کیا ن لیگ ٹوٹ جائے گی؟

mir-moeed

ملکی سیاست میں ایک اور بھونچال آ رہا ہے ، اسلام آباد میں چہ مگوئیاں پھر سے زور پکڑ رہی ہیں کہ چوہدری نثار علی خان وزیرداخلہ ، میاں نواز شریف کے 30 سال پرانے دوست اور دست راست ایک بار پھر وزیر اعظم سے شدید ناراض ہیں ۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ملک میں بڑا واقعہ رونما ہوتا ہے اور ملک کا وزیر داخلہ دروں خانہ کسی رنجش کے باعث وزیر اعظم کی باقی ماندہ ٹیم سے ناراض ہوتا ہے ۔ بعض دفع تو ایسا بھی ہوا کہ وزیر داخلہ نظر ہی نہیں آئے ۔ کراچی ائیر پورٹ پر حملے کا منظر نامہ اس کی زندہ مثال ہے۔ سیاسی حلقوں میں خبر گرم ہے کہ میاں نواز شریف یا تو چوہدری نثار کوعہدے سے برطرف کرنے والے ہیں اور یا پھر چوہدری نثار خود استعفیٰ دے دیں گے یہ امر بھی بعد از قیاس نہیں کہ وہ ن لیگ کو خیر آباد ہی کہہ دیں ۔ شیخ رشید نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ استعفیٰ دے دو ورنہ دس دن میں نکال دیے جاؤ گے۔ اس خبرمیں کتنی صداقت ہے اس کا آئندہ چند دنوں میں پتہ چل جائے گا ۔ موجودہ ناراضگی کی وجہ سرل المیڈا پر ہونے والی انکوائری ہے جس کی غیر ضروری تفصیلات میں جائے بغیر اس حوالے سے کھڑے ہوتے ہوئے سیاسی طوفان پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ اگرچہ میاں صاحب کی مصلحت پسندانہ سیاست اور چوہدری نثار کی بااثر شخصیت میاں نواز شریف کو کوئی بڑا فیصلہ کرنے سے مانع ہوسکتی ہے اور چوہدری صاحب بھی جانتے ہیں کہ ابھی وہ اتنے مقبول نہیں ہوئے کہ وزیر اعظم بننے کے خواب دیکھ سکیں ۔ لیکن اقتدار کی خواہش کب کونسی کروٹ لے لے اور چوہدری نثار کوئی بڑا فیصلہ کرلیں بہت زیادہ بعید از قیاس نہیں ۔ اگر حالات کا جائزہ لیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ میاں نواز شریف اور چوہدری صاحب میں اختلافات شدید نوعیت کے ہیں جو کہ آئندہ انتخابات میں ملکی سیاست کے نقش و نگار میں کوئی غیر معمولی تبدیلی لاسکتے ہیں ۔ میاں صاحب کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ نواز شریف مخالفت میں چوہدری نثاراتنا آگے بڑھ گئے ہیں کہ میاں صاحب کو ان کے کھونے کا ڈر ختم ہوچکا ہے۔ اگرچے تاریخ گواہ ہے کہ میاں صاحب کو ان کے کیے کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے ۔

اب اہم ترین سوال یہ ہے کہ چوہدری نثار کے موجودہ دور حکومت میں میاں نواز شریف سے کیا اختلافات ہیں ؟ سرل لیکس پر جنم لینے والے اختلافات کے علاوہ چوہدری نثار مشرف کے ملک سے باہر جانے ، طالبان سے مذاکرات ، پیپلز پارٹی میں کرپشن میں ملوث شخصیات کے حوالے سے فیصلے ، کراچی میں رینجرز کے اختیارات ،اچکزئی جیسے سیاستدانوں پرچوہدری نثار کی تنقید اور بھارت کی پاکستان میں مداخلت کے حوالے سے بے باک گفتگوکرنے کے علاوہ نیشنل ایکشن پلان پرعمل درآمد کے لیے طریقہ کار کے حوالے سے میاں نواز شریف سے شدید اختلافات رکھتے ہیں یہاں تک کہ جب 2013 میں چوہدری نثار کو وزیراعظم نے وزارت خارجہ کا قلمدان سنبھالنے کی پیشکش کی تو انھوں نے یہ کہ کر انکار کردیا کہ خارجی امور میں وہ میاں نواز شریف سے شدید اختلافات رکھتے ہیں جبکہ بہتر ہوگا کہ اگر ان کو وزارت داخلہ کا قلم دان سوںپا جائے ۔ سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ کراچی ائیرپورٹ واقعہ ہو، 14 اگست 2014 کے دھرنے کے دوران کئی روز چوہدری صاحب کی پراثرار غیرحاضری اورعمران خان کی کنٹینر سے ان کی تحریک انصاف میں شمولیت کیلئے وا شگاف الفاظ میں دعوت دینا اور ایک سے زائد مرتبہ چوہدری نثار کی کابینہ میں کئی روز تک عدم دستیابی اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ کچھ تو ہے جو کہ اختلافات کے گھوڑے کو مہمیز لگا رہا ہے

چوہدری نثار نے نہ صرف وزیر اعظم کی بیماری کے دوران اسحاق ڈار کی سربراہی میں کابینہ میں بیٹھنے سے انکار کر دیا تھا بلکہ ان کے بارے میں بلاول بھٹو نے ٹویٹ بھی داغ دیا کہ وہ وزیر اعظم بننے کی کوشش کرچکے ہیں جس کو ناکام بنا دیا گیا ۔

چوہدری نثار جن کے پاس اگرچے پارٹی کا کوئی عہدہ نہیں مگرماضی قریب کی بات ہے کہ میاں نواز شریف کوئی اہم فیصلہ ان سے مشاورت کے بغیر نہیں کرتے تھے بلکہ یہ کہنا غلط نہیں کہ فوج اور ن لیگ کے درمیان تمام معاملات کے حوالے سے چوہدری نثار کی رائے حتمی فیصلہ متصور ہو تی ہے ۔ اور اسحاق ڈار سمیت تمام سینئر ترین ن لیگی رہنماؤں پر چوہدری نثار کی رائے کو مقدم رکھا جاتا رہا ہے۔ چوہدری نثار ایک بڑے قد کاٹھ کے سیاستدان ہیں ۔ ن لیگ میں بلخصوص پوٹھوہاری علاقے کی تقریباۤ تمام بڑی شخصیات اوربلعموم دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والی کئی اہم شخصیات پر ان کا خاصا اثر ہے ۔ اور اگر پارٹی چھوڑنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ چوہدری نثار کرتے ہیں تو ان کے ساتھ آنے والے ن لیگی حواریوں کی تعداد موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے بڑھ بھی سکتی ہے ۔ اورچکری گروپ ایک بڑی پارٹی کی داغ بیل ڈال سکتا ہے۔

میاں نواز شریف کے سر پر لہرا رہی یہ ایک ایسی تلوار ہے جو چوہدری نثار کے مستقبل قریب میں اسے افواہ قرار دے کر ٹالنے سے وقتی طور پر ٹل تو سکتی ہے مگر اختلافات کی یہ خلیج کبھی بھر نہیں سکتی ۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں جس میں سب سے بڑی وجہ میاں نواز شریف کی غیر جمہوری سیاسی اقدار سے چلائی جا رہی جماعت ہے اور دوسری وجہ چوہدری نثار کا ایک خاص سیاسی مزاج ہے چوہدری نثار کلثوم نواز سے اختلافات اور شدید ناراضگی کے باعث 1999 سے سال 2000 کے دوران پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کا حتمی فیصلہ کر چکے تھے اور اس کے لیے وہ بینظیر بھٹو کی قریبی ساتھی آمنہ پراچہ کے ساتھ رابطے میں رہے ۔پیپلزپارٹی سے معاملات طے ہونے کے باوجود چوہدری نثار کا پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار نہ کرنا پیپلز پارٹی سے چوہدری نثار کے اختلافات کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے ۔ بعد ازاں ان اختلافات کو میاں شہباز شریف نے انتھک کاوشوں سے دور کیا اور نواز شریف اور چوہدری نثار میں صلح کروا دی مگر لگتا کچھ یوں ہے کہ کلثوم نواز سے ان کے اختلافات آج بھی موجود ہیں۔ اس کے جہاں اور کئی واقعات گواہ ہیں وہیں ماضی میں چوہدری نثار کے بہنوئی کو سینٹ کا ٹکٹ دینے کی کلثوم نواز کی شدید مخالفت کے بعد چوہدری تنویر کو وہ ٹکٹ گھر سے بلا کر دیا جانا ایک ایسا واقعہ ہے جس کو چوہدری نثار آج بھی نہیں بھولے- یاد رہے کہ چوہدری تنویر وہی شخصیت ہیں جنھوں نے 1999میں میاں نوازشریف کے جیل کے دنوں میں کلثوم نواز کیلئے ریلیوں کا بند و بست کیا ۔ کلثوم نواز سے چوہدری صاحب کی یہ مخالفت بھی شریف فیملی سے چوہدری نثار کی مستقل ناراضگی کا باعث بن سکتی ہے ۔

چوہدری نثار کے ن لیگ میں مخالف جس بات کا فائدہ اٹھا تے ہیں وہ یہ ہے کہ چوہدری صاحب ملک کے مقتدر حلقوں میں ہمیشہ مقبول رہے ہیں ۔ اس کی وجہ ان کا فوجی بیک گراؤنڈ ہے ۔ چوہدری صاحب کے والد چوہدری فتح علی خان انڈین آرمی میں آفیسر تھےاور اس کے بعد پاک فوج میں برگیڈئیرکے عہدے سے ریٹائر ہوئے ان کے دادا برٹش آرمی میں فوجی تھے جبکہ ان کے بھائی لیفٹننٹ جرنل افتخار علی خان بھی ملک میں اہم فوجی عہدوں پر فائز رہے اور سیکرڑی دفاع بھی رہے چوہدری نثار کا فوجی بیک گراؤنڈ ہونے کی وجہ سے ان پراسٹیبلیشمنٹ کے قریب ہونے کے الزمات پارٹی میں ان کے مخالف تواتر سے لگاتے رہے ہیں ۔ اس میں اپنے سالہاسال پرانے دوست پرویزمشرف کو علی قلی خان کو بائی پاس کرواکے چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے پر فائز کروانے سے لے کر دیگر کئی مواقعوں پر جہاں فوج اور حکومت کے درمیان معاملات کی بات ہو چوہدری صاحب کی شخصیت کو ان کی پارٹی کے دیگر رہنما متنازعہ بنانے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں اس پر طرفہ تماشہ یہ کہ پیپلز پارٹی بھی چوہدری نثار سے شدید ناخوش ہے اور اعتزاز احسن جیسے کئی جید جیالوں کو بھی چوہدری نثار وزارت داخلہ سے بے دخلی کے ازل سے خواہاں ہیں ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کلثوم نوازاور دیگر ن لیگی چوہدری مخالف گروپ چوہدری نثار کی مخالفت میں اسقدر آگے بڑھ گئے ہیں کہ وہ چوہدری نثار کو پارٹی میں برداشت ہی نہیں کرسکتے ۔ اور کیا چوہدری نثار اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے اپنے احباب سے مشورے کے بعد ن لیگ کو خیر آباد کہنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ میاں نواز شریف سے چوہدری نثار کا اختلاف کرنا کوئی نئی بات نہیں وہ ان کے پہلے دورحکومت سے چلے آ رہے ہیں لیکن کیا اب اختلافات کی نوعیت اتنی گھمبیر ہو چکی ہے کہ ن لیگ ٹوٹ جائے گی ان سب سوالوں کے حتمی جواب تو صرف چوہدری نثار کے پاس ہیں مگر حالات کا جائز ہ لیں تو پاناما لیکس اور ماڈل ٹاؤن واقع سے شریف فیملی کی ڈگمگاتی کشتی اس بات کی متحمل نہیں ہو سکتی کہ چوہدری نثار سے ان کا ہاتھ راولپنڈی میں چھوٹ جائے اور اقتدار کا ہما پَھر سے اڑ کر کسی اور منڈیر پر بیٹھ جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *