پاک بھارت کشیدگی اور ہماری سفارتی تنہائی

anwar abbas anwar

پاکستان کے اندرونی سیاسی حالات اتنی تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں کہ ایک موضوع پر لکھنے لگیں تو کالم مکمل ہونے تک کئی نئے مسائل کھڑے ہو جاتے ہیں ، سمجھ نہیں آتی کہ کس مسئلہ کو کالم لکھنے کے لیے منتخب کیا جائے اور کس کو پھر کسی وقت کے لیے رکھ چھوڑا جائے، سرھدوں پر کشیدگی، سارک ممالک کی کانفرنس کے ملتوی ہونے، دفترخارجہ کی آنی جانیاں ، وزیر اعظم کے غیر ملکی دوروں پر قلم آزمائی کی جائے،
وزراجہ خارجہ کے کرتا دھرتا سرتاج عزیز اور طارق فاطمی کے ان اعترافات پر کہ’’ بھارت عالمی برادری کو قائل کرنے اور اپنا ہمنواء بنانے میں کامیاب رہا ہے ‘‘قلم اٹھاؤ ں یا ۔۔۔۔۔۔؟ پھر قلم توڑ دوں۔ ان سطور کے قلم بند کرنے تک پاک فوج اور حکومت کے درمیان خلیج کم ہونے کی بجائے بڑھتی جا رہی ہے، اس حوالے سے وزیر داخلہ جو ہمیشہ فوج اور حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے آ رہے ہیں اس بار انکا جھکاؤ فوج کے موقف کی جانب ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان سرھدوں پر کشیدہ صورتحال میں حکومت پاکستان کا اپوزیشن کو اعتماد میں لینے اور اپوزیشن کی قیادت کا حکومت کی جانب سے بڑھائے جانے والے دست درخواست کو تھامنے کے فیصلے لائق تحسین ہیں، حکومت اس لیے واہ واہ کی ھقدار ہے کہ اس نے اپوزیشن کو اعتماد مین لینے کا اچھا فیصلہ کیا اور اپوزیشن کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی اور اپوزیشن اس لیے سراہے جانے کے لائق ہے کہ اس نے ملک کی موجودہ سیاسی اور سرحدوں پر جاری کشیدگی کے غیر معمولی حالات کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے حکومت کی دعوت کو شرف قبولیت بخشا۔
پارلیمنٹ نے بھی قومی سلامتی اور سرحد کے آر پار غیر معمولی صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے ، اور اپنے جذبات کے اظہار کے لیے ایک قرارداد بھی منظور کی ہے، اور دمشن کو پیغام دیا ہے کہ ہمارے اندرونی اور سیاسی اختلافات اپنی جگہ پر ہیں لیکن ہم قومی معاملات میں حکومت کے شامہ بشانہ کھڑے ہیں،میڈیا بھی وطن عزیز سے اپنی محبت کے اظہار کے لیے، اور قوم میں اتحاد و لگانگت کو فروغ دینے کے لیے اپنی ذمہ داریاں خوب نبھا رہا ہے، تمام شعبہ ہائے زندگی میں وطن عزیز کی حفاظت اور اس پر اپنی جان نچھاور کرنے کو بے تاب دکھائی دے رہا ہے، فوج کا تو خیر فریضہ ہی ملک و قوم کی نگہبانی کرنا ہے سو وہ اور اسکا سربراہ اپنے فرائض اور ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہیں ، جنرل راحیل شریف قوم اور فوج کے مورال کو بلند رکھے ہوئے ہیں، ان کی باڈی لینگوینج سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ دشمن سے اکہتر سمیت تمام اگلے پچھلے حساب چکانے کے موڈ میں ہیں جس کا اندازہ دشمن کو بھی ہو چکا ہے ، شائد یہی وجہ ہے کہ بھارتی میڈیا اور اسکے سابق فوجی سربراہان و عہدیداران نریندرمودی کو ہوش کے ناحن لینے کے مشورے دے رہے ہیں۔
پاک بھارت کشیدگی کے پس پردہ اپوزیشن کا مدبرانہ فیصلہاور تمام شعبہ ہائے زندگی کا قومی معاملات میں یکجہتی کا اظہار اپنی جگہ لائق تحسین ہے، سرحدوں پر کشیدگی کے حوالے سے پاک فوج کی تیاریاں بھی مکمل ہیں اور پاک فوج دشمن کو سبق سیکھانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود سفارتی میدان مین ہمارے تنہا رہ جانے کی خبروں نے عوام میں پریشانی کی لہر دورا دی ہے،بھارت سارک کانفرنس ملتوی کروانے میں کامیاب ہوچکا ہے، دفترخارجہ کا کہنا بلکہ اعتراف ہے کہ عالمی برادری بھارتی پروپیگنڈہ سے متاثر ہے، بھارت اسے اس بات پر قائل کرچکا ہے کہ بھارت کے اندرونی معاملات میں پاکستان سے مداخلت کی جا رہی ہے۔اگر یہ سچ ہے تو پھر دفترخارجہ خصوصا سرتاج عزیز اور طارق فاطمی قوم کو بتائیں کہ انکی کارجہ پالیسی کہاں ہے؟وزیر اعطم کو اس بات کو تسلیم کرلینا چاہیے کہ سرتاج عزیز اور طارق فاطمی اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں کامیاب رہے ہیں اس لیے وہ کل وقتی وزیر خارجہ کا تقرر کردیں۔
عالمی ذرائع ابلاغ پر دھواں دھار خبریں چل رہی ہیں کہ پاکستان میں آزادی صحافت ایکبار پھر پابندیوں کی زد ہے۔ ڈیلی ڈان کے اسسٹنٹ ایڈیٹر سیرل المیڈا کی شائع کردہ رپورٹ کے جواب میں متعلقہ اداروں نے ایک دو نہیں پوری تین تردیدیں شائع کروائی ہیں لیکن پھر بھی تسلی نہیں ہوئی ، ان اداروں کا خیال ہے کہ قومی سلامتی کے لیے متعین کردہ حدود عبور کی گئیں ہیں جس کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جا سکتی۔۔۔ میرا اپنا خیال ہے کہ سرل کی رپورٹ سے قومی سلامتی کے اداروں کے مورال کا بھی مسلہ ہوتا ہے، وزیر داخلہ چودہری نثار علی خاں کہہ چکے ہیں کہ سرل کے معاملے کو صحافتی مسلہ نہ بنایا جائے اور خالصتا قومی سلامتی کے مسلے کو آزادی اظہار سے نہ جوڑا جائے جناب چودہری نثار علی صاحب ! سرل کے معاملے کو آزادی صحافت سے کیسے الگ کیا جا سکتا ہے؟ یہ بھی آپ ہی بتا دیں صحافی بے چارے تو ایسی باریکیوں سے ناواقف ہیں۔
قومی سلامتی کے نام پر سرل کے ساتھ ہونے والا سلوک کوئی پہلی مرتبہ تو ہوا نہیں بلوچستان میں پہلی فوج کشی قومی سلامتی کے نام پر ہوئی، سردار عطا اللہ مینگل کے صاحبزادے اسد مینگل کی ہلاکت کے ذمہ داروں کے خلاف بھی کارروائی اس لیے نہ ہوئی کہ اس طرح کی کارروائی سے ملک کی قومی سلامتی کے ذمہ دار ادارے کا مورال ڈاؤن ہونے کا حتمال ہے، سقوط مشرقی پاکستان اور ہتھیار دالنے والے لوگوں کے خلاف بھی قانون اور آئین کو اپنا کام کرنے سے روکنے کی وجوہات بھی قومی سلامتی کے زمرے میںآتی ہیں،
سرل کی خبر سے قبل بھی ہر ہونے والی میٹنگ کی تفصیلات لیک ہوتی رہی ہیں اور اخبارات و الیکٹرانک میڈیا کی شہ سرخیاں بنتی رہی یں، میری رائے میں ہر پاکستانی کو چاہے وہ کسی بھی شعبہ سے وابسطہ ہے اسے وطن عزیز کی سلامتی ، اور قومی سلامتی سے جڑے تمام معاملات کو ہر چیز پر مقدم رکھنے چاہئیں کیونکہ دنیا کا کوئی قانون و آئین کسی بھی شہری کو قومی سلامتی ، اور اس سیمتعلقہ اداروں کے وقار سے کھلنے کی اجازت نہیں دیتا ، لہذا صھافیوں اور باقی اداروں کو چاہئیے کہ وہ اپنی واہ واہ کروانے کی بجائے قومی سلامتی کو مقدم رکھیں۔اداروں کو بھی آئین میں متعین کردہ اپنی حدود سے تجاوز کرنے سے احتزاز کرتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دینے پر اپنی تمام ترتوجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *