مصالحہ فروش

mehmood-asghar-chaudhry

اٹلی میں موسم گرما میں دوکاندارتربوز بیچنے کے لئے شہر کے کسی مصروف چوک پر ایک خیمہ لگاتے ہیں اس کے سامنے کرسیاں اور میزسجا تے ہیں اور اس طرح ان کا ٹھیلہ ایک چائے خانہ یا آئس کریم پارلر کی شکل اختیار کر لیتا ہے لوگ آتے ہیں تربوز کا آرڈر دیتے ہیں دوکاندار تربوز کاٹ کر بڑے اہتمام سے پلیٹ میں رکھ کر ان کے سامنے پیش کرتا ہے ایسے ہی ایک تربوز سنٹرجانے کا اتفاق ہوا تو دوکاندار پوچھنے لگا کہ کیا تم پاکستانی ہو؟ جواب اثبات میں پاکر کہنے لگا کچھ دن پہلے چند پاکستانی آئے تھے تو انہوں نے عجیب و غریب مطالبہ کیاکہنے لگے کہ ہمیں تربوز کے اوپر ڈالنے کے لئے نمک چاہیے ۔میں حیران ہوں کہ میٹھے تربوز کے اوپر نمک کا کیا کام ؟میں اسے کیا بتاتا کہ پاکستانی تو سنگترے کے تازہ جوس میں بھی نمک ملاتے ہیں جبکہ یورپ میں سنگترہ کے تازہ جوس کے ساتھ بار والا آپ کو چینی دیتا ہے پاکستان میں امرود بیچنے والے کے پاس نمک اور مرچ والا مصالحہ ہوتا ہے جو وہ امرود کاٹ کر لگا کر دیتا ہے فروٹ چاٹ آپ کو کم وبیش ہر ملک میں ملے گی لیکن مکس فروٹ چاٹ کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ مختلف پھلوں کے ذائقہ سے آشنا ہوسکیں لیکن پاکستان میں فروٹ چاٹ کے اوپر بھی مصالحہ ڈالا جاتا ہے جس کا مقصد اس کو چٹ پٹا بنانا ہوتا ہے پاکستانی ریستوران پر مچھلی بھی مصالحہ فش کے نام سے ملتی ہے آپ کسی بھی قسم کی مچھلی خرید لیں آپ ان کے ذائقے میں فرق نہیں کرسکتے کیونکہ سب کے لئے ایک جیسا ہی مصالحہ استعمال ہوتا ہے کافی کے شوقین افراد کا ماننا ہے کہ کافی کا اصل لطف اس کی کڑواہٹ میں ہے لیکن ہمارے ہاں اچھا باورچی اسے مانا جاتا ہے جو کریلے کی کڑواہٹ مار دیں ہمارے ریستورانوں میں آپ بھنڈی منگوا لیں یا بھینگن ، مرغی ہو یا گوشت ہر ڈش میں آپ کو ایک جیسے مصالحہ کا ذائقہ ملے گا
مصالحہ ہمارے باورچی خانہ میں ہی لازم و ملزوم نہیں بلکہ ہمارے مجموعی معاشرتی مزاج کا بھی اس طرح حصہ بن چکا ہے کہ ہمیں گفتگومیں بھی ہر وہ بات پھیکی لگتی ہے جس میں ضرورت سے زیادہ خوش آمد ، چکنا چپڑا پن یا پھردوسری صورت میں ضرورت سے زیادہ تنقید و تنقیص کا تڑکا نہ لگا ہو۔ہم محبتوں سے لیکر نفرتوں تک اور برائی اچھائی کے تصور سے لیکر وعظ و نصیحت تک اب اس مصالحہ کے عادی ہو چکے ہیں شاید ہمارے رویوں میں انتہا پسندی شامل ہونے کی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم نے زندگی کے ہر میدان میں چٹ پٹا پن ڈھونڈنا شروع کر دیا ہے مثلاً آپ کی کوئی فلم ایسی نہیں جس میں اس کا ہیرو کم وبیش ہر خوبی کا ماہر نہ ہو وہ بیک وقت گلوکار، ڈانسر، جنگجو ، اور اچھی صورت والا ہونا چاہیے نہیں تو وہ ہیرو نہیں اسی طرح اگر کسی کہانی میں آپ مزاح ، آنسو ، لڑائی ، سنسنی اورموسیقی یا شاعری نہیں ڈالتے تو وہ کہانی وہ ناول وہ فلم مشہور نہیں ہوگی
یہ مصالحہ ہمارے ذہن و دل میں اس طرح سما گیا ہے کہ ہمارے ہر مصلح ، ہر تخلیق کار اور ہر مبلغ و مقررکو پتہ ہے کہ جب تک وہ اپنی تقریر ، تحریر اور تخلیق میں اس کا چھڑکاؤ نہیں کرے گا تو لوگ نہ تومتوجہ ہوں گے اور نہ ہی اسے داد دیں گے پاکستانی سیاستدان یا مقرر کی تقریر سنیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ بیک وقت شاعر، گلوکار ، سپہ سالار اور اداکارہے وہ اپنی تقریر میں ترنم کے ساتھ شعر پڑے گا، اپنی آواز میں عجیب و غریب قسم کا اتار چڑھاؤ لائے گا ،اپنی آستین چڑھا لے گا ، ڈائس کومکے مارے گا ،مائیک کو گرا دے گا ، اپنے گلے سے عجیب وغریب قسم کی سریں نکالے گا اور کبھی کبھی مائیک چھوڑ کر اسٹیج کے اوپر اس طرح دائیں سے بائیں اوربائیں سے دائیں حرکت کرے گا جیسے وہ کوئی انسان نہیں بلکہ ایسا بکر اہے جو کسی بچے کی ہتھیلی پر سینگ مارنے کے لئے تیاری پکڑتا ہے کسی مولوی کی تقریر سنیں توان میں سے ہر کوئی اس کوشش میں ہوگا کہ وہ اپنے سننے والے کو اس مقام پر لے جائے کہ سامنے بیٹھنے والا شخص نعرہ مارنے پر مجبور ہوجائے اس لئے اصل مقصد نعرہ لگوانا ہوتا ہے اصلاح کرنا نہیں۔
مصالحہ کی مدد سے آ پ اپنی فلم اپنی تحریر اپنی تقریر سے داد تو وصول کر سکتے ہیں آپ اپنی پراڈکٹ تو بیچ سکتے ہیں آپ اپنے ریستورانوں میں گاہکوں کا رش تو لگوا سکتے ہیں لیکن حقیقت یہ کہ مصالحہ جب مجموعی معاشرتی مزاج کا حصہ بن جائے توذائقہ کے چکر میں صحت مندانہ رجحان کو خیرباد کہنا پڑجاتا ہے اگر یقین نہیں آتا تو صحت مند معاشرے کے لوگوں کے اعدادوشمار نکالیں ان میں اٹلی آپ کو صحت مند شہریوں کے لحاظ سے پوری دنیا میں دوسرے نمبر پر نظر آئے گاجہاں پر 89.45فیصد لوگ صحت مند ہیں جبکہ پاکستان صحت مند شہریوں کے تناسب کے لحاظ سے دنیا کے 188ممالک کی لسٹ میں 146ویں نمبر پر آتا ہے اسی طرح فرنچ سینما کو تمام مغربی یا امریکی سینما کے مقابلے میں زیادہ بہتر خیال کیا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنی فلموں میں مصالحہ نہیں بیچتے اسی طرح مختلف ممالک کا ادب کنگھال لیں ان کے ناولوں ان کی کہانیوں میں عام آدمی بھی ہیرو نظر آئے گاجبکہ ہماری کتابوں میں ہیرو صرف وہی ہے جو جنگ کر سکتا ہے ورنہ ہمارے ادب میں کوئی عام آدمی آئیڈیل کی حیثیت نہیں رکھتا
مصالحہ کایہ اثر ہماری روز مرہ زندگی کے ہر شعبہ پر پڑا ہے ہمارے ہاں انسان اچھائی اور برائی کا مرکب نہیں ہوتا بلکہ ہمارے معاشرے میں ہم نے اچھائی اور برائی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ یا تو ہم آئیڈیلزم یا شخصیت پرست میں اس حد تک گزر گئے ہیں کہ جوشخص ہمیں اچھا لگاہم نے دنیا کی ہر اچھائی اسی میں دیکھی اور جوہمیں برا لگتا ہے ا سکی سچی بات بھی بری لگتی ہے جو ہمارے لئے قابل نفرت ہے وہ انتہائی قابل نفرت اور جو قابل محبت اس کے لئے ہم پرستش کی حد تک چلے جاتے ہیں یہی مصالحہ ہمیں صحافت میں بریکنگ نیوز ، سب سے پہلے ہمارا چینل ، ریٹنگ اور سنسنی خیزی کی طرف لیکر آیا ۔ہمارے سیاستدانوں کی زبانوں میں بھی ایسے ایسے نعرے معرض وجود میں آئے جن کی مثال دوسرے ممالک میں نہیں ’’ آگ لگادوں گا ، سڑکوں پر الٹا لٹکاؤں گا،سونامی بپا کردو گا ، غربت کو مساوی تقسیم کر دوں گا ، خود کش حملہ کردوں گا ،بڑا دھماکہ کروں گا ، شیطان کو کنکریاں ماریں گے ، وغیر ہ وغیرہ جیسے نعرے وجود میں آئے اورہمارا تاجر بھی اس مصالحہ سے نہ نکل سکا ہماری دوکانوں پر لگے اشتہارات پڑھ لیں دھماکہ سیل ، تباہی سیل ، لوٹ لو وغیرہ وغیرہ
سوشل میڈیا آنے کے بعد بہت سے اخبارات نے اپنے سوشل میڈیا پیج بنائے ہیں لیکن یہ مصالحہ والی بیماری صحافیوں میںیہاں بھی در آئی ہے اپنے صفحات پر لوگوں کوکھینچنے اور صرف چند لائیکس لینے کی خاطر انہوں نے قلم فروشی کے لئے بھی اسی مصالحہ والا پرانہ نسخہ آزما لیاوہ اپنی خبروں کا عنوان ایسا رکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ لوگ مجبوراً ان کے لنک کو کھولیں مثلاً لکھا ہوگا کہ ایسی خبرکہ جان کر آپ کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل جائے گی ، آپ بھی پڑھ کر پریشان ہوجائیں گے ، اہم علان کردیا گیا ، جان کر آپ بھی کانپ جائیں گے ، تہلکہ خیز انکشافات، بڑی تباہی مچ گئی ، لاشوں کا ڈھیر لگ گیا، پڑوسی ملک میں دھماکہ ہوگیا، کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہا ، بڑا دعوی ٰ کر دیاگیا ، چشم دید گواہ نے بانڈھا پھوڑ دیا ،راز کی بات کہہ دی گئی ، نیا پنڈورا بکس کھل گیا، آپ اپنی ہنسی نہیں روک سکیں گے ، گھر کے بھیدی نے ہی لنکا ڈھا دی ، آرمی چیف حرکت میں آگئے ، سارے مجرم پکڑے گئے ، کس سیاسی جماعت سے تعلق ہے جان کر آپ کی روح کانپ جائے گے ، کھلبلی اور خطرے کی گھنٹی بج گئی ، اس سے یہ امید نہ تھی ، جان کر حیرت کی انتہا نہ رہی ، انسانیت شرما گئی وغیرہ وغیرہ ان تمام عنوانا ت کے لنک کھول کر دیکھیں توقاری کو پتہ چلتا ہے کہ کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا
مصالحہ کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جب کوئی اسکا عادی ہوجائے تو پھراس کے بغیر لذت ختم ہوجاتی ہے جس طرح مصالحہ کے بغیر ہنڈیا پھیکی لگتی ہے بالکل اسی طرح کوئی بھی سنجیدہ موضوع ، کوئی بھی اہم بات بغیر مصالحے کے پیش کی جائے گی تو لوگ اس کی طرف دھیان نہیں دیں گے ۔بریکنگ نیوز اور ریٹنگ کے چکرمیں صحافیوں نے قومی سلامتی کے راز تک افشاء کرنے کی بھی روش ڈال دی ہے مصالحہ فروشی نے صحافت جیسے مقدس پیشے کو بھی اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ اگر یہ روش تبدیل نہ کی گئی تو وہ وقت آئے گا کہ لوگوں کو میڈیا اور صحافیوں پر سے اعتماد اٹھ جائے گا اور پھر لوگ اسی طرح ان کی خبروں پر کان نہیں دھریں گی جس طرح ہر روز شیر آگیا شیر آگیا کا شور مچانے والے لڑکے کی بات پر کسی نے کان نہیں دھرا تھا صحافت ایک مقدس شعبہ ہے اور ہر مقدس شعبہ کے کچھ فرائض اور ذمہ داریاں بھی ہوتی ہے-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *