مظہر حسین کو بھول جانا چاہئیے ۔ ۔ ۔

Muhammad Umair

مظہر حسین کا تعلق اسلام آباد کے نواہی علاقے سہالہ سے تھا۔ 1997 میں اسماعیل نامی شخص کے قتل کا الزام مظہر حسین پر لگا۔ پولیس نے مظہر حسین کو گرفتار کیا،مظہر حسین الزامات کی تردید کرتا رہا تاہم پولیس نے اسے مجرم قرار دیتے ہوئے علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کردیا۔پولیس کی ضمنیوں اور تفتیشی پولیس افسر کے بیان پر مظہر حسین کو سزائے موت سنادی گئی۔مظہر حسین کی والدہ پولیس افسران کے سامنے روتی رہی کہ اس کا بیٹا بے گناہ ہے،اس کاوالد مدعیوں کی منتیں کرتا رہا کہ وہ ایک بے گناہ شخص کو سزادلو ارہے مگر اس غریب پر کسی کو رحم نہ آیا۔مظہر حسین کے دو کمسن بیٹے اپنے ماں باپ پر گزررہی قیامت سے بے خبر تھے۔بدقسمت مظہر حسین اپنے بیٹوں کوکھلھلاتے ہوئے نہ دیکھ سکا،نہ اس بدنصیب کو اپنے جگرگوشوں کے لئے کھلونے لانے کا وقت ملا۔نہ تو اسے بچوں کو ہوا میں اچھالنے کر خوش کرنے کووقت ملا اور نہ ہی وہ ان کو سکول چھوڑنے جاسکا۔اس کی بیوی ہر پیشی کے دن خدا کے حضور سجدے میں جاکر رہائی کی دعائیں مانگتی رہی مگرمجسٹریٹ سے سیشن کورٹ ،سیشن کورٹ سے ہائی کورٹ ہر عدالت نے علاقہ مجسٹریٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔اس دکھیاری کی دعاسے کوئی عدالت نہ ہلی نہ کسی کا دل دہلا نہ کسی کو رحم آیا۔mazhar

کیس کی پیروی کرتے ہوئے مظہر حسین کا والد دارفانی سے کوچ کرگیا۔اسکی والدہ کی بینائی چلی گئی۔اسکی بیوی اپنے زیورات بیچ کر وکیل کی فیس ادا کرتی رہی۔گھر میں فاقے پڑنے لگے مگر انصاف نہ ملا۔مظہر حسین کی گرفتاری کے وقت اس کے بڑے بیٹے کی عمر8سال تھی جبکہ چھوٹے بیٹے کی عمر6ماہ تھی۔ان دونوں کو کبھی بھی اپنے باپ کی شفقت نہ مل سکی ،انہوں نے اپنے باپ کو ہمیشہ سلاخوں کے پیچھے ہی دیکھا۔قتل کیس چلتے چلتے2010میں سپریم کورٹ پہنچ گیا۔مگر ملک کی سب سے بڑی عدالت کو حقائق تک پہنچتے 6سال لگ گئے اور چند روز قبل سپریم کورٹ نے ناکافی شواہداور عدم ثبوتوں کی بناء پر مظہر حسین کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔وکلاء خوشی خوشی رہائی کا پروانہ لیکر جیل پہنچے تو معلوم ہوا ہے کہ مظہر حسین تو 2سال پہلے انتقال کرچکا ہے۔دنیا میں انصاف سے پہلے خدا نے اسے اپنی عدالت میں طلب کرلیا۔
مظہر حسین کی والدہ،والد،بیوی،بچوں اور بھائیوں کو انصاف نہیں ملا،مظہر حسین پولیس کے بوسیدہ نظام تفتیش اور عدالتی راہداریوں کی بھینٹ چڑھ گیا۔اسے اس کے جرم نے نہیں اس نظام نے موت کے گھاٹ اتاردیا۔مظہرحسین اکیلا نہیں جس کو اس نظام نے پھانسی دی ہے،عدالتوں اورتھانوں کا چکر لگائیں تو آپ کو ہر شخص مظہر حسین ہی نظر آئے گا،دادا نے کیس دائر کیا تھا تو اب پوتا کیس کی پیروی کررہا ہے،وکیلوں کی فیس دیتے گھروں میں فاقوں کی نوبت آجاتی مگر انصاف نہیں ملتا۔بزرگ کہتے ہیں کہ بیٹا 302کے کیس میں ہرے درخت خشک ہوجاتے ہیں مگر یہ کیس ختم نہیں ہوتا۔مظہر حسین کے کیس میں جمہوریت کا دور بھی آیا،مارشل لاء بھی لگا،اس کے کیس کے دوران پاکستان کی تاریخ کے سب سے طاقتور چیف جسٹس کا دور بھی آیا،اس کیس نے پیپلز پارٹی کا دور بھی دیکھا،نواز شریف کو دور بھی دیکھا۔اس کیس نے سب کو دیکھا مگر کسی نے اس کیس کو نہیں دیکھا۔عوام کو گھر کی دہلیز پر انصاف فراہم کرنے کا وعدہ کرنے والے حکمران،ہماری عدالتیں اور پولیس سب مظہر حسین کی مجرم ہیں۔کیا کوئی ان کو سزا دے گا؟کیا کوئی اس نظام کو بدلنے کی سعی کرے گا؟کیا کوئی اس تفتیشی پولیس افسر،علاقہ مجسٹریٹ اور عدالت کے جج سے سوال پوچھے گا ؟کیا ان میں سے کسی کا احتساب ہوگا؟ان سوالوں کا جواب’’ نہیں ‘‘ ہے ۔کچھ بھی نہیں ہوگا،چند دن کی بات ہے میں ،آپ،ہماری عدالتیں مظہر حسین کو بھول جائیں گی،ہمیں مظہر حسین کو بھول ہی جانا چاہیے اس نے ہمیں کیا دیا ہے کہ اسے یاد رکھا جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *