ہمارے انوکھے لاڈلے

عرفان حسینIrfan Hussain

دشوار ہے کہ آپ کسی پاکستانی وی آئی پی کو ایک میل دور سے دیکھیں اور پہچان نہ پائیں۔غیر متبدل علامتیں، عالمِ ظہور میں بے بدل ، سراپا، چال، ڈھال سب رعونت میں ڈھلے ہوئے۔ سرکا بوجھ سخت اور اکڑی ہوئی گردن پر، اور سرد مہری سے لبریز نگاہوں کا زاویہ سطحِ غربت سے بلند تاکہ اپنے ارد گرد بکھری غربت دکھائی نہ دے، کان بند تاوقتیکہ خوشامد گفتار کے سانچے میں نہ ڈھلے، مصاحب بریف کیس سنبھالے صاحب کے پیچھے ،صاحب کاچہرہ تیوری اور تکبر کی اوٹ میں ۔ چاہے وہ سینئر سرکاری افسر ہو، سیاست دان ہو، فوجی افسر ، جاگیر دار یا کوئی صنعت کارہو،ان کا یہ ٹریڈ مارک رویہ انہیں عام انسانوں سے جدا کرتا ہے۔ اگر کوئی بھی ان سے سوال کرنے کی جسارت کرے تو پررعونت لہجے میں جواب...’’تم جانتے نہیں میں کون ہوں؟‘‘
پی آئی اے کی ایک پرواز کو مبینہ طور دیر کرانے کے بعدجب رحمان ملک سوار ہونے کے لیے آئے تو جہاز نے پرواز کیا کرنی تھی، ملک صاحب کے ستارے گردش میں آگئے۔ تاخیر کا کرب برداشت کرتے کرتے مسافروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا، چنانچہ اُنھوں نے مسٹر سینٹر کو جہاز میں سوار ہونے کی اجازت نہ دی۔ ہمارے ہاں اشرافیہ کے ناز نخروں کا کیاٹھکانا لیکن جب یہ افراد مہذب دنیا، جیسا کہ لندن، نیویارک یا دوبئی میں ہوتے ہیں تو جانتے ہیں کہ ان کی رعونت پاکستان کی سرحد کے باہر دھاڑ تو کجا سانس بھی نہیں لے سکتی۔ ضیا ء دور میں تین پاکستانی بریگیڈئیرز کی کہانی سامنے آئی تھی ۔ وہ تینوں نیویارک میں پی کر سڑک پر آگئے ۔ جب ایک پولیس مین نے اُنہیں روکا تو اُنھوں نے اُسے حسب معمول دھمکی دی کہ وہ اس گستاخی کی رپورٹ پنٹاگان میں کردیں گے۔ اس پر فوراً ہی اُنہیں حکم دیا گیا کہ وہ اپنے بازو اور ٹانگیں پھیلا کر دیوار کی طرف منہ کرلیں۔ پھر اُن کی جامہ تلاشی لی گئی اور رات بھر کے لیے لاک اپ میں بند کردیا گیا۔
یہ ہے وہ انقلاب جس کی پاکستان شدت سے راہ دیکھ رہا ہے۔ ہم نے استحقاق زدہ افراد کو قوانین کی خلاف ورزی کرنے اور اہم روابط رکھنے والے افراد کو ریاست کے وسائل پر ہاتھ صاف کرنے سے روکنا ہے۔سب سے بڑھ کر یہ کہ بااثر افراد کو ہرگزاجازت نہیں دینی کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لیں۔آج کل عمران خان انقلاب اور آزادی کے نام پر یہی کچھ کررہے ہیں۔ اُنھوں نے اسلام آباد پولیس کو مجبور کیا کہ وہ ان کے گرفتار شدہ کارکنوں کو رہا کرے۔ درحقیقت وہ اور طاہر القادری کئی ہفتوں سے بہت سے قوانین کی کھلی خلاف ورزی کررہے ہیں لیکن قانون ان سے کوئی باز پرس کرتا دکھائی نہیں دیتا۔ قہر یہ ہے کہ ان دونوں افرادکے دوسرے گھر دنیا کے وہ ممالک ہیں جو انتہائی جمہوری ، قانون پسند اور پرامن ہیں۔ عمران خان نے کئی سال انگلینڈ میں بسرکیے ہیں۔ ان کے بیٹے وہیں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ اگرچہ اختلافِ رائے اور احتجاج برطانوی سیاست کا ایک حصہ ہیں لیکن وہاں تشدد، قانون شکنی اور اشتعال انگیزی ناقابلِ برداشت ہیں۔ یہ درست ہے کہ عمران خان کو ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ پر احتجاج کرتے ہوئے دل کا غبار نکالنے کی اجازت ہے لیکن وہ وہاں دھرنا دینا تو کجا ٹریفک تک نہیں روک سکتے۔اگر وہاں اپنے گرفتار شدہ کارکنوں کو رہاکرانے کے لیے پی ٹی آئی کے چیف نے پولیس کے امور میں مداخلت کرنے کی کوشش کی تو اُنہیں اس برق رفتاری سے حوالات میں بند کردیا جائے کہ اُن کا سر گھوم جائے گا کہ یہ کیا ہوگیا۔
طاہرالقادری نے جس ملک میں رہائش اختیار کرنے کو ترجیح دی وہ کینیڈ ا ہے اور یہ وہ ملک ہے جو شائستگی اور اختلاف رائے کو برداشت کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ گلیوں میں چلنے والے اجنبی افراد بھی ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر شائستگی سے مسکراہٹ کا تبادلہ کرتے ہیں۔ بندہ بشر ہے ، اس پر اطراف کے رویے کا اثر ہوہی جاتا ہے لیکن جب ہم قادری صاحب کا ہرآن غصے سے آگ بگولہ چہرہ دیکھتے ہیں اور ان کی دھمکی آمیز تقریریں سنتے ہیں تو یہ تاثر گہرا ہوجاتاہے کہ اُنھوں نے اُس شائستہ اور امن پسند معاشرے سے کچھ نہیں سیکھا۔ اگر وہ وہاں اپنے پیروکاروں کو پولیس والوں پر حملے کرنے، سرکاری عمارتوں پر چڑھائی اور قبضہ کرنے ، کرنسی نوٹوں کو مسخ کرنے اور تختہ الٹنے پر اکساتے تووہ اب تک اپنے آرام دہ ائیر کنڈیشنڈ کنٹینر کی بجائے کینیڈا کی جیل میں ہوتے۔ وہاں کا قانون ہر گزنہ دیکھتا کہ اُنھوں نے ایک ہزار کتابیں تحریر کی ہیںیا دس ہزار۔ اس کے علاوہ کوئی مہذب شہر پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کو اس طرح ہفتوں تک عوامی مقامات پر گندگی پھیلانے کی اجازت نہ دیتا۔
اس پر ان دونوں کزن جماعتوں کے کارکن کہیں گے کہ برطانیہ اور کینیڈا میں انتخابات دھاندلی بھی تو نہیں ہوتی،اس لیے وہاں حکومت کے خلاف احتجاج کرنے اور اُس کی رٹ کو چیلنج کرنے بھی کوئی ضرورت پیش نہیں آتی۔ درست، لیکن زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب انگلینڈ میں انتخابات تقریباً فکس ہوتے تھے۔ وہاں بہت سے حلقوں، جن میں دھاندلی عام ہوتی تھی ، کے لیے rotten borough کی اصطلاح استعمال کی جاتی تھی۔ بہرحال، جو بھی وجہ ہو، پرتشدد احتجاج کی کسی بھی جمہوری معاشرے میں اجازت نہیں ۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق طاہرالقادری کے کارکنوں کو اسلام آباد میں دھرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ اُن کے شناختی کارڈ ضبط کرکے اُنہیں چند سو روپے یومیہ اجرت دی جاتی ہے۔ اس کے عوض وہ دھرنے میں بیٹھنے کے لیے مجبور ہیں۔ اس دوران طلبہ کی کلاسوں کا حرج ہورہا ہے جبکہ اسلام آباد کے شہری بھی ذہنی کرب کا شکار ہیں۔
اس دوران ٹی وی چینل بہت خوش ہیں کہ چوبیس گھنٹے ریٹنگ بڑھانے کے لیے ان کے پا س بنابنایا کھیل موجود ہے۔ اس جلتی پر تیل گراکر اپنی چاندی کرتے ہیں۔ اس دوران دفاعی اداروں کا بہت ہی عجیب رویہ رہا ہے۔ عدالتوں نے بھی حکومت کو ہدایت نہیں کی کہ وہ اس افراتفری کو ختم کرائیں۔ اس تمام معاملے نے حکومت کو مزید کمزور کردیا ہے۔ نواز شریف ایک جاندار اور قوتِ فیصلہ رکھنے والے وزیرِ اعظم کی شہرت نہیں رکھتے لیکن اب ان کی مثل سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے ایک خرگوش کی مانند ہے جو اپنی طرف آنے والی تیز رفتار کار کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلیتا ہے۔ تاہم ان میں جو بھی خامیاں ہوں، ان کے پاس مینڈیٹ ہے کہ 2018 تک حکومت کریں۔ اگر وہ دباؤ میں آکر اب تازہ انتخابات کا اعلان کردیتے ہیں تو یہ غیر جمہوری قوتوں کی فتح ہوگی۔ اس سے انتہا پسند گروہوں کو ایک جواز مل جائے گا اوروہ جب چاہے لوگ اکھٹے کر کے حکومت گراد یں گے۔ عمران خان نے متعدد مواقع پر اعلان کیاہے کہ جب وہ وزیرِ اعظم بنیں گے تو ان کا لالحہ عمل کیا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ متعدد سیاست دانوں اور سرکاری افسران کی چھٹی کرادیں گے۔ ان سے یہ بیان بھی منسوب ہے کہ وہ نواز شریف کو طالبان کے حوالے کردیں گے۔ اُنہیں چاہیے کہ اپنے لاابالی پن اور غیر سنجیدہ رویے سے کنارہ کشی کریں تا کہ لوگ اگلے انتخابات میں انہیں وزارتِ اعظمیٰ کے ایک سنجیدہ امیدوار کے طور پر دیکھ سکیں۔ ایسا دکھائی دے کہ وہ اپنے رویے سے ریاست کو توانا کررہے ہیں نہ کہ کمزور۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *