فریاد

محمد طاہرM tahir

پہلے داد پھر فریاد۔کوئی ہے جو چیخ کر بتائے،ہم بہت تیزی سے تباہی کی طرف جارہے ہیں۔ لڑائی کی متعدد وجوہات ہیں اور بیشتر جائز بھی۔ مگر اصل سوال لڑائی کا طریقۂ کار ہے۔ لڑائی کا طریقہ ہی لڑائی کا اعتبار بڑھاتا یا گھٹاتا ہے۔جی نہیں! مقاصد، ذرائع کو باجواز نہیں بناتے۔ مقاصد کے ساتھ ذرائع بھی درست ہونے چاہئے۔ریاستی کھیلوں نے ذرائع ہی نہیں مقاصد کو بھی آلودہ کردیا۔ سو اب یہ بحثیں معاشرے میں دم توڑ رہی ہیں۔ ہمارا قومی مزاج اب پنجابی فلموں کے ولن کا ہے۔ سیاست دانوں کی تو چھوڑیئے، مصلحین کا بھی یہی مزاج بن گیا۔ عمران خان اور طاہر القادری اس مجموعی مزاج کے عکس ہیں۔ معاشرے میں اب کسی بڑے آدمی کو گالی دینا ہمت کی بات سمجھی جاتی ہے اور داد کی مستحق پاتی ہے۔ جب کہ بڑا آدمی گالی کھاکر بھی بدمزہ نہیں ہوتا۔وہ کچھ زیادہ ہی مزے میں ہے۔ ہم کیسے لوگ تھے اور چند برسوں میں کیا سے کیا ہوگئے؟
اگر اس معاشرے میں زندگی کی کوئی لہر باقی ہے، اگر ہم اپنے قومی تشخص کے لئے ذرا بھی پریشان رہتے ہیں،تو پھر ہمارے قومی اداروں کو سرجوڑ کر بیٹھ جانا چاہئے۔ ہمارے ماہرینِ نفسیات و عمرانیات کو متحرک ہو جانا چاہئے۔ اور ہمارے قومی مزاج کے بدلتے دھاروں کی چھان پھٹک کرنی چاہئے۔ پی آئی اے کے طیارے میں رحمان ملک اور ڈاکٹر رمیش لال کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا، یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں۔یہ ہمارے معاشرے کی قوتِ برداشت کو جانچنے کا محض ایک پیمانہ نہیں ۔ یہ اس سے بڑھ کر کچھ اور ہے۔ یہ اس معاشرے کی بے حد بدقسمتی ہے کہ اسے زرداری اور نواز شریف جیسے حکمران اور یحییٰ اور مشرف جیسے جرنیلی قیادتیں میسر آتی ہیں۔ مگر یہ اس معاشرے کی اس سے بھی بڑی بدقسمتی ہے کہ اُسے جھنجھوڑنے والے قادری اور عمران خان جیسے لوگ سمجھے جاتے ہیں۔ یہ سب ایک دوسرے کے لئے ایک دوسرے کے خلاف جواز بن کر جیتے ہیں۔ اگر یہ معاشرہ کسی قرینے اور سلیقے کی طرف راغب ہو تو زرداریوں اور شریفوں کی باری شاید بعد میں آئے ،نجات کی پہلی منزل ان قادریوں اور عمرانوں کے خلاف آئے گی۔ کیسی کیسی زبانیں ہیں جو دراز ہو چکیں،کیسے کیسے کردار ہیں جو قبول کر لئے گئے،اور کیسے کیسے سائے ہیں جو سر پر چڑھ کر بول رہے ہیں؟
سوال بہت سادہ ہے، رحمان ملک اور رمیش لال کے خلاف جو کچھ پی آئی اے کے طیارے میں ہوا، کیا یہ وی آئی پی کلچر کے خلاف معاشرے کی بغاوت ہے؟اِسے وی آئی پی کلچر کے خلاف بغاوت سمجھنے والے لوگ صرف وہی ہو سکتے ہیں جو وی آئی پی کلچر،معاشرہ اور بغاوت تینوں کے مالہ وما علیہ سے سرے سے ہی ناواقف ہو۔ یہ درحقیقت کثیر الجہتی نوعیت کے بحرانوں کا ایک ملاجلا اظہار ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ غصہ کسی کو بھی ،کبھی بھی اور کہیں بھی آسکتا ہے۔ تبدیلی کی قوت کے طور پر غصہ کے بارے میں یہ جانچا جاتا ہے کہ یہ غصہ مستقل نوعیت کا ہے یا عارضی ۔ پھر یہ کہ اس غصے کی کوئی سمت بھی ہے یا نہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ غصہ کرنے والا کون ہے؟مسئلہ یہ ہے کہ کسی بحران کو حل کرنے کا قانونی راستہ بند ہو جائے تو پھر کیا کیا جائے؟ کیا پی آئی اے طیارے کی دوگھنٹے تاخیر کی شکایت کا کوئی قانونی راستہ ہے؟ اگر ہے تو کیا وہاں کوئی شکایت موثر رہے گی؟ رحمان ملک اور رمیش لال کو طیار ے سے اُترنے پر مجبور کر دینے والے ’’مسافر‘‘ کیا یہ امید رکھتے تھے کہ وہ کسی بھی جگہ پر شکایت کرکے اس کا کوئی قانونی ازالہ کرواسکیں گے؟ اگر نہیں تو یہ رحمان ملک کے خلاف نہیں پورے قانونی نظام اور ڈھانچے کے خلاف ایک طرح کا ردِعمل تھا۔ مگر یہ ایسابھی نہیں تھا ۔ کیونکہ جو افراد اس ردِعمل کے محرک تھے کیا اُنہیں کہیں پر اس طرح کی صورتِ حال کا سامنا نہیں ہواہو گا؟پھر اُن کاردِعمل یہیں کیوں ظاہر ہوا؟ ظاہر ہے کہ اس طرح کے تماشے ہم روز روز دیکھتے ہیں۔ مثلاً ائیر بلو کی لاہور کے لئے ایک طے شدہ پرواز میں یہ مسافر قطار میں کھڑا تھا ،تو اچانک افراتفری ہوئی اور پتا یہ چلا کہ وہ طیارہ جو مسافروں کو لاہور لے جارہا تھا ،اب لاہور نہیں اسلام آباد جائے گا۔ لاہور جانے والے مسافروں کو یہ تک نہیں بتایا جارہا تھا کہ وہ جہاز میں سوار ہونے کے وقت اس سلوک کے کیوں مستحق سمجھے گئے اور اب اُنہیں کب اور کس طیارے سے لاہور لے جایا جائے گا۔صرف اس طرح کے نہیں ، کئی طرح کے واقعات آئے دن تجربات میں آتے رہتے ہیں جو محض وی آئی پی کلچر کی نشاندہی نہیں کرتے۔ اس سے بھی کچھ بڑھ کر ظاہر کرتے ہیں۔مگر ظاہر ہے کہ اس کا ردِعمل اس طرح سے ظاہر نہیں ہوتا۔ مثلاً ائیر بلو کی مذکورہ پرواز کے حوالے سے مسافر نے یہ چاہا کہ وہ عدالت سے رجوع کرے۔ مگر پھر مسافر نے پاکستان میں قانون کے سفر کو دھیان میں رکھتے ہوئے مزید وقت کے زیاں سے خود کو بچانا زیادہ اہم سمجھا۔کیا یہ مکمل طور پر ریاستی اداروں پر کسی بھی شخص کا عدم اعتماد نہیں کہ وہ کسی بھی زیادتی کے ازالے کاکوئی قانونی اعتبار ہی نہ رکھتا ہو۔اُسے تلافی مافات کا کوئی یقین ہی نہ ہو۔ جس کے ساتھ جو ہوگیا بس ہوگیا۔ اللہ اللہ ، خیر صلاّ۔اس رویئے سے جنم لینے والے ردِعمل کی حدود کیا ہو؟ کیا اس نوعیت کا کوئی غصہ اگر ہوگا تو وہ حدود آشنا ہوسکتا ہے ؟ مسئلہ یہ ہے کہ پورا معاشرہ ہی داؤ پر لگا ہوا ہے مگر اس کی وضاحت کے لئے ہمارے پاس واقعات بھی پی آئی اے کے طیارے میں رونما ہونے والے واقعے جیسے نہایت سطحی سے ہیں۔ہم معاشرتی بے چینی کو وزیر اعلیٰ پر جوتا اچھالنے، کسی رہنما کی تقریر سننے سے انکار کرنے اور زبان پھسلنے سے نعرہ بدلنے جیسے واقعات سے ظاہر کرتے ہیں۔اور یہ اس سے بڑھ کر المیہ ہے کہ کسی سماج کا دانشور طبقہ اسے ایک مسئلہ سمجھنے کے بجائے اس کو سراہنے میں جُت جائے۔ شاید ہی کوئی انسان اپنی اجتماعی زندگی سے دستبرداری کا ایسا المناک منظر خود اپنے دلائل سے تخلیق کر سکتا ہو۔اس سے بھی زیادہ شرم ناک کی بات یہ ہے کہ ایسے واقعات کو ’’آزادی‘‘ اور ’’انقلاب‘‘ کے گھگھو گھوڑے اپنی کامیابی کے فریب سے مزین کرنے پر اپنی طلاقتِ لسانی وقف کردیں۔ یہ دراصل ایک طرح کی نراجیت کو قبول کرنے کا ذہن بنانے کی تیاری ہے۔ جسے ’’موب جسٹس‘‘ کی گمراہ کن تعبیر دی جارہی ہے۔ اس خاکسار کو اس سے کہیں زیادہ عوامی ردِعمل کو دیکھنے کا ذاتی مشاہدہ ہے۔ کراچی میں آئے دن ڈکیتی کی وارداتوں میں ہاتھ آئے ڈاکوؤں کو اس سلوک کا مستحق سمجھا جاتا ہے۔ چند ماہ قبل کراچی میں ڈاکوؤں کو زندہ جلانے کے واقعات بھی رونما ہو چکے ہیں اور اُنہیں گولیوں سے موقع پر ہی مار دینے کے واقعات تو متعدد ہیں۔ کیا خیال ہے کہ اس حادثۂ وقت کو کیا نام دیا جائے؟ جب کہ ہر اعتبار سے ڈاکوؤں کو مارنے والے عوامی ہاتھوں کے پاس جواز بھی بہت سارے ہیں۔ تھانے اپنا کام نہیں کررہے۔ سیاسی جماعتیں اُن کی پشت پناہ ہیں۔ عدالتوں کے معزز جج بھی اُن سے ڈرتے ہیں۔اور عوام کی شنوائی بھی کوئی نہیں؟ اس صورت میں جلتے ہوئے ڈاکو کا منظر بھی اتنا ہی قابلِ قبول ہے جتنا کہ رحمان ملک اور رمیش لال کے طیارے سے اُترنے کا منظر ہمیں خوش آتا ہے؟ (جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *