طلاق۔۔۔طلاق۔۔۔طلاق(چوتھا اور آخری حصہ )

مہک ایس شیخ

tt

اس تحریر کا پہلا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس تحریر کا دوسرا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس تحریر کا تیسرا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

آج میں بات مختصر کرتی ہوں ۔کوشش کروں گی کہ اس تحریر کو ختم کروں۔ورنہ جو کچھ میرے ساتھ بیتا ہے ، ہر دن کی ایک قسط بن سکتی ہے ۔میری آپ بیتی کے بارے میں میرے ایک واقف حال بھائی نے کومنٹس دیئے ہیں اور گواہی دی ہے کہ یہ سب کچھ بالکل سچ ہے ،اس میں ذرا برابر بھی جھوٹ نہیں ہے ۔
فیض نے کہا تھا۔
درد اتنا ہے کہ ہر رگ میں ہے محشر برپا۔۔۔۔۔ اور سکون ایسا ہے کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
میں بھی آپ کی طرح یہی سمجھی تھی کہ بات ختم ہو گئی ،مگر یہ تو مردوں کے بنائے ہوئے قانون اور عدالتوں کی ایک مہذبانہ جھلک تھی۔ہمارے وکیل نے ہمیں بتایا کہ اب دونوں طرف سے گواہیاں ہوں گی،پھر بحث ہو گی تب عدالت کوئی فیصلہ دے گی۔فیصلے کے خلاف پہلے ہا ئی کورٹ اورپھر سپریم کورٹ میں اپیل ہو سکے گی۔ابتدائی طور پر مدعی کی طرف سے اگلی تاریخ پر گواہوں کے بیان حلفی داخل ہوں گے۔اس کے بعد گواہوں پر جراح ہو گی۔
اگلی پیشی پر کچھ بھی نہیں ہوا ۔وکیل مخالف تاریخوں پر تاریخیں لینے لگا ۔بدنیتی کے سو بہانے ۔۔وکیل کامنشی صبح آ کر حاضری لگوا جاتا اور وکیل کے آنے کا کہتا ۔پھر عدالت برخواست ہونے تک کبھی وکیل نہیں آیا۔عدالت کے انتہائی قطعی آخری نوٹس پر کوئی چار ماہ بعد تینوں بھائیوں کی طرف سے دوماہ قبل کے بیان حلفی داخل ہوئے۔بیانات پڑھ کر مجھے ہنسی بھی آئی اور رونا بھی آیا۔بیانات انسان کی اندرونی ضلالتوں اور خباثتوں کے آئینہ دار تھے۔ لکھا تھا کہ میں اپنے کزن کی شادی پر تمام قیمتی کپڑے اور زیور ات لے کر گئی ہوں اور واپس نہیں آئی ۔
آپ ذرا اس منظر کا تصور کیجئے کہ ایک لڑکی تنہا گھر سے نکلتی ہے ۔قیمتی کپڑوں کی گٹھڑی اُس کے سر پر ہے ،پانچ ماہ کا بچہ اُس کی گود میں ہے اور زیورات کے دبے اُس نے بغل میں دبائے ہوئے ہیں۔وہ اس حالت میں کوئی ایک کلو میٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے ویگن سٹیند یا رکشا سٹیند پر پہنچتی ہے اور وہاں سے بسوں پر سفر کرتے ہوئے ستر کلو میٹر کا سفر تین ویگنیں اور دو بسیں بدل کر کزن کی شادی پر پہنچتی ہے ۔حالانکہ میرے کزن کی شادی وقوعہ سے دو ماہ قبل ہوئی تھی۔کوئی اُن سے پوچھے کہ جب میں اس حالت میں گھر سے جا رہی تھی تو آپ لوگ کہاں تھے؟آپ نے زیوروں کے ساتھ مجھے جانے ہی کیسے دیا؟اللہ کا شکر تھا کہ اُنہوں نے یہ الزام نہیں لگایا کہ جاتے ہوئے فریج ،اآون ،واشنگ مشین ،ایل سی ڈی اور فرنیچر بھی سر پر رکھ لے گئی ہے۔
حاجی اور نمازی لوگ جو بات انشااللہ سے شروع کرتے ہیں اور الحمداللہ پر ختم کرتے ہیں نے اپنے بہترین ایمان اور یقین کے ساتھ کہا تھا کہ میرا شروع دن سے ہی رویہ ٹھیک نہیں تھا۔میں گھر کے برتن مانجھتی تھی اور نہ کپڑے دھوتی تھی۔لیٹرین صاف کرتی تھی اور نہ کھانا پکاتی تھی۔لطف کی بات یہ ہے کہ پانچ وقت کے نمازی نے لکھا تھا کہ اُن کے بھائی نے مجھے گھر میں شہزادیوں کی طرح رکھا ہوا تھا۔
قارئین اکرام۔۔۔! میں نے اُس ضلالت کدے میں کم و بیش ایک سال اور پانچ ماہ گزارے تھے۔اس عرصے میں میں نے ایک بچے کو بھی جنم دیا ،کپڑے بھی دھوئے ،کھانا بھی پکایا ،برتن بھی مانجھے اور اتنے بڑے گھر کی کی صفائی ستھرائی بھی کی ،وقتاًفوقتاً پتلون کی بلٹ سے ،جوتوں سے مار کھائی ۔۔!گالیاں کھائیں ۔ماں کو ہارٹ اٹیک کروایا۔ باپ کو کنجر کہلوایا۔بہنوں کے بارے میں نازیباکلمات سنے۔اپنے بارے میں دشنام طرازی سنی ۔بہتان باندھے گئے مجھ پر ،تہمتیں لگائی گئیں مجھ پر ۔۔۔اور فرمایا گیا ، شہزادیوں کی طرح رکھا ہوا تھا۔کیا اس سے زیادہ عورت کی تذلیل ہو سکتی ہے ؟ ہمارا کلچراور ہماری اقدار تو یہ ہیں کہ نئی نویلی دلہن چھ ،چھ ماہ سال ،سال تک کام کو ہاتھ نہیں لگاتی ،اور اگر وہ کام کرنے کی کوشش کرتی بھی ہے تو ساسیں اور گھر والے اُسے کچھ کرنے نہیں دیتے۔یہی حال زچگی پر ہوتا ہے ۔زچہ کو کئی کئی ماہ کام نہیں کرنے دیا جاتا ۔اُس کو ٹھنڈے پانی میں ہاتھ نہیں ڈالنے دیئے جاتا ،مبادا بچے کو ٹھنڈ نہ ہو جائے ۔مگر مجھے پہلے ہی دن بچے کا فیڈر خود بنانے کا حکم دیا گیا۔اس لئے کہ میں شہزادی جو تھی۔جس دن میں آپریشن کے سٹیچ کھلوا کر آئی،اُسی رات سٹیچوں پر جوتے مارے گئے ۔میرا پہلا بچہ تھا ۔مجھے فیڈر دھونے کا پتہ ہی نہیں تھا۔میں نے برتن میں پانی ڈالا اور اُس میں فیڈر رکھ کر آون میں رکھ آئی۔آون کھولا تو کھولتا ہوا پانی سیدھا میرے منہ پر پڑا ۔میں چیخی چلائی ،مگر گھر کا کوئی فرد میری خبر کو نہیں آیا ۔بعد میں اُن کو پتہ چلا تو کہنے لگے ۔ہم سمجھے میاں بیوی میں کی دھنائی کر رہاہے ۔یہ تو معمول کی بات ہے۔کسی مہذب سوسائٹی میں ،کون سا گھر ہو گا جہاں چیخنا چلانا معمول کی بات ہو گی ،سوائے اس اذیت کدے کے ۔۔۔؟بعد میں سبھی گھر والے میرا مذاق اڑاتے رہے اور طعنے دیتے رہے کہ خاک میں نے ایم بی اے کیا ہوا ہے۔ مجھے اتنی عقل بھی نہیں ہے کہ بچے کا فیڈر کیسے دھونا ہے ۔میں شہزادی جو تھی۔
شادی سے قبل انہوں نے دو ملازمائیں رکھی ہوئی تھیں ،جن کی تنخواہ سولہ ہزار روپے تھی۔شادی کے فوری بعد ملازماؤں کو چھٹی کروا دی گئی اور ایک بیوی رکھ لی جس کا ماہانہ جیب خرچ دو ہزار روپے مقرر ہوا ۔واہ ۔۔۔واہ اسلامی نظریاتی کونسل والو دیکھو۔۔۔بیوی کیسا سستا سودا ہے۔۔۔بیٹیاں کتنی ارزاں ہو گئی ہیں!۔کوئی قرار داد شیرانی صاخب ،کوئی سفارش میرے بارے میں مفتی منیب الرحمن صاحب پیش کی ہے تم نے ۔۔۔دینی جماعتوں کے سربراہان مولنا فضل الرحمن،سنیٹر سراج الحق ، مولاناابتسام الہی ظہیر صاحب کیا میرے مقدر میں ایسی مار ہے کہ منہ پر داغ نہ پڑے ۔۔۔ہڈی نہ ٹوٹے۔آپ کے اسلام کو صرف اُس وقت خطرہ کیوں ہوتا ہے جب میرے تحفظ کا بل آتا ہے۔شیرانی صاحب کل کو آپ نے بھی اسی اللہ کے پاس جانا ہے ،جس کے پاس میں مجھ جیسی شہزادیوں نے جانا ہے ۔میرے اور میرے اللہ کے سوالوں کے جواب تلاش کر رکھیئے۔بڑا کڑا وقت آنے والا ہے ۔اے میرے ملک کے حکمرانو۔۔۔اے میرے قانون بنانے والو۔۔۔ ہم جیسے لوگوں کی بدعاؤں سے بچ سکتے ہو تو بچ جاؤ۔ اگر تمہارے ملک کی عدالتیں مجھ جیسی حوا کی بیٹیوں کو انصاف نہیں دے سکتیں تو ہمیں پیداہوتے ہی گاڑ کر سنگسار کر دیا کرو ۔کسی بد بخت باپ کو گالی دلوانے سے پہلے ہمیں مسل دیا کرو ،کچل دیا کرو۔میرے مالک میں دعا کرتی ہوں کہ اُن کی بیٹیوں کو بھی مجھ شہزادیوں ایسی زندگی نصیب فرما۔
اُنہوں نے مزید لکھا تھا کہ دراصل میں دو لاکھ کے زیورات کا حق مہر ہڑپ کرنا چاہتی ہوں۔میرے باپ نے استطاعت نہ ہونے کے باوجود تین بار بینکویٹ ہالوں میں اُن کے مہمانوں کو کھانا کھلوایا۔ایک بار مبارک باد دیتے وقت ،دوسری بار دن مقرر کرتے اور منگنی کی رسم کے وقت اورتیسری بار بارات کو۔۔۔اس پر کوئی تین لاکھ کا خرچہ ہوا ۔میری ماں نے قطرہ قطرہ جوڑ کر ،ذرہ ذراہ جمع کر کے اس زمانے میں سات لاکھ کا زیور ڈالا۔ساڑھے تین لاکھ کے ملبوسات دیئے ۔ڈیرھ لاکھ کا الیکٹرونکس کا سامان میرے باپ نے اُس ننگ انسانیت شخص کو ساتھ بازار لے جا کر دلوایا ۔دو لاکھ کا فرنیچر لے کر دیا ۔تقریباً چارلاکھ کی کراکری اور دیگر اشیاء جہیز میں دیں ۔میرے ماں باپ نے خود کو گروی رکھ کر میری شادی پر بیس لاکھ روپے خرچ کئے تھے کہ عزت بن جائے کہ ابھی دو بیٹیاں اور بھی بیٹھی ہیں۔ ۔۔مگر کیا ۔۔کیا یہ سب کچھ اُن کے دو لاکھ کے زیورات ہڑپ کرنے کے لئے ۔۔۔؟؟جھوٹوں پر اللہ کی لعنت۔۔۔۔کیا ہمارے بیس لاکھ کاغذ کے تھے اور اُن شُہدوں کے پاؤنڈ تھے۔۔۔!!
شیرانی صاحب کیا کوئی ایسا قانون نہیں بن سکتا کہ جھوٹی گواہی دینے والوں کی پیشانیاں داغ دی جائیں اور دنیا میں اُن کو کاذب قرار دے کر آئندہ کے لئے زندگی بھر اُن کی کوئی گواہی معتبر نہ سمجھی جائے ۔یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ قسم کھا کر گواہی دی جائے اور جھو ٹا ثابت ہونے پر کپڑے جھاڑتاہوئے ،باہر نکل کر نماز ادا کرنے لگ جائے کہ وضو کرنے سے صغیرہ گناہ دھل جاتے ہیں۔
بیان حلفی میں ایک اور لاف زنی کی ہوئی تھی کہ میں اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا ہوں اور ہر قیمت پر گھر بسانا چاہتا ہوں ۔ذرا اندازہ کیجئے کہ ابھی خلع بھی نہیں ہوا تھا کہ اُس نے اپنی کوٹھی اور بنگلہ دکھا کر اور کچھ مجھ پر الزام تراشی کر کے ایک اور غریب اور معصوم کو پھانس کر شادی کر لی۔اس سے زیادہ اور بے غیرتی کیا ہو سکتی ہے کہ ابھی تک میرا سامان واپس نہیں کیا اور میرے باپ کے دیئے بیڈ پر ایک اور لڑکی لا کر ڈال لی۔اس سے زیادہ عورت کی تذلیل کیا ہو سکتی ہے۔
بیان حلفی دینے کے بعد پھر تاریخوں پر تاریخیں پڑنے لگیں ۔اس دوران میں برادری کے چند معتبر لوگوں نے صلح صفائی کی کوشش کی مگر ان کی ہٹ دھرمی دیکھئے۔ اُن کے گھر کے سربراہ نے سب لوگوں کی موجودی میں میرے ماں باپ کی بے عزتی کی ۔وہ جو میری ماں کو رشتہ لیتے وقت بھابھی ،بھابھی کہتے نہیں تھکتا تھا ،ہتھے سے اُکھڑ گیا ۔فرعون کی سی رعونت سے کہنے لگا :بی بی آپ لوگوں کو یہاں کس نے بلایا ہے ؟ جاؤ ۔۔۔جاؤ ۔بی بی ۔۔چلی جاؤ۔بڑی آئی بیٹی کا گھر بسانے ۔میرے ماں باپ روتے ہوئے وہاں سے چلے آئے۔
کچھ دن بعد پھر برادری کے کچھ لوگ ہمارے گھر آئے ۔انہوں آتے ہی میرباپ سے سوال کیا ،آپ تو بہت سمجھ دار مشہور ہیں ۔آپ نے کیا دیکھ کر رشتہ کیا تھا؟بر تھا نہ گھر تھا ،آپ اندھے ہو گئے تھے؟میرے والد نے ایک ہی بات کہی کہ موت اور تقدیر کے سامنے ہمیشہ انسان کی ہار ہوئی ہے ۔میں یہاں وہی فقرہ کوٹ کر رہی ہوں جو اُبرادری کے معززین نے دونوں طرف کی باتیں سننے کے بعد کہا تھا’’بیٹی کو اُس گھر میں بھیجنے کا انجام وہی ہو گا جو باؤلے کتے اور بکری کے بچے کو ایک کھونٹے سے باندھنے کا ہوتا ہے ۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا کہ اُن میں ہمت نہیں ہے کہ ایسے لوگوں کی ذمہ داری اُٹھا سکیں ۔
کوئی تین ماہ تک وہ گواہی دینے نہیں آئے ۔عدالت کے قطعی آخری نوٹس پرپھر ایک دن اُ ن کے وکیل نے آ کر عدالت میں بیان دیا ،چونکہ مدعیہ علیہ نے کہا ہے اُسے طلاق ہو چکی ہے اس لئے ہم اپنا بازو دعویٰ واپس لیتے ہیں۔ہم مزید کوئی کاروائی نہیں کرنا چاہتے۔اس بیان کے بعد عدالت نے کیس داخل دفتر کر دیا۔ہمارے وکیل نے بتایا کہ اُن لوگوں نے ہمارا موقف درست تسلیم کر لیا ہے اور طلاق ہو چکی ہے ۔کچھ دنوں کے بعد میرے باپ نے کسی کے ذریعے رابطہ کیا کہ ہمارا زیور اور جہیز کا سامان واپس کر دیا جائے ۔انہوں نے جواب دیا کہ پہلے طلاق کنفرم کروا لو پھر جہیز کا مطالبہ بھی کرنا۔
وزیر قانون صاحب ،قانون سازی کرنے والے ممبران اکیرام صان کیا یہ سچ نہیں ہے کہ جہیز اور زیور کی مالک تو عورت ہوتی ہے ۔وہ اپنا مال ومتاع جس وقت چاہے اور جہاں چاہے رکھ سکتی ہے ۔طلاق ہو یا نہ ہو ،خلع ہو یا نہ ہو اُس کے سامان پر قبضہ کرنے کا اختیار کسی کو نہیں ہے ۔مگر یہاں تو عورت کے تحفظ پر ہی اتنا واویلا مچ گیا ہے ۔عورت جاندار ہے،سامان تو بے جان ہے ۔شائد یہاں کسی کو تکلیف ہو کہ ہائیں عورت بھی جاندار ہوتی ہے ؟
میرا باپ وکیل سے کاغذات لے کر سیکریٹری یونین کونسل کے پاس پہنچا ۔سیکرٹری صاحب دن کے بارہ بجے اپنی کار میں تشریف لائے اور کل آنے کو کہا ۔دوسرے دن اُس نے بتایا کہ یہ طلاق نہیں ہے ۔اس کے لئے آپ لوگوں کو دوبارہ عدالت سے رجوع کرنا پڑے گااور خلع لینا ہو گا۔
میرا باپ وکیل اور یونین کونسل کے درمیان چند دن شٹل کاک کی طرح چکر لگاتاتا رہا۔وکیل کا موقف تھا کہ سیکرٹری یونین کونسل کو کچھ دے دلا کر طلاق رجسٹرڈ کروا لیں مگر سیکرٹری بضد رہا کہ یہ طلاق نہیں ہے ۔میرے باپ نے ایک دوسرے وکیل سے مشورہ کیا جس نے بتایا کہ وا قعی ابھی طلاق نہیں ہوئی۔ اس کے لئے آپ کو اُن کے بازو دعویٰ کے ساتھ طلاق کا دعویٰ بھی کرنا چاہئے تھا۔ شیرانی صاحب کیا یہ اسلامی طریقہ کار ہے ؟اس کے ساتھ ہی میرے باپ نے جہیز کے بارے میں پوچھا تو وکیل نے بتایا کہ جب تک آپ جہیز کے سامان کی رسیدات نہیں لائیں گے ۔کیس دائر نہیں ہو سکتا ۔
یہاں رک کر میں قانون بنانے والوں کے سامنے چند باتیں رکھنا چاہتی ہوں۔کسی بھی ملک کا قانون اس کی اقدار اور روایات کے تابع ہوتا ہے۔ہماریے معاشرے کی اقدار اور روایات یہ ہیں کہ جس دن بیٹی پیدا ہوتی ہے ۔اُسی دن سے ماں بیٹی کا جہیز بنانے لگ جاتیں ہیں ۔ایک مہینے اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشات کا گلہ دبا کر ،فاقے کاٹ کر ،خود کو جھوٹی تسلیاں دے کر ۔۔تین ہزار کی بچت ہوئی ہے توماں بیٹی کے لئے سینڈ وچ مشین خرید لائی ہے ۔اگلے مہینے ٹوسٹر خرید لیا ہے ۔اُس سے اگلے مہینے بلینڈر خرید لیا ہے ۔دادی یا نانی حج پر گئی ہے تو نواسی کے لئے لاکٹ لیتی آئی ۔ماموں کہیں گئے ہیں تو بھانجھی کے لئے بالیاں لیتے آئے ہیں۔شادی پر پھوپھو نے ڈنر سیٹ دیا تو چاچو نے واٹر سیٹ لا دیا ہے ۔کیا ہم اُن سے رسیدیں طلب کریں؟کیا ہم اُن سے کہیں کہ میں نے یہ تحائف اپنی بیٹی کو جہیز میں دینے ہیں ۔اگرکل کلاں کو اُسے طلاق ہو گئی تو عدالت میں یہ رسیدیں پیش کر کے جہیز کا سامان واگزار کروانا پڑے گا۔۔۔!جہیز کا بہت سا سامان تو نسل در نسل چلتا ہے ۔پڑنانی نے اپنے جہیز کی بالیاں نانی کو دیں ہیں تو نانی نے امی کو دے دیں ہیں ۔امیں نے مجھ ایسی شہزادی کو وہی بالیاں دے دی ہیں۔اب دا سو سال کی رسید کہاں سے لائیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ فیملی کورٹوں میں وکیلوں کا کیا کام ۔۔۔؟سچ پوچھیں تو انصاف میں سب سے بڑی رکاوٹ وکیل صاحبان ہی ہیں ۔کیا فیملی میٹر مسجد میں بیٹھ کر حل نہیں ہو سکتے اور بار بار تاریخیں دینے کا کیا مطلب۔۔۔؟مسجد میں بیٹھو ،قرآن سامنے رکھو ۔کوئی جھوٹ بولتا ہے تو قرآن والا جانے اورکا ذب جانے۔دو دن میں فیصلہ ہو جائے ۔کیا مصالحتی عدالتیں مسجدوں میں نہیں لگ سکتیں؟
مگر نہیں ۔۔۔یہ کیونکر ہو گا؟ انصاف کا طالب 19 سال تک جیل میں رہتا ہے اور با لآخر پتہ چلتا ہے کہ گواہیاں جھوٹی ہیں۔کیس ذاتی دشمنی کی بنا پر بنایا گیا تھا۔عدالت رہائی کے احکامات جاری کرتی ہے اور معلوم ہوتا ہے ملزم چار سال قبل انصاف لینے بڑی عدالت میں پہنچ چکا ہے ۔انااللہ و اناعلیہ راجعون۔۔۔۔میرے ملک کے معززوکلا صاحبان ،لطیف کھوسہ صاحب ،چوہدری اعتزاز احسن صاحب ،ایس ایم ظفر صاحب ابھی سے تیاری کر لیجئے ۔۔ اُس عدالت میں آپ کواپنی صفائی پیش کرنی ہوگی۔وہاں کوئی دوسری تاریخ نہیں ملے گی۔ ہر وکیل کرنے والے کی خواہش ہوتی ہے کہ وکیل ایسا کرو ،جو مقدمے جیتتا ہو نہ کہ جو انصاف لے کر دیتا ہو۔جو چالاک ہو۔قانون کے ہر چور دروازے کو جانتا ہو اور ہاکی کے فارورڈکھلاڑی کی طرح کیری کرکے دوسروں کی نظروں میں دھول جھونک کر گول کرنا جانتا ہو۔
اب میں پھر اپنی روئیداد کی طرف آتی ہوں ۔مجبوراً میرے باپ نے خلع کے لئے درخواست دائر کی ۔عدالت نے پھر مجھے بلوایا۔اس وقت تک وہ دوسری شادی کر چکا تھا۔میں نے اپنے بیان پر دستخط کئے۔عدالت نے خلع کی ڈگری دے دی اور حق مہر معجل کے زیورات میں سے ایک بٹا چار زیورات یعنی چوتھائی زیورات واپس کرنے کا حکم دیا ۔جن کی مالیت پچاس ہزار روپے بنتی ہے ۔زیورات تو اُن کے پاس ہی تھے لیکن ذرا ان لوگوں کی ذہنیت اور ہٹ دھرمی کا اندازہ لگایئے ۔انہوں نے لوگوں میں مشہور کردیا کہ پچاس ہزار کی ڈگری مجھے جرمانے کے طور پر عدالت نے اُن کے حق میں کر دی ہے۔کوئی بھی صاحب شعور اُن کی اس منطق سے متفق ہو سکتا ہے ؟دنیا کی کوئی بھی عدالت اسلامی قوانین کے مطابق کسی خلع لینے والی لڑکی کو جرمانہ کر سکتی ہے ؟میرے زیورات بھی اُن کے پاس ہیں اور حق مہر کے زیورات بھی ۔تادم تحریر اب جب کہ مجھے خلع ہو چکی ہے ۔۔۔وہ دوسری شادی کر چکا ہے۔مگر بڑی بڑی سوسائٹیوں میں ،بڑی بڑی کوٹھیوں میں رہنے والے چھوٹے والوں کی اوقات دیکھئے میرے جہیز کا سامان ابھی تک اُن کے قبضے میں ہے ۔
ہم اپنے پاپاکو مذاق میں کہا کرتے تھے کہ آپ کو ڈیڑھ جنت مفت میں ملے گی۔میرے اقاﷺ نے کہا تھا ،جس کی دو بیٹیاں ہوں اور وہ پرورش کرکے اُن کی شادیاں کر دے ۔(آپﷺ نے انگشت شہادت اور بڑی انگلی کو جوڑ کر دکھایا)وہ جنت میں میرے ساتھ اس طرح ہوگا۔ایک عورت جو دربار رسالت ﷺمیں موجود تھی نے کہا ۔یا نبی ﷺ میری تو ایک ہے ۔آپ ﷺنے فرمایا تو بھی میرے ساتھ ہو گی۔ ڈیڑھ جنت ہم اس لئے کہتے تھے کہ ہم تین بہنیں ہیں۔آج پتہ چلا ہے کہ جنت مفت میں نہیں ملتی۔اک آگ کا دریا اور تیر کر جانا پٹرتا ہے۔
میں اپنی کہانی ختم کرنے سے پہلے اپنے قارئین سے گزارش کرتی ہوں کہ آپ لوگ اپنی بچیوں کی شادیاں کرنے سے پہلے خاندان کا حسب نسب ضرور دیکھئے گا۔ دیکھئے گا کہ ا’س خاندان میں پہلے کسی نے کسی کو طلاق کا طوق تو نہیں پہنایا ۔اُس کا باپ کیسا ہے؟اُس کی ماں کے بارے میں لوگ کیا کہتے ہیں؟ آپ کتا خریدتے وقت اس کی نسل دیکھتے ہیں۔اس کی نسل کا سر ٹی فکیٹ طلب کرتے ہیں ،مگر بیٹی دیتے وقت یہ بھی نہیں دیکھتے کہ آیا وہ انسان اعتبار کے قابل بھی ہے کہ نہیں ؟بیٹی کی شادی کرتے وقت اکیلے میں بیٹھ کر چند ملحوں کے لئے سوچئے کہ اگر اس شخص کو دس ،بیس لاکھ روپیہ ادھار دینا پڑے تو کیا آپ دے دیں گے ؟کیایہ کسی حیل و حجت کے بغیر واپس کر دے گا؟آپ نے اس شخض کو روپیا بھی دینا ہے اور اپنی سب سے قیمتی چیز بیٹی بھی دینی ہے۔۔۔!دولت پر ،گھر بار پر، تعلیم پر،اپنی بیٹی کو مت قربان کر دیجئے گا۔
اس کے علاوہ میں آپ سب پڑھنے والوں سے درخواست کروں گی کہ
1۔بیٹی کے جہیز کے سامان کی ہر ہر رسید سنبھال کر رکھئیے گا ۔بُرا وقت بتا کر نہیں آتا اور نہ کسی کے ماتھے پر لکھا ہوتا ہے کہ وہ۔۔۔۔!!
2۔میں اپنے ملک کی مقننہ سے بھی درخواست کروں گی کہ نکاح نامے کے ساتھ جہیز کے سامان کا ایک فارم بھی منسلک کیا جائے کہ بیٹی کو کیا کیا اور کتنی مالیت کا سامان دیا جارہا ہے۔اس پر دونوں طرف کے گواہان کے بھی دستخط کرنے لازمی ہوں ۔
3۔اس فارم پر لکیر مارنے والے نکاح خواں کو مجرم قرار دیا جائے ۔
4۔اس کے ساتھ وہ تمام اخراجات بھی درج کئے جائیں جو مہمانوں کی خاطر تواضع کے لئے کئے ہیں۔
5۔علاوہ ازیں طلاق یا خلع کی صورت میں سامان واپس نہیں ہونا چاہیئے بلکہ اُس سامان کی موجودہ قیمت واپس ہونی چاہیئے اور وہ تمام اخراجات بھی لڑکے والوں کو ادا کرنے چاہیءں جو کھانا کھلانے وغیرہ پر ہوئے ہیں۔کوئی ایسی حدیث ہے اور نہ رویت ہے کہ اسلام نے لڑکی والوں کو پابند کیا ہو کہ وہ لڑکے والوں کوکھانا کھلائیں۔
6۔ایک اور قانون بنایئے کہ جس طرح لڑکی کے گلے میں طلاق یا خلع کا طوق ڈال دیا جاتا ہے ،لڑکے کو بھی کوئی ان مٹ نشانی لگا دی جائے کہ اس نے کو طلاق دی ہے ۔
7۔خاندانی تنازعات کے سارے کیس مسجدوں میں بیٹھ کر ایک ہفتے کے اندر اند رفیصل ہونے چاہئیں اور اس میں کسی وکیل کو دخل اندازی کی اجازت نہیں ہونی چاہئیے۔
بہت سی باتیں رہ گئیں ہیں ،جو پھر کبھی سہی۔۔۔۔قاسمی صاحب نے کہا تھا۔
؂ آنکھ کھل جاتی ہے جب رات کو سوتے سوتے
کتنی سونی سونی نظر آتی ہے گزر گا ہ حیات
ذہن و وجدان میں فاصلے تن جاتے ہیں
شام کی بات بھی لگتی ہے بہت دور کی بات
میرے بہت سے بہن بھائیوں نے بذریعہ ای میل اور کومنٹس میرے اور میرے بیٹے کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اوربہت سوں نے میرے اور میرے بیٹے کے لئے دعائیں کی ہیں ۔کئی ایک نے اُن کو گالیاں بھی دی ہیں۔نہیں بہن بھائیو ۔۔۔میرے آقا ﷺ نے اور ہماری ماؤں نے ہمیں کسی کو گالی دینا نہیں سکھایا۔جو دن رات گالیاں دیتے ہیں۔اللہ اُن کو ہدایت دے ۔
آیئے ایک بار پھر میرے لئے اور میرے والدین کے لئے اور میرے بیٹو کے لئے ہاتھ اُٹھا کر دعا کیجئے کہ اللہ زندگی میں ہمیں پھر کسی امتحان میں نہ ڈالے اورروحانی طور پر ہمیں زندگی میں ڈانوانڈول نہ ہونے دے،کبھی ٹوٹنے نہ دے ۔ہم بھٹکیں تو وہ ہمیں راستہ دکھائے ،ہم لڑکھڑائیں تو وہ ہمارا ہاتھ تھامے ،ہم دل گرفتہ ہوں تو وہی ہمیں تسلی وتشفی دے۔میرے اللہ ہم نے دیکھ لیا ہمارا تیرے سوا کوئی نہیں ۔۔۔نہ ماما، نہ چچا ۔۔نہ بھائی، نہ بہن ،میرے مولا ہم تیری زمین پر اکیلے ہیں،تیرے پانچ ارب آدمیوں میں کوئی نہیں جو ہمارا طرف دار ہو۔سب کا خدا دولت ہے ، انسانیت کی کوئی قیمت نہیں ،انسانوں کی کوئی وقعت نہیں ،تیری کائنات میں بیٹیاں اور اُن کے ماں باپ بہت حقیر ہو گئے ہیں۔بیٹیاں اور بیٹے دینے والا تو تو ہے ناں ۔سب کچھ تیرا ہے ۔ہم پر اتنا بوجھ نہ ڈال کہ میں ہم سہارنہ سکیں اور اُن جیسے لوگوں سے دشمن کو بھی کوسوں دور رکھ!۔۔۔۔واماعلینا اللہ بلاغ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *