Site icon DUNYA PAKISTAN

جہانگیر ترین: کیا چینی کمیشن تحریک انصاف کے رہنما کی وطن واپسی کو کڑوا بنا سکتی ہے؟

Share

حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور وزیرِاعظم پاکستان عمران خان کے دیرینہ ساتھی جہانگیر ترین چھ ماہ کا عرصہ لندن میں گزارنے کے بعد جمعے کے روز پاکستان واپس پہنچے ہیں جہاں انھیں منی لانڈرنگ اور فراڈ جیسے الزامات میں انکوائری کا سامنا ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے یہ انکوائری شوگر کمیشن کی اس رپورٹ کی روشنی میں شروع کی تھی جس میں جہانگیر ترین سمیت دیگر کئی مل مالکان کو مبینہ طور پر چینی بحران کا فائدہ اٹھانے والوں میں شامل کیا گیا تھا۔

وفاقی حکومت کی طرف سے قائم کردہ شوگر کمیشن کی رپورٹ منظرِ عام پر آنے کے کچھ ہی عرصہ بعد جہانگیر ترین اپنے صاحبزادے علی ترین کے ہمراہ ملک چھوڑ کر لندن چلے گئے تھے۔

جاتے ہوئے انھوں نے بتایا تھا کہ وہ علاج کی غرض سے لندن جا رہے ہیں اور صحتیاب ہونے پر واپس لوٹیں گے۔

ایف آئی اے اور ایس ای سی پی کی مشترکہ ٹحقیقاتی ٹیم چند ماہ قبل بھی جہانگیر ترین اور ان کے صاحبزادے علی ترین کو سوالات کے جواب دینے یا اپنا مؤقف دینے کے لیے طلب کر چکی ہے تاہم ملک میں نہ ہونے کے باعث وہ پیش نہیں ہوئے تھے۔

رواں برس پبلک کی جانے والی شوگر کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ جہانگیر ترین سمیت حکومتی اور حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے کئی سیاستدانوں کی ملکیت شوگر ملز سالہا سال سے دھوکہ دہی اور فراڈ کے ذریعے چینی کی قیمت میں مصنوعی اضافہ کر کے منافع کمانے کے عمل میں شامل رہے ہیں۔

کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 88 کے قریب پاکستان کی ’شوگر ملوں کے کارٹل نے آغاز ہی سے کسان اور صارف دونوں کے ساتھ دھوکہ کیا اور نتیجتاً بیش بہا منافع کمایا۔‘

تاہم جہانگیر ترین نے ہمیشہ سے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ’ان کی شوگر ملوں کا گروپ جے ڈی ڈبلیو کسی غیر قانونی کام میں ملوث نہیں۔‘

شوگر کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں رواں برس وفاقی حکومت نے ایف آئی اے، ایس ای سی پی، ایف بی آر، صوبائی حکومتوں اور دیگر اداروں کو ہدایات جاری کی تھیں کہ کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں تحقیقات کی جائیں اور تین ماہ میں اس کی رپورٹ پیش کی جائے۔

ایف آئی اے اور دیگر اداروں پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اس ضمن میں تحقیقات کرتی رہی جس کا محور منی لانڈرنگ اور فراڈ ہے۔ جب جہانگیر ترین پاکستان واپس آئے ہیں تو تحقیقاتی ٹیم کو دیا گیا تین ماہ کا وقت تقریباً مکمل ہونے کو ہے۔

کیا اب مقدمات درج ہوں گے؟

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ایک ممبر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ جہانگیر ترین سمیت شوگر کمیشن رپورٹ میں بتائے گئے تمام مل مالکان اور متعلقہ حکومتی اور غیر حکومتی شخصیات کے خلاف تحقیقات آخری مراحل میں ہیں۔

’ہم بنیادی تمام کام مکمل کر چکے ہیں جسم میں بے نامی بینک اکاؤنٹس میں رقوم کی منتقلی، ایک کمپنی سے غیر قانونی طور پر دوسری کمپنیوں میں پیسے کی منتقلی، واٹس ایپ گروپوں میں کارٹل کے ممبران کی جانب سے چینی کی قیمتوں میں مصنوعی طور پر اضافے اور فراڈ کے طریقہ کار کا تعین شامل ہے۔‘

ان کا کہنا تھا اب صرف اس حوالے سے جمع کیے گئے شواہد کو حتمی شکل دینا باقی ہے۔ اگلے مرحلے میں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد رپورٹ حکومت کو پیش کی جائے گی اور اس کے احکامات کی روشنی میں ملزمان کے خلاف باقاعدہ مقدمات درج کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

کیا جہانگیر ترین یا دیگر میں سے کوئی گرفتار ہو سکتا ہے؟

مشترکہ تحتیقاتی ٹیم کے ممبر کا کہنا تھا کہ ان کی تحقیقات اس مرحلے میں داخل نہیں ہوئیں جہاں کسی بھی متعلقہ شخص کو گرفتار کیا جائے۔

’ایف آئی اے کے کام کا طریقہ کار نیب وغیرہ سے مختلف ہے۔ یہاں باقاعدہ تحقیقات کے بعد مقدمات درج کیے جاتے ہیں اور گرفتاری کی نوبت مقدمہ درج ہونے کے بعد ہی آتی ہے۔ اس سے پہلے کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا جاتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم کو انکوائری مکمل کرنے کے لیے تین ماہ کا وقت دیا گیا تھا جو مکمل ہونے والا ہے تاہم ٹیم کو مزید وقت درکار ہو گا اس لیے ان کو دیے گئے وقت میں اضافے کے لیے حکومت کو درخواست دی جائے گی۔

جہانگیر ترین کو طلبی کا نوٹس جاری کیا جا سکتا ہے

تاہم تحقیقاتی ٹیم کے ممبر کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین اور ان کے صاحبزادے علی ترین کو سوالات کے جواب دینے کے لیے پہلے بھی طلب کیا گیا اور وہ ملک میں نہ ہونے کی وجہ سے پیش نہیں ہوئے تھے۔ ’اب وہ واپس آ گئے ہیں تو ان کو دوبارہ طلبی کا نوٹس جاری کیا جا سکتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کو طلب کرنے کا مقصد ان کے خلاف جمع کیے جانے والے شواہد پر ان سے جواب طلب کرنا اور ایسی معلومات حاصل کرنا ہے جن تک انھیں رسائی حاصل تھی۔

تاہم جہانگیر ترین نے ماضی میں یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایف آئی اے کی طرف سے چینی بحران پر شوگر کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں منی لانڈرنگ کی تحقیقات کرنا بلا جواز ہے۔

چینی بحران کا منی لانڈرنگ سے کیا تعلق؟

تحقیقاتی ٹیم کے رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی تحقیقات کے مطابق چینی بحران سے فائدہ اٹھانے والے شوگر مل مالکان اور ’کارٹل‘ کے متعلقہ افراد نے اربوں روپے کمائے۔ اس کے بعد یہ رقوم ’لانڈر‘ کی جاتی تھیں یعنی ’کالا دھن سفید کیا جاتا ہے۔‘

’اب تک کے شواہد کے مطابق ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں شوگر کی صنعت چل ہی اسی طریقہ کار سے ہے کہ چینی کا مصنوعی بحران پیدا کیا جاتا ہے، اس سے بیش بہا منافع کمایا جاتا ہے اور پھر اس منافع کے پیسے کو لانڈر کیا جاتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ تاحال کوئی حتمی اعداد و شمار دینا قبل از وقت ہو گا تاہم ’شوگر مافیا‘ کی طرف سے کی جانے والی منی لانڈرنگ کا حجم لگ بھگ 20 ارب روپے کے قریب ہے۔

تحقیقاتی افسر نے بتایا کہ منی لانڈرنگ کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے تھی جن میں بی نامی بینک اکاؤنٹس، بوگس کمپنیوں میں پیسے کی منتقلی، حکومتی سبسڈی اور دیگر طریقے شامل ہیں۔

میری شوگر ملز۔۔۔حکومت کا ساتھ دیں گی

شوگر مل مالکان نے ملک کی مختلف عدالتوں میں شوگر کمیشن کی اس بنیادی رپورٹ کو چیلنچ کر رکھا تھا جس کی روشنی میں حالیہ انکوائری کی جا رہی ہے تاہم سندھ ہائی کورٹ کے علاوہ کسی دوسری عدالت کی طرف سے رپورٹ کی مسترد کرنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں آیا۔

سندھ ہائی کورٹ کے کمیشن کی رپورٹ کو مسترد کرنے کے فیصلے کو بھی وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔

تحقیقاتی ٹیم کے رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ تاحال کسی بھی عدالت نے انھیں تحقیقات کرنے سے نہیں روکا اور وہ مسلسل اپنا کام کرتے رہے ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ میں دائر ایک درخواست پر عدالت نے حکومت سے مزید تفصیلات طلب کر رکھی ہیں۔ اسی طرح چند مل مالکان نے حکومتِ پنجاب کی حالیہ ہدایات کو بھی عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے، جن میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ 10 نومبر سے کرشنگ کا آغاز کریں۔

تاہم جہانگیر ترین کی طرف سے جمعے کے روز سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا گیا کہ ان کے جے ڈبلیو گروپ سے تعلق رکھنے والی شوگر ملز عدالت میں دائر اس درخواست کا حصہ نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ان کی کی شوگر ملز حکومتی ہدایات کے مطابق 10 نومبر سے کرشنگ کا کام شروع کر دیں گی اور بڑھتی قیمتوں اور چینی بحران پر قابو پانے میں حکومت کا ساتھ دیں گی۔‘

نیب کی انکوائری

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے کی جانے والی انکوائری کے علاوہ قومی احتساب کے ادارے نیب نے بھی آٹے اور چینی کے بحران کے حوالے سے انکوائری کرنے کا اعلان کر رکھا ہے تاہم اس میں تاحال کوئی اہم پشرفت دیکھنے میں نہیں آئی۔

رواں برس ستمبر میں نیب راولپنڈی نے حکومتی شوگر ملوں کو دی جانے والی حکومتی سبسڈی کے غلط استعمال کے انکوائری کرنے کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی جس میں مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے ماہرین شامل تھے تاہم اس کی طرف سے بھی تاحال کوئی اہم پیشرفت سامنے نہیں آئی۔

Exit mobile version