گدھا کون؟

khurrum butt

سنا ہے گدھے سے کسی نے پوچھا کہ تم گدھے کیوں ہو تواپنے لمبے کان ہلا کر کہنے لگا کیونکہ میں گدھا ہوں۔ گدھے کے گدھے ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اسکی ولادت ہی گدھی کے ہاں ہوئی۔وگرنہ وہ شیر ،لومڑ یا ہرن بھی ہو سکتا تھا ۔ نو عمری میں وہ گدھے کا بچہ کہلاتا ہے ۔اگرچہ تادم مرگ وہ گدھے کا بچہ ہی رہتا ہے لیکن جوان ہونے پر اسے گدھے کے بچے کی بجائے صرف گدھا کہ کر پکارا جاتا ہے ۔ گدھے کے چہرے پر ایک عجیب سی سنجیدگی ہمیشہ طاری رہتی ہے۔بعضوں کا کہنا ہے کہ گدھے کی آنکھیں رنجیدہ ہوتی ہیں لیکن انہیں ہم سنجیدہ بھی کہ سکتے ہیں۔ گدھا ایسا جانور ہے جسکا رویہ ہمیشہ گدھوں والا ہی رہتا ہے ۔

انسان اور گدھے کا ساتھ نیا نہیں بلکہ آدم سے لے کر اب تک گدھا انسانوں کی لازوال خدمت پر معمور ہے۔ راستوں کا یاد رکھنا مسلسل اور انتھک محنت کرنا اور مالک کی وفاداری گدھے کی ایسی خصوصیات ہیں جو اسے انسانی معاشرے میں عزت تو نہ دلا سکیں لیکن ان خصوصیات ہی کی وجہ سے وہ انسان کی غلامی پر مجبور ہے ۔محض دو وقت کے گھاس پھونس کے عوض گدھے کو انسان کی غلامی کرتے ہزاروں سال بیت گئے لیکن وہ پھر بھی گدھا ہی رہا ۔ اگرچہ بعض اوقات ضرورت کے وقت لوگ گدھے کو بھی باپ بنا تو لیتے ہیں لیکن محض ضرورت پوری ہونے تک ۔گدھے کے سر سے سینگ غائب ہونا گدھے کے عدم تشدد والے رویہ کی دلیل ہے۔گدھے کے صبر کی انتہا کہ انتہائی غصے میں بھی محض ایک آدھ دو لتی ہی جھاڑتا ہے وہ بھی شاز و نادر ۔گدھے کی زندگی میں شاید دو ہی خوشیا ں ہیں پہلی خوشی تو گدھی ہے جسے دیکھتے ہیں وہ ڈھینچوں ڈھیچوں کرنے لگتا ہے اور دوسری خوشی ریتلی مٹی ہے جس میں بہت شوق سے وہ الٹ بازیاں لے کر غسل کرتا ہے ۔ کچھ دن قبل ایک گدھے والے کو گدھے پر ڈنڈے برساتے دیکھا ۔گدھا چونکہ شاید صراط مستقیم کا قائل ہے اس لیے ناک کی سیدھ میں چل رہا تھا اور اس کی کمر پر اسکی طاقت سے کچھ زیادہ ہی بوجھ لدا ہوا تھا میں نے پوچھا بھائی بوجھ اٹھا کر چل تو رہا ہے کیوں ڈنڈے مار رہے ہو بے چارے کو تو کہنے لگا کہ کیونکہ چلتے گھوڑے کو چابک نہیں مارنی چاہیے اور یہ گدھا ہے میں اسکی اس منطق پر خود کو گدھا محسوس کرنے لگا۔انسان کے گدھے پر ڈھائے جانے والے جبر اور ظلم و ستم کی ایک طویل داستان ہے ۔ اسکے گوشت کے بنے مزیدار پکوانوں سے لے کر اسکی کھال کے جوتوں اور جیکٹوں تک۔اسکی چربی کی کاسمیٹکس جسے انسان جانے انجانے میں اپنے چہروں پر ملتے ہیں۔مال برداری کے ساتھ ساتھ اسے ریڑھوں پر بھی جوتا جاتا ہے۔میدانوں اور پہاڑوں پر گدھا انسان کے لیے یکساں خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ ان سب خوبیوں سمیت نبیوں کو اپنی پیٹھ پر سواری کروانے کے باوجود عزت و احترام کے حوالے سے گدھے کو انسانوں میں وہ مقام نہ مل سکا جودوسرے خونخوار جانوروں اور پرندوں نے پایا۔

بھنبھوڑکر، نوچ نوچ کر کھانے اور دوسرے کو شکار کرنے والوں کو انسانی معاشرے نے وہ مقام دیا کہ عقل حیران رہ جاتی ہے ۔کوئی خود کو شاہین تصور کرتا ہے تو کسی کا نام شیر خان ہے اورکسی کو اسکی چیرہ دستیوں کے باعث چیتے کا خطاب دیا جاتا ہے حیرت اس بات پر کہ دانشوروں اور شاعروں نے بھی اپنی تحریروں میں شیر وں ،چیتوں ،شاہینوں اور ان جیسے خونخواروں کو ہی رول ماڈل بنا کر پیش کیا۔ یعنی طاقت اور جبر یہاں باعث تکریم ہے معاشروں میں جبر اور تشدد شاید اس لیے بھی زیادہ ہے کہ کہ رول ماڈل جانور بھی حملہ کرنے والے اور اور نوچ کھانے والے ہی بنائے گئے۔ اور یوں گدھا بے چارا حالات کا مارا اپنی تمام تر مشقت انسان دوستی اور وفاداری کے باوجود خود کو نہ منوا سکا کہ کہ کوئی طرم خان اپنے بیٹے کو میرا پیاراگدھا بیٹا کہ کر پکارے بلکہ ہر کوئی اپنے بچے کو شیر پتر ہی کہتا ہے چاہے بیٹے میں گیدڑ کی سی خصلتیں ہی کیوں نہ پائی جاتی ہوں ۔سکولوں میں اساتزہ ہوم ورک نہ کرنے والے طالب علم کوازرا تضحیک گدھے کا لقب دیتے وقت یہ بالکل بھی نہیں سوچتے کہ گدھے نے کبھی کام چوری نہیں کی ۔وہ تو مسلسل اور انتھک محنت کا استعارہ ہے۔ اگرچہ امریکہ نے اس حوالے سے گدھے کی ذات پر ایک احسان عظیم یوں کیا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی نے اپنا انتخابی نشان گدھا رکھ لیا وہ بھی شاید اس لیے کہ وہ یہ ثابت کر سکیں کہ وہ گدھے نہیں ہیں محض انکا انتخابی نشان گدھا ہے۔

کیا کبھی کسی نے یہ سوچا ہے کہ جس کو ہم گدھا کہتے ہیں کیا وہ ہمیں انسان بھی سمجھتا ہوگا ؟سوال اگرچہ مشکل ہے لیکن اسکا جواب ہم تلاش کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے ہمیں خود پر گدھے کی سی سنجیدہ کیفیت طاری کرنی ہو گی ۔ گدھے کی نظر سے خود کو اور دنیا کو دیکھنا ہو گا۔اگرچہ انسان اشرف لمخلوقات ہے لیکن اپنے ارد گرد نگاہ دوڑائیں تو لاکھوں کروڑوں میں ایسے کتنے ہیں جو آپ کو اشرف مخلوق کے منصب پر پورے اترتے دکھائی دیں گے؟ یعنی انسان کو اپنے فکر و عمل سے ہی خود کو اشرف ثابت کرنا ہے ۔ہو سکتا ہے جب ہم ایک سنجیدہ گدھے کی نگاہ سے اپنے معاشرے کو دیکھیں تو ہمیں انسانوں کی کھال اوڑھے خونخوار بھیڑیے، شیر،چیتے لکڑ بھگڑ ،بد مست ہاتھی، سانڈ ،گینڈے، مکارلومڑ اور بندر بھی دکھائی دیں جنہوں اپنی بھوک اور حوس کی بنیاد پر بہت سے معصوم ہرن اور خرگوش نما انسانوں کو اپنی خوراک بنا رکھا ہے۔جو فصلوں کھیتوں ، کھلیانوں اور چراگاہوں پر قابض ہیں ۔ گدھے کی سی سنجیدہ آنکھ سے دیکھنے پر آ پکو بہت سے گدھے نما انسانوں کابھی ہجوم دکھائی دے گا جن پر ضرورت سے زاید بوجھ لدا ہوا ہے اور سسک سسک کر زندگی کے ریڑھے کو گھسیٹ رہے ہیں۔اور ان پر مسلسل رعونت اور ظلم کے ڈنڈے برسائے جا رہے ہیں۔چند لومڑوں نے شیروں اور اس جیسے خونخواروں سے مل کر کتنے ہی محنتی ایماندارگدھوں کو محض دو وقت کے کھانے کے عوض یرغمال بنا رکھا ہے۔اور یہ گدھے اس لیے گدھے ہی ہیں کہ یہ خونخوار نہیں بن سکتے تھے

کیا کبھی کسی نے سوچا ہے کہ جس کو ہم گدھا کہتے ہیں کیا وہ ہمیں انسان بھی سمجھتا ہو گا؟ یا پھر ہو سکتا ہے کہ گدھو ں کو ہم جیسے ا نسانوں کے بیچ رہ کر اپنے گدھے ہونے پر فخر ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *