پاکستان کی اپنے ہی شہریوں کی شہریت منسوخ

iqrar-ahmed-abbasi

ورلڈٹریڈ سنٹر حملہ کس نے کیا ؟ اس کے کیا مقاصد تھے ؟اور وہ اپنے مقاصد میں کس حد تک کامیاب ہوا  یہ ایک ناں سمجھ آنے والی کہانی ہے تاہم ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی عمارت کے ملبے سے ایک نئے پاکستان نے ضرور جنم لیا '' ہمارا ساتھ دو ورنہ مارے جاؤگے '' کی کال نے پاکستانی قوم پر کئی ورلڈ ٹریڈ سنٹر گرائے ، دھشت گردی کے خاتمے کے نام پر پہلے اسلام پسند افغانوں کو سبق سکھانے کے لیے اپنی پاک سرزمین مہیا کی ، اپنے ہوائی اڈے کار ثواب سمجھ کر عطاء کیے ،اسلحے کی ترسیل کے لیے محفوظ وبلامعاوضہ راستے دیے اور خود بھی اس جنگ میں فرنٹ مین کا کردار ادا کرنے چل دیے ، افغانوں کو ان کی اسلام پسندی کا سبق سکھانے کے مخبر خاص نے اطلاع دی کہ اس مرض کے مریض آپ کے قبائلی علاقوں میں بھی موجود ہیں ( خرچہ ہمارا محنت تمہاری جو بچا آدھا آدھا کرلیں گے ) کا سٹامپ پیپر لیتے وقت ہم دستخط کروانا ہی بھول گئے اور تھوڑے ہی عرصہ میں اپنے تمام قبائلی علاقہ جات کو فتح کرنے میں کامیاب ہو گئے ، تین سال کی عمر سے لے کر نو سال تک کی عمر کے سینکڑوں خطرناک دہشت گردوں کو عبرت کا نشان بنا کر ابھی ہم اپنے ملک کے چپے چپے کو فتح کرنے میں مصروف تھے  اطلاع ملی کہ وہ سٹامپ جعلی تھا اگر حکومت کرنی ہے تو "ڈومور''

نئے پلان میں ملک بھر سے اسلام اور اسلام پسندوں کا خاتمہ  ہے جس کا آغاز متعدد مدارس کی بندش ، آئے روز مدارس کی کردار کشی ، اور مدارس پر عرصۂ حیات کی تنگی سے کیا گیا ، بعد ازاں چن چن کر ایسے تمام افراد کے نام فورتھ شیڈول میں ڈالے گئے جو کسی بھی ممکنہ اسلام خلاف تحریک کے راستے کی رکاوٹ بن سکتے تھے اور پھر فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی شہریت منسوخی ، مسلم لیگ نون کا ایک سیاہ کارنامہ ہے اپنے ملک کے شہر فتح کرنے کے بعد اپنے شہری فتح کرنے کی یہ ریت آنے والے کل ہر محب وطن پاکستانی کو فورتھ شیڈول میں ڈلوا کر سیاسی انتقام کا نشانہ بنائے گی جس کا کوئی فل سٹاپ نہیں ہو گا-

اطلاعات ہیں کہ اہل سنت والجماعت کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی ، اور لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز سمیت دوہزار کے قریب افراد کی شہریت ابتدائی مرحلے میں منسوخ کی گئی ہے جب کہ ٹوٹل آٹھ ہزار افراد کو شکار کرنے کے لیے شکنجہ کس لیا گیا ہے

قارئین : فورتھ شیڈول کسی بھی تھانے کی اپنی حدود میں موجود ایسے افراد کی نگرانی کو کہتے جن سے نقص امن کو خطرہ ہو اور اگر وہ افراد تھانے کی حدود سے باہر جانا چاہیں تو متعلقہ افسر کو بتا کر جائیں ۔ خدانخواستہ اگر وہ بتا کر نہیں جاتے تو پولیس افسر ان پر گرفت کر سکتا ہے

فورتھ شیڈول میں نام کا شامل ہونا  وہ کون سا جرم ہے جو ناقابل معافی اور ناقابل تلافی ہے اور حکومت بغیر کسی قانون سازی اور بغیر کسی عدالتی سہارا لیے بیک جنبش قلم اپنے ملک میں رہنے والے اپنے ہی شہریوں کی نیشنلٹی کینسل کر دے ؟

 کیا ماضی میں کبھی ایسا ہوا ؟

 کیا یہ لوگ ملزم یا مجرم ہیں ؟

 ایک پاکستانی کی شہریت کی منسوخی کے بعد اس کا مستقبل کیا ہے ؟

کیا اسے انڈیا یا کسی دوسرے پڑوسی ملک جانے کے لیے محفوظ راستہ دیا جائے گا ؟

مخبر خاص نے اطلاع دی ہے کہ نون لیگ کی  ممبر صوبائی اسمبلی راشدہ یعقوب کے جھنگ حلقہ پی پی 78 کی نااہلی کے بعد مولانا محمد احمد لدھیانوی کا راستہ روکنے کے لیے فورتھ شیڈول کو سیاسی ھتیھار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ ن لیگ اس نوعیت کی سیاست سے دریغ نہیں کرتی

بہرحال احمقانہ فیصلوں کے لیے جو معمولی درجے کی عقل درکار ہوتی ہے شاید اس سے بھی پیدل ہو کر اپنے شہریوں کے فتح کی جو یہ نئی ریت ڈالی گئی ہے کسی طرح سے بھی ملک و ملت کے حق میں نہیں ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *