20 سال انتظار کے بعد۔۔۔۔

mukhtar-chaudhry
میں آج پہلی بار کچھ ایسا لکھنے جا رہا ہوں جو کسی بڑی ویب سائٹ پر لوگ دیکھیں گے  اور شاید کوئی نامی گرامی لکھنے والی شخصیت بھی پڑھ لے ۔ تو پھر بندہ اندازاہ تو لگا ہی سکتا ہے نا کہ یہ کام کتنا مشکل ہوگا ۔ لیکن امید ہے کہ پڑھنے والے حضرات مجھے ایک نیا اور عام عوام کا فرد ہونے کے ناطے سے درگزر کریں گے ۔ میرے ذہن میں بیشمار موضوعات ہیں جن پر لکھنا چاہتا ہوں کیوں کہ ہمارے پیارے وطن میں حقیقی مسائل کی ی کوئی کمی نہیں ہے لیکن بہت سے لکھنے والے حقیقی مسائل پر لکھنے کی بجائے اپنے اپنے مشاغل پر،  اسکرپٹ کے مطابق یا پھر بازار کے بھاو دیکھ کر لکھتے ہیں۔ چلو پھر میں آج اپنا پہلا کالم لکھنے اور پڑھنے والوں ہی کے موضوع پر کیوں نہ لکھ دوں!  پاکستان میں لکھنے اور پڑھنے کا رواج بہت کم ہے اسی لئے میں بھی 20 سال سوچنے کے بعد ہی کانپتے ہاتھوں سے قلم تھام رہا ہوں ۔ جہاں تک پڑھنے والوں کا تعلق ہے تو ایک عام اندازے کے مطابق 50% سے زیادہ آبادی پڑھ ہی نہیں سکتی اور باقی میں سے لگ بھگ 60% کی اخبارات تک رسائی نہیں ہے اور اس کے بعد جو بچ جاتے ہیں وہ اپنے اپنے عقیدوں اور اپنی پسند کے مطابق پڑھنا پسند فرماتے ہیں اور اگر کوئی عقل کی بات سامنے آجائے تو پھر سمجھنے کے لئیے اتنی محنت کون کرے ۔ اسی طرح اس ملک میں کتاب پڑھنے کا کوئی رواج ہی نہیں ہے تو جس ملک میں کتاب، اخبار یا کالم پڑھنے کا رواج نہ ہو وہاں معلومات کا تبادلہ کیسے ہو گا؟  وہاں ذہنوں کی نشوونما کیسے ہوگی؟  وہاں گفتگو کا ڈھنگ کہاں سے آئے گا؟  لوگ اپنی ذمداریاں کیسے سمجھ پائیں گے؟  لوگوں میں برداشت کیسے ہوگی؟  لوگوں میں صحت اور صحتمند رحجانات کا ادراک کیوں کر آئے گا؟  سو میری تمام لکھنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ لکھنے کے بعد خود کو سرخرو نہ سمجھ لیا کریں آپ سب کو اپنے قارئین کی ایک فوج تیار کرنا ہوگی ۔ ورنہ آپ کا لکھا وقت کے ضیاع کے علاوہ کچھ نہ ہوگا ۔ اسی طرح حکومت کو بھی تعلیم،  کتاب اور معلومات پر توجہ دینی ہوگی ۔ بازاروں میں کتابوں کی دکانیں نمایاں ہونی چاہیے اور ان کے اندر کچھ معیاری کتابیںبھی ہونی چاہیے تاکہ لوگوں میں پڑھنے کا شوق پیدا ہو ۔ پھر شاید پڑھنے والوں میں کچھ سمجھنے والے بھی ہو جائیں اور کچھ عمل کرنے والے بھی تب جا کر ملک میں صحت مند تبدیلی ممکن ہو سکے گی ۔ ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہمارے ملک میں کچھ لکھنے والے حضرات ہیں جو لوگوں کے(عام عوام) کے حقیقی مسائل پر بھی لکھتے ہیں لیکن اس کا اثر تب ہی ممکن ہوگا جب ان کو پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے والے بھی ہوں گے ۔ میرا سوال ہے کہ لاہور جیسے  بڑے شہر میں کتنی لائبریری ہیں؟  اگر لاہور میں نہیں تو پھر چھوٹے شہروں اور دیہات کا حال کیاہوگا؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *