ڈان" کی خبر اور سرجیکل سٹرائیک"

mufti waqas rafi

گزشتہ دنوں ملک کے مشہور و معروف انگریزی اخبار ’’ڈان‘‘ کی ایک خبر پوری دنیا کی تو جہ کا مرکزبن گئی ،جو اس کے اسسٹنٹ ایڈیٹر اور سینئر کالم نگار ’’سرل المیڈا‘‘ نے دی ۔ خبر کا لب لباب یہ تھا کہ ’’پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی طرف سے فوجی قیادت پر یہ زور دیا گیا ہے کہ دنیا چاہتی ہے کہ مولانا مسعود اظہر (جوکہ ایک کالعدم تنظیم کے سربراہ ہیں)کو گرفتار کیا جائے ، مگر فوجی قیادت ایسا نہیں ہونے دیتی ، اس طرح پاکستان سفارتی طور پر تنہا ہوتا جارہا ہے۔‘‘ اس خبر کی تردید وفاقی حکومت کی جانب سے کی گئی اور کہا گیا کہ حقیقت میں ایسی کوئی بات ہوئی ہی نہیں ہے ، جب کہ دوسری طرف عسکری قیادت کی طرف سے خود تو کوئی وضاحت جاری نہیں کی گئی ، تاہم ان کا سول حکومت پر دباؤ تھا کہ ایسی اعلیٰ سطح اور حساس قسم کی میٹنگ کی اندرونی خبر ’’ڈان‘‘ اخبار کو آخر کار کیوں اور کس نے د ی ہے ؟جس کے بعدسول حکومت نے سرل المیڈاکے بیرون ملک جانے پر پابندی لگادی تھی۔
لیکن آج کی تازہ ترین اطلاع کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز(C.P.N.E) اور آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (A.P.N.S) کے مشترکہ اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات میں آزادئ اظہارِ رائے کی پاس داری اور صحافت و اخبارات سے خیر سگالی کا اظہار کرتے ہوئے ’’ڈان‘‘ نیوز کے مذکورہ صحافی سرل المیڈا کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ ) (E.C.Lسے منہا کرنے کا حکم تو جاری کردیا ہے ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ صحافی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (E.C.L)سے نکالے جانے کے باوجود معاملے کی انکوائری جاری رہے گی ، تاکہ یہ خبر دینے والے اصل افراد تک جلد از جلد پہنچا جاسکے۔
چوہدری نثار علی خان نے مزید کہا کہ قومی سلامتی ، وقار کی پاس داری اور ملک دشمن عناصر کی جانب سے کیے جانے والے منفی پروپیگنڈے کی بیخ کنی کرنا بھی آزادئ صحافت کی ذمہ داری ہے اورغیر مصدقہ اور فواہوں پر مبنی خبروں کہ جن سے ملکی سلامتی کو گزند پہنچے اور اخلاقی و ذمہ دارانہ صحافتی اقدار مجروح ہوں ان کی اشاعت سے پرہیز کرنا چاہیے۔
I.S.P.R کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف جزل راحیل شریف کی زیر صدارت G.H.Q میں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی ، جس میں کور کمانڈرز اور پرنسل سٹاف آفیسرز نے شرکت کی ۔ اجلاس میں ملک کی اندرونی و بیرونی سیکیورٹی کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور بالخصوص I.O.C (لائن آف کنٹرول)پر موجودہ صورت حال اور پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں پر توجہ مرکوز کی گئی ۔ کانفرنس میں وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس کی غلط معلومات کو عام کرنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس کو قومی سلامتی کی خلاف ورزی سے تعبیر کیا گیا ،اور سیکیورٹی اجلاس کی جھوٹی اور من گھڑت خبر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جھوٹی اور من گھڑت خبر کو فیڈ کیا جانا قومی سلامتی کے منافی قرار دیا گیا،علاوہ ازیں بھارت کی جانب سے پاکستانی علاقے میں ’’سرجیکل سٹرائیک‘‘ کے مضحکہ خیز دعوے اور بے بنیاد دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ مقبوضہ جموں وکشمیر میں معصوم افراد کے خلاف بھارتی فوج کے مظالم سے توجہ ہٹانے کی کوشش او ر عالمی رائے کو گمراہ کرنے کی ایک مذموم پیش رفت ہے ۔کانفرنس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ دشمن کی جانب سے اگر کوئی مہم جوئی اور غیر ذمہ دارانہ کوشش کی گئی تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا ۔
دریں اثناء چیف آف آرمی اسٹاف جزل راحیل شریف نے پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ پاک فوج وطن عزیز ملک پاکستان کا دفاع کرنے کے لئے ہر قیمت پر کرنے کے لئے جان ہتھیلی پر رکھے ہوئی ہے ۔اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لئے وہ ہمہ وقت تیار ہے ۔
آپریشن ضرب عضب کے دوران اب تک حاصل کی جانے والی کامیابیوں اور اس کے نتیجہ میں آنے والے استحکام نے پاکستان کو ترقی و خوش حالی کے نئے دور میں داخل کردیا ہے ، جس کے باعث آج ملک ترقی اور خوش حالی کی جانب بڑی تیزی سے گامزن ہے ۔جزل راحیل شریف نے داخلی سلامتی کی صورت حال مستحکم بنانے کے لئے پائیدار کوششیں برابر جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں کامیاب آپریشن ضرب عضب میں حاصل ہونے والے ثمرات کو محفوظ بنانے کے لئے اس کے خلاف تمام معاندانہ کوششوں کو شکست دینا ہوگی اور ان حاصل کردہ کامیاب ثمرات کو نقصان پہنچانے کی تمام تر جارحانہ کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے داخلی سیکیورٹی کے حوالے سے پائیدار کوششیں کرنا ہوں گی ۔
شرکاء نے ملک کے طول و عرض میں شروع کیے گئے پائیدار اور فوکس آپریشن کومبنگ اور انٹیلی جنس بنیادوں پر دیگر آپریشنز کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے ، تاکہ ملک میں قومی لائحہ عمل پروگرام پر عمل درآمد کرتے ہوئے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اور انتہاء پسندی اور دہشت گردی کی دیگر وجوہات کا حل کیا جاسکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *