الیکشن کمیشن کا 2013ء کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا اعتراف

ECPالیکشن کمیشن آف پاکستان نے تکنیکی طور پر ریٹرننگ آفیسرز کو گزشتہ سال کے عام انتخابات میں متعدد حلقوں میں سامنے آنے والی بے قاعدگیوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
ای سی پی کی جانب سے انتخابات کے حوالے سے جاری ایک رپورٹ کے مطابق آر اوز کو ماتحت عدلیہ سے لیا تھا جنھوں نے عام انتخابات سے چند روز پولنگ اسکیم میں تبدیلیاں کردیں جس سے پولنگ عملے، ووٹرز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو الجھن کا سامنا کرنا پڑا۔اس کے علاوہ آر اوز نے آخری وقت میں تربیت یافتہ عملے کو ناتجربہ کار اہلکاروں سے تبدیل کردیا۔آر اوز قانونی طور پر پولنگ اسٹیشنز کو منتخب کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں مگر رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے یہ ٹاسک خود مکمل نہیں کیا۔
آر اوز ضلعی انتظامیہ سے رابطے میں تھے جو کہ ان آفیسرز تک انتخابی مواد پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹ کے انتظامات کرنے کے ذمہ دار تھے، تاہم رپورٹ کے مطابق ٹرانسپورٹ کی سہولت ناکافی ثابت ہوئی، پولنگ عملے تک انتخابی میٹریل پہنچانے کے لیے جتنی بسیں کرائے پر حاصل کی گئیں ان کی تعداد اسٹیشنز کے مقابلے میں کم تھی جس کی وجہ سے ڈیلیوری مقررہ شیڈول کے مطابق نہیں ہوسکی۔اس کے علاوہ پولنگ کے اختتام پر بھی مسائل کا سامنا ہوا اور پولنگ عملے کو بسوں کا انتظار کرنا پڑا، جبکہ بسوں میں عملے اور انتخابی میٹریل کے لیے جگہ بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔
پریزائیڈنگ افسران انتخابی میٹریل کی کمی سے ناواقف تھے کیونکہ انہوں نے انوائسز کے مطابق میٹریل کی تعداد کو چیک نہیں کیا اور انہیں اس مسئلے کا علم پولنگ کے دن ہوا۔بیشتر پولنگ عملہ مقناطیسی سیاہی اور اس کے مقصد سے ناواقف تھا اور اسی وجہ سے مقناطیسی سیاہی جگہ عام سیاہی کے پیڈ استعمال کیے۔
اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے ای سی پی نے کہا ہے کہ انتخابی میٹریل جیسے ووٹنگ اسکرینز، بیلٹ پیپرز، قینچیاں اور قلم وغیرہ کا معیار ناقص تھا، تمام پونگ بوتھ پر معمول کے مطابق انتخابی بلاک کوڈ سیریل نمبر کے ساتھ تحریر نہیں کیے گئے تھے۔اس چیز سے ووٹرز کے اندر کنفیوژن پیدا ہوا جو اپنے بوتھس کو تلاش کرتے رہے۔
بیشتر پولنگ اسٹیشنز بہت گنجان تھے اور ایک چھوٹے سے کمرے میں دو سے تین بوتھس لگائے گئے، جبکہ بہت زیادہ تعداد میں ووٹرز کی آمد سے پولنگ عملے کی کارکردگی متاثر ہوئی، کیونکہ کم جگہ، انتہائی گرم موسم اور لوڈشیڈنگ وغیرہ نے مسئلے کو مزید بڑھا دیا تھا۔
بیلٹ پیپرز کو بند کرنے کے لیے لفافے کم اور چھوٹے تھے، اس کے ساتھ ساتھ سیل کیے جانے والے بیگز کی تعداد بھی ناکافی ثابت ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق بیشتر پریزائیڈنگ افسران نے بیگز اور دیگر میٹریل کو مناسب طریقے سے سیل بند نہیں کیا، ضلعی کمشنرز کے دفاتر میں انتخابی میٹریل کو رکھنے کے لیے جگہ بہت کم تھی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آر اوز نے انتخابی میٹریل کی واپسی کی ذمہ داری نہیں لی، جبکہ ڈی آر اوز اور آر اوز نے گمشدہ میٹریل کی ذمہ داری لینے سے بھی انکار کردیا۔
آئین کی شق 62 اور 63 اس عمل کے دوران چھائی رہیں اور ان شقوں کی درخواستیں ایک سے دوسرے آر او تک منتقل ہوتی رہی جس سے سکروٹنی کا عمل متاثر ہوا۔رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ متعدد امیدواروں کو مناسب تصدیق کے بغیر ہی کلئیر کردیا گیا کیونکہ ای سی پی ہیڈکوارٹر مین قائم کیے گئے ایک سکروٹنی سیل نے موثر طریقے سے کام نہیں کیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *