عورت ٹانگیں کھول کر کیوں نہیں بیٹھ سکتی؟

شمائلہ غیاث

shumaila-ghayas

ہمارے ہاں سوسائٹی کے پاس ایک ہیٹ ہوتا ہے۔ جب لڑکی پیدا ہوتی ہے تو یہ ہیٹ اسے پہنا دیا جاتا ہے  اور اسے بچی، بھانجی، بھتیجی یا بہن جیسی شناخت ملتی ہے۔ جب وہ بڑی ہوتی ہے تو یہ شناخت بدلتی رہتی ہے۔ وہ لڑکی پھر بیوی، ماں، دادی بنتی ہے اور پھر ایک دن دنیا چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔

اسی طرح کے القاب مردوں کو بھی ملتے ہیں۔ وہ بیٹا،بھائی ، خاوند کہلاتے ہیں۔ لیکن زیادہ تر یہ چیزیں ان کی شناخت نہیں کہلاتیں۔ ایک شرابی مرد بھی کمپنی کا وائس پریزیڈنٹ ہو سکتا ہے۔ عام طور پر اس کی کامیابی اس کی شناختی علامت ہوتی ہے۔ لیکن عورت اپنے بایولوجیکل تعلقات کی بنا پر ہی اپنی شناخت رکھتی ہیں۔ مزید کھول کر بیان کرنے کے لیے مثال یہ ہے کہ صدف عزیز چاہے ایک بڑی کمپنی کی مالک بن جائے  لیکن وہ عزیز میاں کی بیگم کی حیثیت سے جانی جائے گی۔ اگر وہ اولمپکس میں گولڈ میڈل بھی جیت لے تو بھی لوگ اسے اس کے خاوند کے نام سے ہی جانیں گے۔ بات سمجھ آئی؟ یہ خطرے کی بات نہیں ہے کیا؟ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے عورتیں اپنے آپ کو اسی طرز میں ڈھالنے کی کوشش کرتی ہیں جو ان سے توقع کی جاتی ہے ۔

وہ اپنی شناخت کھو دیتی ہیں اور لوگوں کی توقعات کے مطابق اپنا رویہ اور کام کاج  اختیار کر لیتی ہیں۔ اس طرح بیٹھو، عورت بن کر رہو، ٹانگیں کھول کر مت بیٹھو، اونچی مت بولو، بال صاف رکھو، اونچی آواز سے مت ہنسو، عورتیں کھیلوں میں حصہ نہیں لیتیں، بال مت کٹوانا،  مائیں نوکری نہیں کیا کرتیں، ادھر مت جانا، میک اپ میں رہا کرو، میک اپ نہ کیا کرو وغیرہ وغیرہ۔ حال ہی میں ایک پاکستانی ایڈورٹائزمنٹ نے اس مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کی  اور ایک ایڈ بنائی جس میں ریگولر طلبا کو شامل کیا گیا جو لوگوں کو اپنے کام سے کام رکھنےکی ہدایات دے رہے تھے۔ وہ فیشن ایبل کپڑے پہن کر انارکلی کی گلیوں میں گئے  تا کہ لوگ انہیں دیکھ سکیں۔ لوگوں کو اپنے سپیس میں رہنے کی ہدایت دینا مقصود تھا لیکن لوگوں میں پھیلتی بے چینی بلکل واضح تھی۔ ایڈ کا حصہ بننے والی لڑکیوں کو بہت جلد دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں۔

 نتیجہ یہ نکلا کہ یہ ایڈ سرے سے ختم کرنی پڑی۔ اب ایچ اینڈ ایم کمپنی نے ایک دوسری ایڈ پر کام شروع کیا ہے تا کہ لوگوں کو دکھایا جا سکے کہ عورت کو کیسا ہونا چاہیے۔ she is a lady کے نام کی اس ایڈ میں ایک عورت  مرد کے کپڑوں میں ملبوس نظر آتی ہے۔ ایک دوسری عورت کھل کر ہنستی نظر آتی ہے۔ اس طرح ایڈ میں گہرے اور گورے رنگ کی عورتیں موجود ہیں جن کے مختلف جسامت اور قد ہیں۔ اس کے اندر ایک ایسی عورت ہے جس کے مسل ہمارے فلمی ہیروں سے بھی بڑھ کر ہیں۔ یہ عورت اپنے بیڈ پر بیٹھ کر چپس کھاتی ہے اور ایک ایسی عورت ہے جس کے سر پر بال نہیں ہوتے۔

ایک ایسی عورت بھی ہے جو بہت پر اعتماد طریقے سے بورڈ روم میں فائل ہاتھ میں تھامے داخل ہوتی ہے جہاں لوگ میٹنگ کے لیے اس کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ اس ایڈ میں ایک مخنث بھی موجود ہے ۔ جو ایسی مخلوق ہے جس کے لوگ اب یہ سمجھ پا رہے ہیں کہ وہ بھی اس دنیا میں رہتے ہیں۔ عورتوں کے اس کے علاوہ بھی بہت سے روپ ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ ہم پاکستانی لوگ اس ایڈ سے شاید پوری طرح متفق نہ ہوں لیکن ہم اس سے کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ہم ایک منفرد شخصیت رکھتے ہیں  اور اپنے کام سے کام رکھنے کا پورا حق ہمیں حاصل ہے۔ ہمیں اس کے لیے کسی قسم کے ہیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک اچھی ماں کمپنی بھی سنبھالنے کی صلاحیت کی مالک ہو سکتی ہے۔ ضروری نہیں کہ پیار کرنے والی بیوی ہر وقت میلےکپڑوں میں ہی ملبوس رہے۔ ایک دادی گانا گا سکتی ہے اور ڈانس بھی کر سکتی ہے۔ ایک گائیک لڑکی کارٹونسٹ یا باکسر بھی بن سکتی ہے۔ ایک عورت جو چاہے بن سکتی ہے۔ وہ اپنی آپ کو کسی بھی روپ میں ڈھال سکتی ہے۔ وہ جو چاہے وہی بننے کا پورا حق رکھتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *