جمہوریت اور قانون کی حکمرانی

ڈاکٹر اکرام الحقIkram

اس وقت ملک میں جمہوریت، آئین اور قانون کی حکمرانی پر زوروشور سے بحث جاری ہے۔ حکومت اور اپوزیشن مل کر پی ٹی آئی اور پاکستانی عوامی تحریک کے دہرے حملے کا مقابلہ کرنے کی کوشش میں ہیں جبکہ ’’حملہ آور‘‘ قوتوں کا الزام ہے کہ حکمران اور باریاں لینے والی اپوزیشن، دونوں قومی دولت کو لوٹتے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وہ پارلیمنٹ اور آئین کا تحفظ کررہے ہیں جبکہ عمران اور ڈاکٹر قادری ان پرآئین اور قانون کی پامالی کا الزام لگار ہے ہیں۔ اس وقت ہماری سیاست انہی الزامات کے گرداب میں ہے۔
پی ٹی آئی اورپاکستان عوامی تحریک کا دعویٰ ہے کہ زیادہ تر اراکینِ پارلیمنٹ ٹیکس چور ہیں جبکہ پی ایم ایل (ن) کے میڈیا مین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے 82 فیصد ارکانِ پارلیمنٹ، بشمول عمران خان، ٹیکس نادہندہ ہیں۔ ایف بی آر ، جس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان الزامات کی تصدیق یا تردید کرے اور ٹیکس چوروں کے خلاف ضابطے کی کارروائی عمل میں لائے، سکوت کا مظہر ہے۔ ریاستی اداروں کو سیاست کی بھینٹ چڑھانے کی وجہ سے آئین اور قانون کا نفاذ ناممکن ہوچکا ہے کیونکہ سرکاری افسران ریاستی فرائض سرانجام دینے کی بجائے اپنے سیاسی آقاؤں کی خدمت بجالاتے ہیں۔ چنانچہ یہ حیران کی بات نہیں کہ جمہوریت پاکستان میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ قانون کی حکمرانی کے بغیر جمہوریت کا تصور مہمل ہے۔ دنیا کا کوئی ملک بھی جمہوریت کا دعویٰ نہیں کرسکتا اگر وہاں قانون کی حکمرانی نہ ہو۔ پاکستان میں کئی عشروں سے ایسا ہی ہورہا ہے۔
چیئرمین ایف بی آر نے حال ہی میں تسلیم کیاتھا کہ کئی لاکھ افراد، جن پر ٹیکس ادا کرنا لازم ہے، ٹیکس کے نیٹ سے باہر ہیں۔ اُنھوں نے اعتراف کیا کہ بچیس لاکھ پرچون فروشوں میں سے صرف اٹھ ہزار سیلز ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یکے بعد دیگر قائم ہونے والی ہماری مختلف حکومتیں غریب عوام پر بھاری ٹیکس عائد کرکے دولت مند اور با اثر افراد کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔ ٹیکس دھندگان کی رقم عیش وعشرت میں استعمال کی جاتی ہے۔ شہری اس بات پر سخت نالاں ہیں کہ حکومت اپنے اخراجات کم کرنے اور دولت مند افراد کوٹیکس کے دائرے میں لانے کی بجائے ان پر مزید ٹیکسز کا بوجھ لادتی جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے معاشرے میں بے چینی اور افراتفری بڑھ رہی ہے۔
قہریہ ہے کہ بھاری ٹیکسز عائد کرنے کے باوجود اندرونی اور بیرونی قرضہ جات کے مسائل اپنی جگہ پر موجود ہیں۔ مہنگائی اور افراطِ زر سے غریب آدمی کی قوتِ خرید دم توڑرہی ہے۔
درحقیقت ہمیں ٹیکس کے نظام موجودہ نظام کو مکمل طور پر بدلنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈولپمنٹ اکنامکس(PIDE) کے سابق وائس چانسلر اور پلاننگ کمیشن کے سابق ڈپٹی چیئرمین ندیم الحق لکھتے ہیں...’’ریاست پر لازم ہے کہ وہ پہلے سماجی سہولیات، جیسا کہ قانون کی حکمرانی اور جان ومال کا تحفظ فراہم کرے۔ یہ طاقت ور افراد کو دولت کا ڈھیرلگانے سے روکے۔ بااثر افرادعام طور پر ان ذرائع سے مال کماتے ہیں...ریاست کی طرف سے دی جانے والی امدادی قیمت، لائسنس اور ریگولیشن، افسران کو عطا کردہ خصوصی مراعات، سرکاری اور فوجی افسران میں زمین کی تقسیم(یہ زمین غریب آدمی سے حاصل کی جاتی ہے)‘‘
انصاف کی فراہمی کی منزل حاصل کرنے کے لیے لازم ہے کہ حکومت طاقت ور افراد پر بھاری ٹیکس عائد کرے اور سماجی اور معاشی ہمواری پیداکرنے کے لیے معاشی ترقی کے پروگرام شروع کرے۔ عوام کو صحت، تعلیم اور ھاؤسنگ کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی مہربانی نہیں، بنیادی فرض ہے۔ جب ٹیکس کی ادائیگی کے فوائد واضح ہونا شروع ہوجائیں گے تو لوگ خود بخود ٹیکس ادا کرنے پر راضی ہو جائیں گے۔ حقائق پر نظر دوڑانے سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ تمام ترسختی کے باوجود ایف بی آر ٹیکس جی ڈی پی کے مطابق ٹیکس نافذ کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ اس کی شرح میں 2013-14 میں کم ہوکر 8.2 فیصد رہ گیا جبکہ 2007-08 میں یہ 9.2 فیصد تھا۔ اگرچہ 2013-14 میں 2266 ارب روپے ٹیکس حاصل کیا گیا لیکن مالی خسارہ 1800 ارب روپے تھا۔ ا س سے پہلے 2009-10 کے مالی سال کے دوران 1328 ارب روپے کے محصولات اکھٹے کیے گئے لیکن اُس وقت خسارہ صرف 777 ارب روپے تھا۔ اب ہمارا کل قرضہ جی ڈی پی کا ستر فیصد ہے جبکہ قرضے اور سود کی قسط کی واپسی میں کل محصولات کا 79 فیصد صرف ہوجاتا ہے۔
اس عالم میں ہمارے رہنما جمہوریت کے گن گارہے ہیں جبکہ غریب افراد کے مصائب، ٹیکس چوروں کی چاندی اوار سرکاری وسائل کی لوٹ کھسوٹ بلاروک ٹوک جاری ہے۔ ستم یہ ہے کہ یہ سب کچھ جمہوریت کا لبادہ اُڑھ کرکیا جارہا ہے۔ اشرافیہ طبقہ غریب افراد کے ٹیکس کی رقم پر پل کر مزید طاقت ور ہوتا جارہا ہے۔ دولت کے بل بوتے پر وہ حکمرانی قائم کرلیتے ہیں۔چونکہ بااثر افراد اپنے واجب محصولات ادا نہیں کرتے ، اس لیے حکومت کا خزانہ خالی رہتا ہے۔ اس کے علاوہ غیر پیداواری اخراجات پر بھی بھاری رقم ضائع کردی جاتی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن، دونوں سے تعلق رکھنے والے اہم سیاست دانوں کے اربوں ڈالر کے اثاثے بیرونِ ملک ہیں۔ وہ پاکستان میں ٹیکس ادا کرکے قوم پر احسان کرتے ہیں، وہ ان کے کل اثاثوں کے مقابلے میں مونگ پھلی کے چھلکے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔
چیئرمین ایف بی آر کا کہنا ہے کہ اگر جی ڈی پی کا سولا فیصد ٹیکس ہو تو مزید قرضے لینے کی حاجت نہیں رہے گی۔ اسے مناسب فیصلوں سے پچیس فیصد تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ کیا چیئرمین موصوف قوم کو بتانا پسند کریں گے کہ سیاست دانوں کو مزید کتنی مہنگی گاڑیوں اور پرتعیش رہائش گاہوں کی ضرورت ہے؟کیا وہ یہ بتانا پسند کریں گے کتنے ڈاکٹر اور وکیل، جو ہوش ربا فیس وصول کرتے ہیں، اپنی دولت کے مطابق درست ٹیکس ادا کرتے ہیں؟ایف بی آر ان ٹیکس چوروں کو قومی مجرم قرار دے کر ان سے آہنی ہاتھوں سے ٹیکس وصول کیوں نہیں کرتا؟ یادر رکھیں، ہماری جمہوریت کا دارومدار کسی دھرنے پر نہیں بلکہ اس حقیقت پر ہے کہ ایف بی آر دولت مند افراد سے ٹیکس وصول کرے تاکہ ریاست کے پاس اتنے وسائل ہوں کہ وہ عام آدمی کو بنیادی سہولیات فراہم کرسکے۔
ٹیکس کی حاصل کردہ رقم بڑھانے کے لیے سنگل سٹیج سیلز ٹیکس کو سولا فیصد کردیا جائے۔ اس سے غریب افراد کو فائدہ پہنچے گا ۔ ہر قسم کی ٹیکس کی چھوٹ ختم کردی جائے۔ ٹیکس ادانہ کرنے والوں کی جائیداد ضببط کرلی جائے اور اس سلسلے میں کوئی سیاسی مصلحت آڑھے نہ آنے دی جائے۔ اس وقت ملک میں 130 ملین موبائل فون صارفین ہیں۔ ان میں سے بیس لاکھ صارفین بھاری بل ادا کرتے ہیں۔ ان تک رسائی حاصل کرتے ہوئے ایف بی آر اضافی چھے ٹریلین روپے حاصل کرسکتا ہے۔ اگر ایسا ہوجائے تو اندرونی اور بیرونی قرضوں کا بوجھ کم ہوجائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ریاست ٹیکس وصول کرنے کے لیے اپنی عملداری کا احساس دلاتی ہے یا پھر سیاسی مصلحتوں کا شکارہوجاتی ہے۔ اگر ملک میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط کرنی ہیں تو قانون پر عمل درآمد ضروری ہے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *