ڈاک کا عالمی دن

atif-rehman

آج جس دور میں ہم جی رہے ہیں وہ بہت ہی جدید ہے۔ ساری دنیا ایک Click کے فاصلے پر ہے۔ ہم اپنے انگوٹھے کو موبائل پر حرکت دیتے ہی ساری دنیا کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہیں اور چند سیکنڈوں میں اس پر تبصرہ بھی کر دیتے ہیں۔ آج ہم دنیا کے جس بھی کونے میں ہوں فیس بک ،ایموں، واٹس اپ جوائن کرتے ہی دوسرے کونے میں پہنچ جاتے ہیں۔ نہ صرف گفتگو ممکن ہوتی ہے بلکہ ساتھ ساتھ براہ راست دکھائی بھی دیتے ہیں ۔ پچھلے 15 سے 20سالوں کی ترقی نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہم کو پتا چلے گا کہ دنیا بہت سی سست چل رہی تھی۔ معلومات ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے تک کئی دن،مہینے لگ جاتے تھے۔ ایک فرد کو مقرر کیا جاتا تھا جو معلومات کے تبادلے کا کام کرتا تھا۔ ایک دور تھا جب لوگ کبوتروں کے ذریعے بھی اپنے پیغام ،جذبات اور احساسات دوسروں تک پہنچاتے تھے۔ پھر ڈاک کا زمانہ آ گیا۔ لوگ ایک دوسرے سے خط و کتابت کے ذریعے بات کرنے لگے۔ گاؤں کا ڈاکیا سارے گاؤں کا حال جانتا تھا کیونکہ وہ نہ صرف ڈاک دینے جاتا تھا بلکہ وہ خط پڑھ کر بھی سناتا تھا اور اس خط کا جواب بھی وہ ڈاکیا ہی لکھتا تھا۔
ہر سال 9اکتوبر کو ورلڈ پوسٹ ڈے منایا جاتا ہے۔ یہ دن 1874ء یونیورسل پوسٹل یونین CPUکی سالگرہ کی مناسب سے رکھا گیا۔ اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں کو بتانا ہے کہ کس طرح ’’ڈاک‘‘ ہماری روزمرہ زندگی میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور ہمیں ہر کاروبار میں اس کی ضرورت پڑتی ہے۔ہر سال 150سے زیادہ ممالک اس دن کو مناتے ہیں اور نئے ٹکٹ نکالے جاتے ہیں۔ مصر میں دنیا کی پہلی پوسٹل دستاویزات255قبل مسیح ملتی ہیں لیکن اس سے پہلے بھی ڈاک کا نظام بادشاہوں اور شہنشاہوں کے لیے موجود تھا۔جدید ڈاک کا نظام Sir Rowland Hillنے 1840ء میں متعارف کروایا۔ اور Rowland Hillنے ہی دنیا کا پہلا ٹکٹ نکالا ۔
جب ڈاک نے ترقی کی توخط و کتابت کا سلسلہ شروع ہوا۔یہ صرف خط ہی نہیں تھے بلکہ اس وقت کی تاریخ لکھ رہے تھے۔ خطوط کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اہم شخصیت کے خطوط پر کتابیں شائع ہوئی، جس میں غالب کے خطوط، خطوطِ آزاد، جوش ملیح آبادی کے خطوط، علامہ اقبال نے جاوید اقبال کو جو خطوط لکھے وہ شامل ہیں۔ یہ نہ صرف خطوط کا درجہ رکھتے ہیں بلکہ یہ تاریخ کو قلم بند بھی کرتے ہیں۔

Image result for old post man

پاکستان پوسٹ آفس برصغیر کی حکومت کے پرانے اداروں میں سے ایک ہے۔1947ء سے اس نے ڈویلپمنٹ پوسٹ ٹیلی گراف کے نام سے کام کا آغاز کیا۔ 1962ء میں یہ ٹیلی گراف، ٹیلی فون سے الگ ہو کے آزادانہ ڈیپارٹمنٹ بن گیا۔ پاکستان پوسٹ آفس سارے ملک میں پھیلا ہوا ہے اور 13000پوسٹ آفس رکھتا ہے۔ پاکستان پوسٹ آفس یونیورسل پوسٹل یونین کی حکمت عملی پر کام کرتے ہوئے وقت پر ڈاک پہنچاتا ہے اور مناسب پیسے چارج کرتاہے جو ہر ایک کی پہنچ میں ہوں۔پاکستان پوسٹ آفس ہر سال نئے یادگاری ٹکٹ نکالتا ہے ۔پاکستان پوسٹ آفس نے 2016ء میں جو ٹکٹ جاری کیے ان میں 22مارچ2016ء کو پانی کی آگاہی کے لیے8روپے کا ٹکٹ نکالا گیا ۔ 22اپریل کو کتابوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے نیشنل بک فاؤنڈیشن کے نام سے جاری ہوا ۔جس کا لوگوBook Leads to Peace تھا۔ تاریخ پاکستان کی اہم شخصیت دیوان بہادر ایس پی سنگھاکے نام سے اپریل 26کو جاری کیا۔محسن انسانیت عبدالستار ایدھی کی وفات کے بعد 14اگست 2016ء کو عبدالستار ایدھی کی تصور والا ٹکٹ جاری کیا گیا۔
ہر سال ایک تھیم کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ 2015ء میں ورلڈ پوسٹ ڈے کا تھیم 147Tell us about the world you want to grow up in148.تھا۔دنیا نے جتنی بھی ترقی کر لی ہے لیکن اس کے باوجود ہم پوسٹ اہمیت کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔آج بھی ساری سرکاری اور نیم سرکاری دستاویزات ہمیں پوسٹ کے ذریعے ہی موصول ہوتی ہیں اور تمام اہم کاموں میں بھی پوسٹ کا سہارا لیا جاتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *