کراچی والوں کے نصیب میں یہی ہے

syed arif mustafa

خدا جانے کراچی والوں کی سزا کب ختم ہوگی ۔۔۔ پیشہ ور چور پیچھے ہٹے ہیں تو ماہر گرہ کٹ آن بیٹھے ہیں اور پس منظر میں لائن میں لگے چند مستند ٹھگ بھی موقع کی تلاش میں رال ٹپکاتے صاف نظر آرہے ہیں ۔۔۔ لیکن شہر والوں نے غلطی بھی تو اتنی ہی بڑی کی تھی نا ۔۔۔ وہ کتنے طویل عرصے تک رسول خدا کے اس فرمان کا کھلم کھلا اپنے عمل سے مذاق اڑاتے رہے کہ جس میں صاف صاف یہ کہا گیا ہے کہ " جس نے ایک انسان کا خون بہایا اس نے ساری انسانیت کا خون کیا " مگر پھر بھی یہاں کے شہریوں کی بھاری اکثریت یہ سب جاننے کے باوجود قاتلوں کے اس سفاک گروہ کے حق میں باقاعدگی سے ووٹ ڈالتی رہی اور بلند ایوانوں میں پہنچاتی رہی کہ جس کے ہاتھ سینکڑوں بلکہ ہزاروں انسانوں کے خون سے رنگے ہوئے تھے اور یہ سب حقیقت ان سے مطلق چھپی ہوئی نہیں تھی ۔۔۔ میں بری طرح خوفزدہ ہوں یہ بات کہتے ہوئے کہ کہیں یہ شہر والوں کی سزا کا ابتدائی حصہ تو نہیں اور کہیں خدا نخواستہ خدائی اصول کے مطابق اس نافرمان شہر کو اصل سزا کسی بڑے زلزلے یا بڑی بربادی کی صورت تو نہیں ملنے والی کہ تاریخ میں بارہا ایسا ہوا ہے کہ خدا کے رسولوں کے فرامین کا یوں کھلم کھلا مذاق اڑانے والوں کے جغرافیئے پلٹ دیئے گئے ہیں اور بستیاں تاراج کر دی گئی ہیں، اور انکے اجاڑ کھنڈرات آج بھی سطح ارض پہ یہاں وہاں نشان عبرت بنکر اس عظیم تباہی کی داستان سناتے نظر آتے ہیںاور کیا ہے کوئی ایسا ، کہ جس میں اگر ایمان کی ادنیٰ سی رمق موجود ہے تو وہ اپنے اہلخانہ کے سروں پہ ہاتھ رکھ کر ببانگ دہل یہ کہ سکے کہ ایم کیو ایم پہ انسانی لہو بہانے کے الزامات یکسر جھوٹے ہیں یا یہ حدیث (معاذاللہ ) غلط ہے کہ جس میں ایک انسان کے قتل کو ساری انسانیت کا قتل ٹہرایا گیا ہے ۔۔۔ لیکن کوئی ایک بھی جی ہاں ایک بھی فرد ایسا نہیں کہ سکتا کیونکہ حقائق چمکتے سورج کی طرح سب پہ روشن ہیں ۔۔۔ تو پھر کوئی ذرا پوچھے تو سہی اس شہر کے تعلیمیافتہ و باشعور عوام سے ، کہ انہیں رسول خدا کے اس فرمان کو جھٹلانے کی ہمت کیسے ہوئی ،،،؟؟‌ گزشتہ 35 برس میں اس سے بڑا سچ کوئی نہیں کہ اس عرصے میں اس شہر میں انسانوں کو کتے بلی سے بھی زیادہ بری طرح اور بے تحاشا مارا گیا ۔۔۔ اورکیا صرف مخالفین میں سے ہی ،،،! نہیں بلکہ زیادہ تر اپنے ہی ہم زبان بلکہ اپنی ہی جماعت کے وہ لوگ کے جن سے ذرا بھی کسی حکم کی سرتابی ہوئی یا جو زرا بھی مقبول ہوتا دکھائی دیا ، یا جس سے کوئی اہم کام لے لیا گیا اس کا کام اتاردیا گیا ۔۔۔ صورتحال یہ تھی کہ الف کو ب سے مروایا گیا اور ب کو ج سے اڑادیا گیا اور ج کو موقع پاتے ہی کسی اور چ ح خ وغیرہ وغیرہ کے ذریعے بھون ڈالا گیا ۔۔۔ عظیم طارق شمعون ابرار اور عمران فاروق جیسے اپنے قدیمی ساتھیوں کو بھی از خود ہی خطرہ باور کرکے آن کی آن خاک و خون میں نہلادیا گیا حتی ٰ کے کراچی حیدرآباد اور میرپور خاص کے در و دیوار اس خونی نعرے سے رنگ دیئے گئے کہ ' جو قائد کا غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے' اور پھر اسی نعرے کو متحرک خونی پالیسی میں ڈھال دیا گیااور یہ حقیقت بھی کسے معلوم نہیں کہ میدان سیاست میں آنے کے تھوڑے ہی عرصے میں متحدہ نے ہولناک خونریزی کے ذریعے کراچی و حیدرآباد میں میں ایک ایسا بد ترین غلامانہ میکنزم بنا لیا تھا کے جو روح فرسا دہشت اور انتہائی شدید خوف پہ قائم تھا کیونکہ اس گھناؤنے نظام میں قتل بھی نہایت وحشت و بربریت سے کیا جاتا تھا یعنی اس طرح سے کہ مقتول کی لاش کی بدترین اور کٹی پھٹی حالت سے دیکھنے والوں کی روح بھی کانپ اٹھے ۔۔۔ مقتول کے پورے جسم میں ڈرل سے کیئے گئے سوراخ ، جگہ جگہ کرنٹ کے جھٹکوں اور گرم لوہے سے داغنے کے نشانات اور بدترین تشدد کے بعد ہتھوڑے سے ہر ہر ہڈی کو چورا چورا کردینے کی علامتیں روزمرہ کی کارروائیاں تھیں اور اکثر مقتولین کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے بوری میں بند کرکے گندے نالوں میں پھینک دینا تو عام سی بات بن گئی تھی ۔۔۔۔ زیادہ تر یونٹ اور سیکٹر آفسوں میں ٹارچر سیل بنا دیئے گئے تھے کہ جہاں کی جانے والی خونی و ظالمانہ کارروائیؤں نے شہریوں کو نفسیاتی مریض بناکے رکھدیا تھا اور جہاں ہر شخص دوسرے سے ڈرتا تھا اور جیسے یہاں زندہ رہنے کی ضمانت اللہ کے بعد گویا ( نعوذ باللہ ) صرف ایک ہی شخص الطاف حسین کے پاس تھی کہ وہی ایک ہی شخص اس شہر کا مختار کل اور عقل کل بنا ہوا تھا تھا اور دوسرے صرف اسکی جوتیاں سر پہ رکھنے کو ہی سرفرازی کا سب سے بڑا اعزاز سمجھنے کے پابند تھے اور اس کے چیلوں کے آگے وہ جید اہل صحافت بھی کان لپیٹے دم ہلاتے دکھتے تھے کہ جو صدر اور وزیراعظم پہ بھی دہاڑنے و چنگھاڑنے میں ذرا دیر نہ لگاتے تھے اور خود یہ ارباب اقتدار بھی بارہا اسی گرو گھنٹال کی خوشنودی کے لیئے اسکی بارگاہ نائن زیرو پہ سجدہء تعظیمی بجا لاتے دیکھے جاتے تھےدہشت کے اس مکروہ نظام کے قیام کے بعد وحشت کے لندنی دیوتا کے لیئے بہت آسان ہوگیا تھا کہ وہ اپنے گرگوں اور غلاموں کے ذریعے موقع بے موقع اہل شہر کو بے تحاشا لوٹے کھسوٹے اور محض چندہ فطرہ زکاۃ اور قربانی کی کھالوں ہی پہ باقاعدگی سے ہاتھ صاف نہ کرے بلکہ صنعتوں اور دکانوں سے ماہانہ بھتے بھی طلب کرائے اور وقتاً فوقتاً اغواء برائے تاوان سے بھی خطیر رقم بٹورتا رہے ور یہ سب شرمناک و غلیظ کام کرنے والے تمام کے تمام وہی لوگ تھے کہ جو 35 برس پرانے وقت سے ابھی 7 مہینے پہلے تک اسکی ہی جماعت یعنی ایم کیو ایم کا حصہ تھے اور باہم مل جل کے ڈیوٹی کے طور پہ یہ سب جرائم کرتے تھے لیکن اب وہی بدمعاش 3 ٹکڑوں میں تقسیم ہوکے ایکدوسرے گروپ کو ان جرائم کا ذمہ دار قرار دیئے چلے جارہے ہیں تاکہ الزامات کے اس بڑے گردوغبار سے ہر سمت مکمل کنفیوژن پھیل جائے اور بالآخر اس ہآؤ ہو کے شور میں نظام انصاف کو باؤلا بناکے سب کو چھوٹ مل جائے ۔۔۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس شہر کے باسی کیا اتنے ہی پاگل اور چغد ہوچکے ہیں کہ ان پرانے پاپیوں کو نہ پہچان سکیں اور یہ جو سرکاری چھتری میں کمالی لانڈری کے کمالات سے سب خونیوں کے جبڑوں اور مونچھوں پہ لگے خون کے داغ دھوئے جارہے ہیں اور بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کی 300 سوختہ لاشوں کے قاتلوں کو بھی آب مصفیٰ سے غسل دے کر پوتر کیا جارہا ہے اور جو فاروق ستار کے چھابے میں پناہ گزین قاتلوں لٹیروں اور بھتہ خوروں کی ٹولیاں گردن ڈالے نیک پروین بنی بیٹھیں ہیں تو کیا انکے سیاہ کارناموں سے اہل شہر واقف نہیں ۔۔۔ کیا ان سے کچھ بھی ڈھکا چھپا ہے ۔۔۔؟؟ یہ سب وہی لوگ ہی تو ہیں کے جن کے سامنے بھارت جا کے منہ بھر بھر کے ملک کو گالیاں دی گئیں، وہاں کرمنلز کی ٹریننگ کا انتظام کیا جاتا رہا اور را سے فنڈنگ لی جاتی رہی اور یہ آج کی سب 'نیک پروینیں' سب کی سب اس سیاہ کاری میں الطافی ٹولے کی پوری طرح مددگار اور ساتھی رہی ہیں -یہاں میرا سوال ارباب اختیار سے یہ ہے کہ کیا تہذیب و تعلیم کے لیئے مشہور اس شہر کے نصیب میں لے دے کے اب یہی جانے مانے چائنا کٹنگ ایکسپرٹ بھتہ خور قاتل اور لٹیرے ہی رہ گئے ہیں ۔۔۔ کیا محمد علی جوہر حسرت موہانی بہادر یار جنگ اور لیاقت علی خان جیسے عظیم رہنماؤں کی تاریخ کے حامل اس اردو داں طبقے کو اب بھی نئی شرائط پہ کمانڈو، ٹوپی ، کنکٹا ، بچھو ، اور لنگڑا جیسے مہان پرشوں کے چنگل میں ہی دیدیا جائے گا اور کیا اس شہر کے اعلی تعلیمیافتہ و مہذب لوگوں میں سے کوئی بھی اس قابل نہیں کہ اس شہر کی قیادت کے لیئے آگے بڑھ سکے یا اسے آگے آنے کا موقع دیا جاسکے ۔۔۔ یاد رکھیئے کہ جس طرح خون کو خون سے نہیں دھویا جاسکتا عین اسی طرح ایک قاتل کی جگہ دوسرے قاتل کو بٹھا کے معاملات کی بہتری کی امید نہیں کی جاسکتی- اب وقت آگیا ہے کہ مہذب تعلیمیافتہ اور باشعور شہری خواب غفلت سے جاگیں اور اس شہر نا پرساں کے معاملات کی بہتری کے لیئے خود آگے آئیں اور اجتماعی دانش اور مشترکہ شعور کی قوت سے اپنے شہرکے برسوں سے گلتے سڑتے اس وحشتی و دہشتی کچرے کو تاریخ کے کوڑہ دان پہ پھینک دیں اور یہ عزم کریں کے ہمیں اس شہر کو اسکا پرانا پرامن و مہذب و تعلیمی تشخص واپس دلانا ہے ، ہر قیمت پہ اور ہر صورت میں ۔۔۔ بتائیئے کہ کون ہے جو میری اس صدا پہ لبیک کہنے کو اور چنگاریوں سے لبریز جھلستے کراچی کو بچانے کے لیئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے ۔۔۔۔ ؟؟؟ یا پھر پہلے کی طرح حالات کی تبدیلی کی صرف خالی خولی امیدیں لگانا اور سپنے دیکھنا ہی کافی ہے ،،،؟؟ کراچی والوں کے نصیب میں کیا یہی ہے۔۔۔ اگر چور نہیں تو گرہ کٹ ۔۔؟؟

[email protected]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *