بالی وڈ کے ستاروں والا بھارت

yasir pirzada

’’کتنی دلکش ہو تم، کتنا دل جُو ہوں میں .....کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے! ‘‘ جون ایلیا، 14دسمبر 1931تا 8نومبر 2002(دنیا کے اس سب سے آسان شعر کی تشریح کالم کی دُم میں ملاحظہ فرمائیں)۔
پہلی بات تو یہ نوٹ فرما لیں کہ یہ کالم سرجیکل اسٹرائیک کے بارے میں نہیں ہے، یہ کالم بھارت پاکستان کی فوجی طاقت اور اسے متعلق بھاری بھرکم اعداد و شمار کے بارے میں بھی نہیں ہے، اس کالم کے ذریعے میرا ارادہ آپ کو جنگ کے نتیجے میں ہونے والی اموات اور ایٹم بم چلنے کی صورت میں ہونے والی تباہ کاریوں سے ڈرانے کا بھی نہیں اور اس کالم کا مقصد یہ تو ہرگز نہیں کہ آپ مجھے دفاعی امور کا کوئی ایسا تجزیہ نگار سمجھ بیٹھیں جو surgical strike, insurgency, uprising, یا اس قسم کے دیگر الفاظ استعمال کرکے ٹی وی چینلز کو اس قدر متاثر کردے کہ اسے ہر دوسرے پروگرام میں بلایا جائے اور پھر ہر مرتبہ وہ کوئی نئی تھیوری پیش کرنے کے چکر میں پاک بھارت جنگ کا طبل بجا کر اٹھے مگر اسے یہ یقین ہو کہ کسی بھی قسم کی جنگ کی صورت میں اس کے گھر پر ایک چھرا بھی نہیں گرے گا کیونکہ جنگیں تو صحراؤں، بے آباد پہاڑوں اور بنجر میدانوں میں مشینی انسانوں کے ذریعے لڑی جاتی ہیں۔
اِس مختصر سی تمہید کے بعد اب مجھے اس کالم کی غرض و غایت بھی بیان کر دینی چاہئے۔ گزارش یہ ہے کہ کالم لکھنے پر مجھے بھارت کے فنکاروں نے مجبور کیا ہے۔ سارا سال ہم ان فنکاروں کی فلمیں دیکھتے ہیں، بھارتی گلوکاروں کے گانے سنتے ہیں، ہمارے ایف ایم ریڈیو پر موسیقی کے پروگراموں کی میزبان خواتین بھارتی اداکاروں کی جنم کنڈلیوں سے لے کر ان کے فلمی معاشقوں تک کے معاملات کے بارے میں ایسی تحقیقی گفتگو کرتی ہیں کہ اگر اسے ایک مقالے کی شکل دی جائے تو ایچ ای سی کے کسی منظور شدہ جرنل میں شائع ہوسکتا ہے۔ (نوٹ:یہ کالم بھارتی فلموں کے بائیکاٹ کے بارے میں بھی نہیں) سو ہمارے ان ’’محبوب ‘‘ فنکاروں نے بھارتی فوجی کارروائی پر جو ٹویٹس کی ہیں وہ قابل غور ہیں۔ شاہ رُخ خان نے دہشت گردی کے خلاف بھارتی فوج کی کارروائی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کی حفاظت کے لئے دعا گو ہیں۔ جس طرح شاہ رُخ نے بھارتی فوجیوں کی سلامتی کے بارے میں فکرمندی کا اظہار کیا ہے اسے دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ یہ کہنا چاہ رہے ہوں کہ بھارتی فوج کو سیکورٹی خدشات کی بنا پر پاکستان جانے سے انکار کر دینا چاہئے تھا !تاہم شاہ رُخ خان کو اس ضمن میں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ بھارتی فوجیوں نے سرحد پار کرنے کا سیکورٹی رسک نہیں لیا جس کا ثبوت وہ فوجی ہے جو پاکستان نے پکڑ لیا ہے جس کے بارے میں بھارت نے باقاعدہ سرکاری طور پر پاکستان سے درخواست کی ہے کہ براہ مہربانی اسے رائج SoPsکے مطابق واپس کر دیا جائے کیونکہ یہ غلطی سے اپنے اسلحے سمیت سرحد پار کرکے نکل گیا تھا، یہ سرجیکل اسٹرائیک کرنے نہیں آیا تھا۔ اِس سے بڑا سفارتی لطیفہ شاید کوئی نہیں ہو سکتا، تاہم جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا کہ میرا موضوع سرجیکل اسٹرائیک نہیں سو اسے یہیں چھوڑتے ہیں اور عدنان سمیع خان کی ٹویٹ پڑھتے ہیں جس میں انہوں تازہ تازہ ملنے والی بھارتی شہریت کا حق ادا کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم اور اپنی بہادر فوج کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنے پر مبارکباد دی ہے۔ عدنان سمیع کا مسئلہ سمجھنا آسان ہے، وہ پاکستانی شہری تھے، پیدائشی مسلمان بھی تھے اور چاہے وہ شاہ رخ کی طرح اپنے گھر میں مورتیاں سجا کر اپنے بچو ں کے ساتھ پوجا ہی کیوں نہ شروع کر دیں انہیں مسلمان ہی سمجھا جائے گا سو بھارت میں کسی پیدائشی پاکستانی مسلمان کی حیثیت سے رہنا کوئی آسان کام نہیں، اگر کسی کو اس بات میں شبہ ہو تو وہ ممبئی جیسے کسی شہر میں مسلمان کی حیثیت سے کرائے کا مکان حاصل کرنے کی کوشش کرے، اوقات یاد دلا دی جائے گی ..... اوہ..... شاید میں پھر موضوع سے پھسل رہا ہوں۔۔۔ اس بات کو یہیں چھوڑتے ہیں اور انوپم کھیر جیسے مہان اداکار کے ایک بیان کو دیکھتے ہیں جس میں موصوف نے فرمایا ہے کہ پاکستانی اداکاروں کے لئے لازم ہے کہ وہ اوڑی میں بھارتی فوج پر ہونے والے حملے کی مذمت کریں، اُن کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں کچھ بہترین لوگ ہیں جو بہت اچھے میزبان ہیں مگر جب بات میرے ملک کی اور میرے جوانوں کی ہو تو میں ڈپلومیسی سے کام نہیں لے سکتا، اپنے ملک کے معاملے میں متعصب ہوں ! جی بہت بہتر انوپم کھیر صاحب، مگر آپ کے بیان میں دو تضادات ہیں، پہلی بات تو یہ ہے کہ اوڑی حملے میں بھارتی فوجی مارے گئے، آپ بھارتی شہری ہیں لہٰذا آپ سمیت شاہ رخ خان وغیرہ اُس کی مذمت بھی فرما رہے اور یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہم اپنے ملک اور فوج کے بارے میں متعصب ہیں مگر اسی سانس میں آپ کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ ایک دوسرا ملک جسے پورا بھارت اپنا دشمن سمجھتا ہے اُس کے اداکار بھارتی فوج پر ہونے والے حملے کی لازماًمذمت کریں، گویا انہیں آپ ’’متعصب‘‘ ہونے کا وہ حق دینے کو تیار نہیں جس کو آپ خود نہایت فخر سے استعمال کر رہے، یہاں آپ کی ڈیمانڈ ہے کہ پاکستانی اداکار اپنے ملک سے وفاداری اپنے افواج سے محبت سب بھول بھال کر بھارتی افواج کی موت پر مرثیہ پڑھنا شروع کردیں، واہ مہاراج ! اور دوسری بات کشمیر پر آپ کی مجرمانہ خاموشی، آپ کی فوج کشمیر میں جو ظلم ڈھا رہی ہے اُس بار ے میں آپ کی زبان گنگ ہے..... اوہ..... اچھا، آپ نے تو خود فرما دیا کہ بھارتی فوج کے بارے میں آپ متعصب ہیں سو بھارتی فوج کشمیر میں جتنے چاہے ظلم ڈھائے وہ سب جائز ہے، ویسے بھی کشمیری بھارتی شہری نہیں، کیونکہ اگر کشمیری بھارتی شہری ہوتے تو آپ جیسے مہان اداکار اپنے ملک کے شہریوں پر ہونے والے مظالم پر خاموش نہ رہتے۔ میں ٹھیک کہہ رہا ہوں نا مہاراج؟
ایسا بھی نہیں کہ تمام بھارتی اداکار انوپم کھیر کی طرح سوچتے ہوں، جنگی جنون کے اس ماحول میں سلمان خان، کرن جوہر اور خاص طور سے سونو نگم (جس کی آواز مجھے بالکل پسند نہیں، نام رونو نگم ہونا چاہئے ) نے کسی قدر مثبت بیانات دئیے ہیں۔ لیکن ہمیں بھارتیوں کا منہ دیکھنے کی بجائے اپنے حصے کے کام کرنے چاہئیں۔ مثلاً پاکستانی اداکاروں کو ایک فیصلہ تو یہ کرنا ہوگا کہ اگر انہیں بھارت میں کام کرنا ہےتو سر اٹھا کر، اپنی پاکستانی شناخت کے ساتھ بغیر کسی عذر خواہی کے کرنا ہوگا۔ دوسرا کام ہم یہ کر سکتے ہیں کہ اپنے لوگوں کو بھارتی ڈراموں کے چینلز دکھانے کی بجائے بھارتی نیوز چینلز دکھائیں تاکہ ہمیں اندازہ ہو کہ جس ملک کی فلمیں ہم اتنے شوق سے دیکھتے ہیں اصل میں وہ ہمارے بارے میں کس قدر نفرت رکھتے ہیں !سو، روزانہ این ڈی ٹی وی اور زی ٹی وی کا ایک ایک پاکستان مخالف ٹاک شو پاکستانی چینلز پر نشر کیا جانا چاہئے تاکہ ہماری نئی نسل جو بھارتی فلموں کے سائے تلے جوان ہو رہی ہے ذرا اصل بھارتی چہرہ بھی دیکھ لے۔ بہت سال پہلے زی ٹی وی سے ایک پروگرام نشر ہوتا تھا’’آپ کی عدالت‘‘ جس کے میزبان رجت شرما تھے، اس پروگرام میں ایک دفعہ سید علی گیلانی کا انٹرویو نشر ہوا، مقصد تو اس انٹرویو کا یہ تھا کشمیر کی جدوجہد کو دہشت گردی ثابت کیا جائے مگر علی گیلانی نے اس انٹرویو میں بھارتی بیانئے کی دھجیاں اڑا دیں، کیا ہی اچھا ہو اگر یہ انٹرویو تمام پاکستانی چینلز پر نشر کیا جائے، کشمیر کا مقدمہ اس سے بہتر انداز میں نہیں لڑا جا سکتا تھا جیسے علی گیلانی نے اس انٹرویو میں لڑا۔ یہ چھوٹے چھوٹے کام تو ہم کر ہی سکتے ہیں !
کالم کی دُم : شروع میں بیان کئے گئے شعر میں شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ اگر جنگ ہوگئی تو وقت سے پہلے مرجائیں گے اور اگر ایٹمی جنگ ہوئی تو موت اور بھی اذیت ناک ہوگی، سو ہر صورت میں ہمارے پاس وقت بہت کم ہے۔باقی تشریح آپ خود کرلیں!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *