کشمیر یوں کے تحفظات

asghar khan askari

13اکتوبر کو اسلام آباد میں کل جما عتی کا نفر نس منعقد ہو ئی۔ اس کا نفر نس کا اہتمام کل جما عتی کشمیررابط کو نسل نے کیا تھا، جس کے کنو نئیر عبدالرشید تر ابی ہے۔کا نفرنس کے مہمان خصو صی آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر تھے۔یہ کا نفرنس اس لئے اہم تھی کہ اس میں پیپلز پارٹی کے رہنمااور سا بق وزیر اعظم چو ہدری عبد المجید ،مسلم کا نفر نس کے سر براہ اور سابق وزیر اعظم سردار عتیق ،سا بق صدر آزاد کشمیر سردار انور،جما عت اسلامی ،تحریک انصاف اور جمعیت العلما ء اسلام (ف) آزاد کشمیر کے رہنما بھی شریک تھے۔کا نفرنس میں حریت رہنما سید علی گیلا نی کی نما ئند گی غلام محمد صفی،یا سین ملک کی محمد رفیق ڈار اور میر واعظ عمر فاروق کی نما ئندگی میر طا ہر مسعود نے کی۔اس کے علا وہ اس کا نفرنس میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے ارکان بھی مو جو د تھے ۔اس کا نفرنس کی اہمیت اس لئے زیادہ تھی کہ اس میں مقبو ضہ اور آزاد کشمیر دونوں کے اہم رہنما شریک تھے۔ کا نفر نس کے شرکاء میں اس با ت پر مکمل اتفاق تھا کہ سفا رتی محا ذپر پا کستان وہ واحد ریا ست ہے کہ جس نے اقوام عا لم میں مقبو ضہ کشمیر کے مسئلے کو ہمیشہ اجا گر کر نے کی کو شش کی ہے۔ لیکن سا تھ ہی ان کو یہ شکا یت بھی تھی کہ پا کستان کی کشمیر پا لیسی میں تسلسل نہیں ہے۔ سا تھ ہی انھوں نے یہ بھی اظہا ر کیا کہ پا کستان کی کشمیر پا لیسی ہمیشہ شخصیات کی محتاج رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مقبو ضہ کشمیر پر پر ویز مشرف کی الگ پا لیسی تھی۔گز شتہ وفاقی حکومت کا مو قف الگ تھا ، جبکہ مو جو د حکومت کی پا لیسی الگ ہے۔کشمیری رہنما ؤں نے اس با ت پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ حکومت کی طر ح فوج کی کشمیر پا لیسی میں بھی تسلسل نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بطور آرمی چیف جنرل پر ویز مشرف کشمیر کے بارے میں الگ پا لیسی رکھتے تھے۔ ان کے بعد جنر ل اشفاق پر ویز کیا نی کی پا لیسی الگ تھی اور اب جنرل راحیل شریف کی پا لیسی سب سے مختلف ہے۔تما م شرکا ء کو اس بات پر اتفاق تھا کہ پا کستان کو چا ہئے کہ مقبو ضہ کشمیر کے بارے میں ایسی قومی پا لیسی تشکیل دیں کہ جو مستقل ہو اور اس میں تسلسل ہو۔ ان کا مطا لبہ تھاکہ پا کستان کی حکومت کو چا ہئے کہ وہ کشمیر پر ایسی پا لیسی بنا ئیں کہ جو حکومت ، فوج، عوام اور تمام سیاسی جما عتوں کی مشتر کہ ہو اور جس میں تسلسل ہو۔اس کا نفر نس میں مو جود شرکا ء نے اس با ت کا کل کر اظہار کیا کہ مقبو ضہ کشمیر، آزاد کشمیر اور پا کستان میں نو جو ان نہیں جا نتے کہ کشمیر کا مسئلہ کیا ہے؟ اس حوالے سے کا نفرنس کے شرکا ء نے تجو یز دی کہ حکومت کو چا ہئے کہ مقبو ضہ کشمیر کے مسئلے کو سمجھنے کے لئے تعلیمی اداروں میں خصوصی اگا ہی مہم شروع کر یں ۔ جس میں اس مسئلے کی تا ریخی ، جغرافیائی اور پا کستان کے ساتھ وابستگی سمیت تمام پہلوں پر بحث ہو تا کہ تمام قوم کشمیر کے بارے میں یکسو ہو۔ان کا کہنا تھا کہ اگر نو جوانوں کو بر وقت کشمیر کے بارے میں آگا ہ نہیں کیا گیا تو اس کے بہت زیادہ منفی اثرات پیدا ہو سکتے ہیں۔کا نفرنس کے شرکا ء نے وفا قی حکومت کے اس اقدام کو سراہا کہ انھوں نے عالمی سطح پر کشمیر کے مسئلے کو اجا گر کر نے کے لئے مختلف مما لک میں وفود بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کا یہ اقدام قا بل تعریف ہے، لیکن سا تھ ہی انھوں نے حکومت سے مطا لبہ کیا کہ وفود میں اہل افراد کو شا مل کیا جا ئے۔انھوں نے وفاقی حکومت کو تجویز دی کہ ان وفود میں حکو متی ارکان کے ساتھ ساتھ اپو زیشن کے ان ارکان پا رلیمان کو بھی شا مل کر نا چا ہئے کہ جو کشمیر کے مسئلے کو خود سمجھتے ہو اور سفارتی کاری کے آداب سے بھی شنا سائی رکھتے ہوں۔کا نفرنس کے شرکا ء نے اس بات کا بھی مطا لبہ کیا کہ تمام وفود کو پا بند کیا جا ئے کہ واپسی پر وہ حکومت کو اپنے دورے کے بارے میں ایک جا مع رپورٹ پیش کر یں تاکہ معلو م کیا جا سکیں کہ دنیا کاکشمیر کے بارے میں مو قف کیا ہے۔کشمیر ی رہنما ؤں نے اس بات کا بھی مطا لبہ کیا کہ جو وفود با ہر بھیجے جا رہے ہیں ان میں آزاد کشمیر قانون سا ز اسمبلی کے ارکان کو بھی شا مل کر نا چا ہئے۔کا نفر نس کے شرکاء نے اس بات پر گہر ی تشویش کا اظہار کیا کہ اب تک وفاقی حکومت نے تقریبا 23 وفود کو بیر ونی ممالک بھیج چکی ہے۔لیکن ان میں سے صرف 3یا4 کی کا رکردگی تسلی بخش ہے۔کا نفرنس میں مو جود شرکا ء میں سے بعض نے یہ بھی شکا یت کی کہ بعض حکومتی عہد ے دار نجی محفلوں میں کشمیر کو پاکستان کے اوپر ایک بو جھ سمجھتے ہیں۔ اس لئے ان کو چا ہئے کہ وہ ایسی با توں سے اجتناب کر یں۔کا نفرنس کے شر کا ء نے خبر دار کیا کہ مقبو ضہ کشمیر کی تقسیم کی با تیں نہ کی جا ئے اس لئے کہ کشمیر پا کستان کا حصہ ہے۔اسلام آباد میں منعقدہ اس کا نفرنس میں میں مو جو د تمام کشمیر ی رہنما ؤں کا اس بات پر اتفا ق کہ پا کستان ان کا سفارتی محاذ ہے مو جو د ہ حکومت کے لئے ایک اہم کا میا بی ہے۔ لیکن ساتھ ہی ان کا مستقل اور تسلسل والی پا لیسی کا مطا لبہ نہ صر ف مو جو دہ حکومت بلکہ ریا ست کے لئے کسی کڑے امتحان سے کم نہیں ہے۔یہ بھی اپنی جگہ ایک حقیت ہے کہ ا علیٰ تعلیمی اداروں میں پڑ ھنے والے طالب علم مقبو ضہ کشمیر کے بارے میں حقا ئق سے نا بلد ہے۔نہ صرف ریاست پا کستان بلکہ خود کشمیری رہنما ؤں کے لئے یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے کہ وہ نو جو انوں کو اس مسئلے سے روشنا س کر نے کے لئے کیا حکمت عملی اپناتے ہیں؟یہ بھی ایک سوال ہے کہ جو حکمت عملی بنا ئی جا ئے گی وہ کا میاب ہو گی کہ نہیں؟بہر حال اربا ب اختیار و اقتدار کا فرض بنتا ہے کہ وہ کشمیر ی رہنما ؤں کے تحفظات کا نو ٹس لیں۔ ان کے لئے ضروری ہے کہ کشمیر ی رہنما ؤں کے ساتھ مشا ورت کریں۔ اس لئے کہ مسئلہ کشمیر کے اصل فریق میں سے ایک کشمیری عوام بھی ہے۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاستی پا لیسی بنا تے وقت اس سے مکمل مشاورت کی جا ئے اور ان کے تحفظات کو دور کر نے کی سنجید ہ کو شش کی جا ئے۔اگر اس اہم فریق کو نظر اندا ز کیا گیا اور ان کے تحفظا ت دور نہیں ہو ئے توپھر لا کھوں انسانوں کے خون کی قربا نیا ں رئیگاں جا نے کا خطر ہ ہے ۔ ہم دعا گو ہے کہ ایسا نہ ہو کیو نکہ اس میں پا کستان اور کشمیر دونوں کا نقصان ہے۔ لیکن کشمیری رہنماؤں کے تحفظات کو دور کئے بغیر پاکستان اس اہم سنگ میل کو عبور نہیں کر سکتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *