پاکستانی لڑکی کے فیس بک پوسٹ نے انٹرنیٹ پر دھوم مچادی

اسلام آباد -بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں جہالت اور جنسی ہیجان کا یہ عالم ہے کہ بریسٹ کینسر جیسی جان لیوا بیماری کا نام سن کر بھی کچھ لوگ نسوانی اعضاءکے متعلق سوچنے لگتے ہیں، اور حتٰی کہ بیہودہ گوئی سے بھی گریز نہیں کرتے۔ فاما حسن نامی ایک پاکستانی طالبہ کو بھی ہمارے معاشرے کی اس تلخ حقیقت کا اس وقت سامنا کرنا پڑ گیا جب بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی کی مہم کے سلسلہ میں ان کے تعلیمی ادارے میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ وہ کہتی ہیں کہ جب وہ واپسی پر گھر کے لئے نکل رہی تھیں تو چار لڑکوں کے ایک گروپ کے پاس سے گزریں، جن کے درمیان کچھ ایسی گفتگو ہورہی تھی۔

پہلا لڑکا: اوئے وہ کیا کرنے آئے تھے؟

بریسٹ کینسر کا کچھ کہہ رہے تھے، اسی کا بتائے جارہے تھے( اور ساتھ ہی ان کی غیر سنجیدہ ہنسی سنائی دیتی ہے)
اس کے بعد تیسرا لڑکا کچھ مزید بیہودہ بات کہتا ہے اور وہ سب مل کر زور کا قہقہہ لگاتے ہیں، گویا بریسٹ کینسر کوئی بیماری نہیں بلکہ کوئی فحش لطیفہ ہو ۔

Source: Fama Hasan Via: Facebook

فاما حسن کو اس واقعے پر شدید دھچکا لگا اور انہوں نے اپنے جذبات کے اظہار کے لئے ایک فیس بک پوسٹ تحریر کی، جو انٹرنیٹ صارفین بہت بڑے پیمانے پر شیئر کررہے ہیں۔ انہوں نے لکھا”یہ معاشرہ، جہاں انسانی اعضاءکو اس قدر جنس کے ساتھ منسلک کردیا گیا ہے کہ ان اعضاءسے متعلقہ کینسر کو بھی جنسی گفتگو کا موضوع بنادیا جاتا ہے۔ ان لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ یہ بیماری ہر سال پاکستان میں 40 ہزار خواتین کی جان لیجاتی ہے، اور یہ صرف وہ کیس ہیں جو رپورٹ کئے جاتے ہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ پاکستان میں بریسٹ کینسر کی شرح ایشیاءمیں سب سے زیادہ ہے۔ وہ اس بات سے بھی ناواقف ہیں کہ معاشرے کا یہی رویہ ہے جس کے باعث خواتین اپنے طبی معائنے کے لئے جانے سے بھی جھجکتی ہیں یہاں تک کہ اپنے قریبی عزیزوں کو بھی اس کے متعلق نہیں بتاتیں، جس کے نتیجے میں انہیں اپنی جان سے بھی ہاتھ وھونا پڑتے ہیں۔ خدا نہ کرے کہ ایسے لوگوں کے خاندان میں کسی خاتون کو یہ بیماری لاحق ہو۔ میں ان تمام لوگوں کو بتانا چاہتی ہوں کہ کسی بھی عملی قدم سے پہلے اس بیماری سے متعلق آگاہی پھیلانا ضروری ہے۔ لیکن جب یہ تنظیمیں ہمارے اداروں میں آتی ہیں تو انہیں ایسے احمقوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ میں ان چار لڑکوں سے یہ کہنا چاہوں گی کہ خود بھی جان لو اور اپنے اردگرد موجود لوگوں کو بھی بتاﺅ کہ خواتین کے جسم محض اشیاءنہیں ہیں۔ ہم بھی حقیقی انسان ہیں، جنہیں حقیقی بیماریاں بھی لاحق ہوتی ہیں۔ کاش تمہاری فحش فلموں کی لت سے تم نے یہ سب کچھ نہ سیکھا ہوتا۔ خدا تمھارا بھلا کرے :-“

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *