حنا ربانی کھربہت یاد آرہی ہیں!

hina
انڈونیشیا کے بعد دنیا کاسب سے بڑا مسلم اکثریتی ملک "پاکستان" ہے، اور عالمی سطح پر واحد اسلامی ایٹمی طاقت بھی۔ اسلامی تعاون تنظیم کا اہم رکن ملک بھی، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا انتہائی اہم اتحادی، جس کی منظم تربیت یافتہ فوج کے دنیا میں ڈنکے بجتے ہیں ،
بظاہر تو پاکستان انتہائی آزادخارجہ پالیسی رکھتا ہے، لیکن وزیرخارجہ کے نہ ہونے سے کئی مسائل ہر وقت منڈلاتے رہتے ہیں ،47 میں آزادی کے بعدسوویت یونین کے مغرب میں افغانستان ، مشرق میں بھارت اور مشرقی پاکستان(بنگلہ دیش) میں فوجی اور نظریاتی تعلقات کی بناپر 3 جنگوں کاسامناکرنا پڑا،
ایران، سعودی عرب، چین سے قومی سلامتی اور اقتصادی مفادات اہمیت کے حامل ہیں،امریکا اور مغربی ممالک سےدوطرفہ وسیع تر تعلقات بھی ڈھکے چھپے نہیں،
شام ، یمن ، فلسطین ، ترکی ، کئی شورش زدہ ملکوں میں مختلف ملکوں کے مختلف علاقائی اور اقتصادی مفادات ہیں، ایسے میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ کیا فیصلہ ملکی مفاد میں ہے؟ کس کو کیا جواب دینا ہے؟ معاملات کو کیسے ہینڈل کرنا ہے،انتہائی اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے،
کشمیر میں بڑھتی ہوئی بھارتی جارحیت ، عالمی فورمز پر بھارت کی جانب سے الزامات، سارک کانفرنس کی آڑ میں بنگلہ دیش کا آنکھیں دکھانا، افغانستان کی جانب سے دراندازی اور الزام تراشی،،،ان سب معاملات پر پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
دوسرے ملکوں سے اچھے تعلقات استوار کرنے کے لیے کبھی وزیراعظم دورے کرتے ہیں کبھی آرمی چیف ، کبھی مشیر خارجہ بیان دیتے ہیں تو کبھی روایتی دفتر خارجہ کا بیان آجاتا ہے ، ظاہر ان سب کو ملکی دیگر امور بھی دیکھنے ہیں ، اس لیے وزیر خارجہ کی شدت سےکمی محسوس ہورہی ہے ،
آج بنگلا دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے ایک بار پھر بھارتی زبان بولتے ہوئے پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کردیا، ان کا کہنا ہے کہ پاکستان سے بہت مایوس ہوچکی ہوں اور اسلام آباد سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کے لئے بہت زیادہ دباؤ ہے۔
بھارتی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے حسینہ واجد کا کہنا تھا کہ بھارت نے بنگلہ دیش بنانے میں مدد کی جس پر بھارتیوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں جب کہ سارک کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ ان کا اپنا فیصلہ تھا کیوں کہ جماعت اسلامی رہنماؤں کو سزائیں دینے پرپاکستان نے تنقید کی تھی۔
ایسے میں گزشتہ وزیر خارجہ بہت یاد آئیں جو زبان و بیان ، کردار وگفتار سے ہر دلعزیز رہیں۔
خوبصورت چہرہ، پُروقار شخصیت، جاندار آواز اور نت نئے اسٹائل، کسی کو بھی گھائل کرنے کو کافی۔۔۔
صرف یہی نہیں،پاکستان کی سب سے کم عمر اور پہلی خاتون وزیر خارجہ بھی۔۔
یہ ہیں"حنا ربانی کھر"۔۔۔ جنھوں نے 26ویں وزیر خارجہ کی حیثیت سےفروری 2011 میں ذمہ داریاں سنبھالیں  اور 16 مارچ 2013 انتخابات تک اپنے عہدے پر فائز رہیں،
ملتان کی فیوڈرل فیملی سے تعلق رکھنے والی حناربانی کھر، پی ایم یل کیو کی نشست سے 2002 میں قومی اسمبلی کی رکن منتخنب ہوئیں، 2009 میں پیپلزپارٹی میں شمولیت کے ساتھ وزیر مملکت برائے خزانہ و اقتصادی امور بن گئیں اور اسی سال قومی بجٹ پیش کرنے والی پہلی خاتون بھی بن گئیں، شمالی علاقہ جات میں آنے والے سن 2005 کے زلزلے میں حنا ربانی کھر نے ایک بین الاقوامی ریلیف فنڈ کے ساتھ  مل کر قابل قدر کام انجام دیا،
کابینہ میں ردوبدل کے بعد اس وقت کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو عہدے سے ہٹادیا گیا ،اوروزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے حنا ربانی کھر کو وزیرخارجہ بنادیا،
پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کچھ اپنے ہی آرمڈ فورسز کے مخالف ہوگئے، امریکا مخالف جذبات میں شدت آگئی، لاہور میں ریمنڈ ڈیوس کیس پر بھی حکومت کو مشکل ماحول کاسامنا تھا۔ اور وزیر خارجہ کی کرسی "ہاٹ سیٹ" میں بدل چکی تھی، قومی مفاد اور سفارتی تعلقات دونوں شیشے کی طرح نازک دور سے گزر رہے تھے، اُدھر 2008 میں ممبئی حملوں کے بعد بھارت الگ منہ پُھلا کر بیٹھا تھا۔ دونوں طرف سے کھنچتی امن کی رسی جیسے ابھی ٹوٹی۔ حنا ربانی کھر نے عہدہ سنبھالتے ہی بھارت کا دورہ کیا اوربھارتی ہم منصب ایس ایم کرشنا سے امن مذاکرات کیے، اس سے قبل کشمیری حریت رہنماوں سے ملاقات بھارت کی اپوزیشن جماعت بھارتیا جنتا پارٹی کو ایک نہ بھائی۔اور لگے واویلا کرنے۔۔خاص بات یہ کہ حنا ربانی کھر کے دورہ بھارت سے قبل ہی ان کا فیشن اور اسٹائل بھارت بھر میں چھا گیا،اگست میں پاکستان اور بھارت کے مشترکہ ہمسائے چین  کے دورے پر گئیں اور چینی ہم منصب ینگ جیچے سے ملاقات کی،
ابیٹ آباد میں اسامہ بن لادن آپریشن کے بعد نیٹو فورسزنے نومبر 2011 میں سلالہ چیک پوسٹ پرحملہ کرکے24 پاکستانی فوجیوں کو شہیدکردیا، ملک کے اندر تناو بڑھنے لگا، عوام، حکمران اور سیاستدان ایک پیچ پر آگئے، پاکستان میں نیٹو اور ایساف کے سپلائی روٹس بند کردئیےگئے،شمسی ائیر فیلڈ سے امریکی عملے کو نکال دیا گیا، پاکستان نے افغانستان میں ہونے والی بون کانفرنس کا بائیکاٹ کردیا، اورامریکا سے باضابطہ معافی کا مطالبہ کیا، افغان اور امریکی حکام کے مطابق دونوں ملکوں کی افواج کے مشترکہ آپریشن میں طالبان کو نشانہ بنایاگیا، اور پاکستان کی جانب سے فائرنگ کے بعد ایسا کیاگیا،
افغانستان اور امریکا کے ایسے گھناونے الزام اور پاکستانی فوجیوں کو شہید کیے جانے پر سفارتی تعلقات بگڑنے لگے،پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری پر آگ بھڑک اٹھی، پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منڑ کو بلا کر شدید احتجاج کیاگیا،وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے ٹیلی فونک رابطے میں سخت الفاظ میں حملے کی مزمت کی،حملے کو بین الاقوامی قوانین ،انسانی جانوں اور پاکستان کی خود مختاری کی سنگین خلاف ورزی قراردیا،
نیٹو روٹ بند ہونے سے امریکا کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، نتیجتا دسمبر 2011 میں امریکا نے پاکستان کی مالی امداد روک دی، وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے واضح لفظوں میں امریکا کو خبردار کیا، مالی امداد روکنے کی صورت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ ہارنے میں وہ خود ذمہ دارہوں گے،
جنوری 2012میں وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے روس سے دو طرفہ سفارتی تعلقات بڑھانے کا عزم کیا،
جولائی 2012 میں امریکی سیکرٹری خارجہ ہیلری کلنٹن نے پاکستانی فوجیوں کے جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا،امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے بھی سلالہ حملے جیسے واقعات دوبارہ نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی، نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ہیلری کلنٹن نے وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے دونوں ملکوں کے درمیان معاملات بہتر بنانے پر اقدامات کو سراہا ۔۔
اگست 2012 میں ایران میں منعقدہ غیر وابستہ مملکوں کی تنظیم میں خطاب کرکے خطے کے استحکام کو دوام بخشا، نومبر 2012 میں بنگلہ دیشی وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں ملکوں کو مل کر آگے بڑھنے کا مطالبہ کیا۔
2013 میں حنا ربانی کھر نے سیاست چھوڑنے کا اعلان کردیا،
انتخابات میں مسلم لیگ نون نے اقتدار سنبھالا، لیکن تاحال کوئی وزیر خارجہ منتخب کرنے میں ناکام رہےہیں، جو ڈٹ کر بین الاقوامی فورم پر پاکستانی موقف پیش کرسکے-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *