پاکستا ن میں جمہوریت خطرے میں۔۔۔عمران خان اور طاہر القادری کا شکریہ!

 دیدار حسین سمیجوsamejo

پاکستان ایک بار پھر اندرونی سیاسی بحران کے شکنجے میں ہے۔ ملک کی کمزور جمہوریت، سنجیدہ خطرات کا سامنا کر رہی ہے کیونکہ کرکٹ چھوڑ کر سیاستدان بننے والے عمران خان جو کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ ہیں اور ایک سنی عالم، طاہر القادری جو کہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ہیں، دونوں اپنے حمایتیوں کے ہمراہ، چھڑیوں اور ڈنڈوں سے مسلح ہو کر، کئی ہفتوں سے دارالحکومت اسلام آباد کو منجمد کئے ہوئے ہیں۔
عمران خان جو یقین رکھتے ہیں کہ نواز شریف بے ایمان ہیں اور 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے وزیر اعظم بنے ہیں اور طاہر القادری جو موجودہ پارلیمانی نظام سیاست کو ختم کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور ملک میں انقلاب لانا چاہتے ہیں، ان دونوں کی زیر قیادت مظاہرین وفاقی دارالحکومت کے حساس علاقے پر قابض ہیں اور معمول کی سفارتی سرگرمیوں کو مکمل جمود کا شکار کئے ہوئے ہیں۔ وہ منتخب وزیر اعظم نواز شریف کے استعفیٰ سے کم کچھ نہیں چاہتے۔
نواز شریف گزشتہ برس جون میں وزیر اعظم بنے تھے۔ مارشل لاؤں کی جانب سے اقتدار چھین لئے جانے کی تاریخ کے حامل پاکستان میںیہ پہلا موقع تھا کہ اقتدارایک سویلین حکومت سے دوسری سویلین حکومت کو نہایت پر امن طریقے سے منتقل ہوا۔یوں لگتا تھا کہ ملک کی طاقتور فوج، جس نے ہمیشہ قومی سلامتی او ر خارجہ تعلقات کے شعبوں پر اپنی گرفت مضبوط رکھی ہے، وہ اب شکست کھا رہی ہے اور سویلین حکومت مضبوط ہو رہی ہے۔حکومت حاصل کرنے کے فوراً بعد نواز شریف نے معاشی ترقی، ہندوستان کے ساتھ تعلقات، اور طالبان کے ساتھ جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات کے اپنے معروف ایجنڈے پر کام شروع کر دیا۔
نوازشریف کی فوج کو اعتماد میں لئے بغیر قومی حکمت عملیاں بنانے کی خواہش نقصان دہ ثابت ہوئی اور نتیجہ فوج اور حکومت کے مابین تناؤ کی شکل میں ظاہر ہوا۔ جاری مظاہرے، بظاہر فوج کی جانب سے تیار کی جانے والی ایک ایسی سازش معلوم ہوتے ہیں جس کا مطلب نواز حکومت کو کمزور کرنا ہے کیونکہ نواز شریف نے قومی سلامتی اور خارجہ تعلقات کی حکمت عملیوں کی تشکیل میں فوج کے بھرپور کردار کو چیلنج کیا تھا۔پاکستان میں یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ فوج نے منتخب حکومت کے خلاف کوئی سازش تیار کی ہے۔ پاکستان کی67سالہ بحرانوں سے بھرپور تاریخ میں، فوج نے تین بار منتخب حکومتوں کا تختہ الٹا ہے اور قومی عمر کے نصف سے زائد عرصے تک ملک پر براہ راست حکومت کی ہے۔
نہ ختم ہونے والے حالیہ سیاسی بحران کے ساتھ ساتھ، جمہوریت کے استحکام اورطاقت کے فوج سے منتخب حکومتوں کو منتقل ہو جانے کی امیدیں ایک بار پھر بہہ گئی ہیں۔ فوج نے نواز شریف کے پر کاٹ کرنہایت کامیابی سے سول حکومت پر نام نہاد برتری حاصل کر لی ہے۔ اس بات کا ایک ثبوت نواز شریف کی جانب سے مسلح افواج کے سربراہ سے کی جانے والی ثالثی کی درخواست بھی ہے۔
نواز شریف کی اس درخواست سے یوں معلوم ہوا کہ جیسے انہوں نے خود فوج کی طاقت کو تسلیم کر لیا ہے۔ اب کے بعد، فوج بڑے مسائل، جیسے روایتی حریف ہندوستان، افغانستان اور امریکہ سے تعلقات اور اندرونی سلامتی کی حکمت عملی، بشمول پاکستانی طالبان کے خلاف جاری جنگ پر زیادہ گرفت حاصل کر لے گی۔یوں لگتا ہے کہ مشرف کو بیرون ملک بھیجنے کیلئے قانونی انتظامات بھی کئے جا رہے ہیں۔
جاری سیاسی بے چینی نے وسیع معاشی خساروں کو بھی ہوا دی ہے۔ احتجاج کے آغاز سے اب تک قومی معیشت 4.5بلین ڈالر کا خسارہ برداشت کر چکی ہے۔آئی ایم ایف نے حکومت کے ساتھ مذاکرات ملتوی کر دئیے ہیں۔ ملک کو ملنے والی قرض کی رقم کی اگلی قسط بھی مؤخر کر دی ہے۔چینی صدر زی جِن پِنگ کا دورۂ اسلام آباد بھی ملتوی ہو گیا ہے۔ وہ نواز شریف کے ساتھ 34بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدات پر دستخط کر نے والے تھے۔
یوں لگتا ہے کہ احتجاج آنے والے ہفتوں میں ختم ہو جائیں گے اور نواز شریف وزیر اعظم ہی رہیں گے۔ تاہم وہ اہم معاملات میں محدود عمل دخل کے ساتھ ایک غیر مؤثر سربراہ حکمران کے طور پر کام کریں گے کیونکہ اس جنگ میں فوج فاتح بن کر ابھری ہے جبکہ جمہوریت بلآخر مفتوح ثابت ہوئی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *