زلزلہ  بے  سبب  نہیں آتا۔۔۔۔۔۔!

ghulam mustafa mirani

یہ تو عمران خان کو بھی معلوم ہے کہ جلسے جلوسوں سے حکومتیں جاتی ہیں نہ ایوانہائے اقتدار ڈھیر ہو سکتے ہیں اور وہ بھی فقط اتنا اِکٹھ، جو عرصہ بھر کی بھاگ دوڑ اور  کروڑوں روپے بہا دینے کے باوجود ، ملک کے ایک صوبائ حلقہء اسمبلی کے ووٹروں کی تعداد سے بھی کم شمار کیا جا رہا ہو، مگر تعداد، شمار کا حساب کتاب اور گنتیوں کے رولے لٙپے مشقِ رائیگاں ہے کیونکہ مقبولیت کا معیار اور محبتوں کی میزان، ایسے مصنوعی جمگھٹوں کے محتاج نہیں۔ گزشتہ انتخابات میں جو شخص، صرف لاہور شہر میں ساڑھے سات لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کر چکا ہو، اس کے سیاسی قد و قامت کو، اس بے موسمے مجمع کے پیمانوں سے ماپنا فریبِ نفس ہے ۔ جمہوریت کے در و دیوار پر دستک دیتی اس حقیقت میں، بہرحال، کوئ شک نہیں کہ اپنے مقاصد اور اٙہداف کے لحاظ سے عمران خان منزل بہ مراد ہو رہے ہیں۔ بادی النظر میں یہ بے موسمی ھٙلا گلا، ممکنہ طور پر، تین نمایاں نِکات اور محرکات کا مظہر لگتا ہے۔
1- کارکنوں کو سرگرم و مستعد رکھنا اور پارٹی کی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالا دینا۔
2- شریف خاندان کی رسوائ اور  بدنامی کا بازاز لگا کر، بڑھتے ہوئے خدشات کی بیخ کنی کرنا۔
3- سیاست اور سُلگتے مسائل  کے محاذ پر تبدیلی کی آس میں، کسی پُراٙسرار مہم کا حصہ بننا اور بجھتی سلگتی چنگاریوں کو دھونکنے کا فرض ادا کرنا ۔
مذکورہ بالا تینوں پہلووں کے بارے میں مختصر وضاحت اور قدرے تفصیل بیانی کی ضرورت ہے۔
1-گئے گزرے وقتوں کا مقولہ ہے، بزرگ کہا کرتے تھے کہ پرندے جب آشیانوں سے ہجرت کرنے لگیں ، فضا اٙٙسرار و اچنبھوں کے مناظر سے معمور ہو رہی ہو تو یہ مظاھر اور مُعمے، اچھے شگون کی علامت نہیں ہوا کرتے۔ گزشتہ سے پیوستہ پیر کی صبح، 26 ستمبر 2016ء کے اخبارات پڑھے تو پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنما اور بانی رکن، جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد کی اپنی جماعت سے استعفیٰ کی خبر نے چونکا دیا! استعفیٰ کااعلان کرتے ہوئے انہوں نے پارٹی میں کارفرما کئ سنگین بےضابطگیوں اور پارٹی آئین سے متصادم متعدد معاملات کی نشاندہی بھی کی۔ ممکن ہے کہ پارٹی پر سایہ فگن پُرفِتن حالات کے پس منظر میں، استعفیٰ سے بہت سُوں کو سکون ملا ہو اور امکان تو یہ بھی ہے کہ شاید خود جناب عمران خان بھی اسودہ خاطر ہوئے ہوں مگر ایک نابغہء روزگار شخصیت نے جب پارٹی جوائن کی تھی تو مسرتوں کے گیت گائے گئے اور کامیابیوں کے شادیانے بجائےگئےتھے۔ عزت، شہرت اور اعلی' روایات کا آمین ہونے کی بدولت، انہیں ' پارٹی اننتخابات ' کا اھم اور نازک فریضہ سونپ دیا گیا۔ مگر ہوا کیا ؟ جماعتی انتخابات میں دھونس اور دولت کی بنیاد پر، جب  عہدوں کی بندر بانٹ ہونے لگی تو وجیہہ الدین کی انتظامی اور عدل و اعتدال سے مُرصع صلاحیتوں نے جوش مارا، مردِ درویش نے انصاف اور اصول کا عٙلم اٹھا لیا اور بٙیًن بے اعتدالیوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہو گئے۔ مستحق کارکنوں کی حق تلفی پر، متمول نو دولتیوں کی چوری سینہ زوری کے طرزِ انتخاب اور خودساختہ جعلی نتائج کو فاش کر ڈالا۔ عمران خان کو سمجھایا اور بار بار یاد دلایا،لیکن انجامِ کار، ساری چیخ و پکار، صدا بصحرا ثابت ہوئ۔ جج صاحب ہار گئے اور اہلِ ثروت جیت گئے۔ میرٹ مات کھا گیا اور  مُہِم جُو حاوی ہو گئے!! دیکھتے ہی دیکھتے مخلص اور محنتی کارکنوں پر مافیہا مسلط ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی منتظرِ انصاف، بہت سے بے بس حلقے دل شکستہ اور بدظن ہو گئے۔ بظاہر جماعتی نظم ونسق میں محصور مگر اندر سے مضمحل ومایوس، غریب اور متوسط طبقوں سے تعلق رکھنے والے کارکنان کی بڑی تعداد، خان صاحب کے بارے میں طلسماتی توقعات سے برگشتہ ہونے لگی تو اس نقصان کو شدت سے محسوس کیا گیا، پھر بوری سے گرتے دانوں کا یہ کوئ پہلا موقع نہیں تھا، اس سے پہلے بھی، خان صاحب نے جب سیاست کی سیڑھی پر قدم رکھا تو مُشفق و مُربّی عزیزانِ جاں نثار، سب سے پہلے دست وبازو بنے اور حیاتِ قیمتی کے سالہاسال خان کے ذوقِ سیاست پر وار دیئے، عجب المیہ مگر یہ رونما ہوا کہ انہی خِویش و اقربا نے، کچھ عرصہ قبل عمران خان سے اپنی راہیں جدا کر لیں کیونکہ پارٹی میں نو واردین کی من مانیوں، خان صاحب کی خود غرضیوں اور مطلق العنانیت سے معمور اُنکے  رویوں نے ، اُنہیں اُچاٹ اور دلبرداشتہ کر دیا تھا ۔ قیادت میں خُوے دلنوازی کا فقدان یا وقوع پذیر واقعات کی ستم ظریفی، بہرحال ' گھر کو آگ لگ گئ گھر کے چراغ سے ' جب حفیظ خان نیازی جیسا باوفا اور خان صاحب کی سیاسی زندگی میں مُبتدی حیثیت کا حامل ساتھی، ساتھ چھوڑنے پر مجبور کر دیا جائے تو " ناطقہ سر بگریباں ہے تجھے کیا کہیئے"۔۔۔۔۔سٙر دُھننے کے علاوہ، انسان اور کر ہی کیا سکتا ہے ۔ اس طرح جاوید ہاشمی کا روٹھنا اور ساتھ چھوڑ جانا،  پارٹی کیلئے بظاھر بارِ پریشاں نہ سہی، حقیقت میں ھلاکت خیز سفر کی سمت نامسعود ساعتوں کا لمحہء آغاز تھا، ہاشمی صاحب کشتیاں جلا کر اور مدتوں کی محبتیں قربان کر کے آئے تھے، حیاتِ عزیز کی وابستگیاں اور جیلوں کے جبروجفا کے سلسلے بھلا کر سُوئے "انقلاب" روانہ ہونے لگے تو شریف خاندان کی پوری فیملی، لیگی زُعما کے گروہ در گروہ اور ملتان میں سالہاسال کے ساتھیوں نے منتیں کیں، ہاتھ جوڑے اور واسطے دے دے کر روکنا چاہا، گاڑی کے آگے لیٹ گئے مگر عمران خان کی چاھت و چاوء میں گرویدہ جاوید ہاشمی نے سب کو چھوڑا اور سب کچھ ٹھکرایا، تحریک انصاف کا حصہ بنے اور جلسے جلوسوں میں گرجتے برستے نظر آئے۔ رُودادِ سوختہ اور داستانِ بٙردوختہ کیا ہے اور کیونکر تلخیاں، تعلقات پر طاری اور بھاری ہو گئیں کہ ایک کھرے، سچے اور بے داغ کردار شخص کو دلگرفتگی نے آلیا، تفصیل میں الجھے بغیر، اس کڑوے سچ کی صحت اور حقیقت سے روگردانی اختیار نہیں کی جا سکتی کہ ہاشمی کی مفارقت، تحریک انصاف کیلئے برقی جٙھٹکے سے کم نہ تھی۔ منکرینِ سچائ، تلخ نوائ کے سامنے بے شک پٙنٙبہ بگوش رہیں ورنہ اس سادہ اور صاف گو انسان کو پسِِ پشت ڈالنے، نظر انداز کرنے اور علیحدگی پر زِچ کر دینے کے نتیجہ میں، پارٹی کو کتنا نقصان پہنچا اور آئندہ کتنا خمیازہ اٹھانا پڑے گا، موجودہ حالات شہادت دے رہے ہیں اور آنے والا وقت گواہ ٹھہرے گا۔ پھر ظلم اور زیادتی ملاحظہ فرمائیں، جو شخص بھٹو اور مشرف کے ادوارِ ستم میں جُھکا نہ بِکا اور اپنی جوانی، جیلوں اور جبر کے مُہیب سائے میں ماریں کھاتے گذار دی، پوہ کی ٹھٹرتی راتوں میں برف کی سِلوں پر باندھ کر سُلایا گیا اور عقوبت خانوں میں الٹا لٹکایا گیا، مگر کیا مجال کہ مردِ جٙری کے پائے اِستقامت کبھی ڈگمگائے ہوں !  پھر یاد کریں، نواز شریف کا اقتدار پورے جوبن پر تھا اور قومی اسمبلی کی رکنیت بھی زیب حمائل تھی، اسمبلی کے فلور پر اپنے تاریخ ساز خطاب میں " بنامِ دوست سٙر مٙستٙم ، فنا گشٙتم فنا گشتم " کا عملی کردار بن کر اپنا سب کچھ تٙج دیا اور عمران خان کی معیت میں مصروفِ عمل ہو گئے۔ اس مُجسمہء اِیثار اور باغئِ اِستبداد کو "داغی" اور "دھوکہ بازی" کا طعنہ دیا جا رہا ہے، سازشی اور پیٹھ پار " چُھرا مار" قرار دیا جا رہا ہے۔ پلانٹڈ اور پٙروٙردٙگی کے آوازے کٙسے جا رہے ہیں!!!  خدا را ! انسانوں کا لحاظ نہیں تو بنامِ انسانیت ہی رحم فرما لیں، تجاوز اور تکذیب خُوئ سے تامُل فرمائیں۔ جاوید ہاشمی ملک کا انمول اثاثہ ہے۔ ملک اور قوم کیلئے اس کی خدمات شمار و اذکار سے ماورا ہیں۔ اُس کی تکریم اور بحالی ریاست پر قرض ہے۔ معاشروں میں مدتوں بعد ایسے بے رِیا اور باہمت انسانوں کا جنم ہوتا ہے۔
مقدر ساز اوپر والاہے اور وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ فطرت کا فارمولا ہے کہ زلزلزلہ کٙہیں بھی بے سبب اور یکلخت نہیں آتا، مٙکنُون مقامات سے دھیرے دھیرے سرایت کرنے والا لاوا ایک دن بھونچال بن جاتا ہے اور زمین و زٙمن کو لرزہ بر اندام کرتے ہوئے سب کچھ بُھون ڈالتا ہے۔ کیا ہم دیکھ نہیں رہے کہ پٙے در پٙے ضمنی انتخابات نے، خان صاحب کی جماعت کے تاثر کا حشر نشر کر ڈالا ہے۔ یہ درست ہے کہ اقتدار و اختیار اور حالات و حوائج ایسے انتخابات پر اثرانداز ہوتے ہیں، مجموعی فضا پر بھی روائتی جوش و جذبوں کے بجائے، بیزاری غالب نظر آ رہی ہوتی ہے۔ انتظامی اور حکومتی ہتھکنڈے بھی" ہاتھ کی صفائ" بن کر دکھائ دیتے ہیں۔  مگر گھن گرج کر برسنے اور انتظامیہ کو عبرتناک انجام و عذاب کی" بشارتیں" سنانےوالے انقلابیو ! یہ عذر، ہٙزیمت کو چُھپانے کیلئے کافی نہیں۔ حالات بہت بدل چکے ہیں۔ نئ تہذیب اور نوجوان نسل،  سماج میں رائج فرسودہ نظام کے خلاف پابہ بغاوت ہے۔ غلامی کی جکڑبندیوں اور دھونس دھمکی کے حصار سے نکل کر، حُریت خیالی کا غلغلہ بڑھ رہا ہے۔ کیسے ممکن ہے کہ شہر شہر اور بستی بستی میں پولنگ بوتھوں پر متعین، آپ کے "قہرکنان" دھاندلی کو در آنے دیں یا ووٹ ڈالنے کیلئے، دورِ جہالت کی طرح، تلواروں کے سائے میں لائے جانے والے ووٹروں کی محصوری پر سیخ پا نہ ہوں۔ چلیں! ماحول مفلوج سہی مگر متحرک اور مُستعد میڈیا کے مابین، خبرسازی کا شوق اور سبقت یابی کا جنون تو بال کی کھال اتارنے کا خُوگر ہے۔ ان الیکشنوں میں میڈیا نے سرکاری  دھونس، دھاندلی اور دخل اندازی کی کتنی رپورٹس فائل کی ہیں ؟ ھلے گلے اور ہُا ھُو کی ہا ہا کار کے غبار سے ھٹ کر، حالات اور حقائق کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ یکے بعد دیگرے شکستوں کی سِیریز میں ، سرکار کے پٙھندوں اور دٙھندُوں سے زیادہ، ' تحریک ' کی طٙنابوں میں تٙنقِیص کا عمل دخل زیادہ کار فرما نظر آتا ہے۔ مینارِ پاکستان کا انقلاب آفریں جلسہ، بے لوث اور وارفتہ حال عوامی امنگوں کا عکاس تھا، اس کے بعد مگر پُلوں کے نیچے کافی پانی بہہ چکا ہے۔ تحریک انصاف کے " آج " اور " کل " میں بڑا فرق پڑ چکا ہے۔ کل لوگ آپ کا تعاقب اور پِیچھا کیا کرتے تھے اور آج، آپ لوگوں کو لانے کی تلاش میں نکلتے ہیں۔
2- نون لیگ اور برادرانِ ھمنوا کی قوالی میں سی پیک، سی پیک، سی پیک کے "پہاڑوں" کی تکرار اور گٙردان کے علاوہ، پٙلٙے میں پیچھے رہ کیا گیا ہے ؟ صرف ڈیڑھ برس باقی عرصہء اقتدار ! گنجی نہائے گی کیا، نچوڑے گی کیا ؟ زراعت زبوں حال اور دھقان جیتے جی دفن در مٙدفن، تعلیم، صحت اور توانائ کا تباہ حال  منظر، مختصر وقت میں معجزوں سے ہی بدل سکتا ہے۔ ترجیحات کا غلط تعین، اب گلے کا طوق بنتا جا رہا ہے !! بلدیاتی ادارے ، نام نہاد جمہوریت کا تمسخر اڑا رہے ہیں۔ " راہواں "  تکتے تکتے سال بِیت گیا اور حال نہ بدلا ! پنجاب میں نون لیگ کے ہزاروں منتخب کارکنان، اپنے اپنے محلے گلی میں، منہ چُھپا کر اور سر جھکا کر چلتے ہیں۔ ہوسِ اقتدار اور اِرتکازِ اختیار کے نشے میں قومی اور صوبائ سطح پر تین تین چار چار وزارتوں اور قلمدانوں پر قابض ہونے کے باوجود، بلدیات کے "کیڑے مکوڑوں" کو بھی نہیں بخشا گیا، اُن کے اختیارات اور صوابدیدی فنڈز پر پنجے گاڑ دیئے !! نون لیگی ورکرز اور نچلی سطح کے لیگی عمائدین " گویم مشکل, و گٙر نہ گویم مشکل" کے مخمصے میں مبتلا، حالتِ نزع سے دوچار ہیں!!!  ایسے حالات کی عکاسی اور آئینہ شوئ کے بعد ، وزیر اعلی' کے پی کے، آپکی جمہوریت پر تٙبٙرے بازی کرتا ہے تو قصور کس کا ہے ؟ اُس کی پکار پر " عزیز ہموطنو !" والی برادری خیمہ زن ہو کر مُقفل اور بند بلدیات کو بحال کر دیتی ہے تو "وہ" اچھے ٹھہریں گے یا آپکی نام نہاد جمہوریت ؟ انتظامی نکتہءنظر سے، یہی حال عدل و انصاف کے طلبگاروں کا ہے۔ ماڈل ٹاون کی ایف آئ آر،  مٙسندنشینوں کے معیارِ مٙعدلٙت کا مُنہہ چڑا رہی ہے، جو جمہوری حکام نہیں، "دستِ آمریت" کی مرھونِ احسان ہے اور جمہوریت کے ماتھے پر ایک اٙنمِٹ داغ، ملک کے بیشتر اداروں میں کرپش رچ بس چکی ہے۔ صوبہ کے پی کے میں ہویدا اصلاح کے علاوہ، ہر مقام پر بیشتر تھانے  بے لگام ہیں، پٹواری، پردھان منتری بنے پھرتے ہیں۔ منتخب نمائندوں کے توسط سے عوام کیلئے عطاکردہ منصوبوں پر " گِدھوں" کا راج ہے۔ ایکسئن دفاتر ، ایس ایز سیکرٹریٹس ، ضلعی ادارے ، غرضیکہ اُفقا" عٙمودا" ہر سطح پر میرٹ نہیں، من پسندوں کا کنٹرول ہے، ٹھیکیدار کا معیار، اس کی استعداد کار یا دیانتداری نہیں رہا بلکہ چاپلوسی، اقربا نوازی اور سب سے زیادہ نسخہ تیر بہدف، کمیشن میں قلب کی کشادگی اور فراوانی کا مظاہرہ ہے۔ ان اداروں کے گردونواح میں "صاحبوں"  کے دلال، ایسے مقامات کو اپنی چراگاہیں سمجھ کر ٹہلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ ٹینڈرز اور ٹھیکوں کی الاٹمنٹیں اندر کھاتے میرٹ پر نہیں، کمیشنوں کے حُجم اور ضٙخامت پر طے کی جاتی ہیں۔  اِکا دُکا بڑے شہروں کو چھوڑ کر، ہر جگہ ھُو اور حسرتوں کا سٙماں طاری ہے۔
خٙستہ چال اور خوار حال حکومت سے، عمران خان خواہ مخواہ خوف زدہ ہیں۔ جو حکمران ساڑھے تین برس میں عوام کو مطمئن نہیں کر پائے، ڈیڑھ برس کی بقیہ مدت میں کیا تیر مار لیں گے؟ در حقیقت، عمران خان اور کچھ دیگر جماعتیں نفسیاتی خوف میں مبتلا ہیں کہ حکومت کو مزید عرصہ سکون سے کام کرنے دیا گیا اور سونے پہ سہاگہ کے طور پر سی پیک کا کریڈٹ بھی اِستعدادِ کار کا حصہ بن گیا تو نون لیگ اگلے پانچ برس بھی محفوظ کر لے گی۔ اس لیئے وقت سے پہلے ہی حکومت کو مفلوج اور منجمد کر دینا چاہیئے، نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری۔ حالانکہ یہ مفروضہ سراسر وہم ہے۔ مسلم معاشروں کی اپنی نفسیات ہے، ہُما شُما کس کھاتے میں ؟ تاریخ کی تلخیاں تو ملاحظہ فرمائیں۔ نواسہء رسولؐ حضرت امام حسینً ایک طرف اور دنیا دوسری جانب۔ اس طرح  سیدنا عثمانؓ کے امت پر احسانات کا شمار کون کر سکتا ہے، عشرہ مبشر کی نوید سے نوازے ہوئے، جنت میں حضور ﷺ کے ساتھی اور بیعتِ رضوان کے حوالہ سے ایک منفرد اور پاکباز شخصیت۔۔۔۔مگر اس محسنِ امت کے آخری ایام میں، اُن سے کیا سلوک روا رکھاگیا۔  ایفا او ایثار کے اُس مثالی دور سے، خود غرضی اور احسان فراموشی کے موجودہ زمانہ تک تاریخ کا ورق ورق چشم کشا اور رونگٹے کھڑے کر دینے والا ہے ، دور نہ جائیں، حالیہ ادوار میں ایوب خان، بھٹو، مجیب، رضا شاہ پہلوی، سادات، صدام، قذافی اور کس کس کے عبرتناک انجام کو یاد کیا جائے ، سب اپنی اپنی خدمات اور تعمیرِ وطن کے دعویدار تھے مگر بے رحم گٙردوں نے کسی کا لحاظ نہیں رکھا  اور سب کو تاریخ کی گٙرد بنا دیا۔ بھٹو مرحوم بڑے جہاندیدہ، ہوشیار اور زیرک وزیراعظم تھے۔ 1977 میں وقت سے پہلے قومی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کر دیا، اپنی ہمہ جہت منصوبہ بندی اور کارکردگی کے زعم میں ، انہیں مکمل یقین تھا کہ کامیابی اُن کا مقدر ہے مگر انجام آپ کے سامنے ہے ۔1999 میں خود نواز شریف پر کیا بیتی، مُڑ کر دیکھا تو " قدم بڑھاوء نواز شریف، ہم تمہارے ساتھ ہیں" کہنے اور چُوری کھانے والے سارے مجنوں معدوم ہو چکے تھے ۔ !!! اس طرح کے موہوم مفروضوں پر مذبذب ہو کر قوم میں اشتعال اور ارتعاش پیدا کرنا قرینِ حکمت ہے اور نہ مُقتٙضائے مصلحت، " جِیو اور جِینے دو" انسانیت کی بقا کا ایک آفاقی اور ابدی نظریہ یے اور اسی کی پیروی میں ہم سب کی بھلائی پِنہاں ہے۔
عمران خان کی تمام توپوں کا رخ اس وقت شریف خاندان کی طرف ہے۔ واضح وجوہ میں مذکورہ بالا اندیشہ ہائے دُور دراز کے علاوہ، ایک اور کڑوی حقیقت بھی اُن کےمُنہہ کا ذائقہ خراب کر رہی ہے۔ مسٹر خان محسوس کرتے ہیں کہ ڈیڑھ سال بعد، انتخابی دنگل میں تحریک انصاف سے صرف نون لیگ نبرد آزما ہوگی کیونکہ پیپلز پارٹی، پسپائ پر گامزن ہے اور ڈھلوانوں پر لٙڑھکٙنیاں کھا رہی ہے۔ بلاول بھٹو کا جذب و جنوں اور تگ و تاز، قابلِ تحسین سہی، مگر  پیپلزپارٹی کا یہ کارڈ کامیاب نہیں ہو سکا ، ابھی وہ طفلِ مکتب ہیں اور پاکستان میں، میدانِ سیاست،  مٙنجھے ہوئے سُوماوءں کا اکھاڑہ بن گیا ہے ، لہذا زرداری صاحب اور انکے چند چیدہ اور جہاندیدہ رفقا اگر سر جوڑ کر نہ بیٹھے اور روبہ زوال حالات کو نہ سنبھالا تو پھر 2018ء کے قومی انتخاب میں، پیپلزپارٹی کے پاس سندھ کےکچھ علاقوں کے علاوہ،  ملک کے دیگر گوشوں سے فقط موروثی نشستیں ہی بمشکل مل پائیں گی، باقی اللہ اللہ، خیرسلا ۔ کراچی فی الحال افراتفری کی زد میں ہے۔ وہاں حالات جو بھی رخ اختیار کریں گے، مہاجر عصبیت کو  حذف نہیں کیا جا سکتا ، کسی نہ کسی شکل میں اور کسی نہ کسی نام پر اکثریت مجتمع رہے گی تاہم تحریک انصاف اپنے آپ کو ، ایم کیو ایم میں خلفشار کے بعد ، سب سے زیادہ بینیفِشری( مُستفِیض ہونے والی پارٹی ) تصور کرتی ہے۔ جماعت اسلامی کی منصوبہ بندی، مُنضبط استعدادِ کار اور دستیاب ورک فورس مُسٙلّم، مگر انتخابی معرکے میں اتحاد کے بغیر، بے حال رھے گی۔ انتخابی اتحاد کیلئے جماعت کی پہلی ترجیح تحریک انصاف ہوگی، اور شاید عمران خان کو بھی جماعت اسلامی ہی زیادہ راس آ ئے گی۔ مسٹر خان نے اگر اپنی روائتی ھٙٹ دھرمی اور اکڑفُوں دکھائ تو جماعت کا دوسرا چوائس نون لیگ ٹھہرے گی۔ وقت کم ہے اور تقاضے زیادہ۔۔۔ جماعت کو چاہیئے،  بسرعت اپنی صف بندی اور سٙمتوں کا تعین کرے۔  عمران خان اپنی پارٹی کے مقابلے اور مخالفت میں، بہرحال، نون لیگ اور اسکی موجودہ اتحادی جماعتوں کو وزن دیتے ہیں۔ اس لئے صرف نون لیگ کے در پئے آزار ہیں۔ پروپیگنڈہ مہم چلا کر، وہ نون لیگ اور عوام کے درمیان نفرت کی دیوار اور پھر حقارت کا حصار کھڑا کر دینا چاہتے ہیں، ورنہ پیشِ نظر، صرف ملکی مفاد اور قومی خزانے سے لوٹی ہوئ دولت کی بازیافت ہوتی تو مشرف دور، قاف لیگ، ایم کیو ایم اور سب سے بڑھ کر وہ، پیپلز پارٹی کو آڑے ہاتھوں لیتے۔ محض یہ بہانہ کہ برسرِ اقتدار حکمرانوں کا احتساب پہلے ہونا چاھیئے، بے تکا استدلال ہے۔ قومی بیت المال پر نقب زنی کے محاسبے اور معدلت کا عمل، زماں و مکاں یا چوروں میں امتیاز وتخصیص کے رویوں کا محتاج اور مُکلف نہیں، سب سے یکساں اور غیر متعصبانہ سلوک کا متقاضی ہے۔ صرف ایک جماعت اور ایک خاندا ن کا تعاقب اور تابڑتوڑ حملے کسی متعینہ نصب العین، مطلوب مقاصد اور مرغوب منازل کے حصول کی غمازی کرتے ہیں۔
3-  جناب عمران خان کی طرف سے، محرم کے بعد، اسلام آباد کی بندش کا اعلان، حکومت کو مفلوج کر دینے کی دھمکی، وزیر اعظم کے گھیراوء کے عِندیے اور دھمکیوں پہ دھمکیاں محل نظر ہیں۔ مستزاد، جلسہ گاہ کی سٹیج پر کھڑے ہو کر، ایک صوبے کے منتخب وزیراعلی' کا، بزبانِ خِویش، ملک میں مروجہ جمہوریت پر لعنتیں بھیجنا اور مارشل لاء کو مستحسن قرار دے دینا۔۔۔۔۔ایں ہمہ چہ معنی دارد ؟ پھر آشفتہ سٙری سے لبریز لب ولہجے کے ساتھ ، تمام جماعتوں سے مخاطب ہو کر یوں کہنا کہ ان سے رشتہ مانگنے نہیں گیا تھا، بیہودگی اور غیرشائستگی کی انتہا ہے ۔ ایسے الفاظ کے استعمال اور معاندانہ رد عمل سے عمران خان بخوبی آگاہ ہیں۔ وہ کسی بھی سیاسی جماعت کو خاطر میں نہیں لا رہے ! یہاں تک کہ ہمدمِ دیرینہ اور حلیفِ دھرنا، علامہ طاہرالقادری سے تعاون کا اصرار بھی نہیں کیا ۔ سطحیات کی سخن طرازی اور سینہ زوری کے پس منظر میں کارفرما ھلچل، سوچیں ، روپے اور زاویئے بڑے معنی خیز لگتے ہیں ۔ اس " مٹیریل" کو تاریخ کے سانچے میں ڈالیں تو وجود پا سکنے والا "ڈھانچہ" دھلا دیتا ہے مگر مثبت سوچ اور حسن ظن اختیار کرنا چاہیئے۔  ممکن ہے مستقبل میں ملک کے، وہ بلا شرکتِ غیرے ملاح بننے کے آرزو مند ہوں، اس وقت مگر چبھتا ہوا سوال اپنی جگہ قائم اور درپیش ہے کہ ملک میں لاقانونیت پیدا کر دینے کی تازہ دھمکیوں کےبعد،  کارزارِ عمل، کیا منظر پیش کرے گا اور اُس کے بعد کیا ہو گا ؟ "موسموں" کی سُن گُن رکھنے والے مفکرین اور دشتِ سیاست کے "صحرا نورد" معروضی حالات میں متجسس اور مُتوٙھِم ہیں۔ بلاشبہ سیاسی ذوق کے علی الرغم، کوئ بھی اقدام ناپسندیدہ قرار پائے گا لیکن ایسے حالات کی ذمہ داری، کس کے سر کا " سہرا " بنے گی اور کون ہو گا جو ماورائے آئین اقدامات کا موجب قرار دیا جائے گا ؟ دھرنے، دباوء اور شور شرابے کرنے والے تماشا گر یا جمہوریت کے نام پر، جبر و استحصال روا رکھنے اور احتساب سے استثنی' میں کوشاں رہنے والی خود سر قوتیں، یا پھر حصہ بقدر جثہ ھم سب۔۔۔۔۔!!! یہ ایک بحث طلب موضوع ہے۔ در پیش حالات، منڈلاتے خطرات، سماجی کیفیات اور عوامی تاثرات کی من جملہ منطقی مقتضیات کیا ہیں ؟ اپنے اپنے گریبان میں سب جھانکیں۔ کون کہاں کھڑا اور کتنا ذمہ دار ہے ؟ ھٹ دھرمیوں اور من پرستیوں کے بجائے انصاف اور اعتدال کا راستہ اختیار کریں، ورنہ قوانینِ قدرت سے کوئ ماورا نہیں۔ امنڈتے طوفان، جب بڑھتے ہیں تو کچے پکے مکانات ہوں یا چھوٹے بڑے نباتات، زمین پر رینگتے حشرات ہوں یا قٙوی الجُثہ حیوانات، سب کچھ بہا کے لے جاتے ہیں اور تباہی کے بعد،  ہنستی بستی آبادیاں، چٹیل میدانوں کا اداس منظر پیش کر رہی ہوتی ہیں ۔ ہمیں اپنے وطن پر وار کرنے کے بجائے پیار اور ایثار کرنا چاہئے۔ آئین کے تقدس کو تاراج کرنا، قومی خزانہ کو شِیرِ مادر سمجھ لینا، ملکی املاک کو لوٹنا  اور اثاثوں کو دیمک کی طرح چاٹنا، مسند اور مناصب کو بارِ امانت کے بجائے دادا جی کی جاگیر جان لینا، اداروں سے کھیلنا اور اعتدال و توازن کی جگہ، تٙصرُف و تجاوزات کا مرتکب ہونا ملک سے وفاداری نہیں، غداری کا شاخسانہ ہے۔ اسی طرح دھونس، دھشت گردی، لاقانونیت، انارکی، توڑ پھوڑ، سڑکیں اور راستے بلاک کرنا، قومی املاک پر ضربیں لگانا، نظامِ مملکت کو مفلوج کر دینے کی دھمکیاں دینا، کسی پارٹی کے مینڈیٹ پر شب خون مارنا، سماجی آداب اور روایات سے انحراف کا ارتکاب کرتے رہنا بغاوت ، بٙلوے اور سٙرکشی کے مترادف ہے۔ ہمیں منفی اور معاندانہ رویوں سے اجتناب جبکہ مثبت اور مخلصانہ برتاؤ کا پرچار کرنا چاہئے۔ قومی معاملات پر مباحثوں کے دوران بھی اہانت انگیز اور  زہرناک گفتگو کے بجائے، آداب اور شائستگی کے دائرہ میں رہتے ہوئے اختلافِ رائے کا اظہار کرنا چاہئے ۔ عدالتیں آزاد ہیں اور میڈیا ہر طرح کی اٙڑچٙن سے مبرا ، کسی بھی مسئلہ اور معاملہ پر عدالتوں پر دستک دینے میں کون مانع ہے؟ یا میڈیا تک رسائی میں کیا ہٙرج آڑے ہے۔ عدالتوں اور ایوانوں میں معاملات اٹھانے کے بجائے، شاہراہوں اور چوکوں پر دھرنو ں، دھما چوکڑیوں کا کیا جواز ہے؟ وقت کا ضیاع، سرمائےکی بربادی، معیشت کی تباہی ، معاشرے میں بےچینی اور تعلیم میں تٙنٙزُل کے ماسوا اور حاصل کیا ہوتا ہے ؟ تماشا گری پر ملک مضمحل اور دنیا مُتٙبٙسِم ہوتی ہے! اے کاش کہ ترقی یافتہ اقوامِ  عالٙم کی طرح،  ہمارا سماج بھی، کبھی تہذیب بداماں اور تمدن آشنا ہو سکے اور قوم قرونِ اُولی' کی سی درخشندہ روایات کا عملی مظہر محسوس ہونے لگے۔۔۔۔۔مگر !
منم  عثمان  ہارونی ، سرِ  بازار  می  رقصم
ملامت می کند خلقے، سرِ بازار  می رقصم

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *