دھرنا شو عید تک کیسے جاری رکھیں؟ سیاسی کزن ’’فیملی پلاننگ‘‘ میں مصروف

imran khan(رپورٹ۔۔دنیاپاکستان)عمران خان اور طاہر القادری کے انتہائی قریبی حلقے اِن دنوں دھرنے کو عید تک پھیلانے کی کوششوں میں جُتے ہیں۔انتہائی باخبر ذرائع نے دنیا پاکستان کو بتایا کہ عمران خان اور طاہر القادری دھرنوں کو قابلِ عزت تعداد میں برقرار رکھنے کے حوالے سے شدید فکرمندی سے دوچار ہیں۔اور اُن منصوبوں پر غور کررہے ہیں جن کے ذریعے دھرنوں میں شریک عوام کو عید تک روکا جا سکے اور عوام کی ایک نئی اور مناسب تعداد کو مزید شرکت کے لئے متوجہ بھی کیا جاسکے۔ذمہ دار ذرائع کے مطابق دھرنے کی اکثریت عید سے پہلے اپنے اپنے گھروں کا رخ کرنا چاہتی ہے۔ ا س کا اندازا حکومت کو بھی بخوبی ہے اور حکومت کو اُس کے انٹیلی جنس ذرائع نے دھرنوں کی اندرونی صورتِ حال اور شرکاء کی عید سے قبل واپسی کی شدید خواہش سے آگاہ بھی کردیا ہے۔ اُدھر دھرنے کے رہنما بھی شرکاء میں واپسی کی بے چینی سے آگاہ ہیں ۔ چنانچہ وہ دھرنے میں پہلے سے شریک افراد کو روکنے یا پھر اُن کی جگہ نئی تعداد کو شریک کرنے کے لئے نت نئے طریقے اختیار کر رہے ہیں۔ طاہر القادری کے دھرنے میں شریک افراد کے بارے میں یہ خیال کیا جارہا تھا کہ یہ نسبتاً زیادہ فعال ، جاں نثاراور فدائی ہیں مگر ہر گزرتے دن نے اس غبارے سے بھی ہوا نکالنا شروع کر دی ہے ۔ ابتدا ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کی جانب سے ہوئی جس نے یہ انکشاف کیا کہ طاہر القادری کے دھرنے میں شریک افراد کی ایک بڑی تعداد ایسے خواتین وحضرات پر مشتمل ہے جو اس کی یومیہ اجرت وصولتی ہے۔نسبتاً غریب اور پسے ہوئے طبقے سے تعلق کے باعث وہ جہاں چند سو روپے کی خاطر کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں ، وہیں وہ اپنے پسِ منظر کے باعث حکمرانوں سے ناراضی کی فطری وجوہات بھی رکھ سکتے ہیں۔ اس حادثاتی اتفاق نے طاہر القادری کو ابتدا میں اپنی پذیرائی کی پتنگ اونچے آسمانوں تک اڑانے کی گنجائش فراہم کر دی تھی ۔ مگر یہ کوئی ایسی بات بھی نہیں ہے جو ان خواتین و حضرات کے لئے ناگزیر ہو۔چنانچہ اب وہ زیادہ بے چینی سے گھر واپسی چاہتے ہیں۔ جن میں سے کچھ کے شناختی کارڈز دھرنا منتظمین کے پاس ہیں جب کہ کچھ معاشرتی طور پر ایسے پسِ منظر سے آئے ہوئے ہیں جنہیں اپنے گھروں کی واپسی کا طریقۂ کار تک معلوم نہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق ایسے لوگوں کے کچھ کوائف بھی سرکاری اداروں نے باقاعدہ طورپر اکٹھے کئے ہیں۔ دھرنا قائدین اس صورتِ حال سے پوری طرح آگاہ ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ یہ معاملہ آہستہ آہستہ اُن کے لئے کسی بہت بڑی شرمندگی میں بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔ چنانچہ دھرنے میں موجود شرکاء کو زبردستی روکنے کے بجائے افراد کو روزانہ کی بنیاد پر بدلنے کی حکمتِ عملی پر بھی غور کرتے رہے ہیں ۔ لیکن اس ضمن میں دھرنا قائدین کی سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ اُنہیں عوام کی طرف سے سرگرم شرکت کے اشارے نہیں مل رہے۔ اس وقت طاہر القادری کے دھرنے میں شریک خواتین وحضرات میں سے اُن چند سو کو چھوڑکر جو قدرے فعال اور قادری صاحب کے ساتھ ایک والہانہ پن رکھتے ہیں اکثریت اُن لوگوں کی ہیں جو یا تو اُجرت پر ہیں یا پھر اُن کے تعلیمی اداروں کے ملازمین ہیں۔ دوسری طرف عمران خان کا حال کچھ زیادہ ہی پتلا ہے اُنہیں عوام کی اتنی بھی تعداد میسر نہیں جتنی کہ قادری صاحب کو ہمہ وقت میسر رہتی ہے چنانچہ وہ ایوننگ منانے والی کلاس کے کچھ خواتین وحضرات سے شام کے خطاب میں الزام تراشیوں پر مبنی خطابات سے ایک نیا پاکستان بنانے سے خود بھی کچھ زیادہ پُر اعتماد دکھائی نہیں دیتے اس لئے اُنہوں نے عید سے پہلے ہی ملک کے دیگر شہروں کا رخ کر لیا ہے اور وہ اب مختلف شہروں میں جلسوں کے ذریعے اپنے دھرنے میں نئی روح پھونکنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
دھرنے کے ان دونوں قائدین نے اپنے متعلقین کو عید پالیسی دے کر اُسے کامیاب بنانے کی تلقین کی ہے۔ ذرائع کے مطابق عمران خان نے اپنے کارکنوں کو کسی بھی طرح عید کے موقع پر اسلام آباد میں جمع ہونے کے لئے کہا ہے۔ پنجاب اور خیبر پختون خواہ کے بعد اب وہ کراچی سے بھی کارکنان کی ایک بڑی تعدا دکو اسلام آباد لانے کے خواہاں ہیں۔ مگر اُنہیں اب تک اس پر کوئی واضح یقین دہانیاں حاصل نہیں ہورہی ہیں۔ چنانچہ تحریکِ انصاف کے مقامی عہدیداران اب عید کے دن مختلف اوقات میں مختلف میوزک کنسرٹ اور اس میں شریک ہونے والے گلوکاروں کے نام وپروگرام خاموشی سے اپنے کارکنان کو بتارہے ہیں تاکہ اُن کی دلچسپیوں میں اضافہ کیا جا سکے۔ دوسری طرف طاہر القادری اپنے کارکنان کو ترغیب دے رہے ہیں کہ وہ ہر سال کی طرح ادارہ منہاج القرآن میں قربانی کرنے کے بجائے اس دفعہ اجتماعی قربانی کے لئے اسلام آباد دھرنے کی جگہ پر عام لوگوں کو حصہ لینے کے لئے راغب کریں ۔ دوسری طرف وہ دھرنے کے شرکاء کو مایوسی سے بچانے کے لئے اپنے خطابات میں یہ فرمارہے ہیں کہ قربانی گھروں پر جاکر کریں گے۔ دونوں قائدین کے مختلف اور متضاد پروگرامات کے مختلف اعلانات سے یہ واضح ہورہا ہے کہ وہ کوئی واضح پروگرام سے محروم ہو گئے ہیں اور اپنے دھرنے کے اہداف کو بھی کھو چکے ہیں چنانچہ وہ اس طرح کے مختلف اعلانات سے شاید کسی ایسے خوش قسمت لمحے کی تلاش میں ہیں جس سے اُن کا کہیں نہ کہیں اور کوئی نہ کوئی داؤ لگ جائے۔دیکھئے سیاسی کزنز کی دھرنے کے لئے اس ’’فیملی پلاننگ‘‘ سے عیدِقرباں کو کیا نکلتا ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *