سرجیکل سڑائیک میں حصہ لینے والے ایک ہندوستانی کمانڈو کی ڈائری کا ورق

35

تحریر. ریحان اصغر سید

میں نے آنکھیں کھولیں اور ڈرتے ڈرتے اردگرد دیکھا۔ اپنے کمرے میں خود کو زندہ و سلامت دیکھ کے من خوشی سے بھر گیا۔ جس طرح کے حالات چل رہے ہیں روز سوتے ہوئے یہی ڈر ہوتا ہے کہ پتہ نہیں کل ہو نہ ہو، پاکستانی جیسے جنونی اور دہشت گرد دیش کا کیا بھروسہ۔ رات کی تاریکی میں پرمانوں بموں سے حملہ کر دے یا ان کے فوجی سینک سر کاٹ لے کر جائیں۔ بھگوان نے بھی ہمارے ساتھ پھرکی لی ہے۔ اب ایسے خطرناک دیش کا پڑوسی بننے کو ہم ہی رہ گئے تھے کیا؟
میں نے تکیے کے نیچے سے سیل فون نکال کر دیکھا تو پتنی جی کی مس کالز اور میسج آئے ہوئے تھے۔ میں نے کال بیک کی تو اس کا پہلا سوال ہی چُھٹی کے متعلق تھا۔
چھٹی کہاں سے ملنی ہے، میں نے جل کے کہا۔ یہ سہولت صرف ہندو افسران کے لیے ہے، جنگ میں مرنے کے لیے ہم سردار اور مُسلے جو ہیں۔ تو فکر نہ کر میں کوشش کر رہا ہوں، آج پھر او سی صاحب سے بات کرتا ہوں۔
……………………………………………………..
شیو کر کے میں نے وردی پہنی ہی تھی کہ او سی صاحب کے بلاوے کا سندسیہ آ گیا۔ میں فوراً افیسر کمانڈنگ کرنل پروہت شرما کے آفس کی طرف بڑھ گیا۔ کرنل صاحب کے چہرے پر گھمبیرتا کے تاثرات دیکھتے ہی میرا من ڈوبنے لگا اور ٹانگیں بے جان ہونے لگیں۔
جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا، دہلی سے فوجی ہیڈ کواٹر نے سرجیکل سڑائیک کی اجازت دے دی تھی۔ پلان ہم پہلے بھی کئی دفعہ ڈسکس کر چکے تھے۔ سب سے بڑا مسئلہ پاکستان میں گھسنا تھا۔ ہمیں ایل او سی کو کراس کر کے پاکستانی آکوپائیڈ کشمیر میں داخل ہونا تھا۔ یہ ساری بارڈر لائن بارود کا ڈھیر بنی ہوئی ہے۔ ہماری طرف سے گھس بیٹھیوں کی دراندازی روکنے کے لیے تھری لئیر سسٹم کام کر رہا ہے۔ خاردار تاریں ہیں جن میں کرنٹ دوڑتا ہے، باردوی سرنگیں ہیں، سنسرز ہیں، پھر بھاری نفری بھی تعینات ہے، دوسری طرف کی سینا کے انتظامات بھی تگڑے ہیں۔ سب سے مشکل مرحلہ تو ایل او سی کو کراس کرنے کا ہے۔ جہاز کے ذریعے پیراشوٹوں سے اترنا یا ہیلی کاپڑوں کے ذریعے جانا موت کو ماسی کہنے والی بات ہے، کیوں کہ سرحد پار پاکستانی سینا بپھری ہوئی ہے۔
……………………………………………………..
اب ہمارے پاس اجیت دول صاحب کی صلاحیتوں اور تجربے پر واشوس کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا، جو اس مشن پر ہمیں بریف کرنے کے لیے بنفس نفیس راجدھانی سے ہیلی کاپٹر پر آ رہے تھے۔ گیارہ بجے کے قریب ان کا ہیلی کاپڑ اترا تو میں سواگت کے لیے آگے بڑھا۔
اجیت صاحب نے مشکوک نظروں سے مجھے دیکھا، پھر میرا بیج دیکھ کے بولے، کیپٹن مان سنگھ! آج سارا دیش تمھاری طرف دیکھ رہا ہے، اپنا سپشیل سروسز گروپ لے کے گھس جاؤ دشمن دیش میں اور مزہ چکھاؤ دشمن کو ہم سے پنگا لینے کا۔
جی سر! میں نے سیلوٹ جھاڑا اور ان کو لے کے میٹنگ روم کی طرف بڑھ گیا۔
اجیت دول صاحب نے ہمیں نقشے پر اس جگہ کہ نشاندہی کی جہاں ہمیں آپریشن کرنا تھا۔
لیکن سر ہم وہاں جائیں گے کیسے؟؟
میں نے سوال پوچھا۔
اجیت صاحب کے چہرے پر ایک پراسرار مسکراہٹ پھیل گئی۔
پھر انھوں نے جیب سے ایک ڈبی نکال کر ہمیں دکھائی اور فرمایا:
’’بھارتی سرکار اپنی سینا اور اس کے ناگرکوں کی سرکھشا کے حوالے سے بہت پریشان رہتی ہے، ہم دوسرے دیشوں جیسے نہیں ہیں کہ اپنی سینا کو آگ میں جھونک دیں، آپ کے ایک ایک ویکتی اور سپاہی کی رکھشا ہمیں اتنی ہی عزیز ہے جتنی ہمیں اپنی۔ میرے ہاتھ میں آپ جو دیکھ رہے ہیں یہ ہمارے سائنسدانوں اور ہماری مذہبی شکتیوں کا مشترکہ شہکار ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ جدید سائنس کے تمام بنیادی کلیے گیتا اور ہمارے شاتروں سے ہی لیے گئے ہیں۔ یہ ایک ایسی گولی ہے جس کو کھانے سے کسی بھی پرش کا جسم اگلے چوبیس گھنٹے کے لیے ان ویزیبل (invisible) ہو جاتا ہے۔‘‘
اجیت صاحب نے ایک چانکیائی مسکراہٹ سے ہمیں دیکھا اور ہماری حیرت سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بولے:
’’اس ایک گولی کی تیاری میں کروڑوں کا خرچہ آتا ہے لیکن ہمارے سینکوں کی جان اس سے بھی قیمتی ہے۔ کیپٹن مان سنگھ اور ان کی بارہ رکنی ٹیم یہ گولیاں کھا کے ان ویزییل ہو جائے گی اور ریکھا پار جا کے سرجیکل سڑائیک کرے گی۔‘‘
جے ہند۔
……………………………………………………..
سارا دن ہم آپریشن کی تفصیلات طے کرتے اور ایکشن کی تیاری کرتے رہے۔ رات دس بجے مایک ہیلی کاپٹر پر میری ٹیم کو لے کے ایل او سی کی طرف بڑھا۔ ہیلی کاپٹر نے ہمیں ایل او سی کے تین کلومیڑ اندر اپنی ایک پوسٹ کی اوٹ میں اتارا اور واپس چلا گیا۔ چوکی کے ذمہ دار صوبے دار مہیندر لال نے ہمارا سواگت کیا۔ چوکی کے سامنے ہی انٹری وے تھا۔ انٹری وے کنٹرول لائن پر ہماری طرف ہر دس کلومیٹر کے بعد ایک کلومیٹر کا وہ علاقہ ہے جس میں بارودی سرنگیں اور سنسرز وغیرہ نہیں لگے ہوئے، یہ اس لیے ہے کہ اگر ہمیں پاکستانی آکوپائیڈ کشمیر میں حملہ کرنا پڑے تو مسئلہ نہ ہو۔ یہیں پر ہم نے غائب ہونے والی گولیاں کھائیں اور سچ مچ میں غائب ہو گئے۔ صوبیدار مہیندر کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں، ہم نے اسے تسلی دی اور ایل او سی کی طرف بڑھے۔ ایک ایک قدم من من کا ہو رہا تھا، بےشک ہم مائن فری علاقے میں تھے لیکن انسانی غلطی کی گنجائش تو ہر جگہ رہتی ہے۔ خاردار تاروں کے کرنٹ کا کنکشن منقطع کر دیا گیا تھا۔ ہم آسانی سے پاکستانی علاقے میں گھسنے میں کامیاب رہے۔ دل تو گویا اب حلق میں آرہا تھا۔ حوالدار بھوشن نے میرے کان میں گھستے ہوئے تیسری دفعہ کہا۔
سر میں نے موتر کرنا ہے، کہاں کروں؟؟
یو بلڈی ایڈیٹ۔ پیمپر نہیں پہنا کیا؟ پیمپر اس لیے پہنایا ہے تمھیں۔ کر لو جو کچھ کرنا ہے۔
میں غصے سے پھٹ پڑا۔ یہاں جان پر بنی ہے اور اسے موتر کی پڑی ہے۔
……………………………………………………..
اب ہم پاکستانی چوکیوں کے پہلو سے گزر رہے تھے۔ ہوا کے دوش پر قہقوں کی آواز آتی تو ہم وہی دبک جاتے۔ دو گھنٹے چلنے کے بعد نقشے اور جی پی ایس کی مدد سے ہم اپنے ٹارگٹ گاؤں میں پہنچے۔ وہاں چوہدری خالد اپنا آدمی تھا۔ خالد نے ایسے آدمی پہلے کہاں دیکھے تھے جن کی آواز تو آتی ہے پر وہ نظر نہیں آتے۔ اس لیے اطلاع ہونے کے باوجود خالد خوف اور بےبسی سےگھگھیانے لگا۔
حوصلہ کرو خالد۔ ہم تمھارے دوست ہیں اور تم ہمارے دوست ہو۔ وقت ضائع نہ کرو اور ہمیں فوراً گھس بیٹھیوں کے لانچنگ پیڈز کی طرف لے چلو۔
لانچنگ پیڈ؟ یہاں تو کوئی لانچنگ پیڈ نہیں ہے۔ خالد نے حیرت سے میری طرف دیکھا یعنی جہاں سے اسے آواز آئی تھی، ادھر دیکھا۔
میرا میٹر گھوم گیا، میں نے خالد کو گربیان سے پکڑ کے جنجھوڑا۔گھٹیا دلال! پیسے ہم سے لیتے ہو اور جب کام کا وقت آتا ہے تو تمھارے دل میں دیش کی محبت جاگ جاتی ہے۔چپ چاپ ہمیں لانچنگ پیڈ کی طرف لے چلو ورنہ یہی گولیوں سے چھلنی کر دوں گا۔ چلو آگے لگو۔
خالد چپ چاپ آگے چلنے تو لگا لیکن اس کے چہرے پر کنفیوژن کے تاثرات تھے جس کو دیکھ کے میں پریشان ہو رہا تھا کہ یہ شخص ہمیں مروا نہ دے۔ رات کے دو بج چکے تھے، پورے گاؤں پر ہو کا عالم تھا۔ خالد ہمیں لے کر ایک کھنڈر نما عمارت کے پاس لے آیا جس کی بیرونی دیواریں ٹوٹی ہوئیں تھیں۔ اور برآمدے میں تین چار نشئی سے لوگ نشہ پانی کر رہے تھے، قریب ہی آگ کا الاؤ روشن تھا۔ یہ لانچنگ پیڈ ہے؟ یہ لوگ کون ہیں؟
یہ لوگ جہاز ہیں جی، ساری پروازیں یہی سے روانہ ہوتی ہیں۔ خالد نے آواز کی سمت کی طرف دیکھ کے کہا،
جہاز؟ کہاں ہیں جہاز؟ میں نے حیرت سے دائیں بائیں دیکھا۔
میرا مطلب ہے یہ لوگ پائلٹ ہیں، جہاز تو آتے جاتے رہتے ہیں۔ خالد نے جانے کیوں گڑبڑا کر جواب دیا۔ میں نے حیرت اور افسوس سے ان چار مدقوق اور بدحال لوگوں کی طرف دیکھا جن کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، شیویں بڑھی ہوئیں تھیں اور بال الجھے ہوئے تھے۔ مجھے یہ تو جانکاری تھی کہ پاکستان میں بہت غربت ہے لیکن پاکستان سینا کے پائلٹ بھی اتنے بدحال ہوں گے۔ یہ میرے تصور میں بھی نہیں تھا۔ مجھے بےاختیار جھرجھری آ گئی۔ میں نے اپنی ٹیم کو بلڈنگ میں ٹائم بم فٹ کرنے کا کہا۔ پاکستانی پائلٹ اپنا دفاع کرنے سے عاجز تھے، ہماری مزاحمت کیا کرتے۔ دھماکے سے پہلے ہم نے ویڈیو بنانے کی کوشش کی تو یاد آیا ہم تو نظر ہی نہیں آ رہے۔ اب ہم دنیا اور پاکستانی میڈیا کو ثبوت کے طور پر کیا دکھائیں گے۔ بہرحال یہ ایک سمسیا تھی۔ بلڈنگ تباہ کر کے ہر ممکن پھرتی اور تیزی سے ہم اسی راستے سے اپنے دیش باحفاظت لوٹ آئے۔ آج میں بہت خوش ہوں۔ پورے بھارت کو ہم پر اور خود پر فخر کرنا چاہیے۔ ہم نے واقعی آج گھس کر مارا ہے۔ جے ہند

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *