نفرت کی دنیا میں رہنے کا نقصان

Image result for india and pakistan war

پاکستان اور بھارت میں بسنے والے سابقہ ادوار کے لوگوں کو دیکھیں  اور ان دونوں ملکوں کی حکومتوں اور میڈیا کے بیچ آجکل ہونے والی الفاظ کی جنگ دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے  کہ  آپسی محبت اور سمجھ   جس کادونوں ممالک کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ملتے وقت مظاہرہ کرتے تھے اس کا معیار بہت بدل چکا ہے۔ تین جنگیں بھی دونوں ملکوں کے لوگوں کے بیچ کی عزت اور احترام کو ختم نہیں کر پائیں تھیں۔ 1965 میں ہونے والی ایک مکمل جنگ میں بھی ڈپلومیٹک ریلیشن پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا۔ ٹینک آپس میں ٹکرائے لیکن فوجیوں نے آپس کی عزت اور احترام کو ٹھیس نہیں پہنچنے دی  اور دشمن فوجیوں کو انسان سمجھ کر ہی ان سے اچھا برتاو کیا۔ پاکستان ائیر فورس کے چیف ائر مارشل نور خان چاہتے تھے کہ ان کے فوجی کامیاب لوٹیں اور اس کے باوجود انہوں نے بھارتی ائیر چیف سے رابطہ کر کے طے کیا تھا کہ ایک دوسرے کی صنعتی اور سولین اثاثے کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔

 پاک بھارت فوجیوں کا یہ رویہ 71 کی جنگ میں بھی نہیں بدلا اور ہتھیار ڈالنے کے بعد بھی ایک بھارتی فوجی نے پاکستانی فوجی کو تلاش کیا، اسے اپنے ٹینٹ میں لے گیا، پانی پلایا اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تم نے کیا کر دیا۔ آجکل پاکستانی شاعت، ایکٹر ، کھلاڑی  اور دوسرے شعبے کے لوگوں کو بھارتی گینگ تلاش کرتے پھر رہے ہیں۔ کیا ہم وہ محبت، خلوص جو پاکستانی شعرا کو ہندوستان کے سیاسی، معاشرتی  اورتجارتی سطح پر ملا جب وہ دہلی مشاعرہ میں  شرکت کرنے جاتے تھے  وہ بھلا سکتے ہیں؟  اور یہ عزت اور احترام تقسیم کے صرف چند سال بعد بھی ملا کرتا تھا جب وہ تقسیم کے تکلیف دہ عمل سے گزرے ابھی کچھ سال ہی گزار پائے تھے۔ نصرت فتح علی خان کو بھارت کے عوام کس قدر پسند کرتے تھے؟ تامل ناڈو کے پنڈتوں نے روشن آرا بیگم کو سرسوتی کا خطاب دے کر کتنی عزت دی تھی۔

ابھی کچھ سال قبل عابدہ پروین نے اپنی پرفارمنس سے بھارتی شہریوں سے کتنی داد وصول کی تھی؟  سپورٹس کے حوالے سے دیکھا جائے تو راجا غضنفر علی نے بھارت اور پاکستان کی حکومتوں کو 50 کی دہائی کے بیچ میں دونوں ملکوں کی عوام کو امرتسر میں  آپسی میچ دیکھنے کا موقع دینے پر آمادہ کیا۔ بہت سے لاہوری صحافیوں نے بھی بھارتی پنجاب میں سکھوں کی مہمانوازی دیکھی ۔ 1992 کے ورلڈ کپ فائنل میں بہت سے بھارتی شہریوں نے پاکستان کا ساتھ دیا اور گراونڈ میں جا کر کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھایا۔ 1996 کے فائنل میچ میں پاکستانی تماشائیوں نے سری لنکا کا ساتھ دیا۔ آج کل ایک بھارتی شہری کو پاکستان کی کامیابی کا جشن منانے پر سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ایک پاکستانی شہری کو کوہلی کی تعریف پر جیل جانا پڑتا ہے۔ یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی ہے۔ اس کے لیے سٹیٹ ایجنسیوں نے بہت محنت سے ایک لمبا عرصہ کام کیا ہے ۔ کشمیر پر پہلی جنگ ختم ہونے سے قبل ہی پاکستان اور بھارت کے اخبار کے ایڈیٹروں نے آپس میں دوستی کی بنیاد رکھ دی تھی۔

1971 کی جنگ کے بعد جنرلسٹ بھاگ کر پاکستان آئے کہ دیکھ سکیں کہ نیا پاکستان کیسا ہے۔ دلیپ مکھرجی، نہال سنگھ، راجندر سرین، پران چوپڑا جیسے لوگ پاکستان تشریف لائے۔

ان کی حب الوطنی نے پاکستان سے دوستی کرنے سے انہیں نہیں روکا۔ اس کے بعد شیام لال، بی جی ورگیسی، کلدیپ نیئر، شیخر گپتا،بردواج اور برکھا دت  نے بھی اپنے پاکستان ہم منصب لوگوں سے ملاقات کی۔ جب بھارتی جنتا پارٹی نے کانگریس پر برتری حاصل کرنا شروع کی تو بہت سے پاکستانی  صحافی واجپائی، ایڈوانی اور جسونت سنگھ سےملنے گئے تا کہ یہ دیکھ سکیں کہ بھارت میں کس نوعیت کی تبدیلی متوقع ہے۔ ان آپسی ملاقاتوں کے ذریعے غیر حکومتی سطح پر دونوں ممالک میں امن کی کوشش جاری رہی۔ امن کے پجاری 1994 میں لاہور میں بھی اکٹھے ہوئے اور بہت سے معاملات پر اتفاق رائے قائم کیا، ایسے معاملات جن پر آج حکومتیں ایک دوسرے کو تباہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ بھی یاد رکھنے والی بات ہے کہ دونوں ملکوں کے بیچ مسلسل مذاکرات کا مطالبہ بھی علاقائی صحافیوں کی طرف سے آیا تھا۔

میڈیا جنگوازم

سوال یہ ہے کہ کیا غلط ہو گیا؟  دونوں ملکوں میں  ایکس کلوژن کی سیاست بہت اہم فیکٹر بن چکی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا نے کارگل کی لڑائی کو دونوںملکوں کے گھروں تک پہنچا کر بہت بڑی غلطی کی ہے۔ میڈیا نے قومیت اور انسانیت کا فرق مٹا دیا۔ اس وقت سے آج تک میڈیا نے ہر دوسرے ملک کی عوام اور تاریخ کا احترام فراموش کر دیا۔ اب میڈیا دونوں ملکوں کی فوجی طاقتوں کو ماپنے میں مصروف ہے اور ملک کے عوام کی بنیادی ضروریات جن میں کپڑے،  تعلیم اور دوسری بنیادی ضروریات کو سامنے لانے سے قاصر ہے۔ امریکہ نے پاکستان اور بھارت کو تحمل برتنے کی جو اپیل کی ہے وہ 1966 کے معاہدہ تاشقند کی یاد دہانی ہے  جس میں لیاقت نہرو معاہدہ بھی شامل ہے۔ بدقسمتی سے دونوں ممالک اس معاہدے کے عین خلاف چل رہے ہیں۔ وقت آن پہنچا ہے کہ بھارت اور پاکستان کا میڈیا اپنے فرائض میں کوتاہی برتنے کی بجائے  ایک دوسرے کے زخموں پر مرہم رکھنے کا طریقہ اپنائے اور لفظی جنگ کے خاتمے میں کردار ادا کرے۔

دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی اختلافات بڑھانے کے لیے نفرت انگیز گفتگو نشر کرنے کے نتائج تو سب کے سامنے آ ہی چکے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ حقائق سے دور غیر ذمہ دارانہ مواد دکھا کر پراپیگنڈہ کرنا ہے۔ میڈیا پر جو بھی پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے عوام سے بائبل کی بات سمجھ کر سچ مان لیتے ہیں جس سے دونوں ممالک کی سیاسی جماعت اور عوام کے درمیان اختلافات بڑھتے ہیں۔ جنگ عظیم دوم میں میڈیا کا منفی کارنامہ کا نتیجہ ہم دیکھ ہی چکے ہیں۔ ایک طاقت نے دوسری طاقت کے فوجیوں کو چوہے کا خطاب دیا اور اپنی جنگ کو مقدس قرار دیا اور دنیا کو تباہی سے بچانے کا واحد ذریعہ ایٹمی دھماکہ مانا گیا۔ جب ویت نام کے لوگوں کو ویت کانگ کا نام دیا گیا تو وہ انسانیت بھول گئے اور جب الجیریا کے فریڈم فائٹرز کو مسلمان دہشت گرد سمجھا گیا تو  وہ یورپی عوام کی نظر میں اپنا وقار کھو بیٹھے۔

دنیا نے دو مخالف پارٹیوں کے وقار کو  برقرار رکھنا سیکھ لیا ہے۔ سرد جنگ کے دوران رونلڈ ریگن نے  سوویت سسٹم کو شیطانی قرار دیا لیکن سوویت کے شہریوں کے بارے میں رائے قائم کرنے سے گریز کیا۔ آج کل پاکستانی اور بھارتی صحافی  دوسرے ملک کے صحافیوں اور عوام کو ڈیمنائز کرنے پر تلے ہیں۔ وہ صرف پالیسی کو تنقید کا نشانہ نہیں بنا رہے بلکہ ہر دوسرے ملک کے عوام اور حکمرانوں کو گالی دینے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ نفرت انگیز مواد کے ذریعے پھیلنے والے شیطانی اثرات کا ادراک نہیں کیا جا رہا۔ اس طرح کی حرکات دشمن سے زیادہ ناقدین کی بدنامی کا باعث بنتی ہیں۔ نفرت انگیز تقاریر سے سامنے والے لوگ بوکھلا کر کوئی بھی حرکت کر گزرتے ہیں جو کسی بھی ملک کے حکمرانوں ہی نہیں بلکہ عوام کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل پاک و ہندکے عوام کو حکمران اکساتے تھے لیکن اب یہ کام میڈیا نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اور بہت نفرت اور عدم برداشت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے ۔ یہ صورتحال اس قدر بگڑ چکی ہے کہ حکمرانوں کو حالات میں بہتری لانے کا موقع بھی نہیں دیا جا رہا۔ اس سے برا سلوک پاکستان اور ہندوستان کے لوگوں کے ساتھ اور کیا ہو سکتا ہے۔ ماڈرن ریاستیں عوامی رائے کے حوالے سے کم سے کم  متفق نظر آتی ہیں۔ صرف میڈیا  یہ طے نہیں کر سکتا کہ حکمرانوں کو کیا اقدامات کرنے چاہییں۔ لیکن اگر  میڈیا اپنا کردار مکمل طور پر بھول جائے تو دنیا کے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *