ناف کا بال اور سرجیکل سٹرائک

naeem-baloch1

’’میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ اب اگر اب کسی نے میری مونچھ سے بال اکھاڑا تو میں بدلے میں اس کی ناک کا بال اکھاڑوں گا!‘‘ ہمسائے نے سینہ تان کر اپنی بیوی کو کہا ۔
دراصل وہ اور اس کا پڑوسی ،دونوں عجیب ہمسائے تھے ، جس کو بھی موقع ملتا، دوسرے کو تنگ کرنے کا کوئی نہ کوئی عجیب طریقہ ڈھونڈ لیتا۔ اس دفعہ وہ سو رہاتھا تو ہمسائے نے اپنا بچہ بھیجا کہ وہ اس کی مونچھ کاایک بال اکھاڑ آئے۔اور اس نے یہ ’کارنامہ‘ کر دکھایا ۔ ہمسائے کی بیوی نے شوہر کی یوں ہڑبڑا کر اٹھتے دیکھا تو شور مچا دیا اور لگی کوسنے دینے اور شوہر کی غیرت کو آواز دینے ۔ تب اس نے بیوی کو چپ کرانے کے لیے یہ بڑھک نما اعلان کیا ۔
چند دن بعد کی بات ہے کہ اسی ہمسائے کے بچے فتح کے نعرے لگاتے آئے کہ بدلہ لے لیا، بدلہ لے لیا۔ بچوں نے دو بال باپ کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے کہا کہ ابو ہم نے آپ کے کہنے کے مطابق ایک نہیں اس کی ’’ناف‘‘ کے دو بال اکھاڑے ہیں !
’’ابے گدھو! ناف کے بال؟ میں نے تو کہا تھا کہ ’ناک ‘ کے بال اکھاڑنا !‘‘وہ حلق کے بل چیخا۔
’’اچھا ! ہم نے تو’ ناک‘ نہیں ناف ہی سمجھا تھا۔ اور اس کی ناف سے بال اکھاڑنے کے لیے بڑے جتن کیے ، نہ جانے کن کن حالات سے گزرے ، باقاعدہ سرجیکل سٹرائک کیا، تب جا کر یہ کامیابی ملی !‘‘
’’اونہہ، سرجیکل سٹرائک!‘‘ وہ اپنی مونچھ سہلاتے ہوئے بولا ، جہاں سے اکھڑے بالوں کی جلن اسے اب بھی محسوس ہو رہی تھی!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *