ملکی استحکام تنازعات کے حل میں ہے!

roqaiya gazal

باوجودیکہ یہ ماہ محرم الحرام ہے جس میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے ہمیشہ کی طرح ہر طبقہ سے پر امن رہنے کی اپیل کی گئی ہے جبکہ ہر طبقہ انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون بھی کر رہا ہے تاہم عزاداروں کے لیے حکومت نے بے انتہا انتظامات بھی کر رکھے ہیں یقیناًاس سیکیورٹی کے نتائج بھی مثبت برآمد ہونگے مگر داخلی سیاست اپنی طرز اور منفرد انداز میں اپنے عروج پر ہے اپنی اپنی کشتی کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے ہر روز ہر لیڈر کوئی نہ کوئی نیا بیان ضرورداغ دیتا ہے ۔پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان حکومت کو کوئی نہ کوئی نیا ٹف ٹائم دے کر’’ پریشر‘‘ میں رکھتے ہیں ۔30اکتوبر کی خوفناک کال سے برسر اقتدار عہدے داران کا دل دہلتا ہے ۔لاکھ چھپانے سے بھی دل کی بات ہر جگہ زبان پر آہی جاتی ہے ۔میاں صاحب نے پھر کہا ہے کہ دھرنے والے ناکام ہونگے ۔انھوں نے مزید کہا ہے کہ احتجاج کی کوئی’’ حد ‘‘ہوتی ہے انھوں نے ن لیگ کی مجلس عاملہ سے اپنی پریشانی بتائی کہ ہمارے مخالفین منفی سیاست سے اسلام آباد کو مفلوج کرنا چاہتے ہیں ۔دوسری طرف تحریک انصاف نے اورنج لائن ٹرین منصوبے کے خلاف مقدمے میں فریق بننے کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر دی ہے ۔تیسری طرف عمران خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم کا الیکشن کمیشن میں بیان جھوٹ پر مبنی ہے اقتدار ملا تو ایک ایک جھوٹ کا حساب لینگے ۔تحریک انصاف کا کھل کر اور بیشتر کا در پردہ موقف ہے کہ وزیراعظم’’ تاخیری حربے‘‘ استعمال کر رہے ہیں اس طرح نئی سے نئی بات کر کے جناب میاں نواز شریف کے مخالفین اُن کا لہو گرم رکھتے ہیں اور اس لیے بھی بہرحال انسان ہونے کے ناطے پریشر میںآجانا لازمی بات ہے پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈران کے بیانات اور طریقہ کار بالکل ہارے ہوئے کھلاڑیوں جیسا ہے کہ سرعام غدار اور دھکے دو کے نعرے لگانے والے کی کسی آشیر باد پر رام ہوچکے ہیں مگر دو عملی کا عالم یہ ہے کہ بلاول بھٹو نے پھر کہا ہے کہ وزیراعظم پانامہ لیکس کی تحقیقات میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں اور پانامہ پیپرز تحقیقاتی بل 2016 پر عمل درآمد کیلئے بڑے اتحاد کیلئے سرگرم بھی نظر آرہے ہیں ۔دوسری طرف خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد سیل کرنے کا فیصلہ عمران کا ہے عوام کا نہیں ہے اور یہ کہ فیصلے اگر سڑکوں پر بہتر ہو سکتے ہیں تو مولانا فضل الرحمن دو لاکھ افراد لا کر اسلام آباد بند کر سکتے ہیں رضا ربانی کا کہنا ہے کہ سیاستدانوں سمیت تمام اشرافیہ کا بلا تفریق احتساب ہونا چاہیئے اسفند یار ولی کہتے ہیں کہ شہروں کو مفلوج کرنا سیاست نہیں میں 2گھنٹے میں پشاور بند کروا سکتا ہوں ان کے خیال میں عمران خان کو صرف وزارت عظمیٰ کا لالچ ہے انھوں نے حکومت کو مخالف ہو کر کہا کہ جناب نواز شریف ہمیں غلام مت سمجھیں ایک طرف سراج الحق کا کہنا ہے نام نہاد جمہوریت کا ڈھول بجانے سے عوام کا پیٹ نہیں بھرتا دوسری طرف کہا کہ 30 اکتوبر کو جماعت اسلامی لاہور میں بہت بڑا جلسہ کرے گی طاہر القادری نے بیان دیا ہے کہ ماڈل ٹاؤن اور پانامہ لیکس کا سامنا کرنا ہی ہوگا
ان تمام حالات و واقعات کے تناظر میں اگر غوروفکر کیا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان مسلم لیگ ن کسی طور تحریک انصاف کو تنہا کرنے میں کامیاب ہوئی اور اپنی اتحادی جماعتوں سے یہ کہلوا چکی ہے کہ اسلام آباد بند کرنا غیر ضروری مہم جوئی ہے اور یہ بھی کہ عمران خان انصاف اور احتساب میں دوہرے معیار کا شکار ہیں ۔میاں نواز شریف کے ترجمان یہ کہہ رہے ہیں کہ عمران قلابازی خان اور یوٹرن کے ماہر ہیں یہ بھی کہ عمران خان اور قادری کو سازشی منصوبے بنانے سے کچھ حاصل نہ ہوگا لیکن ان تمام کاوشوں کے با وجود 30 اکتوبر کا ہوّا ایسابھیانک ہے کہ نیند نہیں آنے دیتا ۔بعض میڈیا ہاؤسز کا کہنا ہے کہ لندن میں پلان تیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے مگر عوامی تحریک کے ترجمان کا بیان ہے کہ لندن پلان حکومتی پراپیگنڈہ ہے ۔تحریک انصاف کے قائدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ 30 اکتوبر کیلئے کسی دوسری پارٹی کی چنداں ضرورت ہی نہیں ہے ۔مولانا فضل الرحمن جو حکومتی ایوانوں کے دلوں پر راج کرنے کے ماہر ہیں ان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد بند کرنے کی کنجی کسی کے پاس نہیں ،مخالفین کا جنازہ نکل گیا، اب مخالفین سی پیک پر گمراہ کر رہے ہیں ۔
اس وقت بے شمار تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ PTI قادری کے بغیر اسلام آباد بند نہیں کر سکتی ،دوسری طرف بعض حکومتی وزراء کہتے ہیں کہ اگر PTI پانامہ لیکس پر ملکی اداروں کے پاس گئی ہے تو انھیں فیصلہ کرنے دے اور کچھ یہ کہہ کر خود کو تسلی دے رہے ہیں کہ کوئی بھی منفی سیاست سے پاکستان کو بند نہیں کر سکتا ۔دکھ کی بات یہ ہے کہ حکومت عملی طور پر یکسوئی سے عوامی مسائل کا حل نہیں کر رہی ہے اور نہ ہی اپوزیشن کے ٹولے حکومت کو کسی’’ میرٹ‘‘ پر کام کرنے دے رہے ہیں بس کھٹا کھٹ انداز میں حکومت کی کشتی اپنا عرصۂ حکومت پورا کر رہی ہے مگر ڈھٹائی یہ ہے کہ ہر کوئی ذاتی مفادات کا کھاتہ پورا کرتا جا رہا ہے جبکہ قوم کو پانامہ لیکس ،کرپشن ،اورنج ٹرین ،الیکشن کمیشن اور دوسرے معاملات میں الجھا رکھا ہے ،دھرنوں سے عوام کوکیا ملے گا ؟ حکومت تو PPP کی بھی تبدیل ہوئی تھی مگر PMLNوالوں نے آکر کیاکمال کر دیا ۔اب سارے ہی رو رہے ہیں اور حالات یہ ہیں کہ جو زیادہ روتا ہوا قریب آتا ہے’ لالی پوپ ‘‘لیکر ساتھ چمٹ جاتا ہے اور جو سارے مفادات اکیلا ہی حاصل کرنا چاہتا ہے وہ تنہا رہ جاتا ہے عوامی ضروریات کے حالات یہ ہیں کہ بجلی اور گیس جیسی بنیادی آسائشوں اور ضرورتوں کا بحران نہ صرف بڑھ چکا ہے بلکہ ان کے ریٹس ادا کرنے پر ہر کس و ناقص تنگ اور نالاں ہے حتہ کہ سینٹ میں تحریک التوا جمع کروائی جا چکی ہے ۔ن لیگ اگر 2018تک بھی عملی طور پر بجلی اور گیس جیسے بحرانوں کو ختم نہ کر سکی تو اس کااپنا مستقبل بھی تاریک ہوگا اور پھر کسی دھرنے یا مارچ کی ضرورت بھی نہ ہوگی ۔حالات خود فیصلہ کن ہونگے ! عالمی رپوٹس کہہ رہی ہیں کہ حکومت نے دوسرے درجے کی کارکردگی دکھائی ہے معیشت کو درپیش چینلجز اور مشکلات پر قابو پانے کے لیے کوئی منظم کوشش نہیں کی گئی ۔بیرون ملک سے انتہائی زیادہ شرح سود پر لئے گئے قرضوں کی وجہ سے ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑی تیزی سے بڑھا ہے انھوں نے الم نشرح کہا ہے کہ طرز حکومت کو بہتر نہیں کیا گیا اور نہ ہی دوسری بنیادی چیزوں پر توجہ دی گئی ہے ۔آج بھارت کشمیر کے مسئلہ پر اپنے اسلحہ سازوں کو تیزی لانے کا کہہ رہا ہے افغانستان بھی بگڑا رہتا ہے ایسے میں اقوام متحدہ میں پاکستان کی مندوب ملیحہ لودھی کی یہ بات بہت اچھی ہے کہ دہشت گردی روکنے کے لیے ہر کسی کو دیرینہ تنازعات حل کرنے کی ضرورت ہے ۔حکومت کو چاہیئے کہ جگ ہنسائی کروانے کی بجائے اور اقتدار سے محروم طبقوں کو مزید تپانے اور طبل جنگ بجانے کی بجائے کسی طرح معاملات کا حل کرے تاکہ ملک موجودہ اور آنے والے بحرانوں سے نکلے وگرنہ آج ہر محکمہ من مانی کر رہا ہے بلکہ زیادتی کر رہا ہے اور کوئی بھی فرائض کی کماحقہ ادائیگی نہیں کر رہا کیونکہ ملک کے سرپرست ،،نگران اور نگہبان تو بچوں کا کھیل کھیل رہے ہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *