دین کو نئی زندگی بخش دینے والوں کا تذکرہ!

karbala

’’پس میں آج ان آنکھوں کا تذکرہ نہیں کرتاجو بہت رو چکی ہیں،مجھے انآنکھوں کا سراغ بتلاؤ جو اب بھی رونے کے لئے نم آلودہ ہیں،میں ان دلوں
کی سرگزشت نہیں سناتا جو تڑپتے تڑپتے تھک چکے ہوں،میں ان دلوں کی تلاش میں نکلا ہوں جو اب بھی تہ و بالا ہونے کے لئے مضطرب ہیں،،،
مجھے ان زبانوں سے کیا سروکار جن کو فغاں سنجی ہائے ماضی کا ادعا ہے،،آہ! میں تو ان زبانوں کے لئے پکار رہا ہوں جن کے اندر غم و ماتم کی بھٹیاں
سلگ رہی ہوں اور انکا دھواں آج بھی فضا میں باقی ہے۔۔!‘‘[مولانا ابوالکلام آزاد]
نجانے کیوں مولانا کے یہ الفاظ کیوں یاد آئے۔۔لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ تکیہ بھیگ گیا تھا۔۔یہ کیسی عجب مظلومیت تھی کہ سرور کونین سرکار دو عالم ﷺکا نواسہ اس دنیا میں آزمائش سے پر دن دیکھ رہا تھا۔۔اور آزمائش بھی وہ کہ جسکو دنیا یاد رکھنے والی تھی۔۔اور کربلا پر تو دنیا بعد میں روئی تھی آفریں ہے اس پیغمبر پر اپنی زندگی میں ہی جنہیں اس واقعہ کی تفصیل بتائی جا چکی تھی مگر وہ پہاڑ اایسا حوصلہ رکھنے والے اس آزمائش میں ثابت قدم رہنے کی دعائیں مانگتے رہتے جو ابھی دور تھا اور ابھی تو حسیںؓ سامنے ہی کھیلتے تھے۔۔
ٓٓآپ کی پیدائش مبارکہ پر آپﷺ نے سیدنا حسینؓ کے کان میں اذان دی۔۔نام سے متعلق روایات ہیں کہ حسین نام حسن سے ہی مشتق ہے۔۔جب آپ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے وحی کا انتظار کیا تھا۔۔اور وحی میں آپ ﷺ کو دونوں نواسوں کے نام حضرت ہارون ؑ کے بیٹوں کے نام پر رکھنے کا حکم دیا گیا۔۔یوں حضرت حسن شبرؓاور حضرت حسیں شبیرؓ کہلائے۔۔آپ ﷺ کو اپنی اس بیٹی حضرت فاطمہ اور داماد حضرت علی سے بھی بہت محبت تھی۔۔وہی فاطمہؓ جنکے بارے میں آپ ﷺ کہاکرتے تھے کہ،’’فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے اور اس کی ناراضگیمجھے ناپسندیدہ ہے۔۔‘‘اور’’جس چیز سے فاطمہ خوش ہے اس چیز سے مجھےبھی خوشی ہوتی ہے۔۔‘‘اور یہاں تک کہ یہ بھی فرمایا۔۔’’جو چیز میری بیٹی کو پریشان کرتی ہے وہ چیز مجھے بھیپریشان کرتی ہے اور جو چیز اس کو تکلیف دیتی ہےوہ مجھے تکلیف دیتی ہے۔۔‘‘اور پھر واللہ یہ وہی حسیں تھے جسکے بارے میں آپ والہانہ کہا کرتے تھے کہ جو حسیں کے ساتھ صلح کرے گا میں بھی اسکے ساتھ صلح رکھوں گا۔۔اور جو حسیں کے ساتھ لڑائی کرے گا میں بھی اسکے ساتھ لڑوں گا۔۔کیونکہ،،
شاہ است حسین ،بادشاہ است حسین
دین است حسین ،دین پناہ است حسین
آپ سیدناؓ کو مختلف القابات دےئے گئے جن میں نمایاں یہ ہیں۔۔الرشید، الطیب، السید، المبارک، السبط۔۔۔مگرآپکا مشہور ترین لقب الشہید ہے۔۔وجہ یہ ہے کہ آج تلک دنیا میں نہ کسی شہید کو اور نہ کسی شہادت کو اس قدر مقبولیت حاصل ہوئی جتنی آپؓ کی شہادت کو ہوئی۔۔ آپکو سید الشہداء بھی کہا جاتا ہے ۔۔۔کیونکہ آپ نے تمام مصائب صبر سے برداشت کئے۔۔حالانکہ آپکو ان تمام مشکلات کا علم بھی تھا۔۔مگر آپ نے اللہ تعالی کی رضا کو پسند فرمایا۔۔جب آپ پر زور ڈالا گیا کہ آپ باطلکی بیعت قبول کر لیں تو آپ نے واضح انکارکر دیا۔۔اور پھر آپ نے اپنے خاندان سمیت ہر وہ ظلم برداشت کیا جو غاصبوں نے آپ پر ڈھایا۔۔سیدنا امام زین العابدینؓ فرماتے ہیں کہ ’’جس رات کی صبح میدان شہادت گرم ہونے والا تھاعین اسی شب کا واقعہ ہے کہ میں بیمار پڑا تھا،میری پھوپھی زینب میری تیمارداریمیں مصروف تھیں،،اتنے میں حضرت امام حسینؓ داخل ہوئے، وہچند اشعار پڑھ رہے تھے جنہیں سن کر میں سمجھ گیا کہ ان کا ارادہ کیا ہے؟میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور مجھے یقین ہو گیاکہ ہم پر اب ابتلاء الہی نازل ہو گئی ہے اور اب اس سے چارہ نہیں،مگر حضرت زینبؓ ضبط نہ کر سکیں،وہ اپنی فطری رقت سے مغلوب ہو گئیں اور ماتم کناں چلا اٹھیں’’واحسرتا!وا مصیبتا!الیوم ماتت فاطمہ و علی والحسن ابن علی۔۔۔۔‘‘کہتے ہیں کہ اس پر سیدنا امام حسینؓ نے انہیں حوصلہ دیا اور فرمایا۔۔
’’اے بہن! یہ کیا بے صبری اور کیسا جزع ہے؟موت تواٹل حقیقت ہے ۔۔‘‘
اور پھر بعد کے واقعات میں سیدہ زینبؓ عزم و ہمت کا پہاڑ بن کر جمی رہیں۔۔آپ نے عورت ہو کر بھی ثابت کر دیا کہ بہادری اور جفا کشی کسی کی میراث نہیں۔۔۔اور کیسے خوبصورت لوگ تھے جو میدا ن کربل کے تپتے صحرا میں وفا کی ایک نئی داستان رقم کرنے چلے تھے۔۔اس سیدنا ! آپ کی یہ قربانی قیامت کے بعد بھی تازہ رہے گی۔۔سلام اہل بیت!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *