خوش فہمی  کی حد

abbas-nsir

اگر آپ خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں  تو پہلے آپ کو چھوٹی نعمتوں پر شکر گزار ہونا چاہیے۔ جی ہاں، چھوٹی نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کیجیے۔ بڑے خواب آپ کو مایوسی کا شکار کر دیں گے۔ جب میں نے جمعرات کے دن ڈان سکوپ کا مطالعہ کیا جس میں سولین اور سینئیر ملٹری لیڈرشپ کے  بیچ ہونے والی ملاقات کی تفاصیل درج تھیں جس میں پاکستان کو بین الاقوامی تنہائی سے بچنے کے لیے جو مشکلات دو چار ہیں جس کی وجہ پاکستان میں موجود جہادی سرگرمیاں ہیں کو زیر بحث لایا گیا تھا تو مجھے ایک  سکون محسوس ہوا۔ سکون اس بات پر کہ پاکستان کے اندرونی مسائل ہمارے سیاسی اور دوسرے اداروں کے رہنماوں کو معلوم ہو چکے تھے اور ان مسائل سے چھٹکارے کے لیے تدابیر اختیار کرنے کے مختلف زاویوں کو پرکھا جا رہا تھا۔ اسی اخبار میں پچھلے دن کی ایک خبر کی تردید بھی کی گئی تھی۔

یہ بات اس لیے قابل سمجھ تھی کہ ایک مسائل میں گھری حکومت کے لیے  ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہارڈ بال کھیلنا اتنا آسان کام نہیں ہے۔ قومی مفاد کے اہم معاملات میں ذاتی دلچسپی کے مسائل کو گھسیڑنا میری سمجھ سے باہر ہے۔ لیکن سول ملٹری تعلقات کی آپس میں جنگ کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات البتہ اچھی ہے کہ یہ مسئلہ زیادہ دیر قابل بحث نہیں رہ سکا۔ ڈان نیوز اور جیو ٹی وی نے جس چیز کو اپنی ہیڈ لائن کے طور پر پیش کیا تھا اگلے ہی روز اخبار میں اس کی وضاحت پیش کر دی گئی اور گزشتہ خبر سے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ کر دیا گیا۔ ملاقات کے ایجنڈا کے مین پوائنٹس نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر  جنرل ناصر جنجوعہ اور آئی ایس آئی چیف رضوان اختر  نے پیش کیے۔

جہادی گروپوں پر روک لگانے کے لیے انہوں نے صوبائی حکومتوں اور دفاعی شعبہ سے مل کر کام کرنے کا عہد کیا۔ اس موقع پر وہ تمام وجوہات زیر بحث آئیں جن کی بدولت امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک دہشت گردی کے خلاف ہماری کوششوں کو کافی نہیں سمجھتے  اور جس بنا پر ہمارا دوست ہمسایہ چین بھی تحفظات کا شکار نظر آتا ہے۔ سب سے اہم مسئلہ چین کے تحفظات کو دور کرنا تھا کیوں کہ چین پاکستان میں سی پیک کے 50 ملین ڈالر کے پراجیکٹ پر کام میں حصہ دار بنا ہوا ہے جس سے پاکستان میں معاشی حالت بہت حد تک بہتر ہو جائیگی۔ فوج کو معلوم ہے کہ امریکہ سے بیش بہا فنڈز ملنے والا دور اب ختم ہو چکا ہے  اور ملک کو درپیش بیرونی اور اندرونی خطرات سے بہتر معیشت کے ذریعے ہی نمٹا جا سکتا ہے۔ اسی لیے سی پیک کے معاملے میں فوج اور سول حکومت ایک پیج پر ہیں اور اس پراجیکٹ کی کامیابی کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔

مجھے بہت امید ہے کہ پاکستان اگر جہادی گروپوں سے نجات چاہتا ہے تو  اسے چاہیے کہ ان گروپوں کے مالی مدد پہنچانے والے ذرائع پرروک لگائے اور ان عناصر کو مذاکرات کے ذریعے  اور چھوٹے چھوٹے اقدام کے ذریعے اپنے کنٹرول میں لانے کی کوشش کرے۔ کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ اس وقت جہادی تنظیموں کے خلاف کاروائی کا مطلب بھارت کے سرجیکل سٹرائیک کے دعوی کے بعد دباو میں آ کر ایسے اقدامات اٹھانے کے برابر گردانا جائیگا۔ یہ ممکن ضرور ہے لیکن پاکستان کو واپس راہ راست پر ڈالنے کے لیے یہ کر گزرنا ضروری ہے۔ اس طریقے سے پاکستان کا مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے بارے میں موقف مزید مضبوط ہو گا   کیونکہ آج تک جب بھی مقبوضہ کشمیر میں تحریک زوروں پر ہوتی ہے تو اٹیک کا الزام پاکستان پر لگا کر اس تحریک کو ثبوتاژ کر دیا جاتا ہے۔کچھ لوگ ایسے ہیں  جو سمجھتے ہیں کہ جہادی تنظیموں کے خلاف کاروائی سے کچھ نہیں ہو گا  اور ملٹری سول حکومت کو  دو مواقع پر اقتدار سے محروم کر دے گی۔ پہلی 28 اکتوبر جب دفاع پاکستان ایک ریلی منعقد کرتے گی اور یہ جمعہ کا دن ہونے کی وجہ سے حاضرین کی تعداد بھی بہت زیادہ ہو جائیگی اور دوسری 30 اکتوبر جب عمران خان اسلام آباد کو بند کرنے کی دھمکی کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کریں گے۔

چالین چلنے والے افراد یہ سمجھتے ہیں کہ ان مواقع پر اگر زرہ سی بھی گڑ بڑ ہوئی تو  سول حکومت کے خاتمہ پر منتج ہو گی کیونکہ انہیں ریلیوں کو آرمی چیف کی ریٹائر منٹ سے بھی جوڑا جا رہا ہے جو اس سال نومبر میں متوقع ہے۔ میں آپ کو بتا دوں کہ میں ہمیشہ بہت پر امید رہتا ہوں۔ اسوقت میرا خیال ہے کہ نواز شریف  پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لیے اپنے آپ کو پیش کر دیں گے اور جنرل راحیل شریف وقت پر ریٹائر ہو کر عوام کے دل میں مزید عزت پیدا کر لیں گے اور کسی بھی توسیع کی پیشکش کو قبول کرنے سے گریز کریں گے۔ آرمی اور اس کے نئے چیف ملک کی ترقی کے لیے مزید بہتر پالیسی پر عمل درآمد یقینی بنائیں گے۔ ایک مضبوط معیشت والے ایٹمی ملک کو غیر مستحکم ذرائع اور غیر ریاستی عناصر پر کبھی انحصار نہیں کرنا پڑتا۔ مجھے اپنے ملک سے یہی امید ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *