور اِسے باقی تمام قومی زندگی کے ضروری کاموں سے بھی زیادہ اہم ثابت کرنے میں اپنا زورِ بیان صرف کردیں گی۔چنانچہ دھرنا رہنماؤں کے نزدیک سیلاب سے نمٹنے سے کہیں زیادہ بڑا قومی فریضہ دھرنوں کو جاری رکھنا ہے۔ کہ اِسی سے استعفے کا نو من تیل نکلے گا اور یہیں پر نجات کی رادھا ناچے گی۔ ذاتی فیصلوں کی اتنی بڑی قیمت کوئی قوم کب تک دیتی رہے؟اجتماعی دانش کے ماتم کا بھی کوئی وقت کہیں پر نکلے گا یا نہیں؟
یہی ماجر ا سیلاب کے باب میں حکومت کا بھی ہے۔ سیلاب سے نمٹنے کے لئے تمام قومی سرگرمیاں کچھ افراد کے گرد مرتکز ہیں۔پاکستان کی تمام قومی پالیسیوں پر افراد کی چھاپ ہے۔ کہیں پر کسی ادارتی چھتری کا کوئی گمان تک نہیں گزرتا۔ اِسی عمومی رویئے نے اداروں کی شناخت اور اُن کی ساکھ کوبھی شخصی ارتکاز دے دیا ہے۔ زیادہ وقت نہیں گزرا ہم نے عسکری اداروں کے فیصلوں کو کیانی ماڈل کی اصطلاح میں سمجھا تھا۔ اس سے پہلے کاکڑ فارمولاکی گونج سنائی دیتی تھی۔ حد تو یہ ہے کہ یہاں اسلام کوبھی جنرل ضیاء کے اسلام سے دائرہ تفہیم و تنقید میں لایا گیا۔ اور اب تازہ ترین تجربہ فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف کے حوالے سے کررہے ہیں۔ پاکستان کے سب سے منظم، اہم اور مستحکم ادارے کے فیصلوں کا بھی شخصی ادراک خطرے کی ایک گھنٹی ہے۔ کسی بھی ادارے کی اجتماعی دانش شخصی تحویل میں رہ کر بروئے کار آتی ہو، یہ پہلوبجائے خود بہت خطرناک ہے۔ مگر کسی ادارے کی اجتماعی دانش کسی فرد کی رہینِ منت ہی بن جائے تو یہ عمل کثیرالجہتی مضمرات کا حامل بن جاتا ہے۔ پاکستان کی سیاست کا تجربہ دھرنے کی صورت میں ہو، حکومت کا تجربہ سیلاب کے حوالے سے ہو، یاعسکری فیصلوں کا رنگ کسی بھی حوالے سے جھلکتا ہو،اپنی بنیاد میں شخصی ارتکاز رکھتے ہیں۔ دھرنے جاری ہیں تو عمران خان اور طاہر القادری کی وجہ سے جاری ہیں۔ سیلاب میں کوئی بروئے کارہیں تو وہ شریف برادران ہیں۔مارشل نہیں لگایا تو یہ جنرل اسلم بیگ نے نہیں لگایا، لگایا تو یہ ضیاء، مشرف وغیرہ نے لگایا۔ فوج اگر موجودہ حالات میں کوئی مداخلت نہیں کررہی تو یہ جنرل راحیل شریف کی بدولت ہے۔ اور اگر فوج نے زرداری دور میں خود کو سیاست سے دور رکھا تو یہ جنرل کیانی کی بدولت تھا۔ یہ عوامی سطح کی تفہیم نہیں بلکہ یہ دانشوروں کی سطح کے بھی رائج معروضے ہیں۔ کیا ہمارے قومی شب وروز کا احوال چند لوگوں کی شخصی سرگرمیاں اور اُن کی ذات کے گرد گھومتے حالات ہیں؟ اس بدترین شخصی ارتکاز کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عوام اُن افراد کے گرد موجود نظام کو ہی اُن کی ذات کے حوالے سے دیکھنے لگے ہیں۔ مثلاً عوام شریف برادران اور زرداری جنتا کے ذریعے جمہوریت کی تفہیم کرتے ہیں اور اِسے ہی نشانِ ملامت بناتے ہیں۔ پارلیمنٹ کے حوالے سے قادری اور عمران کا پورا بیانیہ ہی یہی ہے۔ حکومت جائز حزبِ اختلاف کو بھی عمران اور قادری کے دھرنوں کی سطح پر لے جاکر سوچتی ہے۔ چند ہفتے ہی تو گزرے ہیں، وفاقی حکومت کے ایک اہم وزیر ذرائع ابلاغ سمیت ہر آواز کو ناقابل اعتنا سمجھتے تھے اور اپنی نجی محفلوں میں یہ فرماتے تھے کہ ”اس نے ہمار ااب تک کیا بگاڑا ہے جو اب بگاڑ لیں گے۔“ بہت جلد ہی اُنہیں اس بول بچن کا ناچ دیکھ کر اپنے پاؤں دیکھنے پڑ گئے۔ کل تک وہ اِنہیں منہ تک لگانے کو تیار نہیں تھے اب وہ اُن کے منہ لگ لگ کر محبت کے پیمان باندھ رہے ہیں اور باور کرارہے ہیں کہ صرف ہمارے ہی نہیں آپ کے انڈے بھی اِسی نظام کی ٹوکری میں ہے۔ حکومت اور اُن کے وزیرِ موصوف کو اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ذرائع ابلاغ تو ایک ایسی مرغی ہے جو اپنے انڈے نہ تو ایک جگہ دیتی ہے اور نہ ہی رکھتی ہے۔
ہماری حرماں نصیبیوں کی رات ابھی کٹی نہیں۔ ابھی ہمارے سیاسی شعور کا سفر ارتقا پذیر ہے۔ ہمارے حصے میں رہنماؤں کی ایسی بدترین کھیپ آئی ہے جو وقت کی تحریر اور نوشتہئ دیوار دونوں ہی پڑھنے اور سمجھنے سے عاجز ہیں۔ بے رحم حالات کے زناٹے دار تھپڑ ہی اِنہیں کچھ دیر کے لئے بے چین کرتے ہیں اور پھر یہ اپنی آئی پہ آ جاتے ہیں۔سیلاب سے نمٹنے کے لئے ہمارا طرزِ عمل اس کی ایک بدترین مثال ہے۔ تمام فیصلے سیلاب کی طرح شخصی بہاؤ رکھتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے اقدامات میں تشہیری نفسیات زیادہ اور تعمیری حرکیات کم کم ہوتی ہے۔پنجاب فلڈ کمیشن کی 2010 کے سیلاب کے حوالے سے رپورٹ میں اِسی خوف ناک طرزِ عمل کی نشان دہی کرتے ہوئے یہ کہا گیا تھا کہ وزیرِ اعلی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نمائشی اقدامات کا ایک نیا سیلاب لے آتے تھے جس کے باعث متاثرین کی حقیقی بحالی کا کام زیادہ دشوار ہو جاتا تھا۔مذکورہ رپورٹ حالیہ سیلاب سے نمٹنے کے لئے رہنما خطوط فراہم کرسکتی تھی مگر ہمیں ٹھوس کاموں سے ذرا کم کم ہی دلچسپی ہے۔ اس رپورٹ کی کسی سفارش، تجویز اور تاکید پر کوئی عمل نہیں کیا گیا۔ اور زیادہ ڈھٹائی سے ہم اپنی پُرانی روش پر زیادہ رسواکن طریقے سے گامزن ہیں۔جس پر اب عوامی ردِعمل بھی انگڑائی لے رہا ہے۔جس کا پہلا مظاہرہ جھنگ میں کسانوں کے وزیرِ اعلیٰ کے خلاف ردِعمل سے گزشتہ روز ہوا۔ جنہوں نے وزیر اعلیٰ کے طویل انتظار کے بعد بیزاری سے اُن کا خطاب سننے سے انکار کردیا۔ حیرت ہے شریف برادران نے تازہ ترین ملنے والا سبق بھی فراموش کردیا۔جب اُنہوں نے دھرنے کا مقابلہ پارلیمنٹ کی ادارتی طاقت سے کیا۔ کم ترین تعداداور کمزور ترین قیادت رکھنے والے دھرنے نے بھی نواز شریف کے بھاری مینڈیٹ اور اُن کی سیاسی جماعت کی حقیقی اہلیت کا پردہ فاش کردیا تھا اور اُن کی حکومت آندھی میں اُڑتے کاغذ سے بھی زیادہ بے سمت اور کمزور دکھائی دیتی تھی۔ مگر پھر پارلیمنٹ کی اجتماعی بصیرت اور مجموعی طاقت نے دھرنے کو ہی دھکا نہیں دیا۔ بلکہ اس کی آڑ، ڈھال اور چال میں کچھ مخفی غیر سیاسی قوتوں کو بھی دفاعی پوزیشن پر دھکیل دیا۔ حیرت ہے ادارتی قوت کے اس تازہ ترین تجربے کے باوجود شریف برادران نے سیلاب میں قومی ادراروں کی اجتماعی قوت کو بروئے کار لانے کی حقیقی برکت کھو دی۔ شریف برادران کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اُن کا ہر جگہ پہنچنا اتنا ضروری نہیں جتنا اُن کے اقدامات کی برکت کا ہر متاثرہ شخص تک پہنچنا ضروری ہے۔ اقدامات کا شخصی ارتکاز ختم کرکے ہی وہ اپنی قیادت کے تدبر کا سکہّ رائج کر سکتے ہیں۔ وگرنہ اُنہیں ہر جگہ استقبال کی گرمجوشی اور تحسینی کلمات کی چاشنی میسر نہیں آسکے گی۔یہ قوم افراد کی پگڈنڈیوں پر نہیں اجتماعی راستوں کی سمتوں پر چلنا چاہتی ہے۔ قیادت کا جادو بھی اب اِن ہی رستوں پر چلے گا۔ کیا جہدِ طلب کے راہی راستی کے راستے پر آئیں گے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *