رکاوٹیں اور نجات کی راہ

ڈاکٹر اکرام الحقikram

معروف کالم نگار شاہد کاردار سولا ستمبر کو ڈان میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں لکھتے ہیں، ’’ایک اچھا معاشرہ قائم کرنے کے لیے درکار وسائل کا بوجھ اٹھانے اور اپنی گنجائش کے مطابق اس میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے اشرافیہ طبقہ کسی صورت تیار نہیں ۔ اس کی بجائے اس نے جاگیردارانہ اقدارکے ادغام سے اقربا پروری، قانون کی پامالی، عدل وانصاف کے تقاضوں سے رو گردانی اور احتساب کرنے والے اداروں کی تباہی پرمبنی ایسا سماجی نظام تشکیل دے رکھا ہے جس میں شخصیت پرستی اور ذاتی تعلقات ہی فیصلہ کن عامل ہوتے ہیں۔ ایسے معاشرے میں غیر جانبدار، مارکیٹ کے تقاضو ں کی بنیاد پر صحت مندانہ مسابقت اور معیشت کے دیگر اصولوں کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی ۔ حتی کہ آہستہ آہستہ سراٹھانے والا درمیانہ طبقہ، جس کا اشرافیہ میں تو شمار نہیں کیا جاسکتا، بھی اسی راہ پر چل نکلا ہے۔ اس کی وجہ سے ریاست اور اس کے اداروں کی ساکھ کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔‘‘
ٹیکس کا نظام، جو کسی بھی ملک کی سماجی اور معاشی پالیسیوں کو ایک جہت اور ان کے عملی نفاذ کے لیے وسائل فراہم کرتا ہے، پاکستان میں واجب توجہ سے محروم رہا ۔ ایک منطقی اور حقیقی ٹیکس پالیسی کا اصل مقصد پرائیویٹ افراد سے وسائل لے کر عوامی ترقی کے منصوبوں اور انتظام پر صرف کرنا ہوتا ہے۔ سماجی جمہوریت میں ٹیکس کے نظام عوام کے لیے سماجی ہمواری اور معاشی انصاف کو یقینی بناتا ہے۔ اس نظام کے لیے وسائل کو بانٹ کر اور طاقتور طبقوں پر بوجھ ڈال کر کمزور طبقوں کو فائدہ پہنچایا جاتا ہے۔ دولت کی تقسیم کے ذریعے بے روزگاروں، بے سہارا عورتوں، بچوں ، نادار ، مفلس اور معذور افراد کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ تاہم سماجی فلاح کے یہ عناصر ہماری ٹیکس پالیسی کا سرے سے ہی حصہ نہیں۔
چونکہ پاکستان ٹیکس کے حصول میں گراوٹ کا سامنا کررہا ہے، اس لیے ہر سال مالی خسارہ بڑھتا جارہا ہے۔ اس سال مالی خسارہ دو ٹریلین روپے بڑھ چکا ہے۔ ٹیکس سے بچ نکلنے والے افراد کو اس کے دائرے میں لانے کی بجائے یہ ٹیکس چوروں اور قومی دولت لوٹنے والوں کو مزید چھوٹ، مراعات اور بچ نکلنے کے مواقع فراہم کررہی ہے۔ دیگر ممالک میں موجودہ اور سابقہ ٹیکس کے خسارے پورا کرنے اور بیرونی ممالک میں جمع شدہ غیر قانونی دولت ، جس پر ٹیکس ادا نہیں کیا گیا، کو واپس لانے کے لیے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں بہت سے ممالک کے ٹیکس حکام نے ٹیکس فائلز جمع نہ کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی ہے اور ان سے گزشتہ سالوں کے غیر ادا شدہ واجبات بھی وصول کیے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں ایف بی آر نے دولت مند افراد کو غیر معمولی ٹیکس چھوٹ دے دی۔ اس لیے حیرت کی کوئی بات نہیں اگر ایف بی آر 2013-14 کے مالی سال کے دوران 2475 بلین روپوں کے ٹیکس کا ہدف پور ا کرنے میں ناکام رہا۔ اس ہدف میں بعد میں تخفیف کرتے ہوئے اسے 2275 بلین روپے قرار دیا گیا تھا لیکن یہ ہدف بھی پورا نہ ہوسکا۔ اب تک یہ بات تقریباً طے ہوچکی ہے کہ جب تک زیرِ زمین پروان چڑھنے والے معیشت کو ٹیکس کے دائرے میں نہیں لایا جائے گا، موجودہ مالی بحران، جس کے سنگین سیاسی اور سماجی مضمرات ظاہرہورہے ہیں، بڑھتا جائے گا۔ اس کالے دھن پر ٹیکس وصول کرنے میں یکے بعد دیگرے سول اور ملٹری حکومتیں ناکام رہی ہیں۔ اس لیے آج وہ دولت مند طاقتیں مزید توانا ہوکر ریاستِ پاکستان کو کنٹرول کررہی ہیں۔
چونکہ پاکستان پرملٹری ، عدلیہ، سول بیورکریسی ، جاگیرداروں اور صنعت کاروں پر مشتمل سیاست دانوں کے گروہ راج کررہے ہیں، اس لیے اس کا ٹیکس کا نظام انہی طاقتور اور متمول طبقوں کے مفاد کو مدِ نظر رکھ کر بنایا گیاہے۔ ان دولت مند طبقوں کو عوام کو بنیادی سہولیات، جیساکہ پینے کا صاف پانی، صحت ، تعلیم، ٹرانسپورٹ ، ہاؤسنگ وغیرہ کی فراہمی میں کوئی دلچسپی نہیں۔ اگر وہ کوئی ایسے منصوبے شروع بھی کرتے ہیں تو ان میں اُن کا اپنا مفاد پنہاں ہوتا ہے۔ہمارے حکمران طبقے عوام سے لاپروا ہونے کے ساتھ ساتھ نااہل بھی ہیں، اس لیے وہ ویلیو ایڈیڈ اکنانومی کے نظام کو ترقی دینے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کی طرف سے جابرانہ طریقوں سے کم آمدنی والے افراد سے ٹیکس وصول کرنے کے ہتھکنڈوں نے معیشت کو تباہی سے ہمکنار کرنے کے علاوہ ملک میں امیر اور غریب کے درمیان خلیج کو بھی بڑھا دیا ہے۔ ایشین ڈولپمنٹ بنک کی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں گزشتہ پچیس برسوں میں عام آدمی پر ٹیکسوں کے بوجھ میں 38.7 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اس عرصے میں دولت مند افراد پر ٹیکس کی مد میں 22.2 فیصد بوجھ کم ہوا ۔
ہمارے حکمران اشرافیہ طبقے کی سب سے بڑی ناکامی اس کی طرف سے اُس بوسیدہ اور نااہل ڈھانچے کو تحفظ دینے کی پالیسی ہے جو فعالیت دکھانے کے قابل کی اہلیت نہیں رکھتا۔ جوڈیشل او ر سول ڈھانچہ فعالیت دکھانے میں ناکام ہے ، اس لیے اس پر امید لگانا بے سود ہے۔ دیکھنے میں نہیں آیا کہ کبھی کسی ٹیکس چور کو سزا ملی ہو۔ اس دوران، جبکہ ریاستی ادارے حکمرانوں کی نااہلی کی نذر ہورہے ہیں، سیاسی اشرافیہ عوام کی حالتِ زار سے بیگانہ اور ان کے بنیادی انسانی حقوق سے لاتعلق ہے۔ لوگ ذہنی تناؤ اور پریشانی کا شکار ہیں کیونکہ ان کی زندگی دشوار سے دشوار تر ہوتی جارہی ہے۔دوسری طرف حکمران اپنے عیش و عشرت میں مگن، زمینی حقائق کو نظر انداز کرنے کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔
ہمارا ٹیکس کا وفاقی لیول اٹھ ٹریلین تک پہنچ سکتا ہے۔ Pakistan Bureau of Statistics کے’’ ہاؤس ہولڈ انٹی گریٹڈ اکنامکس سروے2011-12 ‘‘ کے مطابق کم از کم پانچ ملین افراد کی آمدنی پندرہ لاکھ سالانہ ہے۔ اگر ان میں سے تمام ٹیکس فائل جمع کرائیں تو ان سے 1650 بلین روپے ٹیکس حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اگر کاروباری اداروں سے حاصل کردہ انکم ٹیکس اور ان افراد، جن کی آمدنی چارلاکھ سے دس لاکھ سالانہ کے درمیان ہے اور وہ ٹیکس ادا نہیں کرتے، سے بھی ٹیکس وصول کیا جائے تو 4500 بلین روپے ٹیکس حاصل کیا جاسکتا ہے، لیکن ایف بی آر نے 2013-2014 میں تقریباً 850 بلین روپے انکم ٹیکس وصول کیا ۔ اسی طرح ٹیکس کے نظام میں خامیوں کی وجہ سے وفاقی ایکسائز اور کسٹم ڈیوٹیز میں مدمیں پچاس فیصد کے قریب محصولات ضائع ہوجاتے ہیں۔ 2013-14 میں ایف بی آر نے سیلز ٹیکس کی مد میں1400 بلین روپے وصول کیے۔ تاہم یہ کم از کم 3500 بلین روپے وصول کرسکتا تھا۔ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ اٹھ ٹریلین روپے کا ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے۔
اگر پاکستان یہ ہدف حاصل کرلے تو اس کی معیشت خودانحصاری حاصل کرسکتی ہے اور پاکستان ایک فلاحی ریاست بھی بن سکتا ہے۔ قرضوں کے جال سے چھٹکارا حاصل کرنے کا واحد یہی حل ہے۔ حاصل کردہ رقوم کو عوام کی فلاح پر خرچ کرنے سے آئین کے تقاضے پورے کیے جاسکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ وسائل کو تحریک دی جائے اور انفراسٹرکچر کو تعمیر کیا جائے۔ چھوٹی اور درمیانے حجم کی فرموں اور زرعی سیکٹر کو وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ ان میں ملازمتوں کے مواقع پیدا کیے ہوسکیں۔ اس دوران بڑی فرموں کے ساتھ سرکاری اداروں کے اشتراک سے غریب عوام کی ترجیحی بنیادوں پر امداد کا پروگرام بنایا جائے۔ اس سے معاشرے میں بنیادی تبدیلی آنا شروع ہوجائے گی۔ لوگ محسوس کرنا شروع ہوجائیں گے کہ وہ اشرافیہ کے پنچوں سے نکل چکے ہیں۔ یہی اصل آزادی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *