وضع دار سیاست کی آخری نشانی بھی رخصت ہو گئی 

ہفتے کے پانچ دن صبح اُٹھتے ہی یہ کالم لکھنے کے علاوہ میں نے پیر سے جمعرات کی شام ایک ٹی وی شو بھی شروع کردیا ہے۔ عمر بڑھنے کی وجہ سے نازل ہوئے چند معاملات یہ فرائض ادا کرتے ہوئے میری توانائی نچوڑلیتے ہیں۔ہفتے کے بقیہ دن لہٰذا سوشل میڈیا سے حتی الامکان گریز کی کوشش کرتا ہوں۔ سینیٹر اعظم سواتی کی سنائی دلخراش داستان کو مگر نظرانداز نہیں کرپایا۔

ان کی سنائی داستان منظر عام پر آئی تو اندھی نفرت وعقیدت میں تقسیم ہوئے معاشرے میں اس کی بابت زیادہ تر نامناسب تاہم چند واجب سوالات بھی اُٹھائے گئے۔ حوصلہ مگر یہ جان کر نصیب ہوا کہ تحریک انصاف کی مخالف صفوں میں سے سینیٹر مصطفےٰ کھوکھر،مسلم لیگ (نون) کے وزیر مصدق ملک اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے مذکورہ واقعہ کے بارے میں بھرپور مذمتی ٹویٹ لکھے۔ ان سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمان کی بے توقیری اور بے اثری کو بھی عیاں کردیا ۔بقول منّوبھائی ”اجے قیامت نئی آئی“۔

ہماری سیاست ہیجان کی نذر ہوکر فریقین کو جس خوفناک انداز میں بھڑکارہی ہے اس کے تناظر میں میربلخ شیر مزاری صاحب کے انتقال کی خبر بھی آگئی۔غالباََ وہ ہمارے ہاں ”وضع دار سیاست“کی آخری علامت تھے۔ان سے ملاقاتوں کا آغاز 1985ءمیں ہوا تھا۔ قومی اسمبلی کے لئے منتخب ہوکر وہ حکومتی جماعت میں شامل نہ ہوئے۔اپوزیشن ہی میں براجمان رہے۔ایوان میں تقاریر سے اجتناب برتتے۔حاجی سیف اللہ مرحوم مگر حزب مخالف کی جانب سے ماحول کو ہمیشہ گرمائے رکھتے۔ بسااوقات احتجاجی واک آﺅٹ بھی ہوجاتے۔ بلوچستان کے ایک اور وضع دار سیاستدان وزیر احمد جوگیزئی صاحب ان دنوں قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر ہوا کرتے تھے۔ نہایت بردباری سے ماحول کو ٹھنڈارکھنے کی کوشش کرتے۔ پارلیمانی کارروائی کو قواعد وضوابط کے مطابق چلاتے ہوئے اسے باوقار دکھانے کو بے چین رہتے۔

مزاری صاحب ظفر اللہ جمالی اور اکبر بگتی کے چھوٹے بھائی احمد نواز بگتی کے ہمراہ جوگیزئی صاحب کے دفتر میں وقت گزارنا پسند کرتے تھے۔ میں ”اندر کی خبر“ ڈھونڈنے کی خاطر وہاں گھس جاتا۔ وہاں ہوئی تمام گفتگو ہمیشہ ”آف دی ریکارڈ“رہی۔ مزاری صاحب بہت شفیق مگر انتہائی کم گو تھے۔ ان کے ساتھ چند لمحات گزارنے کے بعد سمجھ آجاتی کہ ہماری اشرافیہ کی چند شخصیات ”خاندانی“ کیوں کہلاتی ہیں۔اپنی جوانی میں اس نسل سے تعلق تھا جو ”سرخ انقلاب“ کے خواب دیکھتی تھی۔ میر بلخ شیر مزاری جیسے ”سرداروں“ کو وطن عزیز کے ہر مسئلہ کا ذمہ دار تصور کرتی تھی۔ ان سے ملاقاتوں نے مگر احساس دلایا کہ ان جیسے سیاستدان تو خود کو بوکھلائے اور بے اثر محسوس کررہے ہیں۔ انہیں یہ غم کھائے جارہا ہے کہ سرکاری سرپرستی میں اُبھرے ”نودولتیے“ریاستی فیصلہ سازی میں بھی حصہ دار بن رہے ہیں۔ دور دراز قصبات میں پھیلی پسماندگی کا ”نئے سیاستدانوں“ کو رتی بھر علم نہیں۔اس کا علاج ڈھونڈنا تو بہت دور کی بات ہے۔

دریں اثناء1990ءکے انتخاب ہوگئے۔ اس کے نتیجے میں نواز شریف صاحب پہلی بار وزیر اعظم کے منصب پر پہنچے۔مزاری صاحب ان کی پالیسیوں سے خوش نہیں تھے۔ نہایت معصومیت سے اکثر مجھ سے محفلوں میں پریشان ہوکر پوچھتے ”آپ کا لاہوری کیا کررہا ہے؟“یہ سوال جب انہوں نے تواتر سے اٹھانا شروع کردیا تو بالآخر یہ سوچنے کو مجبور ہواکہ معاملہ گڑبڑ ہے۔صحافیانہ تجسس نے ”مزید“کی طلب بڑھائی تو اندازہ ہوا کہ ہماری ریاست کے دائمی ادارے بھی نواز شریف کی ”برق رفتار“ فیصلہ سازی سے ناخوش ہیں۔ان دنوں افسر شاہی سے اُبھرے غلام اسحاق خان ہمارے صدر تھے۔آئین کی آٹھویں ترمیم انہیں قومی اسمبلی کو برطرف کرنے کا اختیار بھی مہیا کرتی تھی۔ اس اختیا ر کو انہوں نے 1990ءکے اگست میں محترمہ بے نظیر صاحبہ کی پہلی حکومت برطرف کرنے کیلئے استعمال کیا تھا۔

نواز شریف کی پہلی حکومت کے دو برس گزرگئے تو مجھے ٹھوس اشارے ملنا شروع ہوگئے کہ وہ اس حکومت کو بھی برطرف کرنے کے لئے مچلنا شروع ہوگئے ہیں۔پہلی ترجیح مگر ان کی یہ تھی کہ اس وقت کی اسمبلی ہی سے نواز شریف کے خلاف ”بغاوت“ ہوجائے۔ ا س تناظر میں سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو مرحوم کو آگے بڑھانے کی کوشش ہوئی۔”سیانوں“ نے مگر یہ بات چلائی کہ ”پنجابی“ وزیر اعظم کو ہٹاکر سندھڑی سے ابھرے جونیجو صاحب کو لایا گیا تو انہیں ناکام بنانے کے لئے ”پنجاب کارڈ“ کھیلاجاسکتا ہے۔غلام مصطفےٰ جتوئی مرحوم صدر اسحاق کے پسندیدہ تھے۔ ان کو تاہم محترمہ بے نظیر بھٹو ”معاف“کرنے کو آمادہ نہیں تھیں۔

کامل کنفیوژن کے اس موسم میں میری پیرپگاڑا صاحب کے ساتھ تنہائی میں ملاقات ہوئی تو ان کے روبرو سوال اٹھایا کہ نواز حکومت کی فراغت تو دیوار پر لکھی نظر آرہی ہے۔ان کی جگہ مگر کو ن آئے گا؟۔پیر صاحب ”اندر کی بات“ بتانے میں نہایت کنجوس تھے۔میرے ساتھ مگر کبھی کبھار شفقت فرما دیتے۔میرا سوال سن کر لمبی جمائی لی۔ اس کے بعد مگ اُٹھاکر کافی کا لمبا گھونٹ لیا اور طنزاََ کہا کہ ”تم جیسے باخبر بنتے صحافی کے ذہن میں ہمارے میر (بلخ شیرمزاری)صاحب کا نام کیوں نہیں آرہا؟۔

یہ فقرہ سننے کے بعد میں میر صاحب کے پنجابی محاورے کے مطابق مزید ”دیوالے“ ہوگیا۔جھوٹ بولنا ان کی سرشت میں شامل نہیں تھا۔ نہایت خلوص سے مجھے بتاتے رہے کہ وہ جتوئی صاحب اور محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کے مابین غلط فہمیاں دور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس ضمن میں اگرچہ کامیابی میسر نہیں ہورہی۔ اسی دوران اچانک یہ خبر بھی آئی کہ ان دنوں کے آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ مرحوم نے میر صاحب کو فوجی جہاز دے کر افغانستان بھیج دیاہے۔انہیں وہاں پناہ گزین ہوئے سردار خیربخش مری کو پاکستان لانے کو رضامند کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ مزاریوں کے میر ہونے کے علاوہ بلخ شیر مزاری صاحب خیربخش مری کے دیرینہ ذاتی دوست بھی تھے۔ وہ انہیں وطن واپسی کو رام کرنے میں کامیاب رہے۔ اس ضمن میں ان کی کامیابی نے بھی قائل کردیا کہ میر صاحب ہی بالآخر نواز شریف کی جگہ آگے بڑھائے جائیں گے۔میرے صحافی دوستوں کی اکثریت میری رائے کا تمسخراڑاتی رہی۔ بالآخر 18اپریل 1993ءآگیا۔غلام اسحاق خان نے پہلی نواز حکومت برطرف کردی۔میر بلخ شیرمزاری ان کی جگہ عبوری حکومت کے وزیر اعظم بنادئے گئے۔ اپنے عہدے کا حلف ٹھانے سے قبل انہوں نے ایم این ایز ہوسٹل کے کمرے سے مجھے فون کیا۔حکم صادر ہوا کہ فوراََ پہنچوں۔ان کے ہمراہ ایوان صدر جاناہے۔ میرے ساتھ ان کی شفقت کا اس سے زیادہ اظہار ہو نہیں سکتا تھا۔

جسٹس نسیم حسن شاہ کا سپریم کورٹ مگر نواز شریف کی برطرفی سے خوش نہ ہوا۔ ان کی برطرفی کے خلاف دائر ہوئی اپیل کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت شروع ہوگئی۔بنچ پر بیٹھے چند ججوں کے ریمارکس مستقبل کی بابت واضح انداز میں ہمارے ذہن تیار کرنا شروع ہوگئے۔میری موجودگی میں کئی افراد بلخ شیر مزاری صاحب کو اُکساتے رہے کہ وہ بطو وزیر اعظم اپنے ختیارات استعمال کرتے ہوئے ”ایجنسیوں“ کو ججوں پر اثرانداز ہونے کو مجبور کریں۔مزاری صاحب مگر پرخلوص انکساری سے مصررہتے کہ عدلیہ کے فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی کوشش نامناسب عمل ہے۔بالآخر نواز حکومت کی برطرفی کے خلاف فیصلہ بھی آگیا۔میر صاحب جس بریف کیس کے ساتھ وزیر اعظم ہاﺅس گئے تھے اٹھاکر واپس ایم این ایز ہوسٹل میں واقعہ اپنے کمرے میں آگئے۔ ہمارے ایک مشترکہ دوست نے اس رات انہیں کھانے پر بلارکھا تھا۔ میرے ساتھ وہاں گئے اور حیران کن اطمینان کے ساتھ یاوہ گوئی والی گپ شپ سنتے رہے۔ اپنے چند روز اقتدار کے خاتمے کا انہیں قطعاََ ملال نہیں تھا۔وہاں سے فراغت کے بعدمیں انہیں ہاسٹل چھوڑنے گیا۔ اِترتے ہوئے بس ایک فقرہ کہا۔ ”بھئی ہم جیسے لوگ ان دنوں کی سیاست کے قابل نہیں رہے“۔

شاید اسی سوچ کے ساتھ وہ بتدریج سیاست سے کنارہ کش ہوگئے۔اپنے پوتے دوست محمد مزاری کی سرپرستی شروع کردی۔ دوست مزاری اپنے دادا کے ساتھ میرے تعلق کی قدر کرتے ہیں۔مجھے یہ جان کر دُکھ ہوا کہ پنجاب حکومت نے انہیں پیرول پررہا کرنے میں لیت ولعل سے کام لیا۔ اس امر پر مجبور کرنے کی کوشش ہوئی کہ وہ پولیس کی نگرانی میں قیدیوں کے لئے مختص وین میں آبائی گاﺅں روجھان جائیںاور اپنے دادا کے جنازے میں شریک ہوں۔دوست محمد مزاری نے انکار کردیا تو تھوڑی لچک دکھائی۔ یہ قضیہ مگر روایتی اور سوشل میڈیا پر نظر نہیں آیا ہے۔ اس کے سوا اور کیا لکھوں؟