’’آج کچھ نیا نہ ہو جائے؟‘‘

بھارت اور پاکستان کے معاشروں کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے بعد، پاپولزم کی سیاست اب امریکی معاشرے کے درپے ہے۔
میں چند برسوں سے اس موضوع پر تسلسل کے ساتھ لکھ رہا ہوں، بالخصوص،2018ء میں جب نئے انتخابات کا نقارہ بج چکا تھا اور پاپولزم کی سیاست پاکستان میں اپنے جوبن پر تھی۔ اس کا بیج اگرچہ 2011ء میں بویا گیا مگر یہ تن آور درخت 2014ء میں بنا۔ پھل آنے تک چار سال مزید بیت گئے۔ اب دو سال سے قوم اس کی چھاؤں میں رہ رہی ہے اوراس کا پھل کھارہی ہے۔ اس قوم کو معلوم ہوچکا کہ یہ چھاؤں کتنی گھنی ہے اوراس پھل کا ذائقہ کیسا ہے۔
امریکہ اور یورپ میں بھی پاپولزم کی لہر کم وبیش ایک عشرے سے چل رہی ہے۔2016ء میں صدر ٹرمپ نے کمال چابک دستی کے ساتھ اسے استعمال کیا اور ان پر وائٹ ہاؤس کے دروازے وا ہو گئے۔ امریکہ کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ پاکستان یا بھارت نہیں، ایک عالمی قوت ہے۔ ہمارے ہاں آنے والی تبدیلیاں ہم ہی کو متاثر کرتی ہیں، امریکہ میں کوئی تبدیلی آ جائے توایک جہاں متاثر ہوتا ہے۔ امریکہ میں پاپولزم کی فتح کا یہی مطلب تھاکہ اب ساری دنیا اسے بھگتے گی لیکن امریکہ پہلے۔ چار سال سے دونوں بھگت رہے ہیں۔
پاپولزم کی سیاست کیا ہے؟ یہ انسان میں ہروقت موجود اس خواہش کا سیاسی اظہار ہے کہ ''آج کچھ نیا نہ ہو جائے‘‘؟ نیاپن، کبھی خواہش ہوتا ہے اور کبھی ضرورت۔ پاپولزم کی سیاست اس خواہش کو ضرورت بنادیتی ہے اوراس سے اپنے مفادات کشید کرتی ہے۔ یہ خواہش چونکہ نئی نسل میں وافر پائی جاتی ہے اس لیے سب سے زیادہ اسی طبقے کو مخاطب بنایا جاتا ہے۔ ضرورت اور خواہش کے اس ملن کو پوسٹ ٹُرتھ کے لبادے میں اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ خواہش پوری ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ لوگ سراب کودریا سمجھ لیتے ہیں۔
یہ معلوم ہے کہ دنیا ایک صدی سے سرمایہ دارانہ نظام کی گرفت میں ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام دولت کوچند ہاتھوں میں مرتکز کردیتا ہے اوراس سے محرومی جنم لیتی ہے۔ یہ نظام دولت کو اسی حد تک تقسیم کرتا ہے کہ اس کے خلاف کوئی بغاوت نہ اٹھنے پائے۔ اس نظام کے علمبردار سماج کی نبض پر ہاتھ رکھے رہتے ہیں۔ جیسے ہی وہ تیز ہونے لگتی ہے، وہ سرمایے کے بہاؤ کو کچھ تیزکر دیتے ہیں۔ اس سے نبض قدرے نارمل ہوجاتی ہے لیکن کسی وقت دوبارہ تیز ہو سکتی ہے۔
روایتی سیاست کا معاملہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ مسائل کے روایتی حل تلاش کرتی ہے۔ روایتی سیاسی جماعتیں اور سیاست دان نظام کے بنیادی خدوخال کو متاثر کیے بغیر بہتری کی راہ نکالتے ہیں۔ سادہ لفظوں میں وہ انقلابی نہیں ہوتے۔ ان کے پاس نئے پن کی تلاش میں رہنے والوں کی تسکین کا سامان نہیں ہوتا۔ پھر یہ کہ موجود نظام سے بیزار‘ روایتی سیاستدانوں ہی کو مسائل کا سبب سمجھتے ہیں۔ یہ وہ خلا ہے جو پاپولزم کی سیاست کواندر آنے کا موقع دیتا ہے۔
ایک نرگسیت زدہ آدمی اٹھتا ہے کہ میں نیا پاکستان بناؤں گا یانیا امریکہ۔ ''آج کچھ نیا نہ ہوجائے‘‘ کے شوق میں لوگ اس کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ ایسا آدمی دوکام کرتا ہے۔ ایک یہ کہ مسائل کو ضرورت سے زیادہ سادہ بناکر پیش کرتا اور یہ تاثردیتا ہے کہ وہ پلک جھپکنے میں انہیں حل کرسکتا ہے۔ اس کے پاس جذبہ بھی ہے اور افرادِ کار بھی۔ اس کے لہجے میں نیا پن ہوتا ہے اوراس کے طور طریقے بھی روایتی سیاستدانوں سے مختلف ہوتے ہیں۔
دوسرا کام، وہ یہ کرتا ہے کہ معاشرے کے تضادات کو ابھارتا ہے۔ یہاں تک کہ معاشرہ واضح طورپر دوگروہوں میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ وہ اس تقسیم کو مزید گہرا کرتا چلا جاتا ہے۔ یہ گہرائی ہیجان سے پیدا ہوتی ہے۔ وہ ہیجان کوہوا دیتا ہے۔ یوں معاشرے کے تضادات نمایاں ہونے لگتے ہیں اورنفرت کی سیاست اپنے عروج کو پہنچ جاتی ہے۔ یہ تقسیم جتنی گہری ہو، نفرت میں جتنا اضافہ ہو، اس کے خیال میں اسی میں اس کا فائدہ ہوتا ہے۔ اس کام کیلئے وہ معاشرے سے ترجمانی کیلئے ایسے لوگوں کوتلاش کرتا ہے جو نفرت کوہوا دینے کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت رکھتے ہوں۔
ٹرمپ نے امریکی معاشرے کے ساتھ یہی کیا۔ امریکی معاشرہ، شاید دنیاکا سب سے متنوع معاشرہ ہے۔ اس کی تاریخ تضادات سے بھری ہے لیکن ابراہم لنکن، مارٹن لوتھرکنگ اور جیفرسن جیسے لوگوں نے ایک طویل جنگ سے ان تضادات کو تنوع میں بدل دیا۔ کالے اور گورے کی تقسیم کوکم کیا۔ مقامی اورغیر مقامی کے جھگڑے کو نمٹایا۔ ریاستوں کے مابین تعلقات کا ایک نظام وضع کیا۔ مذہب اور ریاست میں ایک توازن پیدا کیاکہ کوئی دوسرے کی آزادی کو متاثر نہ کرے۔ نقلِ مکانی کرکے آنے والوں کیلئے جگہ پیداکی کہ وہ امریکی معاشرت کا حصہ بن جائیں۔ ان کوششوں کے نتیجے میں امریکہ کو (melting pot) کہا گیاکہ جو یہاں آتا ہے، اس میں تحلیل ہو جاتا ہے۔
ٹرمپ نے دوکام کیے۔ ان کا 'نیاپن‘ تو ایسا نیا تھاکہ شاید ہی کبھی پرانا ہویا کوئی اسے نقل کرنے کی ہمت کر سکے۔ دوسرا یہ کہ انہوں نے امریکی معاشرے کے ان تضادات کو ابھارا جنہیں روایتی سیاست دبائے ہوئے تھی۔ ایک توانہوں نے کالے اور گورے کے جھگڑے کو زندہ کیا اور سفید چمڑی والوں میں موجود برتری کے احساس کو مہمیز دی۔ دوسرا مقامی امریکی اورغیر مقامی امریکی کی تقسیم کو گہرا کیا۔ تیسرا مذہبی تقسیم کوہوا دی۔ وسائل کی ان کے پاس کمی نہیں تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ان تضادات کونمایاں کرکے امریکہ کے صدر بن گئے۔ٹرمپ کی سیاست نے امریکہ کی سماجی بُنت کو ادھیڑ کررکھ دیا۔ اس نے دوسو سال کی محنت پر پانی پھر دیا۔ امریکی معاشرہ اب عدم استحکام کے راستے پر چل نکلاہے۔ ایسے لوگ چونکہ صدر‘ وزیراعظم بننے کے علاوہ کوئی آدرش نہیں رکھتے یا وسیع تر قومی مفاد ان کیلئے غیراہم ہوتا ہے، اس لیے، انہیں اس کی پروا نہیں ہوتی کہ ان کی سیاست معاشرے کیلئے تباہی کا کیا پیغام لائی ہے۔
ٹرمپ دوبارہ صدر نہیں بن سکے لیکن انہوں نے اپنا کام کردیا ہے۔ انہوں نے امریکی معاشرے کو ایک ایسے راستے پر ڈال دیا ہے کہ اب وہ نفرتوں کے درمیان جیے گا۔ وہاں ہیجان اور جنون کی حکمرانی ہوگی، الّا یہ کہ روایتی سیاست اپنا کام دکھائے اوران تضادات کا دروازہ بند کرنے کوشش کرے۔ 'کچھ نیا‘ تو ہوگیا لیکن پرانے کا دوبارہ لوٹنا شاید اتنا آسان نہ ہو۔
بھارت میں یہی حربہ مودی نے بھی استعمال کیا۔ بھارت کوئی ایک ملک نہیں‘ جیسے امریکہ نہیں ہے۔ اس کے داخلی تضادات امریکہ سے بھی زیادہ ہیں۔ اس کو متحد رکھنے کی ایک ہی صورت ہے کہ لوگوں کو گاندھی، نہرو اور ابوالکلام جیسے قد کاٹھ کے لوگ یکجا دکھائی دیں۔ کسی گروہ میں محرومی کا احساس نہ ہو۔ یہ صرف سیکولرازم اور وسیع تر اتفاق ہی سے ممکن ہے۔ مودی نے اس کے برخلاف بھارت کے مذہبی تضادات کو ابھارا۔ پاکستان اور چین کے ساتھ نفرت کو ہوا دی۔ کشمیریوں کے تشخص کو مٹانے کا منصوبہ بنانا‘ اس پالیسی کا ناگزیر نتیجہ بھارت کا منتشر ہونا ہے۔ یہ بات بھی واضح رہے کہ پاپولزم اور فسطائیت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔
پاکستان بھی چھ سال سے پاپولزم کے نرغے میں ہے۔ قوم کو تقسیم کیا جا رہا ہے۔ نفرت کو ہوا دی جارہی ہے۔ لوگوں میں اس سطح کا ہیجان پیدا کر دیاگیا ہے کہ وہ سیاسی اختلافات پر دوسروں کو گالیاں دیتے ہیں۔ 'آج کچھ نیا نہ ہو جائے‘ کے چکر میں بہت کچھ نیا ہو گیا ہے۔ یہ امریکہ ہو، پاکستان ہو یا بھارت، پاپولزم نے معاشروں کو برباد کر دیا ہے۔