مذہب کی مبینہ جبری تبدیلی: نوعمر مسیحی لڑکی کی عمر کے تعین کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم

کراچی سے مبینہ طور پر اغوا کے بعد مبینہ مذہب تبدیلی کا شکار ہونے والی نوعمر مسیحی لڑکی نے سندھ ہائی کورٹ کے روبرو بیان دیا ہے کہ انھیں کسی نے اغوا نہیں کیا بلکہ انھوں نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کر کے مسلمان شخص سے نکاح کیا ہے۔

سندھ پولیس نے جب جمعرات کی صبح مبینہ طور پر اغوا ہونے والی مسیحی لڑکی کو سندھ ہائی کورٹ میں پیش کیا تو عدالت نے لڑکی کی عمر کے تعین کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم جاری کر دیا۔

یاد رہے کہ چند روز قبل لڑکی کے والدین نے دعویٰ کیا تھا کہ اُن کی بیٹی نابالغ ہے اور اسے مبینہ طور ایک 44 سالہ شخص ورغلا کر لے گیا تھا جس نے لڑکی کا مذہب جبری طور پر تبدیل کروا کر اس سے شادی کر لی ہے۔

مسیحی لڑکی کی جانب سے بیان ریکارڈ کروانے کے بعد عدالت نے لڑکی سے سوال کیا کہ ’کیا آپ کو کسی نے اغوا کیا ہے؟‘ جس پر لڑکی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ’اس نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے، اس کی عمر اٹھارہ سال ہے، اس کو کسی نے اغوا نہیں کیا اور کوئی زبردستی نہیں کی گئی اور اسے اپنے شوہر سے الگ نہ کیا جائے۔‘

عدالت نے لڑکی سے سوال کیا کہ ’جو دستاویزات پیش کی گئی ہیں ان کے مطابق آپ کی عمر کم ہے، لہذا آپ کی عمر کے تعین کے لیے میڈیکل بورڈ بنے گا۔‘

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو درخواست کی کہ لڑکی کا بیان ریکارڈ نہ کیا جائے جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ پہلے لڑکی کی عمر کا تعین ہونے دیں، بعد میں باقی معاملات دیکھیں گے۔

یاد رہے کہ عدالت نے گذشتہ پیشی پر سندھ حکومت کو لڑکی کو بازیاب کروا کر دارالامان بھیجنے کا حکم دیا تھا۔ جبکہ اس سے قبل تین نومبر کو صوبائی دارالحکومت کراچی کی ایک مقامی عدالت نے مسیحی لڑکی کے مبینہ اغوا میں ملوث ملزم کو اینٹی وائلنٹ کرائم سیل کی استدعا پر جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

لڑکی

گذشتہ سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے لڑکی کے والدین کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کیا اور شادی کی۔

مسیحی لڑکی کی جانب سے پانچ نومبر کو سندھ ہائیکورٹ میں اپنا بیان ریکارڈ کروانے سے قبل وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کی جانب سے فریق بننے کی درخواست دائر کی گئی، ان کی جانب سے بیریسٹر صلاح الدین عدالت میں پیش ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت کو پہلے خود چیک کرنا چاہیے کہ درخواست گزار کی اصل عمر کتنی ہے، لڑکی کا بیان کورٹ چیمبر میں ہونا چاہیے کیونکہ یہ ایک حساس معاملہ ہوتا ہے اکثر ایسے مقدمات میں دباؤ کا عنصر بھی ہوتا ہے۔

جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے لڑکی سے تین سوال کیے جن کا اُس نے جواب دیا ہے۔

عدالت نے عمر کے تعین کے لیے محکمہ داخلہ کے سیکریٹری کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا اور ہدایت کی آئندہ سماعت تک رپورٹ پیش کی جائے۔

عمر کے تعین تک درخواست گزار شیلٹر ہوم میں رہیں گی، کیس کی مزید سماعت 9 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔

ہائی کورٹ میں سماعت کے موقع پر مسیحی برادری کے کچھ افراد لڑکی کے والدین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جمع ہوئے تھے۔ انھوں نے لڑکی کو لے جانے والی پولیس وین کو گھیرے میں لے کر نعرے بازی بھی کی مگر پولیس نے ان افراد کو پیچھے ہٹاتے ہوئے لڑکی کو شیلٹر ہوم منتقل کر دیا۔

بیریسٹر صلاح الدین احمد نے بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے جو رپورٹ پیش کی ہے اور جو نادرا سرٹیفیکٹ ہے اس سے ثابت ہو چکا ہے کہ لڑکی کی عمر 13 سال ہے یہ معاملہ میڈیکل بورڈ میں جائے گا جس سے مزید تصدیق ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد قانونی نکات ہیں کہ آیا ایک 13 سال کی بچی اپنا مذہب تبدیل کر سکتی ہے یا نہیں، اس بچی کی شادی قانونی ہے کہ نہیں، جو شوہر اور نکاح خواں ہے اس وہ قانون کے زمرے میں آتے ہیں یا نہیں۔'

مذہب کی جبری تبدیلی

ہماری لڑکی نوعمر ہے، نادارا نے بھی تصدیق کر دی

لڑکی کی والدہ کے وکیل جبران ناصر نے عدالت کو گذشتہ پیشی پر بتایا تھا کہ نادرا کی جانب سے تصدیق کے بعد یہ ثابت ہوتا ہے کہ لڑکی نوعمر ہے۔

اُن کے مطابق میڈیکل بورڈ اس صورت میں ہوتا ہے جب نادرا سے تصدیق نہ ہو سکے لہٰذا میڈیکل بورڈ کی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے لڑکی کے ریپ کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا ڈی این اے کرایا جائے، اگر اس میں تاخیر ہوئی تو شواہد خراب ہو سکتے ہیں، عدالت نے اس کیس کی سماعت پانچ نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔

جبران ناصر کا کہنا تھا کہ میڈیکل بورڈ کے بجائے عدالت اس بات کا تعین کرے گی کہ لڑکی کی اصل عمر کیا ہے؟ کیا لڑکی کا جبری مذہب تبدیل کیا گیا ہے؟ اور کیا یہ شادی قانونی ہے یا غیرقانونی؟